×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ٹیکس اور عوام کی ذمہ داریاں
Dated: 14-Jun-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com انسانی تہذیب ارتقائی منازل طے کرتی ہوئی جب اکیسویں صدی میں داخل ہوتی ہے تو ہم دیکھتے کہ کرہ ٔ ارض پر معاشرتی نظم و نسق بہتر طریقے سے چلانے کے لیے متعلقہ علاقائی رسم و رواج کے مطابق مختلف ریاستی یا حکومتی نظام نافذ العمل ہیں۔ اس وقت پوری دنیا میں تقریباً دو سو سے زیادہ ممالک ہیں جہاں ہر ملک کا اپنا پنا حکومتی یا ریاستی نظام رائج ہے۔تاریخی، تہذیبی اور معاشرتی اعتبار سے آج سے یہ بات طے شدہ اور متفقہ طور پر تسلیم شدہ ہے کہ ہر حکومت کی تین بنیادی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ m اپنے شہریوں کا بیرونی اور اندرونی دشمنوں اور شورشوں کے مقابلے میں مکمل دفاع اور تحفظ ۔ m تمام شہریوں کے لیے صحت اور علاج معالجے کی مکمل اور بہترین سہولیات بلاامتیاز مفت پہنچانا۔ m تمام شہریوں کو ایک مخصوص لیول (ہائی سکول یا ہائر سیکنڈری لیول)تک یکساں اور بہترین تعلیم مفت دینا۔ ان تینوں بنیادی ذمہ داریوں کو کماحقہ ادا کرنے کے لیے درکار مالی وسائل کو پوراکرنے کی غرض سے تمام حکومتیں ایک مخصوص اور متعین طریقے سے ٹیکس نافذ کرتی ہیں۔جس کو تمام شہری بہت خوشی اور رضامندی سے ادا کرتے ہیںکیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے ان کی خون پسینے کی کمائی ہوئی دولت اور ٹیکس کو حکومت وقت واپس انہی (عوام)کی بنیادی ضروریات کے اوپر خرچ کر رہی ہے۔اس وقت دنیا میں ان ممالک کی فہرست بہت لمبی ہے جہاں شہریوں پر لاگو ٹیکسوں کی شرح پاکستان کی نسبت کافی زیادہ ہے لیکن پھر بھی ان ممالک کی غالب عوامی اکثریت بخوشی تمام ٹیکسز ادا کرتی ہیں۔کیونکہ عوام کو بھرپور اور مکمل یقین ہے کہ ان کی متعلقہ حکومتیں اپنی عوام کو اوپر دی گئی تینوں بنیادی سہولتوں کی مسلسل اور بھرپور فراہمی کے ساتھ 100فیصد مخلص ہیں۔جس چیز کا منہ بولتا ثبوت ان ممالک میں عوام کا بلند معیار زندگی ہے۔ اب ہم مختصراً جائزہ لیتے ہیں ۔ درجہ بالا تینوں حکومتی ذمہ داریوںکی بطریق احسن ادائیگی میں حکومت پاکستان (صوبائی یا وفاقی)کس قدر کامیاب و کامران ہیں۔اور آیا کہ عوام کو مزید ٹیکس ادا کرنے چاہئیںیا حکومت پاکستان عوامی ٹیکسوں سے اکٹھی کی گئی رقوم سے انصاف کر پا رہی ہے۔ اس وقت پاکستان میں ڈائریکٹ ٹیکس دینے والوں کی تعداد صرف 10لاکھ ہے اور بیس کروڑ کی آبادی میں سے یہ تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔جبکہ دوسرے ممالک خصوصاً یورپ ،امریکہ اور نارتھ امریکہ میں ڈائریکٹ ٹیکس دینے والوں کی تعداد80فیصد سے زائد ہوتی ہے۔باقی 20فیصد کی عمریں چونکہ اٹھارہ سال سے کم ہوتی ہیںلیکن وہ بھی ان ڈائریکٹ ٹیکس کے زمرے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج یورپ اور امریکہ سمیت ایشیا کے ترقی یافتہ ممالک میں سوشل سکیورٹی ،پنشن، میڈیکل سہولیات ،بے روزگاری الائونس، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کا ایک ماڈل نظام رائج ہے۔ مثال کے طور پر سوئٹزرلینڈ میں ایک آدمی کی اگر جاب چھوٹ بھی جائے تو اسے جب تک وہ دوسری جاب تلاش نہ کر لے اس کو پہلی جاب کا 80فیصد ماہوار ملتا رہے گا۔اسی طرح پنشن کی مد میں 65سال سے اوپر مرد اور عورتوں کو ایک فائیوسٹار ہوٹلوں جیسی رہائش اور اکاموڈیشن اور ماہوار وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔اور طبعی سہولیات کا یہ عالم ہے کہ ہرشخص کی میڈیکل انشورنس ہوتی ہے جس پر انہیں ایک کریڈٹ کارڈ کی شکل میں میڈیکل کارڈ ایشو کر دیا جاتا ہے جس پر وہ پوری دنیا میں اپنا علاج یا بوقت ضرورت استعمال کر سکتے ہیں۔اسی طرح مختلف جرائم میں سزا یافتہ افراد کو جب جیل بھیجا جاتا ہے تو کچھ ہفتے کے بعد شادی شدہ مجرموں کو یہ سہولت ہوتی ہے کہ وہ ویک اینڈ اپنی فیملی کے ساتھ گزار سکیں۔میں جب یورپ اور امریکہ کی ان معاشرتی خوبیوں کا بغور جائزہ لیتا ہوں تو میری سمجھ میں یہ بات بھی آتی ہے کہ وہاں پر رائج ٹیکس کا نظام اس سارے سسٹم کی بنیاد ی وجہ ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے کرپٹ سیاستدان ،کرپٹ بیوروکریٹ، کرپٹ سرمایہ دار ،کرپٹ جاگیردار ،کرپٹ جرنیل اور کرپٹ عدلیہ کے لوگ پاکستان میں اس معاشی معاشرتی ناہمواری کے ذمہ دارہیں۔کتنے کارخانہ دار اور سرمایہ دار ہیں جو خدا کو حاضر ناظر جان کر اپنا ٹیکس بخوشی ادا کرتے ہیں؟ کتنے جاگیردار ہیں جو ہزاروں ایکڑ زمین کے مالک ہیں مگر ٹیکس ادا نہیں کرتے۔درجہ بالا کیٹیگری میں آنے والے سبھی لوگ دونوں ہاتھوں سے پاکستان کو لوٹ کر سرمایہ بیرون ملک منتقل کر دیتے ہیں اور ان کی اولادیں یورپ اور امریکہ جا کر شاہانہ زندگی بسر کر رہی ہیں اور ان چند ہزار افراد کے کرموں کا بوجھ ملک کے بیس کروڑ عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر گذشتہ دورِ حکومت میں بجلی کی کمی کے باعث حکومت نے فیصلہ کیا کہ دکانیں رات آٹھ بجے بند کر دی جائیں(یورپ ،امریکہ اور پوری دنیا میں صبح 8بجے سے شام 8بجے تک کاروبار کے اوقات ہیں)مگر ہال روڈ، مال روڈ ، عابد مارکیٹ، بیڈن روڈ اور پاکستان بھر کے دیگر شہروں کے تاجروں نے نہ صرف اس بات کی مخالفت شروع کر دی بلکہ سول نافرمانی کی حد تک اس فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا ۔جبکہ یہی تاجر لوگ پاکستان بھر میں کوئی بھی ایسا نظام اور سسٹم اپنانے سے انکاری ہیں جس میں کہ یہ پتا چلایا جا سکے کہ ان کی روزانہ کی آمدن کیا ہے ؟دنیا بھر میں دکانداروں اور بڑے چھوٹے سٹورز پر اگر آپ کوئی 25سینٹ کی چیز لیتے ہیں تو آپ کو اس کی مشینی رسید ملتی ہے جس پر آپ کا25سینٹ پر بھی ادا کیا گیا ٹیکس درج ہوتا ہے۔ پاکستان میں کتنے غریب ریڑھی بان اور ٹھیلے لگانے والے ٹیکس ادا کرتے ہیں؟حالانکہ ایک ٹھیلے والا بھی روزانہ ہزار پندرہ سو کی دیہاڑی لگا کر جاتا ہے؟ اسی طرح تقریباً ہر بڑا فیکٹری مالک بجلی یا گیس کی چوری میں ملوث پایا جاتا ہے۔ ان سب حالات میں کیا حکومت کے پاس الہ دین کا چراغ ہے جو بیس کروڑ عوام کی خواہشات پبلک جھپکنے میں پوری کر دے؟ یاد رکھیے اگر ہم نے اپنی کمائی پر ٹیکس اد انہیں کرنا ، اگر ہم نے اپنی ہی حکومت سے اپنی آمدن کو چھپانا ہے تو پھر ہمیں ایک فلاحی ریاست سے جو وابستہ خواہشات ہوتی ہیں وہ مانگتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ ہم اپنے حصے کا ٹیکس ادا نہ کریں مگر ہمیں سہولتیں یورپ اور امریکہ کے مقابلے میں ملیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے سے اسلام نے ہمیں ٹیکس (زکوٰۃ)کے مثاویانہ نظام سے متعارف کروایا ہے مگر موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق ہم وہی زکوٰۃسرکاری خزانے میں انکم ٹیکس کی صورت جمع کروائیںتو پھر پاکستان کو آئی ایم ایف جیسے خون نچوڑنے والے اداروں کا محتاج نہیں ہونا پڑے گا۔اور مختلف سیاستدانوں حکمرانوں کی طرف سے کشکول توڑنے کے دعوے محض انتخابی نعروںکا درجہ رکھتے ہیںاگر ہمیں واقع ہی کشکول توڑنا ہے اور اپنی انا کو مجروح ہونے سے بچانا ہے تو ہمیں ٹیکس کا کوئی عالمی اور کامیاب نظام اپنانا ہوگا۔وگرنہ بھیک اور قرضے کے پیسوں پرآپ کب تک عیاشیاں کر سکتے ہیں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus