×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
الطاف حسین کی بوکھلاہٹ اورسیاسی طوائف الملوکی
Dated: 07-Jan-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com کیا ہم ایک قوم ہیں اور بحیثیت ایک قوم ہونے کے کیا ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا ادراک ہے یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب پاکستانی عوام کے پاس یقینا نفی میں ہو گا یا خاص گروپ مذہبی اور سیاسی دھرے جنہوںنے قوم کو تقسیم کرکے رکھ دیاہے کہیں مذہب کے نام پر، کہیں لسانیت کے نام پر، کہیں فرقہ بندیوں کے نام پر اور کہیں نظام کے نام پر۔ دراصل سوال کرنے والے بھی کنفیوزڈ ہیں اور جواب دینے والے بھی۔ پاکستان اپنے قیام کے صرف 23سال بعد اپنے ایک حصے سے محروم کر دیا گیا یقینا اس میں دشمنوں کی چالیں کارگر ثابت ہوئیں مگر کیا یہ حقیقت نہیں کہ اپنے دل کو دو لخت کرنے میں ہمارا اپنا بھی ہاتھ ہے اگر پہلے اور ابتدائی سالوں میں ہم دو قومی نظریئے کو اپنے قیام کی اساس بنا لیتے اور اس پر قائم رہتے تو ہمیں سقوطِ ڈھاکہ کا سانحہ یقینا نہ دیکھنا پڑتا۔سقوطِ ڈھاکہ تک مملکت عزیز 3مارشل لائوں کے زیر عتاب آ چکا تھا اور نہ صرف طالح آزمائوں نے بلکہ سیاسی طوائف الملوکی نے اس نوزائیدہ مملکت کو جڑ ہی نہ پکڑنے دی ۔ قوم ابھی بمشکل سانحۂ مشرقی پاکستان کے زخم مندمل نہ کرنے پائی تھی کہ بم دھماکوں اور بارود کی فضا نے ہمارے رہے سہے اوسان خطا کر دیئے اس سے پہلے آمر ضیاء الحق کے دور میں ملنے والے تحفوں میں سے ایک تحفہ ایم کیو ایم کا بھی ہے۔ آمر نے اپنے اقتدار کی طوالت کے لیے ایک ایسا فتنہ چھوڑا کہ جس کے نتائج اب کھل کر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں مگر نوازشریف کے پہلے دورِ حکومت 1992ء میں جب کراچی میں آپریشن کلین اپ ہوا جس میں سو ل حکومت کی بجائے عسکری قیادت کی زیادہ مرضی شامل تھی اور اس وقت نوازشریف نے بھی پیپلزپارٹی کی طاقت کو منقسم کرنے کے لیے سندھ میں جیتی ہوئی پیپلزپارٹی کو سپر سیڈ کرکے اقتدار جام کے حوالے کر دیا اور ایم کیو ایم کو کھلی چھٹی دے دی ۔ عسکری آپریشن جاری تھا کہ متحدہ کے قائداطاف حسین اپنے متعدد ساتھیوں کے ساتھ ملک سے باعزت اور محفوظ راستے سے فرار کرا دیئے گئے۔ پیپلزپارٹی کے دوسرے دور میں جنرل نصیر اللہ بابر نے پھر کراچی آپریشن کو شروع کیا اگر اس وقت یہ مفرور قیادت پاکستان میں موجود ہوتی تو یہ فتنہ اپنے منطقی انجام کو ضرور پہنچتا۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ پاکستان میں ہجرت کرکے آنے والے لوگ نہ صرف محب وطن تھے بلکہ ان کی اولادیں اور نسلیں آج پاکستان کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے ایک مضبوط وفاق قائم رکھنے کے لیے پاکستان کے لیے ایک ایسا قومی لباس اور ایک ایسی زبان تجویز کی اور پسند فرمائی جس کا اس خطے سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں بنتا تھا۔ پنجاب میں پنجابی، سندھ میں سندھی، بلوچستان میں بلوچی، کے پی کے میں پشتو اور کشمیر میں کشمیری جبکہ سابقہ مشرقی پاکستان میں بنگالی بولی اور پڑھی جاتی تھی مگر ہمارے پاکستان کے عوام نے قائد کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ان دونوں چیزوں کو اپنا لیا حتیٰ کہ پنجاب میں بسنے والے لاکھوں کروڑوں مہاجرین جو نہ تو اپنے آپ کو مہاجر کہلاتے ہیں مگر انہوں نے پنجابی کو اپنی علاقائی زبان کے طور پر تسلیم کر لیا بلکہ ان کی اولادیں بالکل اسی طرح جسے اندرون لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، فیصل آباد مقامی پنجابی بولیاں بولتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ کراچی میں جا بسنے والے ایک مخصوص گروپ نے سندھی میں رچنے بسنے کی بجائے لکھنؤ اور احمد آباد کی زبان کو سینے سے لگائے رکھا۔ پاکستان کے اندرونی سیاسی خلفشار اور طبقاتی نہ ہمواری نے یقینا کچھ ایسے نشان ثبت کیے ہیں کہ آج فاٹا کے عوام اور بلوچستان میں ایک مخصوص گروہ جو بے شک اقلیت میں ہیں مگر بیرونی عسکری اور مالی امداد ملنے کی بناپر اس بچے کھچے پاکستان کو تختہ مشق بنانے پر تلے ہیں۔ خود الطاف بھائی بھی برطانیہ سے بھارت جا کر جوشِ خطابت میں جو کچھ پاکستان کے متعلق کہہ آئے ہیں ’’کہ خدانخواستہ پاکستان کا قیام ایک بہت بڑی غلطی تھی‘‘ اس کے بعد تو کوئی گنجائش نہ رہ جاتی تھی کہ متحدہ قومی موومنٹ کی وطن پرست قیادت اطاف بھائی سے جان چھڑا لیتی۔پاکستان کے موجودہ حالات میں الطاف بھائی کے علیحدہ صوبہ کے قیام اور دوسری صورت میں علیحدہ ملک کے قیام کا مطالبہ اس بات کا غماز ہے کہ وہ وجوہات تلاش کی جائیں جو اس بیان کی محرکات ہو سکتی ہیں۔-1 ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل سے پیدا ہونے والی صورتِ حال اور سکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقات نے الطاف بھائی کو براہِ راست شامل تفتیش کرنے اور ان کے قریبی رفقاء کو زیر حراست لینا اور ان کے برطانیہ چھوڑنے پر پابندی اور اسی کیس کے دوران تفتیش کا رخ یکدم منی لانڈرنگ کی طرف مڑنا اور الطاف بھائی کے لندن والی رہائش گاہ سے برآمد ہونے والی رقوم اور ثبوت جس کے بعد الطاف بھائی کے ڈپریشن کا یہ عالم تھا کہ موصوف نے امریکہ اور برطانیہ کی قیادتوں کو للکارنا اور دھمکانا شروع کر دیا ۔ اس سلسلے میں الطاف بھائی کے موجودہ بیان سے دو روز قبل رابطہ کمیٹی کی جانب سے لکھا گیا برطانوی قیادت کو خط بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔-2 پچھلے چند ماہ سے ایم کیو ایم اندرونی خلفشار کا شکار ہے اور تنظیم کے اندر ٹوٹ پھوٹ جس کے نتیجے میں پارٹی کے سینئر رہنمائوں نے بشمول سابقہ ناظم کراچی مصطفیٰ کمال و دیگر نے الطاف حسین کے چنگل سے بھاگ کر دوبئی ،کواللمپور اور سنگاپور میں پناہیں تلاش کر لی ہیں اور مزید انتشار تیاری کے آخری مراحل میں ہے۔ -3 گذشتہ الیکشن میں کراچی کے دو حلقوں میں نادرہ کی نشاندہی کے بعد لاکھوں کی تعداد میں ووٹوں کو مسترد کیا گیا اور دوبارہ انتخابات کے نتیجے میں متحدہ کے حریف امیدوار کامیاب ہوئے۔ ان حالات میں پارٹی قیادت کا رہا سہا مورال بھی بہہ گیا۔ -4 باوثوق ذرائع سے اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پچھلے 6سال سے جو کہ پیپلزپارٹی کی حلیف رہی جس میں آخری 3سال جبراً حلیف بنا کے رکھا گیا کیونکہ رحمان ملک نے سری لنکا سے آنے والی فلائیٹ سے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے دو ممکنہ قاتل ایئرپورٹ سے ہی دبوچ لیے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے 3سال ایم کیو ایم پیپلزپارٹی اور زرداری کے نعرے مارتی رہی۔اس ساری صورتِ حال سے یہ بات واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ ایم کیو ایم جس کا حال اقتدار کے بغیر ’’ماہی بے آب کی طرح ہے‘‘ اور حالات بتاتے ہیں کہ آئندہ چند روز میں لندن پولیس اور عدالتیں کوئی بریکنگ نیوز دینا چاہ رہی ہیں جس کی بُو سونگھتے ہی الطاف بھائی نے موجودہ بلدیاتی نظام آرڈیننس اور پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کو وجہ بنا کر اپنی گھبراہٹ اور سرائیمگی کا اظہار کیا ہے ۔-5 الطاف بھائی کے بوکھلا جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کراچی میں جاری حالیہ آپریشن کے اب تک جو نتائج سامنے آئیں ہیں اس کے مطابق ایم کیو ایم کے ہزاروں افراد پر نئے مقدمات بن رہے ہیں اور سینکڑوں فرنٹ ورکرزگرفتار ہو چکے ہیںاور اس کے علاوہ ایم کیو ایم میں موجود دھڑے بندی جس میںایک دھڑا ایم کیو ایم مائنس الطاف بھائی آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے اور ان کے مطابق پارٹی کی نئی لیڈرشپ کے لیے پرویز مشرف کا نام پرپوز کیا جا رہا ہے اور قرین قیاس یہ ہے کہ اگر ایسا ہو گیا تو ایم کیو ایم کو پاکستان کی فوجی قیادت کی حمایت بھی حاصل ہو جائے گی جس کے بعد ایم کیو ایم کوقومی دھارے میں شامل کیے جانے کا قویٰ امکان ہے اور مستقبل میں پاکستان کی موجودہ حکومت کے ناکام ہونے کے بعد نئی ایم کیو ایم ،عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری اور پی ایم ایل کیو پر مشتمل قومی حکومت تشکیل دی جا سکتی ہے۔الطاف بھائی کا موجودہ بیان ہی بوکھلاہٹ کی نشاندہی کرتا ہے ۔ لیکن پاکستان کی 20کروڑ عوام کیا الطاف حسین کے بیان اور مطالبات کو محض ایک دھمکی سمجھتی رہے گی یا پہلی دفعہ ایک قوم ہونے کا ثبوت پیش کرے گی تاکہ آئندہ کسی کے دل میں وطن سے غداری کا تصور بھی پیدا نہ ہو سکے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus