×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سب سے پہلے پاکستان۔۔۔پھرمشرق وسطیٰ اورعالمی امن
Dated: 31-Aug-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com کافی دنوں سے دوستوں کا یہ اصرار بڑھتا جا رہا ہے کہ میں مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ تنا ظرمیں قلم کشائی کروں کچھ قریبی دوستوں کا نقطۂ نظر یہ بھی ہے کہ عالم اسلام اس وقت ایک ہولناک جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے اور ہم لوگ جو opinion makers کہلاتے ہیں ہماری یہ ڈیوٹی ہے کہ قوم کو،ملت کو تازہ ترین واقعات اور آنے والے خطرات سے آگاہ کریں۔ میں یہ مانتا ہوں کہ عالمی امن اس وقت شدید خطرات کا شکار ہے اور کسی بھی لمحے تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ دراصل پچھلی صدی کے آخری دو عشروں میں اور اب تک دنیا کی آبادی جس رفتار سے بڑھی ہے اور عالمی کساد بازاری کے پنجوں نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اس سے نہ صرف طاقت کا توازن بگڑا ہے بلکہ طاقت بے قابو بھی ہوئی ہے۔پچھلے تیس سال کی جدت اور ایجادات نے بھی اس میں بڑا رول ادا کیا ہے۔ کل تک جو اشیاء لگژری کا سمبل سمجھی جاتی تھیں وہ آج ایک لوئر مڈل کلاس فرد یا گھرانے کی ضرورت بن چکی ہیں اس کا بالواسطہ اثر ہمارے رہن سہن ،تمدن، سماج اور معاشرے پر بھی پڑا ہے۔ آج کا فرد اور معاشرہ تیس سال پہلے کے فرد اور معاشرے سے خود غرضی میں میلوں آگے ہے۔ گذشتہ آدھی صدی میں مڈل ایسٹ کے ممالک تیل کی دولت سے مالا مال ہوئے اور جب دولت کی ریل پیل ہوئی تو جہاں معاشرتی برائیوں نے جنم لیا وہیں یہ معاشرتی، معاشی ناہمواری بھی اپنی بلندیوں پر پہنچی۔ گذشتہ دنوں سے مڈل ایسٹ میں جاری بدامنی کی لہر نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اور کچھ بین الاقوامی سازشوں اور گٹھ جوڑ نے اس پر جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ لیبیا میں بغاوت ، تیونس میں تیس سالہ اقتدار کا خاتمہ، عراق، افغانستان، پاکستان اور شام میں خانہ جنگیاں ، الجزائر ، مراکش، بحرین اور ترکی میں سیاسی و مذہبی سازشوں کا سر اٹھانا یہ سب خود بخود ہو رہا ہے؟ افغانستان میں روس کی افواج کو مسلمان مجاہدین کے ہاتھوں عبرت ناک شکست دلوانے والا امریکہ بہادر آج تیس سال بعد پھر شام کے اندر ایک نیا محاذ بنا کر اسی روس کے سامنے پھر کھڑا ہے۔ کل کا مجاہد پہلے باغی پھر طالبان اور پھر القاعدہ کا دہشت گرد کہلایا۔ جس کا پیچھا کرتے ہوئے امریکی اور نیٹو افواج نے نہ صرف تورا بورا میں کارپٹ بمبنگ کی بلکہ افغانستان سے لے کر یمن، سوڈان، لیبیا، عراق، ایران اور پاکستان میں نہ صرف ان کا پیچھا کیا بلکہ ڈارون حملوں کے ذریعے ان دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی اور اسی طرح ایبٹ آباد میں جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو قتل کرکے اس کی لاش تک اٹھا کر لے گئے مگر تحسین ہے ان عالمی سازشوں کے پراگندہ ذہن کی کہ آج بشارت الاسد اور شام کو سبق سکھانے کے لیے وہ سعودی عرب جو القاعدہ کا بانی ملک ہے(یاد رہے 9/11کے حملوں میں 14میں سے 9ارکان کا تعلق سعودی عرب سے تھا اور باقی پانچ کا مصر سے) اور امریکہ اسی القاعدہ کی بچی کھچی تنظیم اور جیلوں میں پابند سلاسل القاعدہ کے مجرموں کو شام ،لبنان ،ایران اور پاکستان داخل کر رہے ہیں یعنی کل کا دہشت گرد آج پھر اسلامی امہ کا ہیرو بننے جا رہا ہے دراصل ایران اور سعودی عرب اپنے مذہبی اور مسلکی عقائد کے جنون میں عالم اسلام کو بحر خطرات میں دھکیل رہے ہیں اور ان کی گھنائونی سازشوں کا جہاد کے کھیل کا میدان کبھی سرزمین پاکستان، افغانستان اور شام بنتی ہے اور کبھی لیبیا، تیونس اور مصر۔ قارئین کرام ایک پاکستانی کی حیثیت سے ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ سعودی عرب نے ہمیشہ ہمیں کمتر درجے کا عجمی مسلمان سمجھا ہے اور ہمارے لاکھوں پاکستانی اس سرزمین پر ذلت آمیز زندگی گزار رہے ہیں اور یہی سعودی عرب اور ایران گوادر اور بلوچستان میں کھلی جارحیت اور مداخلت کر رہے ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی طفیلی ریاستیں ایک مضبوط اور نیوکلیئر پاکستان کو اپنی سلطانی اور بادشاہت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا 1974ء میں اسلام آباد میں عراق کی ایمبیسی میں دہشت گردی کی غرض سے سمگل کیا گیااسلحہ پکڑا گیا تھا اور مرحوم یاسر عرفات کا آنجہانی کا انداگاندھی سے تعلق کوئی ڈھکی چھپی بات نہ تھا جبکہ ان برادر اسلامی ممالک کی اکثریت نے کبھی کشمیر کے مسئلہ پر مدد تو درکنار اخلاقی حمایت کا عندیہ تک نہ دیا آج وطن عزیز پاکستان داخلی انتشار، فرقہ واریت ،بدامنی، بم دھماکوں اور ہر ہفتے کم از کم سو لاشیں دہشت گردی سے گرتی ہیں۔ خارجی محاذ پر پاکستان شاذ ہی کسی دوست پر اعتماد کر سکتا ہے اور ڈپلومیسی میں تنہائی کا شکار ہے۔ جبکہ اخلاقی طور پر ہمارا معاشرہ اور قوم اس حد تک اخلاقی اور معاشرتی پستی کا شکار ہیں کہ ہم مرے ہوئے اور حرام جانوروں کی چربی اور انتڑیوں سے تیل اور گھی کشید کر رہے ہیں۔ صحت مند خوراک ڈھونڈنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔ اینٹوں اور بورے کو پیس کر مرچیں بنائی جا رہی ہیں۔ زرعی ادویات ،کھاد اور جراثیم کش ادویات کا یہ حال ہے کہ اس سے مچھر مرنا کجا الٹا ڈینگی پیدا ہو رہا ہے۔جان بچانے والی ادویات کی جگہ بیسن کی ٹکیاں پیکٹوں میں لپیٹی ملتی ہیں۔ سیاست دان، بیوروکریٹس،عدلیہ، جوڈیشری، اسٹیبلشمنٹ اور عوام کرپشن کی انتہائی دلدل میں پھنس چکے ہیں اور اس شعر کے مصداق: مقید کر لیا یہ کہہ کر سانپوں کو سپیروں نے کہ ڈسنے کے لیے اب ہیں انسان کے لیے انسان عالم اسلام اور عالمی امن کے لیے پریشان میرے دوست اور احباب یقینامیرا مدعا سمجھ گئے ہوں گے کہ ہمیں جہاد پر نکلنا چاہیے مگر اس کی ابتدا اپنے گھر سے، گلی سے، محلے سے، شہر سے اور ملک سے کرنا ہو گی اس وقت بر لب جاں پاکستان کو ہماری توجہ اور نگہداشت کی ضرورت ہے پہلے ہم خود کو توانا اور مضبوط کریں پھر ہم شاید کسی عالمی امن اور عالم اسلام کے کام آ سکیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus