×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بم کو لات مارنے والوں کے لیے طبل جنگ بج گیا؟
Dated: 12-Apr-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com محل کے اندر بادشاہ سلامت اپنے کمرے میں محوِ خواب تھے قریب ہی ان کا پسندیدہ اور پالتو بندر پنکھا جھل رہا تھا ایک مچھر بار بار سوئے ہوئے بادشاہ کے چہرے پر بیٹھ کر نیند میں خلل ڈال رہا تھا اور اب کی بار مچھر بادشاہ کے ناک پر آ بیٹھا۔ بندر نے سرہانے پڑی بادشاہ کی تلوار اُٹھائی اور اس سے پہلے کہ وہ مچھر پہ وار کرتا ایک چور جو وہاں داخل ہوا تھا، جوکچھ دیر سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔ چور نے فوراً جھپٹ کر بندر سے تلوار چھین لی۔ اسی شور شرابے سے بادشاہ کی آنکھ کھل گئی۔ جب اس کو صورتِ حال کا علم ہوا تو اس نے بندر کو شاہی چڑیاگھر بھجوا دیا اور چور کو انعام و اکرام سے نوازا۔بچپن میں سنی ہوئی اس کہانی سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ نادان دوست سے دانا دشمن بہتر ہوتا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف اب تیسری بار ملک کے سربراہ بنے ہیں جبکہ پچھلی دونوں بار اپنے مصاحبین کی نادانیوں کی بنا پر فارغ اقتدار ہوئے اس وقت بھی کم و بیش یہی ٹیم ہمنوا تھی۔ میاں نوازشریف کے دوسرے دور اقتدار میں جب اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل جہانگیر کرامت نے نیول کالج لاہور میں ایک سوال کے دوران کہاکہ مارشل لائوں سے بچنے کے لئے ایک نیشنل سیکیورٹی کونسل بنا دی جائے جس میں فوج بھی شامل ہو۔ میاں صاحب کے مصاحبین نے اس کو سول اقتدار میں مداخلت سے تشبیہ دی اور پھر انہی احباب کے کہنے پر جنرل جہانگیر کرامت کو استعفے پر مجبور کردیا دیاگیا۔اس کے بعد مشرف آرمی چیف بنے ۔ جنرل شاہد عزیز ، مشرف کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز تھے،وہ اپنی کتاب ’’یہ خاموشی کہاں تک‘‘کے صفحہ 210پر لکھتے ہیں کہ ہم جرنیل جہانگیر کرامت کو اس طرح ہٹانے پر غصے میں تھے۔مشرف نے سری لنکاجانے سے قبل ساٹھی جرنیلوں سے کئی ملاقاتیں کیں اور فیصلہ یہ ہوا کہ نواز شریف مشرف کو ہٹانے کا فیصلہ کریں تو تختہ الٹ دیا جائے۔ 12اکتوبر1999ء کے دن جو کچھ ہوا وہ جنرل شاہد عزیز کی بات کی تائید کرتا ہے۔ جس کے بعد میاں نوازشریف آٹھ سالہ جلاوطنی قیدوبند اور پریشانیوں کا سامناکرنا پڑا۔ آج سابق آرمی چیف جنرل مشرف کو پھانسی کی سزا دلوانے کی خواہش رکھنے والے ماضی میں جیلوں میںمچھروں کو دیکھ رنجیدہ ہو جاتے تھے اور پھر عالمی طاقتوں کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے پر آمادہ کیا گیا اور اس طرح ایک خصوصی طیارے میں خاندان کے علاوہ خصوصی ملازمین کے ساتھ جلاوطن ہوئے۔بیگم کلثوم نوازشریف اپنی آپ بیتی بیان کرتے ہوئے اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ میاں فیملی پابندِ سلاسل تھی تو مسلم لیگ ن نے مال روڈ پر مظاہرے کی ایک کال دی تھی جس کی قیادت بیگم کلثوم نواز کرنے کے لیے پہنچی تو وہاں زعیم قادری اور سعد رفیق سمیت صرف آٹھ یا نو افراد موجود تھے اور جب پولیس نے بیگم کلثوم نوازشریف کی گاڑی کو لفٹر سے اٹھایا تو انہوں نے ان آٹھ نو افراد کو دوڑ لگاتے ہوئے دیکھا اور آج وہی سعد رفیق سابق آرمی چیف صدر پرویز مشرف کو بڑھکیں لگاتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ’’مرد کا بچہ بن‘‘سعد رفیق نے مزید فرمایا کہ اگر مشرف کو چھوڑ دیا تو ہم بلوچوں کو کیا جواب دیں گے؟ پختونوں کو کیا جواب دیں گے؟ عوام پوچھتی ہے کہ آپ کی گورنمنٹ طالبان کو چھوڑ رہی ہے چرچ پر حملے کے اور فوجیوں کو ذبح کرنے والے مجرموں کو چھوڑ رہی ہے ۔ہم جنرل ثناء اللہ کی فیملی اور کرسچین بھائیوں کو کیا جواب دیں گے۔ 23ایف سی جوانوں کے گلے کاٹے گئے ان شہیدوں کے گھر والوں کو کیا جواب دیں گے۔ داتا دربار میں جو مسلمان شہید ہوئے ان کے گھر والوں کو کیا جواب دیں گے؟ اسی طرح وزیر دفاع خواجہ آصف مشکل ایام میں تو یورپ اور امریکہ میں پھیلے اپنے بزنس کی نگرانی کرتے رہے اور 2002ء کے الیکشن میں ن لیگ کی ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہونے کے بعد پارلیمنٹ کے اندر ایک ایسی عاقبت نااندیشانہ تقریر کر ڈالی جس سے پی ایم ایل این اور فوج کے درمیان دوریاں مزید بڑھیں اور یہ جنرل مشرف کی ہی روشن خیالی اور بڑاپن تھا کہ خواجہ آصف کے خلاف غداری کا مقدمہ نہ بنایا مگر گذشتہ روز انہوں نے پارلیمنٹ کے اندر بحیثیت وزیر دفاع نشرِ مکرر کر ڈالا جس سے پاک فوج کے اندر بجھی ہوئی چنگاری پھر سے بھڑک اٹھی ہے۔ دراصل خواجہ صاحب کی تقریر چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی تربیلا میں کمانڈوز کی پاسنگ آئوٹ پریڈ سے خطاب کا ردعمل تھا(یاد رہے جنرل مشرف نے بھی تربیلا سے ہی کمانڈو کی ٹریننگ حاصل کی تھی) اور یقینی طور پر جنرل راحیل شریف کو تربیلا میں نوجوان کمانڈوز نے چبھتے ہوئے سوالات کا سامنا کرنا پڑا ہوگا۔ خواجہ آصف کی ایوان میں تقریر پی ٹی آئی کے اسد عمر کے ٹیکس کے حوالے ایک سوال کا جواب ہونا چاہیے تھی مگر بم کو دولتی مارنے کے مصداق انہوں نے نوازشریف کو ایک دفعہ پھر 12اکتوبر کی جگہ پر لاکھڑا کیا ہے جس پر گذشتہ روز کورکمانڈرز میٹنگ میں وزیر دفاع کے بیان پر سخت ناراضی کا برملا اظہار کیا اور عندیہ دیا کہ فوج اپنے تقدس کو سویلین پائوں تلے روندتا ہوا نہیں دیکھ سکتی حالانکہ پچھلے 10ماہ کے دوران موجودہ حکومت کے دور میں فوج کی کریڈبیلٹی پر کاری ضربیں لگائی گئیں کبھی دو جنگیں لڑنے والے چیف آف آرمی سٹاف کو غداری کے مقدما ت میں پھانسنے اور پھر مذاکراتی کمیٹیاں بنا کر 70 ہزار سویلین اور 12ہزار عسکری جوانوں کی لاشوں کا سودا کرکے فوج کا منہ چڑانے کی کوشش کی گئی حتیٰ کہ موجودہ حکومت میں شامل ایک مائنڈ سیٹ مرنے والے فوجی کو شہید ماننے سے انکاری ہے جبکہ یہی لوگ حکیم اللہ محسود کو سید الشہدا کا خطاب دیتے ہیں۔ آج بھی 20کروڑ پاکستانیوں سمیت پاک فوج اس بات پر تحفظات رکھتی ہے کہ حکومتی پارٹی کے تقریباً2درجن ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کا سابقہ ریکارڈ بتاتا ہے کہ ان کا تعلق کسی نہ کسی دو رمیں طالبان، لشکر جھنگوی یا کالعدم سپہ صحابہ سے رہا ہے اور اب بھی رواں ہفتے ایک طرف مذاکرات کا ڈھونگ اور دوسری طرف درجنوں معصوم پاکستانیوں کا اندوناک قتل ہماری داخلی پالیسی کے منہ پر زور دار طمانچے کی مانند ہے۔ پہلے 12سال طالبان نے پاکستانی عوام کو بے قوف بنائے رکھا ۔احرارالہند اور بلوچستان یونائیٹڈ فرنٹ آرمی کے نام نہاد اور فرضی سلوگن بنا کر قوم کو ’’ماموں‘‘ بنانے کے چکر میں ہیں۔ ہم پاک فوج کی تشویش اور تحفظات کو دیگر ہم وطنوں کی طرح حقیقت پسندانہ سمجھتے ہیں اور میاں صاحب سے التماس ہے کہ وہ ’’بم کو کِک‘‘ مارنے والے مصاحبین سے چوکنا رہیں وگرنہ’’ میرے عزیز ہم وطنوں کی دھمک قریب ہی سنائی دیتی ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus