×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ایک اور عید خون میں نہا گئی۔آخر کب تک؟
Dated: 13-Aug-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com دہشتگردوں نے ہم پاکستانیوں کی عید خون آلود کر دی۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کے دو ماہ میں دہشتگردوں نے پاکستان کے امن کو تہہ بالا کر دیا۔ ملک کے اندر دہشتگرد بارود پھیلائے ہوئے ہیں تو مغربی و مشرقی سرحد کے پار سے بھی دہشتگردی ہی درآمد ہوتی ہے ۔اِدھر کرزئی کے کارندے شرارتیں کرتے ہیں تو اُدھر منموہن کے غنڈے ایل او سی پر گولہ بار کرکے الزام پاکستان پر لگا دیتے ہیں۔ عید سے قبل پاکستانی فوج پر پونچھ سیکٹر میں بھارت کی سرحد کے پانچ کلو میٹر اندر 5بھارتی فوجیوں کو مارنے کا الزام لگاکر پاکستان کو بڑے نقصان سے دوچار کرنے کی منصوبہ بندی کر لی گئی۔ پاکستان نے اس واقعہ سے صریحاً انکار کیا۔ عالمی میڈیا بھی بھارت کے الزام کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتا ہے۔ جب کہ بھارت 5بھارتی فوجیوں کی ہلاکتیں پاک فوج کے کھاتے میں ڈالنے پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ نہ صرف لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ہنگامہ آرائی اور پاکستان کے خلاف بدزبانی کی گئی بلکہ انتہا پسندہندئوں نے پاکستانی ہائی کمیشن کا گھیرائو کرکے پاکستان کے خلاف شدید نفرت کا اظہار کرتے ہوئے تضحیک آمیز نعرے بھی لگائے۔عید کے موقع پر لائن آف کنٹرول کے کئی سیکٹرز پر بھارت کی طرف سے اشتعال انگیز کارروائیں کی گئیںاور غنڈوں نے امرتسر سے پاکستان آنیولی دوستی بس روک کر پاکستان کے خلاف نعرے بازی کی ۔ گذشتہ دنوں بھارتی وزارت داخلہ کے سابق افسر نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی پارلیمنٹ اور ممبئی حملے خود بھارت کی حکومت نے خود کرائے اور اس کا الزام پاکستان پر لگا دیا۔ سابق نائب سیکرٹری آر وی ایس مانی نے عشرت جہاں جعلی مقابلہ کیس میں عدالت میں جمع کرائے گئے بیان میں کہا کہ سی بی آئی اور ایس آئی ٹی کی تحقیقاتی ٹیم میں شامل ستیش ورما نے انہیں بتایا کہ نئی دہلی میں پارلیمنٹ اور ممبئی کے دہشت گرد حملے طے شدہ تھے جن کا مقصد انسداد دہشت گردی قوانین کو سخت بنانے کے لئے جواز پیدا کرنا تھا۔ بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے کیس میں کشمیری شہری افضل گورو جبکہ ممبئی حملوں کے الزام میں محمد عامر اجمل قصاب کو سزائے موت دی گئی تھی ۔ حب الوطنی کا تقاضا تھا کہ بھارتی افسر کا اعترافی بیان سامنے آتے ہی پاکستان کی طرف سے شدید ردعمل کااظہار کیا جاتا۔ میڈیا آسمان سر پر اٹھا لیتا۔ بھارت سے افضل گورو اور اجمل قصاب کی موت کا حساب مانگا جاتا۔ لیکن ہماری طرف سے مکمل خاموشی رہی محض وزیراطلاعات کی نحیف سی آواز ابھری کہ بھارت سے وضاحت طلب کی ہے۔ قارئین ذرا سوچیے اگر ایسا پاکستان کی طرف سے ہوتا تو بھارت کیا کر چکا ہو۔ ہمارے حکمران محض تجارت ،تعلقات اور دوستی کے شوق میں بھارت کا سب کچھ ہضم کر رہے ہیں۔ بھارت میں پٹاخہ بھی چلے تو بنیا اس کا الزام پاکستان پر لگا کر واویلا شروع کر دیتا ہے۔ مذاکرات کی میز الٹا دیتا ہے۔ ہمارے حکمران وہ ماضی کے ہوں یا حال کے، بھارت کی بڑی سے بڑی دہشتگردی پر بھی ماتھا شکن آلود نہیں کرتے۔ مذاکرات کا عہد، تجارت جاری رکھنے کا عزم کرتے ہیںحالانکہ یہ خسارے کی تجارت ہے اور منموہن کی پاکستان آمد کے لیے دیدہ ودل فرا ش راہ کیے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی ،امن کی بگڑتی صورت حال میں اگر بیرونی ہاتھ تلاش کیا جائے تو زیادہ ہاتھ بھارت ہی کا ہوگا۔ فرقہ وارانہ دہشتگردی میں شدت پسندوںکو فنڈ دینے والے چند اسلامی ممالک بھی برابر کے شریک ہیں۔ ہماری حکومت سب کچھ جانتے ہوئے بھی مصلحت کا شکار ہے یا اسے اپنے مفادات قومی مفادات سے زیادہ عزیز ہیں۔ عین عید کے موقع پر بلوچستان سے پنجاب آنے والے 14مزدوروں اور سکیورٹی اہلکاروں کو بولان میں بس سے اتار کر قتل کر دیا گیا۔ یہ لوگ بلوچستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔ علیحدگی پسند دہشتگردوں نے اس اندوہناک سانحہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ پنجاب میں بلوچستان سے زیادہ بلوچ بستے ہیں ان کی طرف کسی کو آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی بھی ہمت نہیں۔ پھر بلوچستان کے ذمہ دار دہشتگردوں کو لگام کیوں نہیں ڈالتے۔ خدا نہ کرے کہ ایسا موقع آئے کہ پنجاب میں موجود دوسرے صوبوں کے لوگوں پر بُرا وقت آئے جس روز بولان میں پنجابی مزدوروں اور سکیورٹی اہلکاروں کا قتل کیا گیاعین اسی روز چلاس میں ایک کرنل، ایک کیپٹن اور ایس ایس پی دیامر کو دہشتگردوں نے اس وقت ٹارگٹ کیا جب وہ ایک میٹنگ میں شرکت کے لیے جا رہے ہیں۔ یہ افسر نانگا پربت میں 9سیاحوں کے قتل کی تحقیقات کر رہے تھے۔ تینوں کو تہہ تیغ کرنے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔ اسی روز رات کو کراچی میں 8بچوں کو قتل کر دیا گیا۔ 20زخمی ہوئے یہ بچے رات کو لیاری سٹیڈیم میں فٹبال میچ کھیل رہے تھے۔ اس کی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ البتہ کراچی میں جرائم پیشہ افراد سیاسی پارٹیوں کی پشت پناہی سے وارداتیں کرتے ہیں۔ عید سے ایک روز قبل کوئٹہ میں دہشتگردوں نے 30پولیس افسروں و اہلکاروں کو بربریت سے خودکش حملے میں مارڈالا۔عید کے روز بھی دہشت گردی کی وارداتوں میں دو درجن انسان موت کے منہ میں چلے گئے ۔فرقہ وارانہ دہشتگردی بھی ہوتی ہے۔ فرقہ وارانہ دہشتگردی کراچی، کوئٹہ اور ملک کے کئی علاقوں میں پھیل چکی ہے۔ طالبان نے بھی پورے ملک کو بارود کا ڈھیر بنایا ہوا ہے۔ مسلم لیگ ن کی دو ماہ کی حکومت کے دوران دہشتگردی کا جن ہر طرف دندنا رہا ہے لیکن اسے کنٹرول کرنے کا حکومتی عزم نظر نہیں آتا۔ وزیراعظم عمرے کے لیے گئے تو قیام میں توسیع کر لی، وزیراعلیٰ پنجاب لندن چلے گئے۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے کابینہ کی تشکیل کے لیے نوازشریف کی جنبش آبرو کے منتظر ہیں۔ دہشتگردی کا خاتمہ قوم کو متحد کرکے ہی کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ قوم اس حوالے سے بٹی ہوئی ہے۔ آدھے لوگ دہشتگردوں سے نفرت اور آدھے ان کی حمایت کرتے ہیں۔ حکومت یونہی لاتعلق رہی تو دہشتگردی ملک کو برباد اور ہماری نسلوں کا مستقبل تاریک کر دے گی۔ جس سے ہر عید خوشیوں کے بجائے آہوں اور آنسوئوں میں ڈھلتی رہے گی۔ قوم کو متحد کرنے کا بہترین طریقہ آ ل پارٹیز کانفرنس( اے پی سی) کا انعقاد ہے۔ جس کے شرکاء ہرقسم کی دہشتگردی میں ملوث دہشتگردوں سے لاتعلقی کا اعلان کرکے اس پر عمل بھی کریں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus