×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سیاست میں ہٹ دھرمی
Dated: 27-Aug-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ویسے تو پاکستان میں انتخابات کی تاریخ ہی کیا ہے البتہ جتنی بھی ہے 22اگست کے ضمنی انتخابات پاکستان کی انتخابی تاریخ میں سب سے بڑے تھے۔ ان میں حسب سابق یعنی مئی 2013ء کی انتخابات کی طرح مسلم لیگ ن پہلے، تحریک انصاف واضح طور پر دوسرے اور پاکستان پیپلزپارٹی تیسرے نمبر پر رہی۔ ہمارے ہاں جیت اور ہار کا معیار قومی اسمبلی کے حلقوں کے نتائج کو قرار دیا جاتا ہے۔ ان انتخابات میں پی ٹی آئی کی طرف سے عمران خان کی پشاور اور میانوالی کی جیتی ہوئی سیٹیں ہار جانے کے باوجود پی ٹی آئی دوسری بڑی پارٹیوں کی طرح مطمئن ہے۔ پی ٹی آئی کے لیے عمران خان کی میانوالی اور پشاور کی سیٹیں ہار جانا ایک بڑا سیٹ بیک تو ہی ہے۔ اس نے مولانا فضل الرحمن کے بھائی مولانا عطاء الرحمن کی لکی مروت کی سیٹ اور نوشہرہ کی سیٹ پر برتری حاصل کرکے ، عمران والی سیٹیں ہارنے کا کسی حد تک مداوا کر لیا ہے۔ پی ٹی آئی کو پشاور اور میانوالی سے بدترین شکست کیوں ہوئی اس کا تجزیہ پی ٹی آئی کی قیادت کر رہی ہو گی۔ پنڈی والی سیٹ عمران نے خطرے میں پڑی دیکھ کر نہیں چھوڑی تھی۔ اگر وہ میانوالی اور پشاور کی سیٹوں میں سے ایک رکھ لیتے تو بھی یہی ہونا تھا لیکن عمران خان کو اس کا اندازہ نہیں تھا۔ عمران جس مارجن سے یہ سیٹیں جیتے تھے حالات کا یہی تقاضا تھا جو عمران خان نے کیا لیکن اس کا ووٹرناراض ہو گیا یا مایوس، وہ گھر سے ہی نہیں نکلا۔ عام انتخابات میں ٹرن آئوٹ 56فیصد رہا تو ضمنی انتخابات میں گِر کر 39فیصد تک آ گیا۔ تجزیہ نگار اس بات کو فراموش کر رہے ہیں کہ پی ٹی آئی دو سیٹیں لوز کی ہیں تو دو مزید جیتی بھی ہیں۔ قومی اسمبلی میں حساب برابررہا۔ صوبائی اسمبلی میں اس نے پنجاب میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا جہاں اس نے تین حلقوں میں مسلم لیگ ن کو پچھاڑا چوتھی سیٹ پی پی 150لاہور کے نتائج کے خلاف پی ٹی آئی سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے۔ اس میں دوسرے حلقے سے میاں مرغوب کو درآمد کرکے الیکشن لڑایا گیا اور ان کو صرف 67ووٹوں کی لیڈ مل سکی۔ اسے پی ٹی آئی دھاندلی کا شاخسانہ قرار دے رہی ہے۔ مسلم لیگ ن اس نشست سے ہاتھ دھو بیٹھتی تو سبکی ہوتی۔ معاملہ عدلیہ میں جانے اور دوبارہ گنتی پر نتیجہ اگر بدل جاتا ہے تو اس سے مسلم لیگ ن کو اتنی پریشانی نہیں ہو گی جو 22اگست کو پی ٹی آئی کے امیدوار کی کامیابی سے ہو سکتی تھی۔ ان ضمنی انتخابات کا دلچسپ پہلو ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی جے یو آئی کے سوا ہر پارٹی مطمئن ہے۔ مسلم لیگ ن نے تو سب سے زیادہ سیٹیں جیتی ہی ہیں۔ پی ٹی آئی اور پی پی کے علاوہ ایم کیو ایم اور اے این پی کو توقعات سے بڑھ کر کامیابی ملی۔ اے این پی بلور کی واحد سیٹ کو لے کر اب تک بھنگڑا ڈال رہی۔ مولانا فضل الرحمن کا یہودی خود ان کو ہی لڑ گیا۔ ان کی رہی سہی ساکھ بھی خاک میں مل گئی۔ عمران خان نے سیاسی حواس بحال رکھے اور ملکی ماحول کے مطابق سیاست کی تو آئندہ انتخابات میں اس کی کامیابی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ضمنی انتخابات کو اگلے عام انتخابات کا پیمانہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عام انتخابات اور ضمنی میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ آئندہ انتخابات میں ہر پارٹی کے لیے کامیابی کے دروازے کھلے ہیں۔ مسلم لیگ ن نے ڈلیور کیا تو یہ میدان مار سکتی ہے۔ تین پونے تین ماہ کی کارکردگی سے ایسا ممکن نہیں۔ پیپلزپارٹی سندھ میں امن بحال کرکے اور عوامی مسائل حل کرکے پورے ملک کے لیے خود کو قابل قبول بنا سکتی ہے لیکن اس کی قیادت کی رگ رگ میں کرپشن سما گئی ہے۔ ان حالات میں پی ٹی آئی کے پاس خیبر پی کے میں خود کو جان دار پارٹی ثابت کرکے اگلا الیکشن اپنے نام کرانے کا چانس موجود ہے۔ بشرطیکہ عمران خان سیاست میں ہٹ دھرمی کو بالائے طاق رکھ دیں۔ پی ٹی آئی کے قائدین اعتراف کرتے ہیں کہ ٹکٹوں کی صحیح تقسیم نہیں ہوئی۔ ان سے کوئی پوچھے اس میں قصور کس کا ہے؟عمران نے اپنے عزیزوں حفیظ اللہ نیازی اور امان اللہ نیازی کو ناراض کر دیا جو ان کی سیاست کو آگے بڑھانے میں ہراول دستہ تھے۔میانوالی میں پھر وہی نتیجہ آنا تھا کہ شادی خیال جیت گئے۔عین انتخابات سے قبل پارٹی الیکشن بھی عمران خان کی پاکستانی کلچر سے چشم پوشی اور ہٹ دھرمی کا شاخسانہ ہے۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں کبھی الیکشن نہیں ہوتے۔ الیکشن کمیشن کو مطمئن کرنے کے لیے ڈراما باز ی ہوتی ہے۔عمران نے پارٹی انتخابات میں وقت ضائع کیااور کئی جگہوں پر نوجوان سامنے آئے جو عہدیدار تو منتخب ہوئے ان کے پاس کوئی سیاسی تجربہ نہ تھانہ حالات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت۔اور نہ ہی ان میدواران کے پاس شوق کے علاوہ کوئی سیاسی بیک گرائونڈ یا برادری کی حمایت سے بھی یکسر محروم تھے۔ ان سے ٹکٹوں کی تقسیم میں مشاورت کی گئی تو سیاسی قد کاٹھ کی شخصیتوں کے بجائے نوجوانوں کو ٹکٹ دے دیئے گئے جس سے تجربہ کار لوگ نہ صرف انتخابی عمل سے دور ہوئے بلکہ مایوس ہو کر گھر بیٹھ گئے۔بعض نے دوسری پارٹیوں کی حمایت کی ان کو منانے کے لیے قائدین نے کوشش ہی نہیں کی۔اس کو بھی عمران خان کی ہٹ دھرمی پر محمول کیا جا سکتا ہے۔سیاست میں ہٹ دھرمیوں کا سلسلہ جاری رہا توپی ٹی آئی موجودہ مقام سے آگے نہیں بڑھ سکے گی۔ بے شک بین الاقوامی یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ عمران خان اپنی پارٹی کو امریکہ کی طرز پر ری پبلکن ،ڈیموکریٹک اور برطانیہ کی طرز پر کنزرویٹو ،لیبرپارٹی کی سطح پر لانا چاہتے تھے لیکن عمران خان یہ بات بھول گئے ایک تو ان دونوں ملکوں کا مزاج مغربی ہے جو ہمارے سائوتھ ایشین مزاج سے مطابقت نہیں رکھتااور دوسرا برطانیہ اور امریکہ میں لٹریسی ریٹ 100فیصد اور وہاں پر اعلیٰ یونیورسٹیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جب کہ اس کے مقابلے میں پاکستان میں لٹریسی ریٹ 25فیصد سے بھی کم ہے۔اور عوام کے پاس وہ اویئرنس ،شعور نہیں ہے ۔میرے سمیت عمران خان کے انتہائی قریبی صحافی ساتھی بھی اس بات پر آج بھی مضر ہیں کہ عمران خان کو تحریک انصاف میں کم از کم دس مزید سال انتخابات نہیں کروانے چاہئیں تھے۔عمران خان کے عزائم بے شک ایک محب وطن کے سے تھے مگر وہ زمینی حقائق کو نظرانداز کرکے عین حالات جنگ میں جنگی مشقیں کرنے میں لگ گئے۔عمران خان اگر واقع اس ملک کو ایک تیسری سیاسی قوت دینا چاہتے ہیں تو انہیں پاکستان کے مقامی رسم و رواج ،ناخواندگی اور مزاج کو سمجھنا ہوگا یا پھر ڈاکٹر طاہر القادری کے نسخے پر عمل پیرا ہو کر پہلے نظام کو بدلنے کی کوشش کی ہوتی۔سیاست میں ہٹ دھرمی کی گنجائش نہیں ہوتی۔ عمران خان کو اپنے سیاسی روایے پر نظرثانی کرتے ہوئے ایک دفعہ موجودہ حالات کے تناظر میں فیصلہ کرنا ہوگا اور یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ایک کرپٹ نظام اور کرپشن زدہ سیاست دانوں کے غول کے سامنے وہ ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus