×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
چیف جسٹس کی رخصتی اور ادھورا انصاف!
Dated: 10-Dec-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com دنیا کا ہر طاقتور شخص کبھی نہ کبھی مکافاتِ عمل کا شکار ہو ہی جاتا ہے جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں گے ٹھیک اس وقت چیف جسٹس کسی ضیافت میں الوداعی خطاب کر رہے ہوں گے۔ چیف جسٹس کا بطورسپریم کورٹ جج اور چیف ایک عشرہ پر مشتمل ہے ہم اس کو تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ پہلا جب 12اکتوبر 1999ء کوجنرل پرویز مشرف نے اپاہج جمہوریت پر لولہ لنگڑا شب خون مارا تھا۔ اس فوجی ایکشن کو اس وقت کی سپریم کورٹ نے جائز اقدام قرار دیا تھا نہ صرف یہ بلکہ چیف ایڈمنسٹریٹرکے طور پر آئین میں تبدیلی کا اختیار بھی دے دیا یہ وہ اضافی سہولت تھی جس کی جنرل مشرف نے سپریم کورٹ سے ڈیمانڈ تک بھی نہ کی تھی اور افتخار احمد چوہدری اس خصوصی بنچ کا حصہ تھے۔ عسکری قیادت اور عدلیہ کے تعلقات بخیروخوبی انجام پا رہے تھے۔ واقفانِ حال بتاتے ہیں کہ معاملات شاید اسی خوش اسلوبی سے چلتے رہتے کہ ایوانِ صدر میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز کے ساتھ ہونے والی بدمزگی نے معاملات کو اس نہج پر پہنچا دیا کہ آخر جنرل مشرف کو اپنے جمہوری سیٹ اپ کو بچانے کے لیے چیف جسٹس کو بلوا کر استعفیٰ طلب کرنا پڑا۔ آئی ایس آئی کے اس وقت کے چیف اور سابقہ آرمی چیف جنرل پرویز کیانی ان واقعات کے عینی شاہد تھے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ایک نہیں دو بار پی سی او کے تحت حلف اٹھایا اور اس طرح انہوں نے ذاتی مفادات کے رستے میں آنے والی آئینی اور قانونی دیواروں کو خود ہی مسمار کیا۔ اس سارے ڈرامے کا دوسرا حصہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کی اس عدلیہ حالی تحریک پر مشتمل ہے۔ یہ وہ دور تھا جب جنرل مشرف اپنے ساتھیوں کے ہاتھوں اندرونی اور بیرونی سازشوں کا شکار تھے امریکہ اب اس سے جان چھڑانا چاہتا تھا ا س لیے این آر او کو جنرل مشرف پر مسلط کیا گیا جبکہ دوسری طرف سعودی عرب اور میاں شریف برادران واپسی کی حکمت عملی ترتیب دے چکے تھے یہی وجہ ہے کہ ڈالروں اور ریال کی بوریوں کے ڈھیر وطن عزیز میں امڈ آئے اور نا مساعد حالات کے باوجود ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت مستحکم رہی۔ عدلیہ بحالی تحریک کو بلاشبہ اندرونِ ملک مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی مکمل سپورٹ حاصل تھی۔ دوسری طرف ملک بھر کے ایک لاکھ وکلاء حضرات عدالتوں میں عدالتی کام ٹھپ ہونے کے باوجود ایک لمبا عرصہ کیسے سروائیو کر گئے یہ ایک سوالیہ نشان ہے وہ کونسے ہاتھ تھے جو ڈالروں سے بھرے بریف کیس انہیں پہنچا رہے تھے۔ عدلیہ بحالی تحریک میں سب سے زیادہ پیپلزپارٹی نے جانی نقصان اٹھایا۔ پیپلزپارٹی کے کارکنان اور لائیرز فورم نے سینکڑوں جان کی قربانیاں دیں سانحہ کارساز اور اسلام آباد بم دھماکہ اسی تحریک کا نتیجہ تھے۔ اسلام آباد پہنچنے کے بعد شہید محترمہ بے نظیر بھٹو جب پارٹی آفس پہنچیں تو وہاں پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ جس گھر میں چیف جسٹس کو مقید رکھا گیا ہے وہاں محترمہ جائیں محترمہ نے چیف جسٹس کے گھر کے باہر گاڑی کی چھت سے باہر نکل کر میگا فون پر جنرل مشرف کو للکارا اور کہا کہ افتخار محمد چوہدری ہمارے چیف جسٹس ہیں۔ محترمہ کے اس لب و لہجے سے ایک طرف تو جنرل مشرف انتہائی پریشان ہوئے اور دوسری طرف وکلاء تحریک کو کافی تقویت ملی۔ راقم اس تحریک کے دوران نہ صرف انتہائی سرگرم رہا بلکہ محترمہ کی ہدایت پر عملی طور پر اس میں حصہ لیا۔ اسی دوران محترمہ کی شہادت کا سانحہ رونما ہوا اور بعدازاں پیپلزپارٹی الیکشن جیت کر اقتدار میں آ گئی اور پہلے سے طے شدہ منصوبہ بندی کے مطابق آصف علی زرداری نے اس طریقے سے پتے کھیلے کہ جنرل مشرف کو بادہ نخواستہ اقتدار چھوڑنا پڑا مگر وکلاء کی تحریک ابھی جاری تھی اور ملک کا ایک مخصوص طبقہ اور میاں برادران اس کو فُل سپورٹ کر رہے تھے اور پھر ایک پہلے سے تیار شدہ منصوبہ جس کو کہ مسلم لیگ ن، عدلیہ، پیپلزپارٹی اور فوج کی درپردہ حمایت حاصل تھی کے تحت لانگ مارچ کا اعلان کر دیا گیا جو چیف جسٹس کی بحالی پر ختم ہوا اس سے پہلے کراچی میں 12مئی کا واقعہ رونما ہو چکا تھا جس میں عدلیہ بحالی تحریک کے حامیوں کوطاقت کے زور پر کچلا گیا۔ اس سیریز کا تیسرا حصہ بھی پہلی دو قسطوں سے کم بھیانک اور خطرناک نہیں تھا۔ چیف جسٹس نے منصب سنبھالتے ہی تاثر کچھ یوں دیا کہ دنوں میں ہی پاکستان خلفائے راشدین اور حضرت عمرؓ کے زمانے کا نقشہ پیش کرنے لگا ملک بھر کی سول اور اعلیٰ عدالتوں میں جو لاکھوں کیسوں کی فائلیں پڑیں تھیں ان کے ایک امید سی بندھی کہ اب عدلیہ کا بول بالا ہوا یہ تو انہیں بھی کوئی انصاف ملے گا ۔ نئے نیب چیئرمین کا تقرر ہوا اور پھر سوموٹوز کا ایسا دور شروع ہوا اور ایسے محسوس ہوا کہ پورا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ انتظامی افسران کو روزانہ کی بنیاد پر حاضری دینے کے لیے اسلام آباد بلایاجانے لگا۔ سٹیل مل اور رینٹل پاور کیس سمیت این آر او اور سوئس کیسز ری اوپن کر دیئے گئے اور پھر چار سال تک نہ ختم ہونے والی ڈرامہ سیریل شروع کر دی گئی۔ اصغر خاں کیس کا فیصلہ سامنے آیا اور سوئس کیس میں وزیراعظم گیلانی کو نااہل قرار دے کر گھر بھیج دیا گیا۔ مگر وہ لوگ جن پر سوئس کیسز تھے وہ اپنے 5سال پورے کرکے ریڈ کارپٹ پہ گارڈ آف آنر لے کر رخصت ہوئے اور سوئس کیسوں پر سینکڑوں ارب روپے خرچ کرکے بھی نتیجہ صفر رہا۔ سانحہ12مئی کراچی کے ملزمان آج بھی دندناتے پھر رہے ہیں۔ لاپتہ افراد کے کیس کو ایک ٹی وی ڈرامہ کی سیریل کے طور پر پیش کرکے عوام کا دھیان کسی اور سمت موڑا گیا اور اس مشق کا نتیجہ کیا برآمد ہوا؟اصغر خاں کیس کے ملزمان سر عام یہ کہتے ہیں کہ ہم پہ کوئی ہاتھ ڈال کے دکھائے۔ عدلیہ تحریک کا انجام یہ نکلا کہ وکلاء نے عدالتوں میں چیمبرز کے اندر بند کرکے زدوکوب کرنا شروع کیا۔ پولیس افسران کی وکلا کے ہاتھوں سر عام چھترول ہوئی۔ معزز صحافیوں کی وکلا کے ہاتھوں پٹائیوں کا رواج عام ہوا۔ 5سال کے عرصہ کے دوران دہشت گردوں کو سزا دینے کی بجائے باعزت بری کیا جاتا رہا۔ 50ہزار سویلین اور 12ہزار عسکری جوانوں کے قاتلوں میں سے کسی ایک کو بھی تختہ دار تک نہیں پہنچایاجا سکا۔ڈرامے بازی کی جمہوریت اور ڈرامہ باز عدیہ متعارف کرائی گئی۔ چیف جسٹس اور ان کی ٹیم گھنٹوں میڈیا پر آکر ڈائریکٹ عوام سے ہمکلام ہونے لگے۔ شاید آج پنجابی فلموں کے ہیروں سلطان راہی(مرحوم) زندہ ہوتے تو اس منصب کا صحیح نعم البدل قرار پاتے اور اسی دوران جب جمہوری حکومت کو سوموٹو کی برہنہ تلوار کے نیچے رکھا گیا چیف جسٹس کے اپنے فرزند پر ملک کے ایک سرمایہ دار کی طرف سے اربوں روپے کے اثاثہ جات بنانے کا نہ صرف الزام لگایا گیا بلکہ ثبوت بھی میڈیا کے سامنے پیش کیے جاتے رہے جس کے خلاف کوئی بھی ایکشن نہیں لیا گیا اور آج عالم یہ ہے کہ علی احمد کرد، حامد خاں، اعتزاز احسن، عاصمہ جہانگیر جیسے چیف جسٹس کے دست راست چیف جسٹس سے اپنی راہیں جدا کر چکے ہیں۔خود موجودہ حکمران، موجودہ عدلیہ اور چیف صاحب سے اس حد تک خوف زدہ ہو چکے ہیں کہ چیف کی ریٹائرمنٹ کا انتظار کائونٹ ڈائون واچ لگا کر کر رہے ہیں۔ چیف صاحب آپ کو ریٹائرمنٹ کی زندگی مبارک ہو مگر یہ انصاف جسے آپ ادھورا چھوڑ کر جا رہے ہیں ایک دن کہیں آپ کے شب و روز کو پریشان نہ کر دے کیونکہ مکافاتِ عمل کا اختیار رکھنے والی ایک سپریم عدالت اور بھی ہے جس کے کٹہرے میں ہر ایک کو کھڑا ہونا پڑے گا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus