×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ہماری قومی ثقافت پر عرب و عجم کے سائے
Dated: 17-Dec-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com آج سے کچھ سال پہلے تک یہ عالم تھا کہ ایک پاکستانی عربی میں لکھا ہوا کاغذ کا ٹکڑا اٹھا کر عقیدت سے آنکھوں کو لگا لیتا تھا قطع نظر اس کے اس کاغذ کے ٹکڑے پر کوئی نظم لکھی یا اشعار۔ مشہور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ پاکستانی سے بوڑھے میاں بیوی حج کے لیے گئے وہاں ان کے ہوٹل کے کمرے کے ساتھ کسی عرب ملک کے ایک میاں بیوی بھی اقامت پذیر تھے اور پوری رات وہ آپس میں اونچی اونچی آواز میں لڑتے رہے جبکہ معصوم پاکستانی دیہاتی جوڑا یہ سمجھتا رہا کہ ساتھ والے کمرے میں پوری رات تلاوت ہوتی رہی ہے۔ اسی طرح ہماری پوری تاریخ اپنے واقعات سے بھری پڑی ہے حتیٰ کہ ہماری شاعری، ہمارا فلسفہ اور ہمارے ناول بھی اپنی علاقائی ثقافت کو بھلا کر عربوں کو مدنظر رکھ کر لکھے جاتے رہے۔ آج سے چند سال پہلے میں نے اپنے ایک کالم میں عربوں کی ’’موناپلی‘‘ کے موضوع پر لکھا تو اس پر بے شمار تنقیدی فیڈ بیک دیکھنے کوملی اور کچھ دوستوں نے کہا کہ صرف نظامی صاحب کی آزاد صحافت کا مزاج ہے کہ اس حساس موضوع پر آپ لکھ رہے ہیں مگر پچھلے چند سالوں میں حالات و واقعات اس تواتر سے نہ صرف مشرق وسطی میں بدلے بلکہ ایشیا اور خصوصاًسائوتھ ایشیا کے عوام کی نہ صرف سوچ بدلی بلکہ ان کی ترجیحات بھی بدلیں ۔اپنوں کو پس پشت ڈال کر عربوں کے لیے قربانیاں دینے کی رسم کچھ نئی بھی نہیں ہے صرف پچھلے ایک سو سال کے دوران برصغیر کے مسلمانوں نے نہ صرف عربوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی بلکہ ان کی صحیح یا غلط ہر تحریک میں ان کا ساتھ دیا۔ جس طرح تحریکِ خلافت کو برصغیر میں بے شمار پذیرائی حاصل ہوئی اور قیامِ پاکستان کے بعد وجود میں آنے والی مشرقِ وسطیٰ کی تمام عرب ریاستوں کو نہ صرف مکمل پاکستانی مالی اور عملی سپورٹ حاصل رہی بلکہ پاکستان کے محنت کش عوام نے سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین اور متحدہ عرب امارات کی تعمیر و ترقی میں اپنا فرض جانتے ہوئے جانفشانی سے حصہ لیا۔ وگرنہ ساحلی پٹیوں پرآباد یہ قبائلی بدو خود اس قابل نہ تھے کہ مچھلیاں پکڑنے اور قزاقی کرنے کے علاوہ انہیں کوئی ہنر آتا ہو۔ 70 کے عشرے کے بعد زیر زمین تیل کے ذخائر دریافت ہونے لگے اور پھر پاکستانی محنت اور ٹیکنالوجی اور ہنرمندی آج عربوں کو دنیا بھر میں نہ صرف آزاد خودمختار بلکہ امیر اور کامیاب ریاستیں بنا دیا ہے۔ خانہ کعبہ پہ قبضے کا سانحہ ہو یا اردن میں خانہ جنگی کو کنٹرول کرنا ہو یا اسرائیلی جارحیت ہو پاکستانیوں نے ہمیشہ اپنے عرب بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہے اور بعض دفعہ تو شاہ سے بڑھ کر شاہ سے زیادہ وفاداری کا مقولہ صادق آتا ہے۔ آج مصر، سعودی عرب، دوبئی اور ابوظہبی اور کویت کے حکمران اسرائیل کے ساتھ پیار محبت کی پینگیں بڑھاتے ہوئے نظر آتے ہیں خاص طور پر پچھلے دو ماہ میں مشرق وسطیٰ کی خارجہ پالیسی180کے زاویے پر تبدیل ہوئی ہے۔ کل کا عرب اتحاد آج عرب اسرائیل اتحاد میں تبدیل ہوچکا ہے اور ہم پاکستانی بس پرانی روایات اور بوسیدہ مفروضوں سے چمٹے ہوئے ہیں۔ آج بھی ایک اسرائیلی عربوں کی بجائے ایک پاکستانی کو اپنا دشمن سمجھتا ہے۔ ہماری اسرائیلی دشمنی کا یہ عالم ہے کہ ہم نے اپنے پاسپورٹ پر کندہ کر دیا کہ یہ پاسپورٹ اسرائیل کے سوائے پوری دنیا کے لیے ویلیڈ ہے۔ برصغیر میں بستے ہوئے ہمارے آبائواجداداور ہمارے اسلاف نے اور ہمارے تاریخ دانوں نے تاریخ بتاتے ہوئے ہمیشہ ہمارے ساتھ متعصبانہ رویہ رکھا۔ ہمیں ہمارے خطے کی تاریخ بتانے اور پڑھانے کی بجائے عربوں کی تاریخ پڑھائی اور سمجھائی جاتی رہی ایک عام فہم پاکستانی کو آج صرف یہ پتہ ہے کہ طارق بن زیاد، حجاج بن یوسف، محمد بن قاسم، غوری، غزنوی اور مغل حکمران ظہیر الدین بابر، تیمور، اکبر ، اورنگ زیب عالمگیر اور محمد شاہ رنگیلا ہمارے قومی ہیرو ہیں اور جن لوگوں نے اسلام ایک آفاقی دین کے طور پر قبول کیا ان کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنی علاقائی تہذیب اور ثقافت، رسم و رواج کو بھول کر عرب رسم و رواج کو اپنائیں حتیٰ کہ بچوں اور بچیوں کے نام عربی میں رکھنے کی جبراًروایت ڈالی گئی۔ قارئین کرام جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں گے تو آپ یقینا سوچ رہے ہوں گے کہ راقم کو کوئی خاص کدورت یا عربوں سے عناد ہے۔ نہیں یہ وجہ نہیں دراصل ایک نیشنلسٹ پاکستانی ہوں میں اسلام کو اپنا دین اور پاکستان کو اپنی جان مانتا ہوں۔ مجھے پاکستان کے مفادات کے خلاف اٹھنے والی ہر سازش، تحریک اور آواز کو دبانا ہوگا مجھے اس بات سے غرض ہے کہ وہ کون سی قوتیں ہیں جو گوادر پراجیکٹ جیسا منصوبہ جو پاکستان کی شہ رگ ہے اس کے خلاف ہے۔ آج دوبئی کے حکمران گوادر منصوبہ اس لیے مکمل نہیں ہونے دے رہے کہ اس منصوبے کے مکمل ہونے سے متحدہ عرب امارات کی روانقیں مانند پڑ جائیں گی ۔یہی وجہ ہے کہ بلوچستان سے چینی انجینئرز کو قتل اور اغوا کیا جا رہا ہے اور چند شرپسند قبائلی سرداروں کی اولادوں کو اسلحہ اور ڈالر دیئے جا رہے ہیں تاکہ وہ پاکستان میں عدم استحکام پیدا کریں۔ آج لاکھوں پاکستانی ابوظہبی، دوبئی، شارجہ، مسقط، امان، کویت، قطر، بحرین، راس الخیمہ اور سعودی عرب میں جانوروں سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان لاکھوں پاکستانیوں کے پاس کوئی مستقل سٹیٹس تک نہیں ہے۔ ہزاروں پاکستانیوں کی سال ہا سال کی تنخواہیں مقامی کفیلوں نے ہڑپ کر رکھی ہیں انسانی حقوق، لیبر قوانین اور خواتین کے عالمی حقوق کو ان ممالک میں حقارت سے ٹھکرا دیا جاتا ہے ۔ فکرانگیز اور خطرناک بات یہ ہے پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے کرپٹ سیاست دان، بیوروکریٹس اور ملٹری ڈکٹیٹر اپنے اپنے وطن سے عوام الناس کا خون نچوڑ کر اپنا ناجائز پیسہ ان خلیجی ممالک میں ٹرانسفر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے آدھے کرپٹ سیاست دان اور سرمایہ د اروں کا آدھا سرمایہ ان عرب خلیجی ریاستوں میں جمع یا انویسٹ کیا ہوا ہے اور انہی اقسام کی گندی مچھلیوں کی ایلیٹ کلاس میں سے بقیہ آدھے کا پیسہ سعودی عرب میں انویسٹ ہے جبکہ مشرق وسطیٰ ،خلیجی ممالک اور سعودی عرب پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے لیے اس لحاظ سے بھی کرب کا باعث ہے کہ ہمارے اکثر مفرور ملزمان جو قتل، اغوا برائے تاوان،بھتہ مافیا، انڈر ورلڈ مافیا اور کرپشن میں ملوث مفرور ہوتے ہیں ان کو جائے پناہ انہی عرب ممالک میں ملتی ہے۔ ایک دانشور دوست کے مطابق جرائم پیشہ افراد کے لیے عرب ممالک ایک جنت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کے مفرور ملزمان کی اکثریت متحدہ عرب امارات میں شاہانہ زندگی بسر کر رہی ہے اور اگر اس سلسلے میں حکومت پاکستان کی طرف سے مفرور ملزمان کی واپسی کی درخواست کی جائے تو عرب شیوخ اسے درخود اعتنا نہیں سمجھتے اور یہ بات اب روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ تعصب کو ہوا دے کر ایک ایسی نہ ختم ہونے والی کشیدگی پیدا کی گئی ہے جس کی وجہ سے پاکستان آج ایک انارکی مملکت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ شیعہ اور سنی، دیوبند اور وہابی یہ سب وہ قباحتیں ہیں جن سے پاکستان کا کوئی بھی تعلق نہیں یہ عربوں اور ایرانیوں کے گھروں کی لڑائی ہے جسے وہ ہمارے ملک کو جنگ کا میدان بنا کر لڑرہے ہیں۔دراصل ہمارے مجرموں کے لیے یہ عرب ریاستیں علاقہ غیر کی سی حیثیت اختیار کر چکی ہیں اور یہ خائف ہیں کہ ایک مضبوط نیوکلیئر پاکستان جس کا نظام عوامی اور جمہوری ہو وہ ان عرب ممالک کے مفاد کے لیے نہیں ہے۔ پتہ نہیں یہ نادان عرب دوست پاکستان سے اور کیاچاہتے ہیں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus