×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
میاں صاحب مبارکاں مگر!
Dated: 08-Jun-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com مسلم لیگ ن کو فرینڈلی اپوزیشن کا صلہ یہ ملا کہ آج اس کی مرکز اور سب سے بڑے صوبے پنجاب میں کسی بھی پارٹی کے تعاون کے بغیر حکومت بن چکی ہے۔ یہ پاکستان پیپلزپارٹی سمیت کسی بھی پارٹی کا خواب ہو سکتا ہے جس کی تعبیر مسلم لیگ ن کے حصے میں آئی۔ اس پر مسلم لیگ ن کی قیادت یقینا مبارک باد کی حقدار ہے۔ 5جون کو قومی اسمبلی میں قائدایوان کے انتخاب کے بعد میاں نوازشریف نے خطاب کیا۔ روایتی طور پر وزیراعظم کی خواہش ہوتی ہے کہ اپوزیشن اس کے ساتھ مل کر چلے تاکہ وہ اور پارلیمنٹ اپنی آئینی مدت خوش اسلوبی سے مکمل کر لیں۔ نوازشریف نے بھی ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے اپوزیشن پارٹیوں کو ساتھ دینے کو کہا۔ نوازشریف نے اپنی تقریر بڑی ناپ تول کر کی۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے حوالے سے متنازعہ بیان دینے سے گریز کیا۔ جس سے آٹے میں نمک کے بابر ایک حلقہ مایوس ضرور ہوا تاہم اکثر پاکستانیوں نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا۔ پی ٹی آئی کے لیڈر مخدوم جاوید ہاشمی نے بھی ایسی کوئی بات کرنے سے گریز کیا جس سے ایک خوشگوار ماحول میں کشیدگی کی فضا پیدا ہوتی۔مخدوم امین فہیم نے طنز کے نشتر چلانے کی کوشش کی جس میں حقیقت بھی چھپی ہوئی تھی۔ انہوں نے مسلم لیگ ن کی کامیابی پر ایجنسیوں کو بھی مبارک باد کا حقدار قرا دیا۔ بلاشبہ 2013ء کے انتخابات کو مکمل طو رپر شفاف قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن اس میں جھرلو کے ذریعے نتائج کو تبدیل نہیں کیا گیا۔ نتائج کے حوالے سے مسلم لیگ ن سمیت ہر پارٹی کے تحفظات کا اظہار ضرور کیا لیکن ان کو تسلیم کرنے سے یکسر انکار نہیں کیا گیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے جو بویا تھا وہی کاٹا۔جس کی میں اپنے کالموں میں گذشتہ پانچ سال سے مسلسل نشاندہی کرتا چلا آ رہا ہوں۔ مخدوم صاحب نے فرمایا کہ آج نوازشریف ہماری وجہ سے وزیراعظم بنے ہیں۔ جس میں رتی بھر بھی شک نہیں گنجائش نہیں کہ میاں نوازشریف کے وزیراعظم بننے میں پیپلزپارٹی ہی کا کردار ہے۔ مخدوم صاحب تو یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی اگر تیسری بار وزیراعظم بننے پر پابندی کی آئینی ترمیم میں ترمیم نہ کرتی تو میاں نوازشریف وزیراعظم نہیں بن سکتے تھے۔ آج مسلم لیگ ن کی قومی اسمبلی میں اکثریت کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ ن آئین میں ترمیم کرکے مذکورہ پابندی ختم کر سکتی تھی اس دوران وزیراعظم یقینا کوئی اور ہوتا۔ اس میں بھی شبہ نہیں کہ مسلم لیگ ن کو جو بے پایاں کامیابی ملی ہے وہ پیپلزپارٹی سے جیالوں کی مایوسی اور عام پاکستانیوں کی اس سے نفرت کا نتیجہ ہے۔ نہ بجلی نہ گیس، نہ روزگار اور امن مہنگائی اپنی انتہائوں پر۔ ایسے میں کون ہے جو مزید 5سال خود کو عذاب میں مبتلا کرنے کی خواہش کرتا۔ پیپلزپارٹی کے قائدین کی پالیسیوں کے باعث ملک و قوم کو پستی میں جا ہی گرے خود پیپلزپارٹی بھی بکھر گئی۔ جس پارٹی کو فوجی آمر اور اسٹیبلشمنٹ پوری کوشش اور طاقت کے ذریعے بھی ختم نہ کر سکے اسے خود پارٹی کے قائدین نے اپنے ہاتھوں سے دفنا دیا۔ انہوں نے عوام کے دل سے بھٹوز کی محبت بھی نکال باہر کی۔ اگلے طویل عرصہ تک پیپلزپارٹی کی شیرازہ بندی ممکن نہیں ہے۔ اس کے لیے قیادت کو اپنے اندر مثبت تبدیلی لا کر عوام کو اس تبدیلی کا یقین دلاناہے جو ممکن نظر نہیں آتا یا پھر پارٹی کی قیادت کو تبدیل کرنا ہوگا۔ جو پہلے عمل ہی کی طرح ناممکن ہے۔ 5جون کو ہی میاں نوازشریف کی حلف وفاداری کی تقریب پیپلزپارٹی کے سابق وزرائے اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف اگلی نشستوں پر بیٹھے تھے۔اس موقع پر وہ سوچ رہے ہوں گے؟ اگر انہوں نے ڈلیور کیا ہوتا تو میاں نوازشریف کی جگہ ان میں سے ایک یا مخدوم امین فہیم وزرات عظمی کا حلف لے رہے ہوتے۔ ملک و قوم کو تاریکیوں کے حوالے کرنے کا جو انجام ہونا چاہیے تھا وہی ہوا۔ بہتر تھا کہ وہ تقریب حلف بردار ی میں شرکت ہی نہ فرماتے؟ 1988ء سے 1998ء کا دور انتقامی سیاست کی ایک بدترین مثال کی حیثیت رکھتا ہے خود میں بھی میاں نوازشریف کی انتقامی پالیسی کا شکار رہا۔ مجھے ایک لمبا عرصہ جیل اورجلاوطنی میں گزارنا پڑا ۔ اور پھر جب میں نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے سنگ مل کر میثاق جمہوریت کی راہ ہموار کی بلکہ یہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ میں میثاق جمہوریت کے بانیوں میں سے ایک تھا اور محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کی معاونت بھی اس سلسلے میں کرتا رہا ۔ میں نے 2001ء سے لے کر نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم کے سنگ اے آرڈی کے پلیٹ فارم سے یہ جدوجہد شروع کی تھی ۔میاں نوازشریف نے زمانہ پھر کے دیکھ لیا۔وہ جیل ،جلاوطنی اور جرنیلوں کے انتقام کا نشانہ بھی بنتے رہے۔ امید ہے کہ وہ اب گزرے زمانے کو آواز نہیں دیں گے۔ ان کے کسی اقدام سے انتقام کا عکس نظر نہیں آئے گا۔ لیکن انتقام اور احتساب میں ایک فرق ضرور روا رکھیں گے۔ جن لوگوں نے قومی خزانہ بے دردی سے لوٹا، کرپشن کی انتہا کی ان کا بلاامتیاز کڑا احتساب ہونا چاہیے۔ یہ لوگ خواہ اپوزیشن میں موجود ہوں یا ہوا کا رخ دیکھ کر بے شمار فصلی اقتدار کے بٹیرے اقتدار کی فصلوں میں اپنی کرپشن اور جرائم چھپانے کے لیے گھس گئے ہیں ۔ میاں صاحبان کو اللہ تعالیٰ نے یہ موقع دیا ہے کہ وہ پاکستان کی خدمت کر سکیں مگر اس کے لیے انہیں اپنا دل صاف اور دماغ حاضر رکھنا ہوگا کیونکہ بے شمار سیاسی جونکیں ان کے اطراف بھی منڈلا رہی ہیں۔ یہ وقت مبارک بادیں وصول کرنے کے بجائے عمل کا ہے ۔اس لب جاں مملکت کو مضبوط بازوئوں اور پُرعزم ہمت والے لیڈر کی ضرورت ہے اور قوم نے یہی سوچ کر میاں صاحب پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus