×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
یہ کیسا جشن ہے؟
Dated: 05-Oct-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com اس میں تو کسی شک کی گنجائش نہیں کہ اقتدار زدہ خانوادوں اور طبقات نے پچھلے 67سال سے عوام کونہ صرف ’’فُول‘‘ بنایا ہوا ہے بلکہ وہ اس کا جشن بھی مناتے رہتے ہیں۔ جدید دور کی تاریخ میں پچھلی صدی کے اوائل میں یکم اپریل کو فرسٹ ایپرل فول یورپی دنیا میں ایک تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے جو رفتہ رفتہ ہمارے رواج اور تہوار کی حیثیت اختیار کرتا چلا گیا۔ مجھے یاد ہے کہ بچپن میں دیگر تہواروں کے ساتھ فرسٹ ایپرل فول تہوار کے دن بھی چھٹی کی ڈیمانڈ کی جانے لگی تھی اور آہستہ آہستہ پتہ چلا کہ م غیرمسلم اس تہوار کو مسلمانوں کی تضحیک کے طور پر مناتے ہیں۔ قیام پاکستان سے ہی اس خطے کے جاگیرداروں، سرمایہ داروں، مخدوموں، قریشیوں، ممدوٹوں، نوابوں اور دولتانوں، پیروں اور چوہدریوں نے قوم کو کچھ اس طرح سے اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے اگر ایک گھر میں تین بھائی ہیں تو ایک بھائی حزبِ اقتدار دوسرا حزبِ اختلاف جبکہ تیسرا بھائی اسٹیبلشمنٹ یا بیوروکریسی میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہوگا اور اگر اسی خاندان میں خواتین بھی موجود ہوں تو انہیں کسی مضبوط دھڑے ، گروپ یا صاحب طاقت ہم پلہ خاندان کو رشتہ دے کر اپنی طاقت کو مضبوط کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پارٹی چاہے مسلم لیگ ہو یا پیپلزپارٹی یا کوئی اور سیاسی جماعت سبھی کے امیدواروں کی آپس میں قریبی رشتہ داریاں ہوتی ہیں۔ ماضی میں اے این پی کے رہنما حاکم علی زرداری (مرحوم) جو کہ نسلاً بلوچ تھے اور سندھ میں آبادکار ہیں۔ جب انتخابی سیاست میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکے تو بھٹو خاندان میں ’’نقب‘‘ لگائی اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو ورغلانے میں کامیاب ہوئے اور پھر ذوالفقار علی بھٹو کے بڑے بیٹے مرتضیٰ بھٹو کی المناک موت ہوئی۔پھر 2007ء میں محترمہ کو شہید کر دیا گیا۔ جیل سے ڈائریکٹ ہمیشہ ایوان اقتدار پہنچنے کا عزم رکھنے والے آصف علی زرداری اس دفعہ بھی اپنی روایت کو قائم رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ فروری 2008ء میں اقتدار میں آنے والی آصف علی زرداری کی ٹیم مارچ2013ء تک عوام کے اعصاب پر سوار رہی جبکہ آصف علی زرداری ستمبر2008ء میں صدر جنرل پرویز مشرف کو جبری استعفیٰ پر مجبور کرکے اقتدار کے سب سے بڑے سنگھاسن پر براجمان ہوئے اور پھر عوام کا ایک لمبا ایپرل فول شروع ہوا۔ وطن عزیز کے دو قومی نظریئے سمیت وفاق کے اختیار میں وہ کونسا ایسا محکمہ تھا جس کی بنیادیں ہلا کر نہ رکھ دی گئی ہوں۔ پی آئی اے، ریلوے، سٹیل مِل سمیت اہم اداروں کو اتنا لوٹا گیا کہ یہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے جبکہ متعدد اداروں کی نج کاری کرکے صاحبِ اقتدار طبقہ نے آپس میں بندر بانٹ کر لی۔ خاص طور پر پاکستان واپڈا اور تیل گیس کے محکموں میں ہوشربا لوٹ مار کرکے کافی شہرت کمائی گئی۔2008ء میں ڈالر 60روپے کا اور مئی2013ء میں 97روپے کا ہوچکا تھایعنی صرف اس طرح ملکی قرضوں کا حجم37فیصد بڑھ کا تھا۔ عوام کو فول بنانے کا ایک لامتناہی سلسلہ بس یہیں نہیں رُکا بلکہ ملک کے اندر امن امان کا سلسلہ اس حد تک خراب ہو چکا ہے کہ لوگ اسے اب ایک Banana Republic کا نام دینے لگے ہیں اور عوام کو فول بنانے کے لیے امریکی افواج، نیٹو کو نہ صرف ڈرون حملوں کی اجازت مرحمت فرمائی گئی بلکہ پاکستانی افواج کو جنگ کے ایک لامتناہی سلسلہ میں دھکیل دیا گیا اور آج دنیا بھر میں ہماری فوج کی حیثیت ایک رینٹ اے سولجر جیسی ہے۔ یعنی فائدے سامراجی طاقتوں کو پہنچائے گئے اور سرکاری دورے صرف ایران اور چین کے کیے گئے۔ موصوف نے چین کے دورے اس تواتر سے کیے کہ اپنے اقتدار کے آخری ہفتے میں بھی چین کے دورے کی خواہش کی مگر ہمارا موصوف کے دوروں سے تنگ آ چکا تھا اور ان کے نزدیک ان دوروں کی اہمیت ’’نہ کھایا نہ پیا گلاس توڑا بارہ آنے‘‘ چین کے انکار پر صدر صاحب دوبئی چلے گئے۔ ان گذشتہ پانچ سالوں میں پاکستان کے 55ہزار سویلین اور تین جرنیلوں سمیت 10ہزار عسکری جوان دہشت گردی و بربریت کی نذرہوئے۔ مگر حکمران تھے کہ پہلے حکومت کے 5سال پورے ہونے پر جشن جمہوریت منایا اور بعدازاں صدارت کے 5سال پورے ہونے پر نشانِ حید رکے خواہاں تھے۔ اس دوران اپوزیشن مسلم لیگ ن نے بھی میاں برادران کی قیادت میں کچھ ایسا کردار ادا کیا کہ سیاسی تاریخ میں وہ پہلی دفعہ فرینڈلی اپوزیشن کہلائے۔ عوام کو بے وقوف بنانے کا یہ سلسلہ اقتدار کے دونوں اطراف سے جاری رہا۔ انتقال اقتدار کے عمل کے بعد عوام بجلی ،پانی، گیس، تیل ،سیمنٹ، کھاد، ادویات ،گندم، چاول کی فراوانی سمیت دودھ اور شہد کی نہریں بہنے کا حسین خواب دیکھ رہے تھے اور پھر بڑی بے دردی سے عوام کے خواب چکنا چور کرکے عوام کو ہوش میں آنے کا ٹیکہ لگایا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ بجلی 6ماہ میں نہیں 6سال میں آئے گی۔ روٹی 2روپے سے 12روپے کی ہو گئی۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں پہلے 100دنوں میں آسمان کو چھونے لگیں۔ ڈالر صرف 100دن میں 10روپے مہنگا ہو گیا۔ مگر حکمران خاندانی لائولشکر لے کر کبھی چائنا، کبھی سعودیہ، ترکی، امریکہ جا رہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ وفاق کی نمائندہ جماعت کہلانے والی مسلم لیگ ن صرف پنجاب ہی کو پاکستان سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم کے ساتھ دوروں میں شہبازشریف تو موجود ہوتے ہیں اور دونوں بھائی کے بزنس مین بیٹے اور برادری کے دیگر افراد بھی ان دوروں میں بہ نفس نفیس شامل ہوتے ہیں۔جبکہ سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخواہ، گلگت بلتستان،کشمیر کے وزرائے اعلیٰ اور قیادت یکسر فراموش کر دیئے جاتے ہیں۔ اگر حکمرانوں کے بس میں ہو تو وہ پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں کو نقشوں پر سے غائب کر دیں۔ یہ تو پہلے 100دن کا احوال ہے ابھی تو 1725دن باقی ہیں۔ اگر حکمرانوں کا عوام کے ساتھ مذاق اور فول بنانے کا عمل جاری رہا تو شاید اقتدار کے 5سال تو پورے ہو جائیں مگر 20کروڑ عوام کے جسموں سے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑ لیا جائے گا۔ ملک میں روٹی، ادویات اور تن کے کپڑوں کی ضروریات کو تو ابھی پورا نہیں کیا جا سکا اور حکمران چلے ہیں ترکی اور چین کے ساتھ میگاپراجیکٹس کے خواب دیکھنے۔ جس دن سابق صدر آصف علی زرداری لاہور میں اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے بلاول ہائوس میں صدارت کے 5سالہ جشن منا رہے تھے تو میرے سمیت کروڑوں پاکستانی عوام یہ سوچ رہے تھے یہ جشن فتح ہے۔ جشن انتقال اقتدار ہے یا جشن بہاراں ہے یا جشنِ نجات ۔ یہ کس بات کی خوشی منائی جا رہی ہے ۔ عوام تڑپ رہے ہیں، بِلک رہے ہیں، کھربوں کے قرضے تلے دبے ہوئے ہیں اورپورے ملک میں سوائے سندھ کے پارٹی کا نام و نشان مِٹ چکا ہے۔ پنجاب سے مکمل صفایا ، بلوچستان سے کلین چٹ، خیبرپختونخواہ میں سرخ جھنڈی اور آئندہ کم از کم پندرہ سال کے لیے ملکی سیاست سے آئوٹ ہو کر پیپلزپارٹی کیسا جشن منا رہی ہے یہ کیسی شُرلی پٹاخے ہوائیاں چل رہی ہیں۔ اپنے پائوں پر کلہاڑی مار کر جس شاخ پر بیٹھے ہیں، اسی شاخ کو کاٹ کر یہ کیسا جشن منایا جا رہا ہے یا عوام کو فول بنایا جا رہا ہے۔عظیم قائد محترمہ بے نظیر بھٹو ہم سے جدا کر دی گئی ہیں، ذوالفقار علی بھٹو کو ہم سے چھین لیا گیا ہے تو پھر یہ جشن کیسا۔ کیا ایپرل فول کے عادی عوام الناس کو اب آنے والی ہر 8ستمبر کو جشنِ فتح یا ستمبر فول منانا پڑے گا۔ پتہ نہیں عوام کو فول بنانے کا یہ سلسلہ کہاں پہ جا کے رُکے گا؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus