×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
میرے لیے احساسِ جرم! مگر میاں برادران کے لیے ایک سبق
Dated: 01-Jun-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com یہ اوائل 2001ء کی بات ہے کہ میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ہمراہ تھا اور ہمارے پروگرام میںامریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ، امریکن کانگریس کے اراکین اور سینیٹرز سے ملاقاتیں طے تھیں۔اس کے ساتھ واشنگٹن میںڈاکٹر جاوید منظور پیپلزپارٹی واشنگٹن ڈی سی کے صدر کے گھر کارکنان سے ملاقات بھی کرنی تھی ۔پیپلزپارٹی نیویارک کے کارکنان و عہدیداران سمیت پورے امریکہ سے سو ڈیڑھ سو کے قریب کارکنان واشنگٹن آئے ۔وہاں محترمہ کے مختصر خطاب کے بعد لنچ کا اہتمام تھا اور کارکنان محترمہ کے ساتھ فوٹو سیکشن بھی کر رہے تھے ۔اس دوران ایک خاتون جن کے ہمراہ ایک چھوٹی سی بچی بھی تھی میرے پاس آئی (کیونکہ محترمہ کا پرس اور اوورکوٹ میں نے اٹھا رکھا تھا اسی لیے وہاں موجود عہدیداران اور کارکنان کو یہ اندازہ لگانے میں دیر نہ لگی کہ محترمہ کا انتہائی قریبی ساتھی ہوں)اسی وجہ سے خاتون نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا جی میرا نام فرزانہ راجہ ہے اور میں پیر مکرم صاحب کی بیگم ہوں ہمیں محترمہ کے ساتھ تصویر بنوانی ہے، آپ میرا محترمہ سے تعارف بھی کروا دیں۔میں نے خاتون کی بات پر حامی بھر لی اور موقع ملتے ہی محترمہ کے ساتھ فرزانہ راجہ کو صوفے پر بٹھا دیا ۔محترمہ چونکہ اس حال میں تصویر نہیں بنواتی تھیں جب کہ ان کادوپٹہ سر سے سرکا ہوا ہو۔ جیسے ہی فوٹوگرافر نے تصویر بنانا شروع کی محترمہ نے اسے ڈانٹ دیا ۔ اس پر فرزانہ راجہ صوفہ سے اٹھ کر میرے پاس آ گئی اور بولی کہ میری نہیں تو میری بچی ہی کی تصویر محترمہ کے ساتھ بنوا دیں۔ تھوڑی دیر کے بعد حسب عادت شہید محترمہ بے نظیر بھٹو جن سے مجھے اکثر ڈانٹ اور جھاڑ پڑتی تھی اور بعد میں وہ منا بھی لیتی تھیں نے مجھے اپنے پاس بلایا اور کہا بلائو اس خاتون کو جس کی تم تصویر میرے ساتھ بنوانا چاہتے تھے۔میں نے فرزانہ راجہ اور اس کی بچی کو اندر بلایا اور محترمہ کے ساتھ بٹھا دیا ۔ فرزانہ راجہ نے وہاں پر اپنا مختصر تعارف کروایا اور ایک چٹ محترمہ کے ہاتھ میں تھما دی اور کہا محترمہ یہ میرا ای میل ایڈریس ہے میں آپ کے ساتھ ای میل پر رابطہ رکھنا چاہتی ہوں۔محترمہ نے مسکرا کر ہاں کر دی ، بس یہی وہ لمحہ تھا کہ جب فرزانہ راجہ کو شہید محترمہ کے قریب پہنچنے کے لیے موقع میسر ہوا۔ بعد میں 2002ء کے الیکشن سے پہلے جب ٹکٹوں کی تقسیم کی بات ہو رہی تھی تو فرزانہ راجہ نے گوجر خان سے صوبائی اسمبلی کی جنرل نشست پر اپلائی کیا ۔جس پرسابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف جو اس وقت میرے بہترین دوست تھے مجھے لندن فون کیا اور کہا کہ اگر فرزانہ راجہ میرے حلقے میں صوبائی پینل پر آ گئی تو میں قومی اسمبلی کایہ الیکشن کبھی جیت نہیں سکوں گا۔میرے استفسار پر راجہ صاحب نے بتایا کہ فرزانہ راجہ راولپنڈی کے سٹیج ڈراموں کی ایک آرٹسٹ رہ چکی ہے اور پیر مکرم جو کہ پاکستان پرنٹنگ پریس کا ایک بڑا عہدیدار تھا اور محکمے سے سولہ کروڑ روپے کا غبن کرکے اپنی بیوی سمیت امریکہ میں سیاسی پناہ پر رہ رہا ہے جبکہ گوجر خان کا یہ حلقہ بڑے قدامت پسند ووٹرز پر مشتمل ہے اس لیے فرزانہ راجہ کی موجودگی میں الیکشن جیتنا ممکن نہیں ہو سکے گا۔راجہ پرویز اشرف صاحب نے مجھ سے اپنی دوستیوں کے واسطے دے کر مجھے کہا کہ محترمہ شہید کو آمادہ کرو کہ وہ فرزانہ راجہ کو جنرل نشست پر ٹکٹ نہ دیں۔اگر انہوں نے اس فرزانہ راجہ کو اکاموڈیٹ کرنا ہے تو اسے خواتین کی خصوصی نشستوں پر ٹکٹ دے دیںاور پھر بعد میں ایسا ہی ہوافرزانہ راجہ خواتین کی خصوصی نشست پر منتخب ہو کر پنجاب اسمبلی میں پہنچ گئیں۔ وقت آگے بڑھتا رہا اور 2007ء کے الیکشن میں فرزانہ راجہ خواتین کی خصوصی نشست پر قومی اسمبلی کی ممبر منتخب ہو گئیں اور اس دوران فرزانہ راجہ صدرِ مملکت جناب آصف علی زرداری کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں شمار ہونے لگیں اور فرزانہ راجہ ہی کے دیئے ہوئے آئیڈیا پر انہیں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا چیئرپرسن نامزد کرکے وفاقی وزیر کے برابر عہدہ دے دیا گیا۔گذشتہ پانچ سال میں یہ وہ محکمہ تھا جس کا پہلے سال 70ارب روپے کا بجٹ مقرر کیا گیا اور یہ بتدریج بڑھتاہواسالانہ 100ارب کو بھی کراس کر گیااور محکمہ دفاع کے بعد مالی لحاظ سے سب سے مضبوط محکمہ تھا۔ اسی محکمہ کے بجٹ سے گذشتہ پانچ سال کے دوران حکمرانوں کی عیاشیوں اور لوٹ مار کا سامان میسر ہوتا رہا ۔بیوائوں،مفلسوں اورنادار خواتین کے نام پر رکھے گئے بجٹ کو بغیر کسی آڈٹ کے مالِ غنیمت کی طرح بانٹا اور اڑایا گیا۔ اگر پچھلے پانچ سال میں پانچ سو ارب روپے بھی اس مد میں استعمال ہوئے تو کیا وجہ ہے کہ آج حالیہ الیکشن میں پیپلزپارٹی ان غریب بیوائوں اور مفلس خواتین کے ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی؟جبکہ حکومتی دعویٰ تھا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 30لاکھ سے شروع ہو کر 70لاکھ خاندان استفادہ کر رہے ہیں۔اگر ہر خاندان سے ایک بھی ووٹ پیپلزپارٹی کو ملتا تو پیپلزپارٹی پورے ملک میں سویپ کرتی لیکن نتائج سامنے آنے کے بعد یہ ثابت ہوا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شہید محترمہ بینظیربھٹو کہ نام پر کھیلے جانے والا وہ ڈرامہ تھا جو اپنے بھیانک منطقی انجام تک پہنچا۔ اسی طرح نئی آنے والی پنجاب حکومت بھی ذرا اپنا چارپائی کے نیچے ڈانگ پھیر کر احتیاطاً دیکھ لے کہ ان کے ادوار میں شروع کیے ہوئے پروگرام جیسے سستی روٹی سکیم، طالب علموں میں لیپ ٹاپ کی تقسیم، آشیانہ ہائوسنگ سکیم، دانش سکول سسٹم کی طرف بے شمار انگلیاں اٹھ رہی ہیں جبکہ نیب کی رپورٹوں کے مطابق سستی روٹی سکیم پروگرام میں اربوں روپیہ تنوروں میں جھونک دیا گیا۔ یہ ہمارے ٹیکسوں کی وہ رقم تھی جس سے کسان کو سب سٹڈی دے کر گندم کی قیمت کو عوام کی قیمت خرید کی پہنچ میں رکھا جا سکتا تھا ۔اب اللہ تعالیٰ نے میاں برادران کو مکمل اقتدار سے نوازا ہے۔یقینا ان کی پارٹی میں منتخب ہو کر آنے والے اراکین اور نئے آزاد منتخب ہو کر ن لیگ میں شامل ہونے والے ممبران سبھی ’’فرشتے ‘‘تو نہیں ہیں ؟لوٹ مار کرنے والا یہ طبقہ مسلم لیگ ن میں یقینا کہیں نہ کہیں آس لگائے بیٹھا ہوگا لیکن حساب آخر کو میاں برادران کو عوام کے سامنے دینا ہے اس لیے ایسے شفاف پراجیکٹ اور سکیمیں شروع کی جائیں جن کے ثمرات اور اثرات ڈائریکٹ غریب عوام تک پہنچیں۔ اگر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پانچ سو ارب روپوں کا بجٹ بجلی کی پیداوار پر لگا دیا جاتا تو آج نہ صرف پیپلزپارٹی الیکشن جیت چکی ہوتی بلکہ ملک میں غربت کا خاتمہ ہوتا اور فیکٹریاں اور کارخانوں کی مشینیں چل رہی ہوتیں جس سے لاکھوں کروڑوں انسانوں کو روزگار میسر ہوتا ۔کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں تو خوف سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو سے فرزانہ راجہ کو ملوا کر کہیں میں نے فاش غلطی تو نہیں کی جس کی سزا اٹھارہ کروڑ عوام کو بھگتنا پڑی؟لیکن نوائے وقت کے لاکھوں قارئین جانتے ہیں کہ میں نے پچھلے پانچ سال میں اپنی محبوب جماعت پاکستان پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت کو راہ راست پر لانے کے ہزاروں جتن کیے۔میں اپنے گناہ اور بے گناہی کا فیصلہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑتا ہوں وہ معاف کرنے والا رحیم اور کریم ہے۔(آمین ثم آمین)
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus