×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سٹون ایج
Dated: 29-Jun-2008
آج کا کالم لکھنے کے لیے قلم اٹھایا تو پہلا لفظ لکھنے سے قبل بجلی چلی گئی ٹیوب لائٹس انرجی سیورز اور فانوس لگے کمرے میں میں صرف ایک لائٹ آن رکھتا ہوں بجلی جاتی ہے تو ٹیبل پر ہمہ وقت موم بتی اور ماچس ہنگامی لائٹ کا کام کرتی ہے۔ کالم اسی موم بتی کی روشنی میں لکھنا شروع کیا کیونکہ ہنگامی لائٹ بھی موقع پر جواب دے گئی۔جبکہ میں خود پسینے میں شرابور ہوں لیکن آج کا کام آج کرنے کی دھن ہے۔ اگر واپڈا والوں کے آسرے پر رہوں تو شاید کالم مکمل کرنے میں کئی گھنٹے لگ جائیں کیونکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ بے تحاشا اور بغیر شیڈول کے کی جاتی ہے۔ آج جون کی 28 تاریخ ہے مرکز میں ہماری حکومت بنے تین ماہ ہونے کو ہیں۔ گذشتہ حکومت کی اگر کوئی پالیسی ہم نے پوری شدومد سے اپنائی ہے تو وہ لوڈشیڈنگ ہے۔ جس کا لامتناہی سلسلہ نظر آتا ہے گذشتہ آٹھ سا میں مشرف حکومت نے اور کچھ کیا یا نہیں کیا لیکن یہاں ہمیں روزانہ تین میگاواٹ بجلی کی ضرورت تھی اور پچھلے نو سالوں میں ہمیں کم از کم 9855 میگاواٹ نئی بجلی پیدا کرنی تھی وہاں گذشتہ حکومت ایک میگاواٹ بجلی بھی پیدا کرنے میں ناکام رہی۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی بات چھوڑیں دنیا کے پسماندہ ممالک میں بھی بجلی کی فراہمی کا تسلسل نہیں ٹوٹتا ہمارے ہاں یہ جڑتا ہی نہیں ہے۔ میں موم بتی سامنے رکھ کر لکھ رہا ہوں تو خود کو پتھر کے زمانے میں بیٹھا محسوس کرتا رہا ہوں ہر چیز ویسی ہی ہے ہر طرف اندھیرا ہے گلیوں میں، بازاروں میں پورا شہر تاریکی میں ڈوبا ہواہے پتھر کے دور کا نظارہ اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے۔ اس وقت دیے تھے، زیتون، سرسوں، سورج مکھی کے تیل کے دیے آج موم بتی، لالٹین ہے یہ بھی دیے کی ایک شکل ہے۔ بعض لوگ ایمرجنسی لائٹس استعمال کرتے ہیں یہ ذرا جدید قسم کی دریافت ہے لیکن سوچ کو یہ بھی پتھر کے دور سے نکلنے نہیں دیتی۔ دنیا کہاں سے کہاں چلی گئی۔ ہاتھ کی گھڑی اور موبائل فونز تک میں کمپیوٹر کی صورت میں پوری دنیا سما گئی ہے اور اس وقت یہ دنیا آئی ٹی کی بدولت ایک گلوبل ولیج بن گئی ہے لیکن ہم بجلی ہی نہیں بہت سے دیگر معاملات میں بھی ایسے پست ہیں کہ بعض حالات میں پتھر کے دور کے لوگ بھی ہم سے بہتر ہوتے ہوں گے۔ کم از کم ان میں ایثار،محبت اور بھائی چارہ ہوتا ہوگا کوئی بھوکا نہیں سوتا ہوگا ہمارے ہاں تو بھوک کے ہاتھوں تنگ آ کر خودکشیاں کرنے کا رواج بڑھ رہا ہے۔ہمارا معاشرہ کسی کی جان لینے اور دینے کے معاملہ میں بالکل پرواہ نہیں کرتا۔ ہم اکیسویں صدی کے باسی ہیں۔ اسے مہذب دور گردانا جاتا ہے ہم سپرپاور کے کہنے پر پڑوسی ملک کو تباہ و برباد اور ملیامیٹ کرنے میں ہراول دستہ ثابت ہوئے۔خود اپنے ملک میں فوج کے ہاتھوں ہزاروں افراد کو تہ تیغ کرا دیا۔ نتیجے میں فوجی جوانوں اور افسروں کو ذبح تک کر دیا گیا۔ مسجد میں بچوں کو بارود سے پگھلا کر رکھ دیا گیا۔ لوگ آج تک اپنے پیاروں کو ڈھونڈ رہے ہیں بعض کو ڈالروں کے عوض امریکہ کے حوالے کیا گیا۔ امریکہ انہیں بے گناہ قرار دے کر واپس بھجوا رہا ہے۔ نیب کی گردن پر انگوٹھا رکھ کر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور سینیٹر آصف علی زرداری،مسلم لیگ (ن) کے قائدمیاں نواز شریف،میاں شہباز شریف سمیت بے شمار سیاسی مخالفین کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ان کے خلاف کرپشن کے نام نہاد کیسز بنائے اور ثابت کرنے میں اربوں روپے پھونک دیئے گئے اور کسی کیس میں کچھ بھی نہ ثابت کیا جا سکا۔ 2002 الیکشن کی بات کریں تو مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا گیا جو لوگ انتخابات سے قبل قابو نہ آ سکے ان کو بعد میں خرید لیا گیا۔ ریفرنڈم کے نتائج کا پوری دنیا میں مذاق اڑایا گیا مگر ہمارے حکمرانوں کے ماتھے پر جوں تک نہ رینگی۔ پتھر کے دور میں جو سب کو پچھاڑ دیتا وہی بادشاہ اور حاکم قرار پاتا ہے۔ آج کیا فرق ہے فوج کی طاقت سے ایوب نے11 سال ضیاء الحق نے ساڑھے گیارہ سال اور مشرف کا 9کا ہندسہ پورا ہو چکا ہے اور مزید سفر جاری ہے۔ایک طرف بھارت1960کے سندھ طاس معاہدے کے مطابق دریائے راوی،ستلج اور بیاس کو خشک کر چکا ہے دوسری طرف ناجائزہ طور پر سندھ، جہلم اور دریائے چناب پر دھڑا دھڑ پاورپراجیکٹس اور ڈیموں کی تعمیر سے ان دریائوں کے پانی کو بھی استعمال کرکے پاکستان کو بنجر بنانے پر تلا ہوا ہے۔ گویا اس نے بھی پاکستان کو پتھر کے دور میں دھکیلنے کے مکمل انتظامات کر لیے ہیں اور ہمارے حکمرانوں اس سلسلہ میں بھرپور تعاون کر رہا ہے۔ تنخواہ دار طبقہ دال خریدنے کے قابل ہو جائے تو گھی نہیں ملتا۔ آٹا دستیاب نہیں، بچوں کے کپڑے خریدے تو فیس اور قلم و کتاب کے لیے پیسے نہیں بچتے۔ بلب اور پنکھا ایک ساتھ چلائے تو بل کا پھندہ گلے کو آ جاتا ہے اور اس میں روزبروز اضافہ مزید مصیبت اور عذاب کا باعث بنتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت ہم ایشیائن ممالک اور دنیا بھر سے U.P.S اور جنریٹروں کی خریداری کی مد میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ رقم ملک سے باہر بھجوا رہے ہیں جو کہ ہمارے زرے مبادلہ کے ذخائر کاایک بڑا حصہ ہے۔ بجلی کے متبادل سسٹم کو پاکستان میں متعارف کرانا بہت ضروری ہے دنیا کے بیشتر ممالک میں جن میں برازیل بھی شامل ہے گنے اور دیگر اجناس سے Bio،ڈیزل اور توانائی حاصل کی جا رہی ہے جو کہ ریگولر ڈیزل اور پٹرول سے نسبتاً سستی پڑتی ہے۔ مگر پاکستان کی موجودہ وزارت بجلی و پانی کو شاید ابھی فرصت نہیں یا پھر وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے لوگ ابھی لب جاں ہیں ان کے مرنے کے بعد ان کے مزاروں پر قمقمے روشن کریں گے۔ بقول شاعر: کی اس نے میرے قتل کے بعد جفا سے توبہ ہائے اس زودپشیماں کا پشیماں ہونا نائن الیون کے موقع پر امریکی نائب وزیرخارجہ رچرڈ آرمٹیج نے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل محمود کو کہا(بقول مشرف)اپنے صدر کو بتا دو ہمارا ساتھ دو ورنہ پتھر کے دور میں پہنچا دیا جائے گا۔ کمانڈو صدر جو بش کے پیغام پر پہلے ہی گھٹنے ٹیک چکے تھے ایک تیسرے درجے کے امریکی عہدیدار کے پیغام پر ان کے پائوں میں لوٹ پھوٹ ہو گئے۔ خدا بہتر جانتا ہے کہ آرمٹیج نے ایسا پیغام دیا بھی کہ نہیں یہ کس کے ذہن کی اختراع تھی باالفرض ایسا پیغام ملا بھی تھا تو مشرف اصول موقف کا مظاہرہ کرتے تو کیا ہوتا۔ ہمیں پتھر کے دورمیں دھکیل دیا جاتا جو یقینا آج کے دورے سے بُرا نہ ہوتا لیکن ہم دنیا میں آج ایک خوددار قوم کی حیثیت سے کم از کم پتھر کے دور میں ہی سہی مگر عزت و نفس کے ساتھ زندہ ہوتے۔سیانے کہہ گئے ہیں کہ کلو پیاز بھی کھائے اور سو جوتے بھی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus