×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
شام پر ممکنہ امریکہ حملہ !عالمی جنگ کے آغاز کا پیش خیمہ
Dated: 03-Sep-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com امریکہ کئی ماہ سے شام پر حملے کے لیے پَر تول رہا تھا۔ 21اگست کو دمشق کے مضافاتی علاقے میں کیمیائی ہتھیاروں سے حملے میں 14سو افراد ہلاک ہو گئے تو امریکہ نے شام پر حملے کی تیاریوں کو آخری شکل دے دی۔ امیر کے غریب رشتے دار کی طرح برطانوی وزیراعظم شاہ سے بھی زیادہ شاہ کے وفادار نظر آئے۔ ٹونی بلیئر امریکہ کی حمایت میں قلابازیاں کھاتے رہتے تھے۔ عراق پر تباہ کن اسلحہ کا الزام لگا تو ٹونی بلیئر نے امریکہ کو فوری طور پر حملہ کرنے کا مشورہ دیا۔ حملہ ہوا، عراق اجڑا لاکھوں انسان لقمہ اجل بنے۔ صدام اور ان کے ساتھیوں کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا تو پتہ چلا کہ ٹونی بلیئر کی یہ رپورٹ کہ عراق کے پاس تباہی پھیلانے والا اسلحہ موجود ہے غلط ثابت ہوا۔لیکن انسانیت کارروائی اَن ڈوتو نہیں ہو سکتی تھی۔ اب امریکہ کی طرف سے شام پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا تو برطانوی وزیر کیمرون آپے سے باہر نظر آئے۔ شام پر حملے کے لیے امریکہ کی حمایت کر دی۔ معاملہ ہائوس آف کامنز میں لے جایا گیا تو ہائوس نے شام پر امریکی حملے کی حمایت سے انکار کر دیا۔ جس پر کیمرون دل برداشتہ نظر آئے لیکن پارلیمنٹ کی رائے کے برعکس وہ امریکہ کے شانہ بشانہ ہو کر حملہ کرنے سے قاصر ہیں۔دراصل برطانوی پارلیمنٹ ایک ہی سوراخ سے دو دفعہ ڈسے جانے کے حق میں نہیں تھی اور خاص طور پر برطانوی رکن پارلیمنٹ جارج گیلرے جو کہ متعدد موقعوں پر برطانوی پارلیمنٹ کو امریکہ کے بارے میں انتباہ کر چکے ہیں اس دفعہ بھی کلیدی رول ادا کیا ۔یہی وجہ ہے کہ ڈیوڈ کیمرون کو پارلیمنٹ میں منہ کی کھانی پڑی۔ اس میں شک نہیںکہ دمشق میں کیمیائی حملہ ہوا ہے۔ اس کی تصدیق اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے بھی کی ہے۔ لیکن دعوے سے تو اوباما کے علاوہ کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ یہ حملہ کس نے کیا ہے۔ اوباما اس کا الزام شام کی حکومت پر لگاتے ہیں۔شام کا کہنا ہے کہ باغیوں اور ان کے پشت پناہی کرنے والوں کی کارستانی ہے جسے جواز بنا کر شام پر حملہ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اقوام متحدہ کا کردار امریکہ کی لونڈی کا رہا ہے۔ امریکہ نے جس طرح چاہا اسے اپنا مفادات کے لیے استعمال کیا۔ اقوام متحدہ نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا جائزہ لینے کے لیے اپنے معائنہ کار شام بھیجے جس کو رپورٹ مرتب کرنے کے لیے دو ہفتے درکار ہیں لیکن اوباما کے لیے دو ہفتے کا انتظا رنہیں ہوئے پا رہا۔ وہ فوری طور پر کارروائی کرنے کے موڈ میں ہیں۔ اقوام متحدہ کو بھی خاطر میں لانے پر تیار نہیں۔ ان کا تازہ ترین بیان ایسا ہے کہ پڑھتا جا شرماتا جا’’ شام میں 10روز پہلے بدترین حملہ کیا گیا، انٹیلی جنس رپورٹس میں کیمیائی حملے کی تصدیق ہوئی ہے۔ 21 اگست کا کیمیائی حملہ 21 ویں صدی کا بدترین واقعہ تھا۔ شام کی خطرناک صورتحال کے پیش نظر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ شام کے خلاف حملہ کریں گے۔ شام میں اہداف کو نشانہ بنایا جائیگا، طاقت کے استعمال کیلئے کانگریس سے اجازت لی جائیگی۔ سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر بھی حملے کیلئے تیار ہیں، دنیا کو بتانا ہو گا کہ امریکہ جو کہتا ہے، وہ کرتا بھی ہے۔‘‘ اوباما کے اس شرانگیز منصوبے کی برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے حمایت کی ہے۔ جب ان کے منتخب ایوان نے امریکی حملے کی مخالفت کرتے ہوئے ڈیوڈ کیمرون کی قرارداد مسترد کر دی تو ان کی طرف سے امریکہ کی حمایت پر کمربستہ رہنے کو شرمناک رویے سے کم تو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اوباما نے جو کچھ کیا اس سے ثابت ہو گیا کہ دنیا میں ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ قانون لاگو ہو چکا ہے۔ اگر اقوام متحدہ کو بائی پاس کرکے دنیا میں طاقت کا استعمال کرنا ہے تو اس عالمی تنظیم کا فائدہ کیا ۔اور امریکہ کی اس ممکنہ کارروائی پر اقوام متحدہ کی خاموشی بھی معنی خیز ہے۔ اس کا مطلب اس نے سبھی طاقتوروں کو طاقت کے اندھے استعمال کا حق دے دیا ہے۔یہاں شرمناک بات تو یہ ہے کہ سعودی عربی اور اس کی طفیلی ریاستوں نے بھی شام پر ممکنہ امریکی حملے کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔دراصل ایران اور سعودی عرب سمیت مسلم امہ کی آنکھیں بند ہیں اور کان بہرہ ہے وہ یہ سمجھنے،سوچنے اور دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں ۔مسلکی اور فرقہ پرستی کی آگ نے دونوں طرف جہالت کے پردے کھینچ دیئے ہیں۔اور انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ خربوزہ چھری پر یا چھری خربوزے دونوں ہی صورتوں میں کٹیں گے تو مسلمان ۔مرنے والے بھی مسلمان ہوں گے اور مارنے والے بھی مسلمان۔نقصان مسلمانوں کا ہوگا اور فائدہ مفت میں امریکی اور سامراجی قوت کا۔اس سے پہلے بھی عراق، شام، افغانستان ،لیبیا ،مصر ،یمن ،سوڈان اور پاکستان میں گذشتہ 13سالوں کے دوران کم از تیرہ ملین مسلمان آپس کی لڑیوں کی نذر ہو چکے ہیں۔یہ تعداد پہلی جنگ عظیم میں مارے جانے والے افراد کی تعداد کے برابر ہے۔یعنی ابھی کچھ بھی نہیں ہوا اور سوا کروڑ مسلمان آپس میں گاجر مولی کی طرح کاٹ دیئے گئے۔ امریکہ کو شاید سلامتی کونسل میں چین اور روس کی طرف سے ویٹو کے اختیار کے استعمال ہونے کا خدشہ تھا۔ چین اور روس اب بھی خاموش ہو کر نہیں بیٹھیں گے۔ روس نے تو اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے شام پر حملہ کیا تو وہ سعودی عرب پر یلغار کر دے گا۔ ایسا ہوا تو تیسری جنگ عظیم کے خطرے کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ کچھ لوگوں کے لیے روس کی طرف سے سعودی عرب پر حملے کی دھمکی پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ او آئی سی پر سعودی عرب کا اسی طرح کنٹرول ہے جس طرح اقوام متحدہ پر امریکہ کا ہے۔ بجائے اس کہ سعودی عرب ،مصر، شام اور لیبیا میں فسادات کو ختم کرانے کی کوشش کرتا یہ ایک ایک فریق بن گیا۔مصر میں یہ باغیوں کے خلاف حکومت کی حامی ہے تو شام میں اس کے برعکس باغیوں کا حامی ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کی قیادت القاعدہ کے ہاتھ میں ہے۔ روس کی طرح کئی اسلامی ممالک بھی مشرقِ وسطیٰ کے امن کو غیر مستحکم کرنے میں سعودی عرب کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ روس نے سعودی عرب پر حملہ کیا تو اس سے اہل اسلام کے جذبات کو ٹھیس ضرور پہنچے گی لیکن آدھے مسلم ممالک روس کی حمایت بھی کریں گے۔ امریکہ شاید روس کی دھمکی کے بعد حملے سے باز رہے۔ اگر اس نے حملہ کیا تو شام بھی ممکنہ حد تک جوابی کارروائی ضرور کرے گا۔ ایران بھی حرکت میں آسکتا ہے۔ جہاز تو روس کے بھی امریکہ کی طرح تیار کھڑے ہیں۔ تیسری عالمی جنگ ہوئی ذمہ دار امریکہ ہوگا۔نقصان دونوں صورتوں میں مسلمانوں کا ہوگا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus