×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سیاہی؟ مینڈیٹ؟؟۔۔۔ مسکراہٹ اسی لئے غائب تھی؟؟؟
Dated: 10-Oct-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com بزرگوں سے کہاوت سنی ہے کہ ایک دفعہ بادشاہ کا دربار لگا ہوا تھا اور آج دربار میں ایک نامی گرامی چور کو پیش کیا گیا تھا۔ ملزم کے جرائم کی فہرست اور ثبوت دیکھ کر قاضی نے ملزم کو سزائے موت سنائی ۔ملزم نے بادشاہ سلامت سے التجا کی کہ اس کو دی جانے والی سزا سے پہلے اس کی آخری ملاقات اس کی ماں سے کرائی جائے۔ بادشاہ کے حکم پر مجرم کی ماں کو دربار میں پیش کیا گیا۔ چور بیٹے اور ماں کی ملاقات کروائی گئی تو بیٹے نے کہا کہ ماں میں تمہارے کان میں کچھ کہنا چاہتا ہوں اور آگے بڑھ کر ماں کا کان اپنے دانتوںتلے چبا ڈالا جس پر اس کی ماں بلبلا اٹھی اور آہ و پکار کرنے لگی۔ درباریوں نے مجرم کو ماں سے الگ کیا۔ بادشاہ سلامت نے پوچھا کہ تم نے اپنی ماں کو یہ تکلیف کیوں پہنچائی۔ چور نے جواب دیا۔ بادشاہ سلامت جب میں بچپن میں پہلی دفعہ کوئی چیز چرا کر گھر لایا تھا تو میری ماں نے کوئی بازپرس نہ کی کہ اتنی مہنگی چیز کہاں سے لے آیا؟ اگر پہلی چوری کے دن میری ماں میری رہنمائی کرتی تو یہ میں آج آپ کے دربار میں ایک نامی گرامی چور کی حیثیت سے سزا کا حقدار نہ ٹھہرتا۔میں اس قصے کو جب بھی یاد کرتا ہوں تو ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ آج میرے وطن میں کتنے چور ہیں جو دونوں ہاتھوں سے مملکت عزیز کو لوٹ رہے ہیں بلکہ کہنا بجا ہوگا کہ وہ لوٹنے کی باریاں لے رہے ہیں۔ گذشتہ مئی کے الیکشن سے پہلے علامہ طاہر القادری کا دھرنا اور نظام بدلنے کی خواہش تو ایک خواب ہی رہی لیکن اس الیکشن کا حصہ بننے والے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے سوا سبھی سیاسی پارٹیاں 13مئی کے دن ہاتھ ملتی رہ گئیں اور دو تہائی اکثریت کے خواہش مند جن کو جتانے کے لیے بین الاقوامی قوتیں اپنا پورا منصوبہ تیار کر چکی تھیں اور شاید ان کی ہی کرامات تھیں کہ ڈیرہ بگٹی، چارسدہ اور تفتان سے الیکشن کے نتائج موصول ہو چکے تھے مگر میٹروپولیٹن لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے رزلٹ آتے آتے 14مئی کی دوپہر ہونے کو آ گئی۔ نہ جانے ان قوتوں کے پاس کیا کرشمہ ہے کہ ہر بار ان میں سے کوئی ایک الیکشن کے نتائج کو اپنے حق میں بدلنے کے لیے نت نئے طریقے اور انداز اپناتا ہے۔ اگر دروغ گوئی سے کام نہ لیا جائے تو گذشتہ تمام الیکشنز میں اپنائے گئے دھاندلی کے طریقوں پر ایک ضخیم کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ گذشتہ روز کراچی کے ایک انتخابی حلقہ NA-256 سے الیکشن ہارنے والے PTI کے امیدوار کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے 88ہزار ووٹوں کی درستگی کے متعلق رٹ پر بعد از تحقیق یہ فیصلہ دیا کہ 77500 ووٹوں کے نشان انگوٹھا نہ صرف جعلی ہیں بلکہ سینکڑوں ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ووٹ کو درجنوں دفعہ کاسٹ کیا۔ اس محنت کے لیے PTI کے شکست خوردہ امیدوار نے جو کہ ایک سفید پوش سیاسی ورکر ہے۔ اس انویسٹی گیشن پر آنے والے نادرا کے اخراجات جو کہ تقریباً9لاکھ بنتے ہیں اپنے حلقہ کے ووٹرز سے چندہ اکٹھا کرکے ادا کیے۔اس ایک حلقہ کے نتائج سے برآمد ہونے والے انکشافات نے 20کروڑ عوام کے ذہنوں میں تشویش کے الارم بجا دیئے۔ ایم کیو ایم کے ذمہ داروں نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انگوٹھے کے نشان کے لیے اس حلقہ میں الیکشن کمیشن نے اصلی سیاہی نہیں ڈلیور کی تھی جبکہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ کراچی میں وہ کاغذ جس پر بیلٹ پیپر چھپنے تھے اس کی بجائے کسی عام پیپر پر بیلٹ پیپر مہیا کیے گئے ۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ایم کیو ایم کی قیادت کے بیانات کی تصدیق کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے بیان داغ دیا کہ شاید یہ سیاہی کا ہی قصور ہے جبکہ نادرا نے اس پر اپنے بیان میں کہا کہ نادرا کے پاس انگوٹھوں کی شناخت کا جو انتظام ہے وہ ایک مخصوص سیاہی سے ہی ممکن ہے تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ گذشتہ الیکشن میں دھاندلی کے ذمہ دار کوئی ایک فرد یا جماعت نہیں بلکہ یہ ملکی اور بین الاقوامی طور پر تیار کی گئی۔ اس سازش میں نادرا، الیکشن کمیشن آف پاکستان، ایم کیو ایم، مسلم لیگ ن، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ برابر کے ذمہ دار ہیں۔ بہت سے سوالات کے درمیان ایک یہ سوال بھی ذہن میں آتا ہے کہ فخر الدین ابراہیم (فخروبھائی) نے 86سال کی عمر میں وہ ذمہ داری لینے کا فیصلہ کیوں کیا جس کے لیے وہ ذہنی اور جسمانی طور پر فٹ نہیں تھے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ صرف چند ارب ہڑپ کرنے کے لیے عام پیپر پر بیلٹ پیپر چھاپے گئے اور مقناطیسی سیاہی کے بجائے عام سیاہی استعمال کی گئی ہو؟ اور وہ سیاہی آج پورے معاشرے اور قوم کے چہرے پر مَل دی گئی ہو؟ کبھی سنا کرتے تھے کہ چور اچکا، جیب تراش پکڑا جاتا تھا تو اس کے منہ پر سیاہی مَل کر گلیوں اور بازاروں میں گھمایا جاتا تھا نہ جانے پاکستان کو لوٹنے والے ان سیاسی نقب زنوں، چوروں کے ذہن میں کیا آیا کہ انہوں نے 20کروڑ عوام کے چہرے پر سیاہی مَل کر پوری دنیا میں ہمیں باعث عبرت اور تماشا بنا دیا ہے۔ اقوامِ عالم میں لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ یہ کیسا ملک ہے جس میں پچھلے 66سالوں میں عوام کو ووٹ اور جمہوریت کے نام پر بیوقوف بنایا جاتا رہا ہے۔ بزرگوں سے سنا کرتے تھے ’’چوراں دے کپڑے تے ڈانگاں دے گز‘‘ مگر پاکستان میں موجودہ حالات اس سے بھی بدتر ہیں، یہاں تو چور ڈانگوں سے ناپنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے اور قومی اثاثے اور درجنوں ادارے بیچنے کا منصوبہ تقریباً تیار ہو چکا ہے۔ عمران خان نے کیا خوب کہا ہے کہ وہ ممبران پارلیمنٹ جو دھاندلی کی کشتی پر سوار ہو کر پارلیمنٹ پہنچے ہیں وہ کرپشن سمیت ملک میں چوربازاری کو کیسے روکیں گے۔ اب تھوڑی تھوڑی یہ بات بھی سمجھ میں آئی ہے کہ جبکہ گذشتہ الیکشن میں پنجاب کے اندر سیاسی نقب لگائی جا رہی تھی تو پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت خاموش کیوں تھی؟ کیا پیپلزپارٹی کی قیادت نے پورے تحمل اور پروٹوکول کے ساتھ تخت لاہور اپنے ہاتھوں سے میاں برادران کے حوالے نہیں کیا؟ کیا اپنے لاکھوں ورکروں اور جیالوں کے منہ پر سیاہی مَلنے کے عمل میں پیپلزپارٹی کی قیادت دانستہ ملوث نہیں؟ ہاں مجھے یاد آیا الیکشن نتائج کے بعد تقریباً مکمل کلین سویپ کرنے اور دوتہائی اکثریت سے بھی زائد نشستیں حاصل کرنے کے باوجود نوازشریف کے چہرے پر سے مسکراہٹ غائب ہے کہ یہ کہیں قوم کے چہرے پر سیاہی مَلنے کا ملال تو نہیں؟ کہیں ان کا ضمیر انہیں ملامت تو نہیں کرتا کہ جس قوم نے انہیں تیسری دفعہ وزیراعظم بنایا وہ قوم ایسے سلوک کی مستحق تو نہ تھی؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus