×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پاکستان کی سفارتی کامیابی کا نقطہ عروج
Dated: 19-Apr-2009
اقتدار میں آنے کے بعد پیپلز پارٹی کو جہاں بے شمار مسائل ورثے میں ملے وہیں ڈوبتی معیشت کا ٹائی ٹانک سرفہرست تھا۔ مشرف17ارب کے زرمبادلہ کے ذخائر کا واویلا کر رہے تھے۔ جب اعدادوشمار اکٹھے کئے گئے تو خزانے میں صرف 5ارب ڈالر سے بھی کم تھے۔ مشرف اقتدار سے گئے تو مصنوعی اقدامات کا بھانڈہ پھوٹا اور ڈالر63سے 85روپے کی انتہا کو چھونے لگا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ صدر مشرف کے اقتدار سے جانے کے صرف چند ہفتوں کے اندر معاشی طور پر اتنا بڑا اپ سیٹ رونما ہو جاتادراصل یہ عوام کو مسلسل ساڑھے آٹھ سال تک بے وقوف بنانے والے چہرے سے نقاب اتر چکا تھا۔ صدر پاکستان آصف علی زرداری نے ملک کی پریشان کن اقتصادی حالت کو سنبھالا دینے کے لیے حیران کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اقتصادی بقا کی جنگ لڑنے کے لیے بہترین سفارتی اور مالیاتی ٹیمیں تشکیل دیں۔ پاکستان کو مشکل معاشی حالات میں آئی ایم ایف سے کڑی شرائط پر قرض لینا پڑا۔ پاکستان معاشی جنگ لڑ رہا تھا کہ ایک سازش کے تحت ممبئی حملوں کی صورت میں اس کے خلاف ایک محاذ کھول دیا گیا۔ آصف علی زرداری کی قیادت میں حکومت نے پاکستان کو اس محاذ پر بھی کامیابی دلائی۔ 26ستمبر2008ء کو اپنے پہلے دورہ امریکہ کے موقع پر صدر آصف علی زرداری نیویارک میں فرینڈز آف پاکستان کے نام سے ایک پلیٹ فارم تشکیل دینے میں کامیاب ہو گئے جس کے پہلے اجلاس کی صدارت بھی خود انہوں نے کی۔ اس تنظیم میں شامل ممالک نے پاکستان کی معیشت مضبوط بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ اس کا دوسرا اجلاس یکم اور 2اپریل 2009ء کو ابوظہبی میں ہوا جس میں 16سال میں پاکستان میں 30ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا۔ ایک طرف پاکستان معیشت کے حوالے سے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا تھا تو دوسری طرف اس پر سرحد کی صوبائی حکومت اور تحریک نفاذ شریعت محمدی کے مابین ہونے والے نظام عدل کے معاہدے کو مسترد کرنے پر دبائو تھا۔ صدر آصف علی زرداری نے اس معاہدے کی پارلیمنٹ سے توثیق کرا کے عالمی برادری پر واضح کر دیا کہ حکومت ملک و قوم کی بقا کے لیے جرأت مندانہ فیصلے کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو کم از کم 50ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے جن کی خاطر یہ جنگ لڑی جا رہی ہے وہ پاکستان کو اسی تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور کر رہے تھے لیکن آصف علی زرداری نے جرأت مندانہ سٹینڈ لیا وہ مسئلہ اپنے قلم سے دستخطوں سے حل کر دیا جو توپ، بندوق اور سینکڑوں افراد کے تہہ تیغ کرنے سے بھی حل نہ ہو سکا تھا۔ فرینڈز آف پاکستان کا اجلاس 17اپریل کی صبح ٹوکیو میں ہوا اسی شام ڈونر کانفرنس بھی وہیں ہوئی جاپان نے پاکستان کا مؤقف تسلیم کرتے ہوئے 16اپریل کو پاکستان کی ایک بلین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا تھا اگلے روز فرینڈز آف پاکستان اور ڈونرز ممالک نے 5ارب28کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا۔ یہ پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کا نقطہ عروج ہے۔ اس سے ہمارے ہمسائے اور ازلی دشمن بھارت کی پاکستان کے خلاف چلائی جانے والی ’’بالی ووڈ فلم‘‘ پوری طرح فلاپ ہو گئی ہے۔ پاکستان کو ملنے والی متوقع امداد اس کے حجم کے حوالے سے گو اطمینان بخش ہے لیکن پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو نقصان اٹھا چکا ہے یہ اس کا عشر عشیر بھی نہیں۔ میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لاغر نہیں مضبوط پاکستان ہی اپنا صحیح کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس کے لیے پہلے پاکستان کا اس جنگ میں ہونے والا نقصان پورا کیا جائے اس کے بعد معاشی طور پر مستحکم بنانے کے غیر مشروط امداد دی جائے۔ فرینڈز آف پاکستان کی اس میٹنگ میں حاصل ہونے والے نتائج سے یہ ثابت ہو چکا کہ وہ قومیں جو اپنے درمیان اتحاد،یقین محکم اور تنظیم رکھتی ہیں ان کی گھر سے باہر بھی عزت ہوتی ہے۔اس لیے پاکستان کے سیاسی عدم استحقام کو کم از کم دوستی کی سطح پر لا کر ایک مضبوط پیغام دنیا بھر کو دیا جا سکتا ہے اس سلسلے میں حکومت کے ہر قدم کی یقینا اپوزیشن کی طرف سے بھی ستائش کی جائے گی۔عوام تو پہلے ہی سیکریفائزکی آخری حدیں بھی عبور کر چکے ہیںیقینا اس ملک میں بسنے والے ہر فرد کے دل میں پاکستان کے لیے جو محبت ہے اس کو اگر کبھی ٹیسٹ میں ڈال دیا جائے تو یقینا وہ اپنے مادر وطن کو مایوس نہیں کرے گا۔ابھی وطنِ عزیز کو بے شمار بحرانوں کا سامنا ہے اور یقینا ہم ہر بحران پر اپنے وسائل کے اعتبار سے قابو پانے میں بے شک کسی غلط فہمی کا بھی شکار نہیں لیکن عزم اور حوصلے کی بلندی ہمیں منزل مقصود تک پہنچا سکتی ہے۔لیکن اس کے لیے ہمیں اپنے گھر کی چاردیواری کے اندر اپنے معاملات کو لاء اینڈ آرڈر کو سب سے پہلے ترجیحی بنیادوں پر بہتر بنانا ہوگا کیونکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب پاکستان کے داخلی معاملات انتشار زدہ ہوں گے تو کوئی بھی خارجی طاقت پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کا سوچے گی بھی نہیں۔خا ص طور پر خودکش حملوں اور پاکستان کی فورسز پر حملوں کو اب زیرو پوائنٹ پر لے جانا ہوگا۔ اس کے لیے پاکستانی طالبان کے ساتھ سوات میں ہونے والے معاہدے کا دونوں سے احترام لازم ہے اس سے نہ صرف ہماری ایک ایسی سرحد جس پر صدیوں سے قبائلی ایک لشکر کی طرح ہر وقت مسلح موجود رہتے ہیں پھر سے محفوظ ہو جائے گی بلکہ پاکستان کی توجہ پھر سے اپنے اصل مقاصد کی طرف مبذول ہو جائے گی جو کہ ہمارے ازلی دشمن نہیں چاہتے۔اس لیے یہاں پر یہ طالبان کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے اس محسن کے لیے جس نے اپنے ہمسائے افغانستان کو دوران جنگ جب روس کے ساتھ برسرپیکار تھے اپنا تن،من،دھن سب کچھ دائود پر لگا کر ان کی مدد کی اور جب اس محسن کو ضرورت پڑی ہے تو ماضی کے یہ مجاہدین ایک بار پھر اپنے اندر اسی بھائی چارے کے جذبے کو فروغ دے کر احسان کا بدلہ اتاریں۔اور اس کے ساتھ ہی پاکستان بھی آئندہ اپنی مستقل حکمت عملی خارجی اور داخلی محاذوں پر ترتیب دے تاکہ پاکستان چیلنجز کے اس دور میں بین الاقوامی برادری کے سامنے ایک مضبوط موقف رکھنے والی قوم کی صورت میں ابھرے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus