×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
قربانی کی کھالیں یا سیاسی چالیں
Dated: 15-Oct-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com قیامِ پاکستان سے ہی لے کر اس قوم کو بتا دیا گیا کہ اس کو بے شمار قربانیوں کے دریا عبور کرنا ہوں گے۔ ابتلاء اور آزمائشوں کے درمیان سے جگہ بناتی ہوئی اس قوم کو پچھلے 66سال سے قربانیاں دینے کا بار بار تجربہ ہوا۔ بڑے مختصر ترین عرصے میں 5جنگیں، 4مارشل لا، متعدد زلزلے اور آسمانی آفات اور ہر بارقوم کا ایثار اور قربانی دائو پر لگائی گئی۔آزادی کے بعد بھارت نے تو متعدد اصلاحات کرکے اپنے سسٹم کو مضبوط بنایا۔ وہاں پر راجوں، مہاراجوں اور جاگیرداروں سے زمینیں واپس لے کر زمین حد ملکیت مقرر کی گئی۔ ایجوکیشن کا اتنا مستند نظام متعارف کرایا گیا کہ بلاشبہ بھارت ہم سے تعلیم کے میدان میں بہت آگے نکل چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں بھارتی مین پاور اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں ڈیمانڈ ہے۔ سیاست میں ان کی کریڈبیلٹی پر ہے کہ آج تک کوئی طالع آزماوہاں مارشل لاء لگانے کی جرأت نہ کر سکا۔ 35کروڑ مسلمان 5کروڑ عیسائیوں سمیت چھوٹے بڑے مذاہب اور درجنوں اقوام اور سینکڑوں زبانوں پر مشتمل بھارت میں اخوت اور یک جہتی کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے اپنے ملک میں 5ہزار سے زائد ڈیمز بنا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ انہیں اپنے وطن سے محبت ہے جب کہ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بننے والی مملکت پاکستان میں ہم نے پچھلے 7عشروں میں فرقہ واریت، ذات برادری کو ہوا دی ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت 22خاندان تھے جنہیں امیر کہا جاتا تھا آج امراء کی تعداد شاید 2000ہو گی مگر 20کروڑ کی آبادی کا یہ ملک جس میں 60فیصد سے زائد لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ہر پاکستانی لاکھوں روپے کا مقروض ہے قرضوں کے بوجھ کا یہ عالم ہے کہ اگر ڈالر کی قیمت ایک روپیہ بڑھتی ہے تو پورا ملک 70ارب روپے کا مزید مقروض ہو جاتا ہے۔ ہر جمہوری یا عسکری طالع آزما کشکول توڑنے کے جھوٹے دلاسے دے کر قوم کی عزتِ نفس سے کھیلتا ہے۔ امداد اور صدقات پر پلنے والی اس قوم کی کوئی بھی مشترکہ سوچ نہیں کہ جس سے ثابت کیا جا سکے کہ یہ ایک قوم ہے۔ جو قوم پچھلے 40سال کے دوران کالاباغ ڈیم کے منصوبے پر عمل نہ کر سکی کیا وہ قوم کہلانے کی مستحق ہے۔ آج کا پیدا ہونے والا پاکستانی بچہ یہ کیسے تصور کرے کہ وہ اکیسویں صدی میں پیدا ہوا ہے کیونکہ پیدا ہوتے ہی وہ جو سب سے پہلی روشنی دیکھتا ہے وہ بجلی کی نہیں موم بتی کی روشنی ہوتی ہے۔ جہاں سے ہمیں اچھی زکوٰۃ اور صدقات مل جائیں اس ملک کو بھی ہم دوست سمجھ لیتے ہیں۔ ہم سے بعد میں آزاد ہونے والی اقوام نے ترقی کی وہ منازل طے کی ہیں کہ آج ان کا نام عالمی برادری میں لیڈ کرنے والے ممالک میں سہرفہرست ہے جبکہ ہم ابھی تک قربانی کی کھالوں پر لڑ رہے ہیں۔ میں نے متعدد اسلامی ممالک کا وزٹ کیا ہے اور میں نے وہاں پر دیکھا ہے کہ ان ممالک میں قربانی کی کھالیں شہر کی بلدیہ کولیکٹ کرتی ہے اور اس سے جمع ہونے والی رقوم سے سوشل ویلفیئر کے نیم سرکاری پراجیکٹ کام کرتے ہیں۔ اسی طرح پورے یورپ اور نارتھ امریکہ میں بھی سوشل ویلفیئر کے ادارے حکومتی سطح پر کام کر رہے ہوتے ہیں اور ان کا یہ نظام اس حد تک شفاف اور کارآمد ہے کہ اس کے اثرات ہر شہری تک پہنچتے ہیں جبکہ پاکستان میں صدقے، خیرات، فطرانے اور قربانی کی کھالیں جمع کرکے متعدد اداروں ،مذہبی و سیاسی جماعتوں نے مملکت کے اندر ایک متبادل نظام بنا رکھا ہے۔ آج کراچی میں جو بدامنی ،لاقانونیت، بم دھماکے، بھتہ خوری اور قانون شکنی کا راج ہے ان سب برائیوں کی ابتدا اصل میں قربانی کی کھالوں سے شروع ہوئی۔ وہی کام جو کراچی میں جماعت اسلامی اپنا حق سمجھتی تھی وہ کام ایم کیو ایم نے شروع کر دیا اور جب مفادات ٹکرائے تو فسادات نے جنم لیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ملک میں موجود تمام مسجدوں اور مدرسوں کو سرکاری سرپرستی میں ہونا چاہیے اور یہ ذمہ داری مملکت کی ہونی چاہیے کہ وہ مسجدوں میں امام اور اساتذہ کے شاہرات مقرر کے اور مسجدوں اور مدرسوں کے یوٹیلٹی بلز اور خراجات کا ذمہ اٹھائے۔ جیسا کہ پچھلے کچھ سالوں سے مزارات کو محکمہ اوقاف کی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ حکومت اسلامی اقدار کو مدنظر رکھ کر ایسے اقدامات کرے کہ جس سے مذہب کو بیچنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو۔ اس کے لیے آئین میں ضروری ترامیم کرنا بھی مقصود ہوں تو کی جائیں۔ اگر حکومت کی نیت ٹھیک ہو تو صدقے، خیرات اور قربانی کی کھالوں کو تجارت بنانے والوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکتی ہے اور مساجد میں لائوڈ سپیکر پر مذہبی اور فرقہ واریت کی منافرت پھیلانے والوں کا سدِ باب کیا جا سکتا ہے۔ دراصل پچھلے 66سال میں وطن عزیز میں قانون کی حکمرانی مفقود ہے جس کی وجہ سے مذہبی ، سیاسی اور عسکری طالع آزما اپنی اپنی دوکانیں سجائے بیٹھے ہیں اور جو جتنا قوم کو ورغلا لیتا ہے وہ اتناہی اچھا لیڈر قرار پاتا ہے۔ اگر ہم نے باقی ماندہ پاکستان کو بچانا ہے تو ہمیں انقلابی بنیادوں پر بے شمار اصلاحات کرنا ہوں گی۔ ہمیں ایجوکیشن کو عام کرکے جہالت پسند دانشوروں قائدین کا راستہ روکنا ہوگا، ہمیں پالیسی نافذ کرنا ہو گی۔ ہمیں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اصلاحات نافذ کرنا ہوں گی۔ہمیں اپنے درمیان کوئی ’’اتاترک‘‘ تلاش کرنا ہوگا اور اگر نہ ملے تو ہمیں خود کوئی اتاترک پیدا کرنا ہوگا۔ یاد رکھیئے قوم بننے کے عمل کے دوران قوموں کو بے شمار قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ آج دنیا کی ترقی یافتہ اقوام انہی اصلاحات اور تبدیلیوں سے گزر کر مکمل ہوئی ہیں۔ ہمیں قربانی کی کھالوں اور سیاست دانوں کی چالوں کو سمجھنا ہوگا۔ یقین مانیے نہ سعودی عرب نہ چین نہ امریکہ ہماری بہتری اور ہمارے مستقبل کا سوچے گا ہمیں خود اپنے بہتر مستقبل کے لیے فیصلے کرنا ہوں گے کیونکہ شاعرِ مشرق نے کیا خوب کہا ہے: خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو خود جس کو خیال اپنی حالت بدلنے کا
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus