×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جنرل راحیل شریف کی ترجیحات
Dated: 07-Dec-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com آج کے اس کمرشلائزڈ دور میں جہاں کوئی بھی پراڈکٹ بیچنے کے لیے ایک پلان تیار کرنا پڑتا ہے حتیٰ کہ آپ ایک منجن کو بہترین مارکیٹنگ سے عوام میں مقبول کرکے زیادہ اچھے طریقے سے بیچ سکتے ہیں۔ اسی طرح کوئی بھی سیاسی پارٹی فی زمانہ اپنے منشور کی تشہیر نعروں اور سلوگنز کے بغیر عوام تک نہیں پہنچا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں سیاسی پارٹیوں کو اداروں کی حیثیت دی جاتی ہے حتیٰ کہ سٹاک ایکسچینج میں سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہوتی ہے اور اس کا برملا اظہار کسی بھی ملک میں الیکشن کمپین کے دوران دیکھاجا سکتا ہے۔ خاص طور پر یورپ میں الیکشن میں شکست کے بعد بڑی سیاسی پارٹیاں اپنا امیج پھر سے عوا م میں بحال کرنے کے لیے لاکھوں کروڑوں ڈالر کی کمرشل کمپین کرتی ہیں۔ اسی طرح کھیل کی دنیا میں بھی دنیا کی مشہور فٹ بال کلب اور کرکٹ ٹیمیں نہ صرف اپنے امیج بلکہ پاپولیریٹی کو اپنے مداحوں میں بہتر بنانے کے لیے اربوں ڈالر کی کمرشل کمپین چلاتی ہیں۔ دنیاکی طرح آج پاکستان میں بھی گھر گھر سیٹلائیٹ ٹیلی ویژن اور کیبل نیٹ ورک موجود ہے ۔خاص طور پر پچھلے چند سالوں سے سوشل میڈیا، پرنٹ والیکٹرانک میڈیا کے بڑھتے ہوئے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ای میل، یو ٹیوب، ٹویٹر اور فیس بک کی موجودگی سے انحراف کرنے والے شائد اٹھارویںصدی کے لوگ تو ہو سکتے ہیں مگر بیسویں اور اکیسویں صدی کے نہیں۔ گذشتہ دنوں نئے چیف آف آرمی سٹاف کا تقرر عمل میںآیا لیکن اس سے دو ماہ پہلے قومی اور عالمی سازشی گروپوں نے آئی ایس آئی سمیت پاک فوج کے خلاف جو پروپیگنڈہ مہم چلا رکھی تھی اس سے ہماری پاک فوج کی ایماندار انہ اور بہادرانہ شہرت کو نہ صرف شدید دھچکے لگے بلکہ وہ کاز اور فلسفہ جس کی بنیاد پر پاک فوج کا ایک سولجر کسی بھی وقت گولی کھانے کے لیے تیار رہتا ہے۔ اندرونی اور بیرونی سازشیوں نے اس فلسفۂ شہادت کو نہ صرف تختۂ مشق بنایا بلکہ دو قومی نظریئے کی بنیاد پر وجود میں آنے والی اس مملکتِ خداداد کے 20کروڑعوام کو گروہوں میں تقسیم کرکے رکھ دیا۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ایک ٹی وی چینل پر ایک اینکر ایک مذہبی جماعت کے جہاں دیدہ رہنما کے منہ میں اپنے الفاظ ڈالنے میں کامیاب ہوا؟کیا آپ اس انٹرویو کو ایک عام انٹرویو کا نام دیں گے یا یہ ایک پلینڈکیا گیا کسی کمپین کا حصہ تھا۔ آج کے اس دور میں آمنے سامنے تلواریں نکال کر جنگیں نہیں ہوتیں نہ ہی دو لشکر میدان جنگ میں ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہوتے ہیں اور نہ ہی آج کولڈوارکا دور ہے۔ دنیا کی جدید لغت میں قومیں اب اپنی جنگیں میڈیا پر لڑتی ہیں یہی وجہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد بدلتے ہوئے عمومی حالات کو محسوس کرتے ہوئے امریکہ نے اس بات کا ادراک کر لیا تھا اور سیلف ریسپیکٹ کی ایسی کمپین شروع کی کہ دنیا سے خود سپرپاور منوا کے ہی چھوڑا۔ خاص طور پر ویت نام کی جنگ کے بعد امریکہ نے جو ہزیمت اٹھائی تھی اس کے بعد ہالی ووڈ نے پینٹاگون کی سپانسرشپ سے سینکڑوں فلمیں جنگی موضوعات پر بنائیں جن میں خاص طور پر ڈیلٹافورس، مشن ایمپوسیبل اور جیمز بانڈ سیریل فلمیں شامل ہیںجبکہ ریمبو، راکی، آرنلڈشیوارز نیگر کے لاثانی کردار آ ج تک ذہنوں سے محو نہیں ہو سکے۔ ان فلموں نے نہ صرف یورپ بلکہ اتحادی فوجوں کا مورال پھر سے بلند کیا اور قارئین کو یاد ہوگا کہ اسرائیل نے اس دوران ہالی ووڈ کو استعمال کرتے ہوئے مختلف بے بنیاد واقعات سمیت ہالوکوسٹ پر فلمیں بنا کر دنیا بھر سے مظلومیت کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا اور تو اور ہمارے ازلی دشمن بھارت نے اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے ہالی ووڈ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی فلم انڈسٹری بالی ووڈ قائم کر لی۔ جس کے زیر سایہ بننے والی فلموں اور ٹی وی ڈراموں اورٹاک شوز کے ذریعے نہ صرف بھارت اب تک کشمیر اشوپر قابو پانے میں کامیاب ہے بلکہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے لے کر سیاچن اور کارگل پر فلمیں بنا کر دنیا بھر میں اپنا جھوٹے ایجنڈے اور پراپیگنڈے کو سچ ثابت کر دکھانے میں کامیاب ہوا ہے ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق بھارت میں اوسطاً12سو فلمیں 2درجن زبانوں میں بنتی ہیں یہ اعدادوشمار ایک سال کے ہیں جبکہ امریکہ، یورپ اور مڈل ایسٹ اور نارتھ امریکہ کے فلم شائقین بھارت کو دنیا کی دوسری بڑی فلمی منڈی مانتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق 10فیصد فلموں کی فنڈنگ اسرائیل اور بھارتی فوج کے ذریعے ہوتی ہے ۔ را، موساد کے زیر سایہ بننے والی فلموں کا ہدف پاکستان اور عالمِ اسلام ہوتا ہے جب دنیا کی تمام اقوام نے میڈیا امیج بلڈنگ کے طور پر قبول کر لیا ہے تو پھر پاکستان اس گیم میں اپنے حریفوں سے بہت پیچھے کیوں ہے؟میں نے سال بھر پہلے اپنے ایک کالم میں پاک فوج کی قیادت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ پاک فوج اور آئی ایس آئی کے امیج کو نہ صرف اپنی عوام بلکہ عالمی طور پر ایسے اقدامات کرے جس سے آئی ایس آئی کی طرف اٹھنے والی انگلیاں ٹیڑھی کرنے میں آسانی رہے۔مگر لگتا ہے کہ روس کی خفیہ ایجنسی کے جی بی اور افغانستان کی رام کو عبرت ناک شکست دینے والی آئی ایس آئی کے دماغ سے ابھی اسی جیت کا نشہ نہیں اترا ورنہ دورِ جدید کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ملک گیر اور عالم گیر پلان تیار کیا جاتا جس سے نہ صرف ہمارے قومی کاز کو تقویت پہنچتی بلکہ پاک فوج کا امیج دنیا بھر میں بلند ہوتا۔ نہ جانے آئی ایس آئی کے اکابرین نے آئی ایس آئی کو بلکہ وطن عزیز کو بھی دفاعی پوزیشن پرکیوں لاکھڑا کیا ہے۔ یقینا نئے آرمی چیف کی ترجیحات کچھ اور بھی ہوں گی مگر میری نظر میں جنرل راحیل شریف کو سارے کام پس پشت ڈال کر پاک فوج اور آئی ایس آئی کے امیج کو بہتر بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے ہوں گے۔ یاد رکھیے فوج ہمیشہ حالتِ جنگ میں ہوتی ہے اور اسے جدید قسم کی تربیت اور آلات دیتے رہنا وقت کی اہم ضرورت ہے چونکہ ہمارا مقابلہ انتہائی مکار دشمنوں سے ہے جو ہماری صفوں کے اندر گھس کر ہمیں نقصان پہنچانے کی انتہائی بھیانک سازشیں کر رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک فوج اور آئی ایس آئی کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے ۔ہم پہلے ہی بھوک اور اندھیرے کے عادی ہو چکے ہیں۔ قوم تھوڑا اور بھی برداشت کرنے کا جذبہ رکھتی ہے۔ میری جنرل راحیل شریف سے گزارش ہے کہ ہمیں تھوڑی بھوک اور افلاس برداشت کرنا پڑے مگر ہمیں غیرت کے ساتھ زندہ رہنے کے لیے اپنی فوج اور ایجنسیوں کو بین الاقوامی معیار کا بنانا ہوگا اور یہی ہماری ترجیحات ہونی چاہئیں۔ایسے لوگوں کا بھی محاسبہ کرنا ہے جو فوج کے وژن،فلسفے اورجذبہ شہادت پر وار کررہے ہیں۔ اگر فوج کو جذبہ شہادت سے محروم کردیا جائے تو یہ فوج نہیں ریت کی دیوار ثابت ہوگی اور پاکستان دشمن ایسا ہی چاہتے ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus