×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
عبدالقادرملاّ کو پھانسی۔نئے پاکستان کا جنم؟
Dated: 14-Dec-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com یہ خبر ہر محب ِ پاکستانی پر بجلی بن کر گری کہ بنگلہ دیش میںجماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملّا کو پھانسی دے دی گئی ہے۔نام نہادجنگی جرائم کے ٹربیونل نے رواں سال فروری میں عبد القادر ملا کو انسا نیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی جسے حسینہ واجد کی حکومت کی اپیل پر بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے سزائے موت میں تبدیل کر دیا تھا۔عبدالقادر ملّا پر الزام تھا کہ وہ جماعت اسلامی کے تحت قائم کی گئی البدر نامی تنظیم کے رکن تھے اور’’ جنگ آزادی ‘‘کے آخری ایام میں وہ 200 سے زیادہ بنگلہ دیشی دانشوروں کے اغوا اور قتل میں ملوث تھے۔پینسٹھ سالہ عبدالقادر ملّا کو جنگی جرائم کا مجرم قرار دیا گیا تو جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے پورے ملک میں ہنگامے کیے تھے۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا موقف ہے کہ عبدالقادر ملّا کو سزا سنائے جانے کے پیچھے سیاسی عوامل کار فرما ہیں۔ جنگی جرائم کے ٹربیونل نے عبد القادر ملّا کے علاوہ بھی جماعت اسلامی کے کئی افراد کو پھانسی کی سزا سنا رکھی ہے۔ عبدالقادر ملا پہلے شخص جنہیں پھانسی کی سزا دے گئی ۔بنگلہ دیشی حکومت نے خصوصی ٹربیونل 2010 میں قائم کیا تھا جس کا مقصد ان ملزمان پر مقدمہ چلانا تھا جنہوں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر اس وقت کے مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کی مخالفت کی تھی۔ بنگلہ دیش کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ 1971 میں جنگ کے دوران تین ملین افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ اس الزام کے کبھی کوئی ثبوت سامنے نہیں آئے ۔بنگلہ حکومت ایسے لوگوں کی قبریں تو کیا دکھاتی ان کی کوئی لسٹ بھی مرتب نہیں کی گئی۔جس جنگی ٹربیونل نے محب وطن پاکستانیوں کا ٹرائل کیا اسے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے بنگلہ دیشی پارلیمنٹ نے International Crimes Tribunal کانام دیاہے جبکہ اس میں بین الاقوامیت والی کوئی بات نہیں ۔ٹربیونل کے سربراہ محمد نظام الحق اور دو ممبران فضل کبیر اورظہیر احمد ہیں،تینوں بنگلہ دیشی اور بنگالی ہیں۔چیف جسٹس مزمل بھی اسی قبیل کے ہیں جنہوں نے عبدالقادر ملا کی پھانسی کی نظر ثانی کی درخواست مسترد کی تو جمعرات کی رات ایک محب وطن پاکستانی کو سزائے موت سے ہمکنار کردیا گیا۔ آج کی بنگلہ دیشی حکومت جس کو جنگ آزادی کہہ رہی ہے وہ بغاوت اور غداری تھی۔ وطن کی سالمیت ،سلامتی کے لیے اور اس کے گرد منڈلاتے خطرات کے سامنے سینہ سپر ہو جانا ہر محب وطن پاکستانی کا فرض تھا۔ عبدالقادر ملا اور ان کے ساتھیوں نے یہ فرض ادا کیا۔ جس کی پاداش میں غداروں نے ان کو پھانسی دے کر شہادت کے درجے پر پہنچا دیا۔ ایسے لوگوں کا جرم کسی بھی طور پر بغاوت کے زمرے میں نہیں۔ بغاوت اپنے وطن کے خلاف کسی بھی قسم کی سرگرمی میں ملوث ہونے کا نام ہے۔ 16دسمبر1971ء تک آج کا بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ تھا۔ جن لوگوں نے اس کے خلاف علم بغاوت بلند کیا غدار تو وہ ہوئے چونکہ ان کی بغاوت کامیاب ٹھہری اور وہ پاکستان کو توڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس لیے مدعی مجرم قرار پائے اور مجرم تخت نشین ہو گئے تاہم ملک کو دو لخت کرنے والوں کے سربراہ مجیب الرحمن کو خاندان سمیت قتل کرکے چند بنگلہ دیش فوجی افسروں نے پاک وطن سے غداری کا کسی حد تک کفارہ ادا کر دیا۔ مجیب کے خاندان سے ایک چڑیل نما اس کی بیٹی بچ گئی جو ڈریکولا بن کر آئی گنگا بہا رہی ہے۔ پاکستان ٹوٹنے کے بعد بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی ،بنگلہ دیش وزیراعظم شیخ مجیب الرحمن اور پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس میں کہا گیا کہ تینوں ممالک بنگلہ دیش کی علیحدگی میں کسی بھی کردار پر مقدمہ نہیں چلائیں گے وہ فوجی ہو یاسویلین ۔ حسینہ واجد نے وہ معاہدہ توڑ ڈالا۔ اس سے پوری دنیا خصوصی طور پر پاکستان کے علیحدگی پسندوں کی حوصلہ فزائی ہو گی جو بلوچستان، سندھ اور وزیرستان میں سرگرم ہیں۔ بھارت میں علیحدگی کی کئی تحریکیں چل رہی ہیں۔ ان تحریکوں کی مخالفت کرنے والوں کے سروں پر خوف کی تلوار لٹک گئی ہے کہ علیحدگی پسندوں کی تحریک کامیاب ہو گئی تو اس کی مخالفت کرنے والوں کو اسی طرح پھانسی دے دی جائے گی جس طرح بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی حکومت دے رہی ہے۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے لیڈر کو سزائے موت سنائے ہوئے کئی ماہ ہو چکے ہیں۔ ان کا جرم پاکستان سے محبت اور پاک فوج تعاون قرار دیا گیا ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کا کردار شرمناک رہا کہ بنگلہ دیشی حکومت سے اس بہیمانہ اقدام پر کوئی احتجاج کیا نہ عالمی سطح پر معاملہ اٹھایا گیا۔ آخری دو تین روز میں تو عبدالقادر ملا کی پھانسی یقینی نظر آ رہی تھی لیکن ہمارے حکمران ٹس سے مس نہ ہوئے۔ پاکستانی میڈیا پہلے جرنیلوں کی تبدیلی اور چند دن سے جسٹس افتخار فوبیا میں مبتلا رہا جو جاتے جاتے ایک میڈیا گروپ پر نوازش کرتے ہوئے باقی گروپوں کی پشت پر لات رسید کر گئے۔ عالمی سطح پر بھی بے حسی دیکھی گئی۔ عالمی سطح کی این جی اوز بھی سوئی رہیں یا انہوں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر لی۔ پوری دنیا میں سزائے موت کے خاتمے کا واویلا کیا جا رہا ہے لیکن بنگلہ دیش میں کسی کو پاکستان کی محبت میں پھانسی لگ رہی ہو تو اس وقت انسانی حقوق کی پامالی نظر انداز کر دی جاتی ہے۔ 1971ء میں پاک وطن کے خلاف بغاوت کی گئی۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے حالات کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے بنگلہ دیش کو تسلیم کرکے دونوں ممالک کے درمیان اخوت کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی۔جنرل مشرف نے بنگلہ دیش کے دورے کے موقع پر وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان زیادتیوںپر بھی معذرت کر لی جو پاک فوج سے سرزد بھی نہیں ہوئی تھی۔ پاک فوج کا ساتھ دینے والوں کے خلاف انسانیت سوز سلوک کے بعد پاکستان بھارت تعلقات بھی معمول پر نہ آ سکیں گے۔ خصوصی طور پر عوامی لیگ کی حکومت کے ہوتے ہوئے۔ مجھے امید ہے کہ اس معاملے میں پاکستانی عدلیہ اپنا بہترین کردار ادا کرے گی۔ وکلاء حضرات معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے رکھیں کہ پاکستان توڑنے میں شامل کرداروں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے۔ ایسے لوگوں کی لسٹیں یقینا دستیاب ہوں گی جو 71ء میں پاک فوج کے خلاف سرگرم تھے۔ ان کا ہائی ٹرائل کے تحت مقدمہ چلایا جائے اور فیصلہ پوری دنیا میں نشر کرتے ہوئے بنگلہ دیش میں زندہ کرداروں کو انٹرپول کے ذریعے پاکستان لانے کی کوشش کی جائے۔ حسینہ واجد کے اس بہیمانہ اقدام سے ایک اور چیز واضح ہوتی نظر آتی ہے کہ بنگلہ دیش جس کو یورپی یونین کافی عرصے سے ٹیکسٹائل انڈسٹری میں خصوصی رعایت دے رہی تھی اور پچھلے پندرہ سال سے بنگلہ دیش کی معیشت انتہائی مضبوط ہوئی حتی کہ لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد،گجرات اور کراچی کے چھوٹے بڑے صنعت کار پاکستان میں اپنی انڈسٹری بند کرکے بنگلہ دیش میں جا بسے اس لیے کہ بنگلہ دیش کو پوری دنیا کی عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل تھی۔ آج ملاّ قادر کی شہادت کے دن اچانک ہی پاکستان کو یورپین یونین کی طرف سے ’’جی پلس ‘‘ اجازت نامہ ملنا اس بات کا غماز ہے کہ انسانی حقوق کو بنیاد بنا کر مغربی ممالک اب بنگلہ دیش کو معاشی طور پر بلاک کر دیں گے۔ وگرنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ مغربی ممالک اور امریکہ بیک وقت پاکستان اور بنگلہ دیش کو اپنی منڈیوں تک آزادانہ رسائی دے؟کچھ بھی ہو حالات اب بنگلہ دیش میں کنٹرول نہیں رہیں گے اور ملاّ قادر کی شہادت مشرقی پاکستان کی واپسی کی طرف پہلا قدم ثابت ہوگا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus