×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بجلی پانی کا مسئلہ اور کالا باغ ڈیم
Dated: 01-Jul-2009
ہمارے وزیراعظم سمیت دنیا کے تجزیہ نگار، سیاسی اکابرین اور ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ تیسری عالمگیر جنگ پانی کے تنازعات پر ہو گی۔ آج عراق،ایران، ترکی اور شام کے درمیان پانی کا تنازع موجود ہے۔ نہر سویز اردن اورمصر کے مابین تعلقات کشیدہ کیے ہوئے ہے شمالی اور جنوبی امریکہ کے درمیان پاناماکینال کا تنازع کسی بھی وقت شعلہ جوالا بن سکتا ہے۔ برصغیر میں بھارت اور پاکستان کے مابین دریائوں کی تقسیم اور پانی کا تنازع دونوں ممالک کے کشیدہ تعلقات کی ایک وجہ ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت ایوب خان نے دریائے راوی، ستلج اور بیاس بھارت کے ہاتھ بیچ دیئے جس سے پاکستان کی اور خصوصی طور پر پنجاب کی زمینیں تقریبا ً بنجر ہونے کو ہیں۔دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے تنابع مقبوضہ کشمیر میں ہیں جن پر بھارت 62ڈیم تعمیر کر رہا ہے اور اس کے لیے بھارت کی کوئی ایک بھی سیاسی پارٹی ملکی منصوبوں سے اختلاف نہیں رکھتی جبکہ اس وقت بھارت میں علیحدگی پسند تحریکیں بھی موجود ہیں۔ڈیموں کی تعمیر کے مسئلہ پر بھارت کو کہیں سے بھی مخالفت کی آواز نہیں آ رہی۔بھارت کے اس ڈیم بنانے کے اخلاق سوز اقدامات سے پاکستان کی زمینیں بنجر ہو رہی ہیں۔ نتیجے میں دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ایٹمی جنگ کے خدشات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ ان حالات میں پاکستان کو آئندہ نسلوں کی بقا کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیموں کی ضرورت ہے۔ ہمارے معاشی ماہرین جہاں گندم اور چاول کے ذخائر کے لیے ڈیزاسٹرمینجمنٹ کی طرز پر پلاننگ کرتے ہیں وہیں انہیں پانی کی حقیقت کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ خصوصی طور پر ان دنوں جب پورا ملک بجلی کی کمی کی وجہ سے تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ معیشت کی زبوں حالی اور زراعت کی بدحالی کی وجہ آج کے اس ہائی ٹیک دور میں بجلی کا نہ ہونا ہے۔ شہروں میں صنعت کار، دیہات میں زمیندار اپنے کارخانے اور ٹیوب ویل بند ہونے کی وجہ سے جذبوں اور ترنگ کے ہوتے ہوئے بھی پریشان بیٹھے ہیں۔ کیونکہ صرف جذبے سے نہیں بلکہ عمل اور جذبہ کو باہم ملا کر ہی مثبت اور چشم کشا نتائج حاصل کیا جا سکتے ہیں۔ پانی اور بجلی زندگی کے ہر شعبے کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔ ان دونوں کے بغیر انسانی زندگی کا تصور بھی ناممکن ہے۔ خدائے بزرگ و برتر نے ہمین ایک ایسی قدرتی لوکیشن عطا فرمائی ہے کہ دونوں ضرورتیں بیک وقت ایک منصوبے سے پوری ہو سکتی ہیں لیکن بدقسمتی سے اس اہم کالاباغ ڈیم منصوبے کو ایک سازش کے تحت متنازعہ بنا دیا گیا۔ اب تک اس کی فزیبلٹی، ایگواپمنٹ،لیبارٹریوں کے قیاماور دیگر متعلقہ معاملات کے علاوہ کمیشنوںکی ادائیگی پر تقریبا80ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ اس کی تعمیر آسان تر اور جلد ہو سکتی ہے اور ہونی بھی چاہیے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے جہاں سندھ سمیت تینوں صوبوں کی پانی کی ضروریات پوری ہوں گی وہیں بجلی فی یونٹ 25پیسے پڑے گی جبکہ آج واپڈا کو تھرمل سسٹم سے 6سے 8روپے یونٹ پڑ رہی ہے۔ ان حالات میںپنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن جو صوبائی سطح پر حکومتی پارٹنر ہیں اور سرحدمیں پاکستان پیپلز پارٹی کی کولیشن پارٹنر شپ اے این پی کے ساتھ مضبوطی سے جڑی ہوئی ہے۔اسی طرح سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی اکثریتی حکومت ایم کیو ایم کے ساتھ چل رہی ہے اور ان تینوں صوبوں میں باہمی رضامندی اور خوش اسلوبی کے ساتھ معاملات کو مقامی سطحوں پر سلجھایا جا سکتا ہے۔لیکن جب بات ملکی مفادات کی ہو اس ملک کی اساس کی ہو اور فیڈریشن کی بات کریں تو ہمیں اپنا کردار ضرور نبھانا ہوگا اور پاکستان پیپلز پارٹی کو جو کہ قربانیاں دینے کی عظیم روایت رکھتی ہے ایک دفعہ پھر اس فیڈریشن کو بچانے کے لیے جس کی زنجیر شہید بے نظیر بھٹو تھیں ہمیں قربانیوں کا سلسلہ جاری رکھنا ہوگا اور کالاباغ ڈیم کے منصوبے کو موخر کرنے کے بجائے بلھے شاہ کی سرزمین کو سرسبز رکھنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمارے سندھی بھائیوں کو بھی دل بڑا کرناہوگا۔ جو منصوبے ریاست کی مضبوطی کا باعث نہیں بنتے ان سے ریاستیں اور ریاستوں کی اساس کمزور ہوتے ہوتے زمین بوس ہو جایا کرتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پیپلز پارتی آئندہ انتخابات میں کامیابیوں اورکامرانیوں سے ہمکنار ہونا چاہتی ہے تو اسے کالاباغ ڈیم کی صورت میں شاید ایک قربانی اور دینا پڑے گی۔ وگرنہ جس طرح بنجر زمین کی کوکھ سے سبزہ اور اناج نہیں اگتا اسی طرح نفرت کے بیلٹ بکس سے ووٹ کا حصول بھی ممکن نہیں ہے۔ آج شہرں میں 12سے 16گھنٹے، دیہات میں 20گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ چاول کی فصل کو وافر مقدار میں پانی چاہیے لیکن آج ٹیوب ویل بند اور نہریں خشک ہیں جو کسان کو خودکش جیکٹیں پہننے پر مجبور کر دیں گی۔اس کا نشانہ کون بنے گا؟ اس سوال کا جواب بہت آسان ہے۔ شہروں میں احتجاج اور مظاہرے ہو رہے ہیں اور جگہ جگہ ٹائرجلا کر عوام اپنی نفرت اور غم و غصہ کا اظہار کر رہی ہیں۔ اور اس کے لیے کسی بھی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ اگر حالات ایسے ہی رہے تو پاکستان کی بہادر اور جری افواج سوات کے حالات پر شاید قابو پالیں مگر شہروں اور دیہات میں برپا ہونیوالی شورش پر قابو پانا ممکن نہیں رہے گا۔ اب عوام کو بہلانا مشکل ہے اس لیے ہنگامی اقدامات ناگزیر ہو گئے ہیں عوام کو وزراء کی سرخ چمکدار ٹائیوں کی نہیں اپنے بچوں کی روٹی روزی کے لیے بجلی اور پانی کی ضرورت ہے۔ حکمرانوں کے سنہری خواب دکھانے کے دن گزر گئے اب عمل کا وقت ہے۔ دنیا کے مہنگے ترین اور ترقی یافتہ ممالک میں تو ایک عام شہری جس کا گھرانہ پانچ افراد پر مشتمل ہو ماہانہ بجلی کا بل پاکستان روپوں کے مطابق تین چار ہزارروپے تک ادا کرتا ہے جبکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں پر فی کس سالانہ آمدنی ساڑھے چار سو ڈالر سے بھی کم ہے اور ایک مزور کی ماہانہ تنخواہ اب آ کر چھ ہزار روپے مقرر کی گئی ہے اس کے گھر کا بجلی،گیس اور پانی کا بل دس ہزار سے بھی تجاویز کر جاتا ہے۔ ہمارے ارباب اختیار کیا آئی ایم ایف کو یہ نہیں بتا سکتے کہ جس ملک کے مزور کی تنخواہ چھ ہزار روپے ہے وہ بجلی کا دس ہزار کا بل کیسے ادا کر سکتا ہے یا پھر یہ الگ بات ہے کہ آئی ایم ایف کے خون چوسنے والے کیڑے پاکستانیوں کی نسوں میں بہنے والے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لینا چاہتے ہین اور وہ نیوکلیئر پاکستان کو اس قدر کمزور اور لاغر کر دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے پائوں پر کھڑا ہو کر احتجاج بھی نہ کر سکے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus