×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
دوقومی نظریہ لسانی قوتوں کے حصار میں
Dated: 08-Oct-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پاکستان کی موجودہ صورتِ حال پر مجھے یہ واقعہ بڑی شدت سے یاد آ رہا ہے کہ ایک بوڑھی دیہاتی عورت کا بیٹا پڑھ لکھ کر ایئر فورس میں بھرتی ہو گیا اور ماں کو بتایا کہ اماں میں پائلٹ بنوں گا اور جہاز اڑائوں گا تو ماں نے پوچھا بیٹا مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ میرا بیٹا جہازاڑا رہاہے؟ بیٹے نے جواب دیا اماں جب میں اپنے گھر پر سے گزروں گا تو میں ایک بم اپنے گھر پر گرائوں گا تو سمجھ لینا کہ میں ہی جہاز اڑا رہا ہوں۔ آج پوری قوم کی حالت بوڑھی دیہاتی عورت کے بیٹے کی مانند ہو چکی ہے۔ ہم جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسی کو کاٹنے کے درپے ہیں اور مستقل مزاج تو ہم بالکل ہی نہیں۔ کبھی ہمیں آمریت راس نہیں آتی اور کبھی جمہوریت راس نہیں آتی پتہ نہیں کیوں اس قوم کا مزاج بدل چکا ہے ہم بہت جلد اکتا جاتے ہیں۔ اپنے اطراف ہونے والے واقعات کو میں دیکھتا ہوں تو مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ جیسے لوگ اب موجودہ جمہوریت سے بھی بیزار بیٹھے ہیں۔ ہماری سوچیں پھر منتشر ہونے لگی ہیں اور ہمارے ذہن میں پھر یہ سوچ پنپنے لگی ہے کہ ہمیں جمہوریت سے زیادہ فوجی وردی کی ضرورت ہے۔ اکثر دوست یہ پوچھتے کہ وڑائچ صاحب کیا آپ بھی فوجی بوٹوں کی دھمک سن رہے ہیں؟ مختلف ادوار میں ہماری قوم کو ذات ،برادریوں، مذہب، مسلک اور لسانی بنیادوں پر تقسیم کیا گیا اور ہمیں ایک قوم بننے سے ہمیشہ جبراً روکا گیا۔ کبھی غیروں کے نام پر ہمارا تماشا سربازار لگایا گیا، کبھی کچھ طالع آزمائوں نے اپنی ہوس اقتدار کی تسکین کے لیے ہمیں تختہ مشق بنایا۔ قیام پاکستان سے لے کر مسلسل66سال تک ہم مختلف ہاتھوں میں تختہ مشق بنے رہے یہی وجہ ہے کہ عالمی دنیا ہمیں ایک قوم ماننے کے لیے تیار نہیں۔ ہم 20کروڑ انسانوں کا وہ جم غفیر ہیں جس کو بندوق کے زور پر مختلف اوقات میں مجبور کیا اور کبھی جمہوریت کی چھڑی سے بھیڑوں کے ریوڑ کی مانند ہانکا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ قیامِ پاکستان کے صرف 23سال بعد ہمیں دو قومی نظریئے سے پیار کرنے کی سزا کے طور پر ہمارا دایاں بازو ہم سے جدا کر دیا گیا۔ یہ نہ صرف علاقائی طاقتوں کی خواہش تھی بلکہ اس میں عالمی سازشیں بھی کارفرما تھیں۔ جمہوریت کو ہمیشہ جمہوریت پسند سیاست دانوں کے ہاتھوں ڈی ریل کیا جاتا تھا اور بقول نوابزادہ نصراللہ خاں جمہوریت کے پودے کو جو گملے میں لگا ہوا ہے بار بار اوپر سے کھینچ کر جڑوں سے اکھاڑا گیا اور پھر یہ ہمیشہ کہا گیا کہ جمہوریت پاکستان میں اپنی جڑ نہیں پکڑ سکی۔9\11 کے بعد جب پاکستان کو مجبور کیاگیا کہ وہ لائن کے اس پار نیٹو افواج کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالے تو حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی اس وقت کی عسکری قیادت کے پاس کوئی دوسری آپشن نہ تھی اور مجبوراً ہمیں اس جنگ میں جو ہماری نہ تھی کودنا پڑا۔مگر میرا پختہ یقین ہے کہ اب یہ جنگ ہماری جنگ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ 60ہزار سویلین اور 12ہزار عسکری جوان شہید کروا کر اور ہزاروں سویلین اور عسکری جوان زخمی کروا کر ملک کا انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔ کم از کم ایک سو ارب ڈالر کا نقصان ہماری معیشت کو پہنچ چکا ہے لیکن پھر بھی بٹی ہوئی قوم کنفیوزڈ ہے اور ماننے کو تیار نہیں کہ یہ جنگ اب ہماری ہے۔ سابق آمر ضیاء الحق مرحوم کے وقت میں ملک کی اساس اور جمہوریت کو نقصان پہنچایا گیا اور جمہوری قوتوں کے مقابلے میں ذات برادری اور لسانیت کو ہوا دی گئی اور قوم جو پہلے ہی پنجابی، پختون، سندھی اور بلوچی میں تقسیم تھی اس میں مہاجر کا نعرہ لگا کر اضافہ کر دیا اور مہاجر اپنے آپ کو جب مضبوط گروہ کر چکے تو قومی سیاست میں اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے خود کو متحدہ قومی موومنٹ کا نام دیا اور اسی سلوگن کے نیچے پچھلے 30سال سے اپنے مفادات کا تحفظ کرتے رہے۔ وفاق اور سندھ میں مختلف مقتدر پارٹیوں کے ساتھ کولیشن حکومتیں بنا کر اپنا حصہ وصول کرتے رہے ۔ جیسے مچھلی پانی کے بغیر زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح ایم کیو ایم بھی اقتدار کے تڑپتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ الیکشن کے بعد ایم کیو ایم کی کولیشن وفاق اور سندھ میں ٹوٹی تو ایم کیو ایم نے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دیئے، کبھی پنجاب میں چھوٹے موٹے سرائیکی گروپس کو ہوا دی ، کبھی خیبرپختونخواہ میں ہزارہ قبائل کو ورغلانے کی کوشش کی گئی، کبھی گلگت بلتستان میں پائوں جما کر کھیل کھیلنے کی کوشش کی گئی، کبھی کراچی اور لیاری کو تقسیم کرنے کی اور کبھی کراچی دیہی سندھ منقسم کرنے کی کاوشوں کے بعد ایم کیو ایم نے بالآخر نقاب اتارنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ گذشتہ روز ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے سینئر رکن نے یہ بیان دیا ہے کہ پیپلزپارٹی سندھ میں اردوسپیکنگ وزیراعلیٰ کیوں نہیں لائی؟ ایم کیو ایم کی اس منطق کی سمجھ کم از کم ایک سیاسی طالب علم ہونے کے ناطے جو مجھے آئی ہے کہ ایم کیو ایم اب اردو سپیکنگ کو ایک قومیت کے طور پر متعارف کروانا چاہتی ہے۔ پاکستانی آئین کے مطابق پنجاب میں پنجابی، سندھ میں سندھی، بلوچستان میں بلوچی، خیبرپختونخواہ میں پختون، کشمیر میں کشمیری، گلگت میں گلگتی وزرائے اعلیٰ کی منطق سمجھ میں آتی ہے مگر اردو جو رابطہ اور قومی زبان ہے اس کو بنیاد بنا کر لسانی بنیادوں پر اردو وزیراعلیٰ کی ڈیمانڈ کرنا انسانی فہم سے بالاتر ہے۔ کراچی سندھ کا حصہ ہے اور اردو بولنے والے ہمارے بھائی ہجرت کرکے آئے ہیں اور ان کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے مقامی ،اپنے انصار سندھی بھائیوں کے حقوق سلب کرنے کاسوچیں۔ دراصل ایم کیو ایم کی قیادت نہ صرف اندرونی لڑائیوں بلکہ ذہنی انتشار کا بھی شکار ہے۔ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے نتائج سامنے آنے کے بعد ایم کیو ایم کی قیادت حواس باختہ ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر وفاق میں مسلم لیگ ن کے ساتھ شراکتِ اقتدار چاہتے ہیں۔ یاد رکھیے! ایم کیو ایم کی قیادت کو اس بات کا اب ادراک کرنا ہوگا کہ ہزاروں سال سے سندھ کی دھرتی پر سندھی تہذیب کے نقوش کو مٹایا نہیں جا سکتا۔ اگر ایم کیو ایم اردو بولنے والوں کے لیے علیحدہ صوبہ یا ملک چاہتی ہے تو وہ لکھنؤ، حیدرآباد(بھارت) چلے جائیں اور ایسی کسی خواہش کا اظہار فرمائیں مگر پاکستان کی پہلے سے زخم خوردہ قوم کو معاف رکھیں ۔ ہم مزید کسی تقسیم کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ پاکستانی قوم کو اس وقت اتحاد ،یک جہتی کی جتنی ضرورت ہے اس سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا جا سکتا۔ اس قوم نے دوستوں اور دشمنوں کی بے شمار اٹھکیلیاںبرداشت کر لیں مگر اب پاکستان بچانے کے لیے پنجابی، سندھی، بلوچی، پختون، کشمیری، گلگتی کو لسانی بنیادوں پر تقسیم نہیں کیا جا سکے گا۔ ہماری بقا اسی میں ہے کہ ہم اپنے اندر چھپے ہوئے دشمن کو پہچانیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus