×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سابق وزیراعظم سے ہمدردی ہے مگر ۔۔
Dated: 11-Jun-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کسی کیسزمیں یہ کہہ کر پیش ہونے سے انکار کر چکے ہیں کہ ان کے تمام اقدامات کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ اب انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے وہ کسی ادارے کے سامنے انکوائری کے لیے پیش نہیں ہوں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ مقدمات صرف پیپلزپارٹی کے ہی وزیراعظموں کے خلاف کیوں بنتے ہیں۔ راجہ پرویز اشرف اور سید یوسف رضا گیلانی کو جو عزت پاکستان پیپلزپارٹی نے دی اس کا کسی بھی پارٹی کا کوئی کارکن صرف تصور ہی کر سکتا ۔ پیپلزپارٹی نے ان کو وزیراعظم بنایا۔ راجہ پرویز اشرف مختصر مدت کے لیے گیلانی صاحب کی نااہلی کی بنا پر وزیراعظم بنائے گئے۔ دونوں نے ایک دوسرے سے بڑھ کر لوٹ مار کی۔ راجہ پرویز اشرف حکومت کی آئینی مدت کے خاتمے کے آخری منٹ تک تقرریاں کرتے ،سی این جی لائسنس بانٹتے اور اپنے اور اپنے اقربا اور اپنے علاقے کے لیے اربوں روپ کے فنڈ جاری کرتے رہے۔ یہی کچھ گیلانی صاحب نے اپنے ساڑھے چار سالہ دورمیں کیا۔ اس کار خیر میں ان کا پورا خاندان بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا رہا۔ گیلانی صاحب کا سوال بجا ہے کہ صرف پیپلزپارٹی کے وزائے اعظم کو ہی انتقام کا نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے؟ یہ سوال شہید ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی دختر نیک اختر محترمہ بے نظیر بھٹوشہید کی حد تو درست ہے۔ راجہ اور گیلانی اس زمرے میں نہیں آتے کہ کہا جائے ان کو انتقام کا نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے۔ ان سے متعلق سوال یہ ہے کہ انہوں نے ایسے کام ہی کیوں کیے کہ ان پر مقدمات بن گئے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو ایک آمر نے انتقام سے بھی بڑھ کر جبر اور ظلم کا نشانہ بنایا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نوازشریف کے ادوار میں ایک دوسرے کے خلاف مقدمات قائم ہوتے رہے۔ اپنے خلاف بننے والے مقدمات کو ہر دو نے انتقامی کارروائی قرار دیا تھا۔ اس انتقام میں مجھ کو بھی رگڑا دیا گیا۔ میری دیانتدارانہ رائے ہے کہ دونوں نے ایک دوسرے کو انتقام کا نشانہ بنانے کی کوشش کی اس میں پہل میاں نوازشریف نے کی اور زیادہ کارروائیاں بھی ان کی طرف سے کی گئیں۔ شہید محترمہ کی طرف سے مقابلتاً مفاہمت اور رواداری کا مظاہرہ کیا گیا۔ تاہم دونوں رہنمائوں نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ایک دوسرے کو معاف کر دیا اور دونوں نے مئی 2006ء میں چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کرکے سیاسی مفاہمت کی ایک عظیم مثال قائم کی۔ آئین اور قانون کے مطابق اٹھائے گئے اقدامات کو یقینا آئینی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ مجرمانہ اقدامات پر کیسے ہوگا؟ اپنے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں کسی کو قتل کرکے آفس چھوڑنے کے بعد آئینی استثنیٰ کا کلیم کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اربوں اور کھربوں کی کرپشن کا تحفظ مل سکتا ہے نہ ہضم ہو سکتی ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو ان کے بدترین مخالف نے پھانسی کے پھندے تک پہنچایا۔ بے نظیر بھٹو کے خلاف مقدامات ان کے حریفوں کی حکومت کے دوران قائم ہوئے جن کو بلاشبہ انتقام کا شاخسانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کے خلاف مقدمات کسی حریف یا مخالف پارٹی کی حکومت نے نہیں بنائے یہ ان کے اپنے دور میں قائم ہوئے۔ کسی میں عدلیہ نے سوموٹو لیا کسی میں ان کی کابینہ ہی کے رکن فیصل صالح حیات جیسے لوگ شامل تھے۔ اس کو کسی صورت انتقامی کارروائی قرار بالکل غلط ہے یہ ان کے کرموں کا کڑوا پھل ہے جو پیپلزپارٹی کو بھی کھانا پڑا۔ جس پارٹی نے ان پر احسان کیا اس کو اوجِ ثریا سے اٹھا کر پستیوں کی گہرائی میں دے پھینکا۔ان پستیوں سے پیپلزپارٹی کو اس کی موجودہ قیادت تو کسی صورت نہیں نکال سکتی۔ اب یہ اس امید کا چراغ لیے پھرتی ہے کہ مسلم لیگ ان سے بھی بڑھ کر عوام کا عرصہ حیات تنگ کرکے پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے کا سامان کر دے اور پی ٹی آئی عوام پر دونوں سے بڑھ کر ستم ڈھائے تو عوام یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ ان سے تو پیپلزپارٹی اچھی تھی۔ ایسے خواب بے حقیقت دیکھنے پر پابندی نہیں۔ مجھے تو لگتا ہے کہ اگلا الیکشن ہو سکتا ہے آئینی تحفظ مانگنے والے سابق وزرائے اعظم ن لیگ یا پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر لڑیں۔ الیکشن لڑنے کے لیے بھاری رقوم کا ہمالیہ دونوں نے اپنے طور پر کھڑا کر رکھا ہے۔علی حیدر گیلانی کے اغوا کا راز اب طشت ازبام ہو رہا ہے۔ اور مجھے باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ سول اور فوجی حلقوں میں یہ اغوا ٹاک آف ٹائون بن چکا ہے۔ موسیٰ رضا گیلانی نے پولیٹیکل ایجنٹ کی تقرر کے لیے فاٹا کی ایک پارٹی سے 50کروڑ میں سودا کیا۔ 25کروڑ ایڈوانس پکڑ لیے۔ اس دوران گیلانی پر نااہلیت کی تلوار چل گئی۔ نئے وزیراعظم میں ایسی ہی ترجیحات تھیں۔ پارٹی نے رقم واپس مانگی۔ کئی ماہ تک ٹال مٹول کے بعد اغوا کار ملتان پہنچے تین دن کی ریکی کے بعد بھی موسیٰ گیلانی قابو نہ آئے تو علی حیدر گیلانی کو اٹھا لیا۔ اب وہ اپنی رقم کئی گناسود سمیت واپس مانگ رہے ہیں۔ ان کی ڈیمانڈ تین ارب ہے۔ شنید ہے کہ گیلانی صاحب اصل رقم دینے پر رضامند ہیں۔ وزیراعظم گیلانی کا اپنے بیٹے کے اغوا جیسے سانحہ کے باوجود نوازشریف کی حلف برداری اور دیگر تقریبات میں شرکت اس واقعہ کی صدات کی دلیل ہے۔ جو ان بیٹا اغوا ہوا اور باپ سوٹ بدل بدل کر تقریبات انجوائے کر ے۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ بیٹے کی جان کو کوئی قطرہ نہیں۔ کیا ایسے عہدوں کی اس طرح ضرورت کو بھی آئینی استثنیٰ اور تحفظ حاصل ہے؟ انتقام اور احتساب میں فرق ملحوظ رکھیں۔ احتساب نہ ہوا تو شریف برادران بھی کھلی لوٹ مار کریں گے کہ گیلانی کو کسی نے نہیں پوچھا تو ہمیں بھی کوئی نہیں پوچھے گا۔ یوں آپ لوٹ مار کے مستقل دروازے نہ کھولیں۔ ملکی وسائل کو غریب کی جورو نہ بنائیں جو کہ سب کی بھابھی ہوتی ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus