×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ملالہ، عافیہ اور تیسرا ہاتھ
Dated: 16-Jul-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com اقوامِ متحدہ نے ملالہ یوسفزئی کی 16ویں سالگرہ کو ملالہ ڈے کے طور پر منایا اور ملالہ ڈے ہر سال منایا جائے گا۔ملالہ ڈے پر خود ملالہ نے تعلیم کے فروغ کے لیے پرمغز اور دلائل سے معمور بڑی جذباتی تقریر کی۔ ملالہ کو تعلیم حاصل کرنے کی پاداش میں طالبان نے فائرنگ کرکے قتل کرنے کی کوشش کی۔ ملالہ لہولہان ہوئی لیکن موت کو شکست دینے میں کامیاب ٹھہری۔ جس کا برطانیہ میں علاج ہوا اور وہ وہیں تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ اس پر طالبان نے حملہ کرکے اس کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ ملالہ کی یورپ اور مغرب میں پذیرائی کی وجہ دراصل طالبان سے نفرت ہے۔ ملالہ چونکہ طالبان کی نفرت اور جبر کا نشانہ بنی اس لیے طالبان سے نفرت کرنے والوں کے لیے وہ محبت کا سمبل بن گئی۔ طالبان نے ملالہ کے علاقے میں تیرہ سو سکول تباہ کیے۔ ان میں ایک ملالہ کا سکول بھی تھا۔ پاکستان میں بھی ملالہ کے ساتھ ہونے والے بہیمانہ سلوک کی مذمت کرنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ پاکستان میں عافیہ صدیقی کو سراہنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ عافیہ سی آئی اے کے لیے کام کرتی رہی پھر وہ امریکہ کی مخالفت میں اس قدر آگے نکل گئی کہ اسے مبینہ طور پر پاکستان سے اغوا کرکے بلگرام کے عقوبت خانے میں قید کرکے اذیتوں کا نشانہ بنایا گیا۔ پھر اسے امریکہ بھجوا دیا گیا جہاں اسے کردہ یا ناکردہ جرائم میں 86سال قید سنا دی گئی۔ پاکستان میں عافیہ کی امریکیوں کے ہاتھوں اذیتوں اور ملالہ پر طالبان کی فائرنگ کی مذمت اور ان قوم کی بیٹیوں سے اظہار محبت کرنے والوں کی بڑی بلکہ بڑی تعداد موجود ہے لیکن یہ لوگ عمومی طور پر آپس میں بٹے ہوئے ہیں۔ یہ دھڑے ایک مائنڈسیٹ کی صورت میں موجودہیں۔ عافیہ کے حامیوں کو پروطالبان اور ملالہ کے حامیوں کو طالبان مخالف کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی قوم لیفٹ اور رائٹ میں تقسیم ہو گئی تھی۔ لیفٹسٹ اور رائٹسٹ کی اصطلاح ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار میں آنے کے بعد تک وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی رہی۔ آج بھی استعمال ہوتی ہے لیکن اس طرح نہیں جس طرح بھٹو صاحب کے اقتدار کے دوران اور اقتدار کے خاتمے کے بعد استعمال ہوتی رہی۔ پھر کئی سال تک پرو بھٹو اور انٹی بھٹو کی اصطلاح سامنے آئی۔ یہ صرف اصطلاح ہی نہیں ایک ذہنیت کی شکل اختیار کر گئی۔ کم از کم 4انتخابات کے نتائج اسی مائنڈ سیٹ کی پیداوار تھے۔ جنرل ضیاء الحق کا اقتدار ایک نئے مائنڈ سیٹ کی پیداوار تھا۔ ضیاء الحق کی حکومت کے 11سال ملک و قوم کو 11 صدیاں پیچھے لے گئے۔ ضیاء الحق نے اسلام کا نام استعمال کرکے لیفٹ اور رائٹ کے فلسفے کو فوج کے اندر بھی عروج دیا۔ ضیاء کے مارشلائی دور سے قبل مدرسوں کی تعداد چند سو تھی جو دنوں میں لاکھوں سے تجاوز کر گئی۔ یہی مدرسے کسی منصوبہ بندی سے قائم ہوتے تو ملک و قوم کے لیے سود مند ثابت ہوتے۔ بغیر پلاننگ سے تعداد سیکڑوں سے لاکھوں ہوئی تو ان کو کوئی ضابطے میں لانا ممکن نہ رہا اور پھر کچھ ملک کو عدمِ استحکام سے دوچار کرنے کے لیے استعمال ہونے لگے اور ہنوز ہو رہے ہیں۔ ضیاء الحق کا لیفٹ اور رائٹ کا فلسفہ ہی 1999ء میں جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کا سبب بنا۔ مشرف کے ساتھی جنرل عزیز جیسے لوگ جنرل ضیاء کے رائٹسٹ فلسفے کے حامی اور ضیاء الحق دور کے ترویج کے خواہاں تھے۔ ضیاء فلسفے کے حامی اب بھی فوج میں موجود ہیں لیکن پس پردہ ہیں۔ مشرف ضیاء فلسفے کے حامی جرنیلوں کو چکمہ دینے میں کامیاب ٹھہرے۔ اور ایک ایک کرکے ساتھی جرنیلوں سے جان چھڑا لی۔ مشرف پر فوج کے اندر اور باہر سے 6حملے ہوئے تاہم مشرف اعتدال کے نام پر جدت پر کاربند رہے جسے وہ روشن خیالی کا نام دیتے رہے۔ مشرف کے دور میں ایک بار پھر لیفٹ اور رائٹ کی تقسیم نظر آئی اب پروبھٹو اور انٹی بھٹو فلسفہ دم توڑتا نظر آتا ہے۔ بے نظیر بھٹو پروبھٹو ذہنیت کو ایکسپلانٹ کرکے دو مرتبہ حکومت میں آئیں اور نوازشریف نے خود کو انٹی بھٹو ثابت کرکے بھی دو مرتبہ اقتدار حاصل کیا۔ مشرف کے مارشل لاء کے بعد اے آر ڈی کے پلیٹ فارم پر ن لیگ اور پی پی پی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے اور بعدازاں میثاقِ جمہوریت پر نوازشریف اور بے نظیر بھٹو نے دستخط کیے تو پرواور انٹی بھٹو مائنڈ سیٹ یا فلسفے کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔ 2013ء کے الیکشن اس فلسفے کے بغیر ہوئے اور آئندہ بھی اس مائنڈ سیٹ کی پاکستان کے انتخابی عمل میں گنجائش نہیں رہی۔ آج قوم لیفٹ رائٹ، پرواور انٹی بھٹو مائنڈ سیٹ سے نکل آئی ہے۔ ضیائی فلسفہ بچا نہ مشرفی سیکولر فلسفے میں کوئی جان رہی ہے۔ ہم ان فلسفوں اور ذہنوں سے چھٹکارا پا چکے تو ایک قومی اتحاد و اتفاق کی سبیل اور راہ نظر آئی تھی لیکن آنکھیں کھلیں تو قوم ملالہ اور عافیہ صدیقی مائنڈ سیٹ میں بٹی ہوئی تھی۔ کیا یہ خود بخود ہو گیا یا کوئی خفیہ ہاتھ قوم کو تقسیم کر رہا ہے۔ دونوں طبقات کی آنکھ کا تارا ہو سکتا ہے قوم کو تقسیم کرنے والوں کی بھی آنکھ کا تارا ہو۔آج پاکستان میں لاکھوں کروڑوں لوگ ملالہ کے لیے خیرخواہی کے جذبات رکھتے اور دعائیں مانگتے ہیںکیونکہ ملالہ کی صورت میں انہیں ایک روشن خیال امید کی نئی کرن نظر آئی ہے۔جبکہ ایک دوسرا طبقہ جس نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ایک سلوگن کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا ہے اور اب یہ دونوں مائنڈسیٹ اپ اس قدر ہماری قوم سرایت کر چکے ہیں کہ قوم اب واضح طور پر دو حصوں میں بٹ چکی ہے۔ آدھی قوم ملالہ کو امریکہ کا ایجنٹ سمجھتی ہے اور باقی آدھی قوم ڈاکٹر عافیہ کو امریکہ کا ایجنٹ سمجھتی ہے ،کہیں ایسا تو نہیں کہ ان دونوں افسانوں کا قلمکار کوئی تیسرا ہاتھ ہمیں آپس میں تقسیم کرکے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتا ہو؟ملالہ کو بے نظیر کی چادر (شال)اڑھوا کر بے نظیراور عافیہ صدیقی کو رضیہ سلطانہ کے روپ میں پیش کرکے قوم کے جذبات سے کھیلنے والا منصوبہ ساز تیسرا ہاتھ کہیں قوم کے ساتھ ہاتھ تو نہیں کر گیا؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus