×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بڑھتے توانائی بحران کا کیا کوئی حل ممکن ہے؟
Dated: 06-Aug-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پاکستانیوں کو درپیش مسائل، مصائب اور مشکلات کی بات کی جائے تو آج بھی سب سے بڑا مسئلہ اور بحران توانائی کی قلت ہے۔ دو ماہ سے برسراقتدار مسلم لیگ ن کی حکومت اس بھنور سے نکلنے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہی ہے لیکن اس سے کچھ بن نہیں پا رہا۔ حالانکہ اس نے اقتدار میں آنے سے قبل بڑے بلند و بانگ دعوے کیے تھے۔ اب وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کچھ دعوے جذبات میں آ کر کر دیئے تھے حکومت میں آئے ہیں تو پتہ چلا کہ کس بھائو بکتی ہے۔ شہباز شریف 6ماہ سے شروع کرکے 3سال تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کرتے رہے۔ دوسری صورت میں انہوں نے کہا ان کا نام بدل دیا جائے۔ مرکز میں نوازلیگ کو اقتدار ملا تو میاں نوازشریف نے یہ کہہ کر کھوتا کھوہ میں ڈال دیا کہ شہباز شریف جذباتی باتیں کر جاتے ہیں۔ سیاست میں حقائق کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ مسلم لیگ ن کی قیادت جو کہتی رہی وہ جذبات میںآ کر نہیں بلکہ عوام کو دھوکہ دے کر ووٹ حاصل کرنے کے لیے کہتی تھی۔ سیاستدان کا ملکی حالات کی نبض پر ہاتھ ہوتا ہے۔ پانچ سال حکومت سے باہر رہ کر مسائل کے حل کی تیاری کرتے ہیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ان کو سیاست کرنے کا حق ہی نہیں ہے۔ نجم سیٹھی شہباز شریف کے میٹروبس منصوبے پر تنقید کرتے رہے۔ نگران وزیراعلیٰ بنے تو تعریفوں کے پل باندھ اور فرمایا کہ ان کے حقائق وزیراعلیٰ بننے کے بعد واضح ہوئے ہیں۔ خواجہ اور نجم سیٹھی سے اتفاق کیا جائے تو پھر اصل حقیقت جاننے کے لیے ہر کسی کا اقتدار میں آنا ضروری ہے۔ کیا ایسا ممکن ہے؟ ایسا نہ تو ممکن ہے او رنہ ہی ان صاحبان کے بیانات کا حقائق سے کوئی تعلق ہے۔ یہ اپنی نااہلی اور دہرے معیار کو بودے دلائل میں چھپانے کی کوشش ہے۔ حکومت نے 480ارب روپے کا سرکولرڈیٹ ادا کر دیا۔ بجلی کی صورت حال اس کے باوجود بہتر نہیں ہوئی۔ وزیرپانی و بجلی اور وزیراطلاعات نے رمضان سے قبل دعوی کیا تھاکہ سحر، افطار اور نماز تراویح کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی وہ دعوی بھی پانی پر لکیر ثابت ہوا ۔ملک کی اکثر آبادیوں میں اب بھی 10سے18گھنٹے بجلی بند رہی ہے۔وزیر مذکور اپنے حریف پیشروئوں کی طرح اسے معمولی قرار دیتے ہیں۔ حکومت ضرور بدلی ہے بیانات نہیں بدلے، حکمرانوں کی چارلبازیاں نہیں بدلیاں۔ عوام کو نندی پور پاور پراجیکٹ کی نوید سنائی جا رہی ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی حکومت کے وزیروں نے اس سے بھی 20ارب کا مال بنا لیا ہے۔ اگر حالات اسی ڈگر پر چلتے رہے تو موجودہ حکمران بھی عوام کو لولی پاپ دیتے دیتے اپنی مدت پوری کر لیں گے او رنئے آنے والے پھرنئے جھانسوں کے ساتھ سامنے آ کر عوام کی بے بسی کا مذاق اڑائیں گے۔ میاں نوازشریف نے اپنی طرف سے بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کے لیے بڑی انرجیٹک ٹیم چنی تھی لیکن اس کی اہلیت کا بھانڈا پھوٹ چکا ہے۔ میاں صاحب کو شاید نئی ٹیم کا انتخاب کرنا پڑے۔ میاں صاحب بڑے نام نہ دیکھیں اہل افراد کو سامنے لائیں بے شک وہ نئے ہوں۔ نگران حکومت کے دوران بجلی کا بحران بدترین صورت اختیار کر گیا تھا۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے نگران پانی و بجلی کے وزیر کو اسی شعبے میں ایڈوائزر لگا دیا۔ ان کی خدمات کیا اس لیے حاصل کی گئی ہیں کہ وہ 20گھنٹے بجلی بند رکھنے کے لیے ماہرانہ رائے پیش کر سکیں؟ آج عوام کے لیے بجلی کی لوڈشیڈنگ تو ایک عذاب ہے ہی اوپر سے اس کی قیمتوں میں اضافہ اور مسلسل اضافہ عذاب کو دوآتشہ کر رہا ہے۔ میاں نوازشریف توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے کمٹڈ نظر آتے ہیں۔ وہ شہبازشریف کوجذباتی قرار دیتے ہیں حالانکہ خود بھی جذبات میں آ کر بھارت سے بجلی و گیس کی درآمد کی بات کرتے ہیں حالانکہ بھارت خود اس بحران کا شکار ہے۔ پاکستان کے لیے انرجی کرائسز سے فوری طور پر نمٹنے کا بہترین طریقہ ایران سے کیے گئے معاہدوں کی تکمیل ہے۔ اگر یہ مکمل نہیں ہوتے تو 30کروڑ روپے روزانہ جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ جس سے پاکستان کی معیشت کی دُہری ہوئی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے گی۔ ایران کے ساتھ معاہدوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ امریکہ کی ایران پر پابندیاں ہیں جن میں عالمی برادری اس کا ساتھ دے رہی ہے۔ ایران سے گیس کی درآمد کے معاہدے پندرہ سال قبل ہوئے لیکن ان پر عمل نہ ہو سکا۔ اس دوران کسی حکومت نے ان معاہدوں پر نظرثانی کی بات نہ کی۔ آج تک یہی کہا جاتا رہا کہ ان معاہدوں پر کوئی دبائو قبول نہیں کیا جائے۔ حالانکہ یہ حقیقت ہے آپ عالمی برادری کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔ امریکہ نے تو ایران کے ساتھ معاہدوں پر عمل کی صورت میں پاکستان کو سنگین نتائج کی د ھمکیاں دی تھیں۔ اب لگتا ہے کہ نئی حکومت نے حقائق کا ادراک کر لیاہے۔ ایران کے ساتھ معاہدوں پر عمل کے لیے امریکہ کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی گئی ہے۔ جان کیری نان پیپرز پیش کیے گئے ہیں جن میں ایران کے ساتھ پاکستان کے معاہدوں پر ایسا ہی استثنیٰ دینے کی بات کی گئی ہے جیسا ترکی اور آرمینیا کو دیا گیا ہے۔ اگر پاکستان مذاکرات کے ذریعے امریکہ کو اس استثنیٰ پرقائل کر لیتا ہے تو پاکستان کی انرجی کی فوری اور سستی ضرورت پوری ہو سکتی ہے۔ امریکہ نے جب پاک ایران پاور معاہدوں کی مخالفت کرتے ہوئے پاکستان کو باز رہنے کی تنبیہ کی اس کے ساتھ ہی کہا کہ ہم پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کریں گے۔ظاہر ہے امریکہ سے تاروں کے ذریعے بجلی آ سکتی ہے نہ پائپ لائن بچھا کر گیس درآمد کی جا سکتی ہے۔ امریکہ اگر پاکستان کو تیل کی فراہمی ان نرخوں پر کروا دے کہ حکومت کا منافع بھی کم نہ ہو اور پاکستانی صارفین کو 50،55روپے میں دستیاب ہو تو میرا خیال ہے اس سے پاکستان فوری طور پر توانائی کے بحران سے نکل آئے گا اور پاکستان کی معیشت کا پہیہ ایک بار پھر گھومنے لگے گا۔ میرے ذہن میں اپنے حکمرانوں کے لیے ایک اور تجویز بھی ہے۔ وہ اسی طرح امریکہ ایران کشیدگی ختم کرانے کی کوشش کریں جس طرح 60کی دہائی کے آخر میں پاکستان نے امریکہ اور چین کو ایک میز پر بٹھا دیا تھا۔ اس سے پاکستان اور ایران پاورپراجیکٹس کی تعمیر و تکمیل کی راہیں خود بخود کھل جائیں گی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus