×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
میاں نوازشریف قومی دھارے میں شامل
Dated: 26-Apr-2009
طالبان اپنے اسلحے کے زور پر شہروں کے شہر اپنے بوٹوں تلے روندتے چلے جا رہے ہیں۔ صاحب عقل، دانشمند اور عالمی برادری بھی چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے ان کی پیش قدمی روکو۔ امریکن وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن نے اپنی پالیسی بیان میں کھل کر اس بات کی درخواست کی ہے کہ پاکستان کے عوام اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کو بھی بچانے کے لیے تدابیر اختیار کریں۔ سوات میں حکومت نے تحریکِ نفاذ شریعت محمدی اور سرحد حکومت کے مابین ہونے والے نفاذِ عدل کا معاہدہ قومی اسمبلی سے منظور کرایا اور اس طرح انہوں نے کمال ذہانت اور بردباری سے پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کو اس معاہدے کی توثیق میں شامل کر لیا۔ صدر آصف علی زرداری نے کمال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جاپان روانگی سے صرف ایک روز قبل اس معاہدے پر دستخط کر دیئے۔ جب انہوں نے فرینڈ آف پاکستان کے اجلاس اور ڈونر ممالک کی کانفرنس میں شرکت کرنا تھی۔ اس معاہدے کی اہم شق طالبان کی طرف سے ہتھیار ڈال دینا بھی تھی۔ لیکن اس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔ صوفی محمد اشتعال انگیز اور جارحانہ بیان دے رہے ہیں جس پر جماعت اسلامی کے نو منتخب امیر منور حسن صاحب کو بھی کہنا پڑا کہ صوفی محمد نے بھی کونسلر کا الیکشن لڑا تھا تھوڑے تھوڑے کافر تو وہ بھی ہوئے ہوں گے۔ صوفی محمد آج جس شاخ پر بیٹھے اس درخت کو ہی کاٹ ڈالنا چاہتے ہیں۔ ایک طرف مشرف کے دہکائے ہوئے الائو میں بلوچستان جل رہا ہے۔ دوسری طرف آج کچھ لوگ دشمنوں کو ہمارے ملک کا امن و امان تباہ کرنے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ اور ان کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر دشمنوں کی چھری اپنوں کے گلوں پرپھیر رہے ہیں۔ یہ ہمیں سب صوبوں کو 73کے آئین میں دیئے گئے حقوق کے وعدوں کی عدمِ تکمیل کی پاداش میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ عرصے تک ملک کے اہم ادارے سینٹ کو دبائے رکھا اور اسے معطل یا تخیل کیے رکھا گیا۔ جمہوری ملکوں میں سینٹ وفاق کو متحد رکھنے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتا ہے۔ آج امریکہ کی مضبوط اساس کے پیچھے دراصل 1789ء میں قائم کیا گیا سینٹ کا ہی وہ مضبوط ادارہ ہے جس نے ایک طرف نیویارک،کیلیفورنیا جیسی بڑی اور ڈیکوڈا نیومیکسیکو جیسی چھوٹی ریاستوں کو مضبوطی اور کامیابی کے ساتھ وفاق کی لڑی میں پرو کر رکھا ہوا ہے۔ پاکستان میں آئین کے تحت ہر صوبے کو 22سینیٹر منتخب کرنے کا حق حاصل ہے یہی وہ پلیٹ فارم ہے جو چھوٹے صوبوں کا قومی اسمبلی میں تناسب کے اعتبار سے احساسِ محرومی کو دور کرتا ہے۔ ہم ذرا پاکستانی بن کر دماغ لڑائیں تو وطن عزیز کے کسی بھی کونے میں بسنے والا ہر فرد بلاامتیاز رنگ و نسل اور زبان صرف اور صرف پاکستانی ہے۔ لیکن طرفہ تماشا یہ ہے کہ گیس بلوچستان کے علاقے سوئی سے نکلتی ہے جو ملک میں ہزاروں میل دورتک کے علاقوں میں پہنچائی گئی۔ لیکن بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی باری سب سے آخر میں آئی۔ سندھ،سرحد اور پنجاب کی گلیوں تک میں سی این جی سٹیشن قائم ہیں۔ کوئٹہ کے پورے شہر میں صرف ایک سی این جی سٹیشن ہے۔ ایسے میں بلوچوں میں پائی جانے والی بے چینی کا اندازہ لگانے کے لیے دانش سقراط کی ضرورت نہیں اوپر سے ہمارا ازلی دشمن ہمارے ان معصوم بھائیوں کو بہکاتارہتا ہے تو ہماری حکومتوں نے اس کا بھی سدباب نہیں کیا۔ اور نہ ہی مستقل بنیادوں پر کوئی ایسی حکمت عملی اپنائی ہے کہ جس سے ہمارے بلوچ بھائیوں کو جو کہ راہ سے بھٹک گئے ہیں ان کو منا کر گھر واپس لایا جا سکے۔مشرف نے ایک طرف بلوچستان کی آگ کو پیٹرول سے بجھانے کی کوشش کی تو دوسری طرف ملک کے شمالی علاقہ جات اور فاٹا سوات اور خیبر ایجنسی میں نئی آگ لگا دی۔ 94ء میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے سوات میں نظامِ عدل کا نفاذ کر دیا تھا۔ نوازشریف حکومت نے اس پر عمل جاری رکھا مشرف نے آ کر اسے معطل کر دیا۔ اور صوفی محمد کو آٹھ سال تک پابند سلاسل رکھا۔یوں یہ آگ بھڑکتے بھڑکتے شعلہ جوالا بن گئی۔جس پر بالآخر حکومت نے ایک بار پھر نفاذ عدل ریگولیشن سے قابو پا لیا ہے۔ لیکن مٹھی بھر طالبان پورے ملک کے امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ان کا ایک خاص مسلک سے تعلق ہے لیکن وہ اہل سنت بریلوی مسلک جن کی تعداد ملک میں 70فیصد سے زائد ہے کو یکسر نظرانداز کر رہے ہیں۔ سعودی عرب میں شیعہ اور ایران میں سنی مسلک کی حکمرانی اور اجارہ داری کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا پھر چند ہزار طالبان کا اسلام اٹھارہ کروڑ عوام پر کیسے مسلط کیا جا سکتا ہے۔عمیق نگہی سے دیکھا جائے تو کچھ نادیدہ قوتیں پاکستان کو فرقہ وارانہ خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔اور ہم ہیں کہ مولانا حالی کے اس شعر کے مطابق : کہیں پانی پینے بلانے پہ جھگڑا کہیں گھوڑا آگے بڑھانے پہ جھگڑا ہم مولانا حالی کی اس تصویر کشی کی مثال بن رہے ہیں جو انہوں نے دورِ جہالت کے حوالے سے کھینچی تھی۔ گذشتہ روز مجھے میاں نوازشریف صاحب کے یو ایس ٹوڈے کو دیئے گئے انٹرویو کے مندرجات پڑھ کر جہاں پر فکر لاحق ہوئی وہاں خوشی بھی ہوئی کہ جناب نوازشریف صاحب نے جو ایک لمبی خاموشی ملکی معاملات کے متعلق تان رکھی تھی اس سے وہ باہر نکلے ہیں اور اب پنجاب کے علاوہ قومی سطح پر پاکستان کے مسائل پر ان کی فکر انگیزی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ملکی معاملات اور اس کی نبض پر ان کو بھی اتنا ہی فکر ہے جتنا کہ پاکستان کی دوسری لبرل اور جمہوری قوتوں کو ہے۔ پاکستان کے گذشتہ دنوں میں لبرل قوتوں کو مذہبی جنونیوں،بیت اللہ مسعود اور طالبان کی صورت میں ایک ایسی مزاحمت کا سامنا تھا جس میں 2007سے لے کر اب تک پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادیوں کو بموں اور خودکش حملوں میں جانی اور مالی نقصان (شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت سمیت )کے علاوہ خوف و ہراس کا شکار کیا گیا۔پاکستان کی لبرل قوتیں2007ء اور 2008کے الیکشن میں کوئی بڑا جلسہ اس لیے نہ کر سکیں کہ طالبان کی طرف سے حملوں کی دھمکیاں تسلسل سے موصول ہو رہی تھیں۔اب جناب قائدمسلم لیگ (ن) میاں نوازشریف صاحب نے جس جرأت مندی سے اپنے آپ کو اس قومی دھارے میں شامل کیا ہے اس سے مجھے اور مجھ جیسے جمہوریت پسند لوگوں کو ایک تقویت کا احساس ہوا ہے۔اگر تجزیہ کیا جائے تو پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان کے مذہبی عسکریت پسند طبقات جناب نوازشریف صاحب کو اپنے ساتھ شامل کرکے پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کو نقطہ ہائے عروج پر پہنچانے میں کسی حد تک کامیاب ہو چکے تھے۔مگر اب جناب میاں نوازشریف صاحب کی حالیہ بدلتی ہوئی سوچ یا ان کے اندر چھپی ہوئی قائدانہ صلاحیتوں نے جب باہر آ کر دیدہ ور نگاہوں سے حالات کا جائزہ لیا ہے اور انہیں اس بات کا ادراک ہوا ہے کہ آج کے اس2009ء میں جب کہ پوری دنیا ترقی کی منازل طے کرنے اور اپنے عوام کو خوشحالی،تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات فراہم کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کے شانہ بشانہ چلنا ہوگا۔آج دنیا ایک گلوبل ولیج کی سی شکل اختیار کر گئی ہے آج ہم نفرتوں کے بیج بونے کے بجائے عوام کو ریلیف دینے کے لیے اپنی زمینوں کی کیاریاں اناج کے بیجوں سے بھر دیں۔آج میاں نوازشریف صاحب کو اس بات کا احساس ہو گیا ہے کہ چند ہزار بگڑے ہوئے بے راہرو،نام نہاد طالبان کی خاطر عالمی امن اور عالمی برادری کو یکسر فراموش نہیں کر سکتے۔ ہمیں اپنے بچوں کے مستقبل اور ان کی اعلیٰ تعلیم کے لیے انہیں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اداروں میں بھیجنا مقصود ہے۔کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال پہلے ہزاروں میل دور بیٹھ کر عرب کی سرزمین پر فرمایا تھا کہ ’’علم حاصل کرو چاہے اس کے لیے تمہیں چین جانا پڑے۔‘‘لیکن جب ہم اپنے آپ کو بین الاقوامی برادری کے ساتھ حالت جنگ میں لے آئیں گے یا ان کے لیے خطرہ متصور ہوں گے تو وہ ہمارے بچوں کے لیے کل کو علم اور جدید ترقی کے راستے میں رکاوٹ بنیں گے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کا شروع سے مضبوط موقف رہا ہے اور اس موقف کے باعث شدت پسند پیپلزپارٹی کے جلسوں اور ریلیوں کو بموں سے نشانہ بناتے رہے۔ اب میری دعا ہے خدا میاں نوازشریف کو محفوظ رکھے۔ اب میاں صاحب نے پیپلز پارٹی کی طرح حقائق کا ادراک کر لیا ہے تو دونوں بڑی جماعتیں مذہبی انتہا پسندی کا مل کر اور کھل کر مقابلہ کر سکیں گی۔ یہ ملکی ترقی و خوشحالی کے لیے نیک شگون ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus