×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
صوبوں کی تقسیم پر حقیقت پسندانہ رائے
Dated: 10-Jul-2009
آج پاکستان ایک نہیں کئی بحرانوں اور مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ کچھ مسائل سابق حکومت سے ورثے میں ملے، کچھ حکومت نے خود پیدا کیے اور کچھ سازشی عناصر حکومت کی پریشانیوں میں اضافہ کرنے کے لیے پیدا کرتے ہیں۔ آج فوج بھی حکومت کے شانہ بشانہ دہشت گردوں کے ساتھ برسرپیکار ہے، یہ وہ لوگ تھے جن کو پاکستان نے پناہ دی، عزت دی، گھر دیئے۔ اور پاکستان کا استحقام تک دائو پر لگا دیا ملک کے اندر ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر کی بھرمار ہو گئی اور اسلام کے نام پر پاکستان کو جذباتی طور پر بلیک میل کیا گیا۔اور اب جب پاکستان مشکلات میں گھرا ہوا ہے تو ان کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے اپنے ممالک کو سدھار جاتے لیکن ان لوگوں نے معصوم پاکستانیوں کو ورغلایا اور فوج کے سامنے لا کھڑا کیا۔ ایسے میں را، رام،خاد اور موساد کو بھی اپنا کھیل کھیلنے کا موقع ہاتھ آ گیا۔ سی آئی اے اور بلیک واٹرکی کارروائیاں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ خاد، را،رام، موساد، سی آئی اے اور بلیک واٹر کے ایجنٹوں کی پاکستان میں کارروائیاں اب ڈھکی چھپی نہیں رہ گئی ہیں۔ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بری طرح الجھا دیا گیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق اس جنگ میں پاکستان کا 40ارب ڈالر نقصان ہو چکا ہے جبکہ جنگ بدستور جاری ہے۔ ایک طرف دہشتگرد مارے جا رہے ہیں تو دوسری طرف پاک فوج جوان اور افسر بھی شہید ہو رہے ہیں۔ چند روز قبل اوکزئی میں فوجی ہیلی کاپٹر تباہ ہو گیا جس میں 42فوجی شہادت سے سرفراز ہوئے۔ یہ قوم و ملک کا بہت بڑا نقصان ہے۔ اس سے قبل ڈیڑھ سو کے لگ بھگ فوجی سوات آپریشن میں جام شہادت نوش فرما چکے ہیں۔ دہشت گردی کی جنگ کے ساتھ ساتھ وطن عزیز کو بجلی اور پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے پانی کی قلت کا الزام تو بھارت کے سر جاتا ہے بجلی کی قلت کی خالصتاً ذمہ دار حکومتیں ہیں۔ اگر مشرف حکومت نے آٹھ ساڑھے آٹھ سال میں ایک بھی میگاواٹ بجلی پیدا نہ کرکے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا تو بجلی اور پانی کی کمی کو دور کرنے والا کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا عظیم تر منصوبہ منسوخ کرنیو الوں نے بھی وطن دوستی کا ثبوت نہیں دیا۔ پٹرول کی قیمتیں بڑھانے سے بھی ایک بحران پیدا ہوتا دکھائی دیتا ہے میرے خیال میں ان سب کے ذمے دار وہ لوگ ہیں جو پارٹی چیئرمین اور صدر پاکستان آصف علی زرداری کو سب اچھا کی رپورٹ دیتے ہیں۔ ایسے موقع پر جب ارض مقدس پر خطرات کے بادل منڈلا رہے۔ ڈارون حملے جاری ہیں۔ خودکش دھماکوں اور بم حملوں کی روک تھام ہونے کو نہیں آ رہی، قومی اتحاد، یگانگت اور یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔ قوم کے ہر فرد کو اپنا کردار کرنا چاہیے اور حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے چاہئیں لیکن کچھ عاقبت نااندیش لوگ خصوصی مقاصد کی خاطر ارض وطن کی بنیادیں کھوکھلی کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ بحرانوں اورمسائل میں اصافہ کرنا چاہتے ہیں صرف پیپلز پارٹی کی حکومت کے لیے نہیں پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے لیے بھی۔ اب نیا شوشا پنجاب کی تقسیم کا چھوڑا گیا ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ بے وقت کی راگنی سے پنجاب کی تقسیم کے علمبردار کس کی خدمت کرنا چاہتے ہیں؟ جنوبی پنجاب کے مسائل کی بات کرتے ہیں لوگوں کو دور دراز سے صوبائی دارالحکومت آنا پڑتا ہے۔ محرومی کی بات کی جاتی ہے۔ مسائل ملک کے کس حصے میں نہیں ہیں۔ لاہور اور اس کے قریبی شہروں میں دودھ اور شہد کی نہریں رواں ہیں؟ گھی پانچ روپے کلو اور پٹرول تین روپے لٹر ہے؟ اور ان سہولیات سے جنوبی پنجاب والے محروم ہیں۔ ملتان سے لاہور کتنا دور ہے؟ کیا تفتان سے جتنا کوئٹہ دور ہے کیا لاہور اور ملتان کا اتنا فاصلہ ہے ؟ اس لحاظ سے تو بلوچستان کے کئی صوبے بن جانے چاہئیں تاکہ لوگوں کو صوبائی دارالحکومت جانے کے لیے دور دراز کا سفر اختیار نہ کرنا پڑے۔ اسی طرح پوری دنیا میں بہت چھوٹے چھوٹے ممالک ہیں جن کے درجنوں صوبے ہیں اور کئی بڑے ممالک ہیں جن کہ چند صوبے ہیں۔ یورپ میں سوئٹزرلینڈ کے 26صوبے ہیں جو کہ چند ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ہیں۔ جب کہ نارتھ امریکہ جہاں پر ایک ہی وقت میں گھڑی کے تین مختلف ٹائم چل رہے ہوتے ہیں۔ اور بوفولو سے لے کر نیویارک تک 700کلومیٹر کا سفر ہے۔بوفولو اور نیویارک دونوں ایک ہی صوبے میں موجود ہیں۔ جہاں سرائیکی صوبے کی بات ہو رہی۔ سرائیکی کوئی الگ زبان نہیں پنجاب کا ہی ایک لہجہ ہے۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ پنجابی سرائیکی کا ایک لہجہ ہے۔ سرائیکی کو الگ زبان قرار دے کر صوبے کے قیام کا مطالبہ بھی لسانیت کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔ انتظامی یونٹ بنانے میں قباحت نہیں لیکن لسانی بنیاد پر صوبوں کی تقسیم سے ایک پنڈورابکس کھل جائے۔ سرحد میں ہندکو، ہزارہ والے بھی الگ الگ صوبے مانگیں گے۔ بلوچستان میں پشتونوں، براہوی اور فارسی بولنے والوں کے مطالبات کے آگے کیا بند باندھا جائے گا۔ سندھ میں تو پہلے ہی مہاجرستان اور جناح پور کی باتیں ہو رہی ہیں اور سرائیکی صوبے کے لیے ہر وقت بے چین رہنے والے تاج محمد لنگاہ صاحب کی میں دل کی گہرائیوں سے عزت کرتا ہوں جو کہ پچھلے پچیس سال سے سرائیکی صوبے کا راگ آلاپ رہے ہیں کیا سرائیکی عوام کی تائید ان کو حاصل ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2002ء کے الیکشن جن میں پیپلز پارٹی سینٹرل ایگزیٹو کمیٹی کے رکن بیرسٹر اعتزاز احسن جو کہ لاہور کے علاوہ ضلع بہاولپور سے بھی کامیاب ہوئے اور بعدازاں انہیں ایک سیٹ چھوڑنا پڑی جو کہ انہوں نے بہاولپور والی سیٹ چھوڑ دی۔جس پر ضمنی انتخابات ہوئے جس میں پیپلز پارٹی نے جناب تاج محمد لنگاہ صاحب کو ضمنی انتخابات میں پارٹی ٹکٹ دیا تھاجس میں موصوف کو ساڑھے چار ہزار کے قریب ووٹ ملے اور وہ اپنی ضمانت تک ضبط کروا بیٹھے جبکہ اسی سیٹ پر چند ہفتے پہلے اعتزاز احسن نے پینسٹھ ہزار سے زائد ووٹ لیے تھے۔اس بات سے صاف اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سرائیکی صوبے کا درد یا سرائیکی عوام کا درد ان لوگوں کے دلوں میں نہیں ہے اور اس کا ادراک سرائیکی عوام کو بھی ہے یہی حال محمد علی درانی صاحب کا ہے جو کہ کبھی جماعت اسلامی کا حصہ ہوتے ہیں اور شباب ملی بناتے ہیں پھر ملت پارٹی میں چلے جاتے ہیں اور لغاری کے ساتھ مل کر حکومت کا حصہ بن جاتے ہیںاور مشرف کا پورا دور آمریت ق لیگ میں شامل ہو کر بطور وزیر انجوائے کرتے ہیں۔لیکن جب تھوڑی بہت بریک آتی ہے تو موصوف کو سرائیکی درد شروع ہو جاتا ہے۔ جہاں تک حقوق اور محرومی کی بات ہے تو اس کا خیال وہاں کی قیادتوں کو کرنا چاہیے تھا۔ اول تو جنوبی پنجاب کے لوگ حقوق سے محروم ہیں نہ کسی قسم کی محرومی اور احساس کمتری میں مبتلاہیں۔ مسئلہ وہاں کے ان لیڈروں کی انا کا ہے جو خود کو گورنر، وزیراعلیٰ کا اہل گردانتے ہیں لیکن ایک انار سو بیمار کے مترادف ان کو یہ عہدے پنجاب کی تقسیم کے بغیر نہیں مل سکتے۔ یہ ایک پائو گوشت کی خاطر پڑوسی کا بکرا ذبح کرانے پر تلے بیٹھے ہیں۔ آج کی مرکزی اور پنجاب حکومت کو جنوبی پنجاب کا کماحقہ احساس اور خیال ہے۔ آج پاکستان پیپلز پارٹی نے وزارت عظمیٰ اور وزارت خارجہ جیسے اہم عہدے جنوبی پنجاب کو دے رکھے ہیں۔ فاروق لغاری کو صدر بنایا گیا جو 4سال (14نومبر93ء سے 2دسمبر97ء)تک اس عہدے پر برقرار رہے۔ اگر انہوں نے صرف اپنے خاندان کی محرومی دور کی اور اپنے علاقے کو بھول گئے تو اس میں پارٹی کا قصور ہے نہ وہاں کے عوام کا۔ پیپلز پارٹی کے ادوار میں سرائیکی بیلٹ سے تعلق رکھنے والے صادق حسین قریشی، نواب محمد عباس عباسی، غلام مصطفے کھر وزیراعلیٰ اور گورنر رہے۔ مسلم لیگ ن نے ذوالفقار علی خان کھوسہ کو گورنر اور اسی سال موقع ملنے پر ان کے صاحبزادے دوست محمد کھوسہ کو وزیراعلیٰ مقرر کیا تھا۔پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر رانا آفتاب احمد خاں نے صدر پاکستان آصف علی زرداری کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ ملک کو اس وقت صوبوں کی تقسیم میں ڈال کر دشمنوں کے ایجنڈے میں آسانیاں پیدا کرنا ہے۔نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین اور نوائے وقت کے ایڈیٹرانچیف جناب مجید نظامی صاحب نے بھی فرمایا ہے کہ اس وقت پاکستان صوبوں کی تقسیم کا متحمل نہیں ہو سکتا اس سے آئین پاکستان میں موشگافیاں پیدا ہوں گی۔جن کو اگر اس وقت چھیڑا گیا تو پاکستان اپنے متفقہ آئین سے محروم ہو جائے گا۔ خدارا آج نازک موقع پر قوم کو تقسیم نہ کریں۔ بحرانوں اور مسائل کے خاتمے کے لیے قوم میں اتحاد پیدا کریں۔ نئے صوبوں کی بات نہ کریں۔ آج ملک 50ارب ڈالر سے زائد کا مقروض ہے۔ ایسے میں گورنریوں کا شوق پانے کا سودا انتہائی مہنگا ہے۔ جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ جنوبی پنجاب کے اگر کوئی مسائل اورمحرومیاں ہیں تو بیٹھ کر ان پر بات ہو سکتی ہے اور یہ دور بھی ہو سکتے ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus