×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
تحفظ پاکستان بِل کی مخالفت یا سیاسی پوائنٹ سکورنگ
Dated: 15-Apr-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com جب سے پاکستان کا قیام عمل میں آیا ہے ہم یہی دیکھتے آ رہے ہیں کہ جو پارٹی اقتدار میں ہو وہ تمام برائیوں ناکامیوں کا ملبہ پچھلی حکومت پر ڈال دیتی ہے۔ یعنی عوام سے کیے گئے وعدوں اور منشور میں دیئے گئے منصوبوں کی تکمیل میں بھی پچھلی حکومت کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے اور اسی طرح ہر زمانے ،ہر دور کی اپوزیشن کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ موجودہ برسراقتدار پارٹی کے ہر نیک و بدکام کی مخالفت کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ عوامی توجہ حاصل کرنے کے لیے پارلیمنٹ کے فلور کو میدانِ جنگ اور مچھلی منڈی بنا دیا جاتا ہے۔ اجلاس کے ایجنڈوں کو پھاڑ کر ہوا میں اچھالا جاتا ہے۔ سپیکر اسمبلی پر خواتین ارکان اپنی چوڑیاں اتار کر پھینکتی ہیں اور بعض اوقات دوپٹے بھی اچھالے جاتے ہیں۔ ہر روز کم از کم ایک بار تو اپوزیشن اراکین کسی نہ کسی بہانے اجلاس کا بائیکاٹ کرکے اسمبلی کے کیف ٹیریا میں چلے جاتے ہیں پھر ان اراکین کو منانے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس سارے کھیل تماشے میں سے نکلتا کیا ہے؟ کچھ اپوزیشن اراکین کے ترقیاقی فنڈز بوجہ کرپشن روکے ہوتے ہیں یا اپوزیشن لیڈر اور پارٹی کو لائسنسوں میں سے کوٹہ درکار ہوتا ہے۔ کبھی حج کا ،کبھی اسلحہ کا، کبھی سیمنٹ، کھاد اور زرعی ادویات کا غرضیکہ ذاتی مفادات کے لیے ملکی وقار کو تماشا بنا کر رکھ دیا جاتا ہے۔ غرضیکہ ملکی وقار عوام کے حقوق اور جمہوریت کے بہترین مفاد میں چند لائسنس اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس طرح ہر حکمران پارٹی یہ جانتی ہے کہ پارلیمنٹ سے کوئی بھی بل پاس کروانے کے لیے اپوزیشن کو اس میں سے حصہ دینا پڑے گا بلکہ اکثر اوقات ایسا باقاعدہ طے شدہ ایجنڈے کے مطابق ڈرامہ رچایا جاتا ہے اور اکثر ان ڈراموں کاسکرپٹ باقاعدہ لکھا جا چکا ہوتا ہے اور طے ہوتا ہے کون کیا کردار ادا کرے گا۔ گذشتہ دنوں موجودہ حکمران جماعت ایوان میں ایک بِل لائے ہیں کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پولیس، فوج اور لاء انفورسمنٹ اداروں کو خصوصی اختیارات دیئے جائیں تاکہ مجرم قانون میں سقم کی موجودگی کی وجہ سے فائدہ اٹھا لیتے ہیںجس کی وجہ سے مجرم چند دنوں یا مہینوں بعد پھر آزاد ہو تے ہیں اور گذشتہ 6سال میں 70ہزار سویلین 11ہزار عسکری جوانوں اورہزاروں کھرب کا معاشی نقصان اور ملک کا انفراسٹرکچر تباہ کرنے والے کسی ایک بھی مجرم کو قرار واقعی سزا نہیں دی گئی ہے نہ ہی ہزاروں انسانوں کے قاتلوں میں سے کسی ایک کو کیفرکردار تک پہنچایا گیا ہے۔ گذشتہ چھ سال میں پھانسی کی ایک بھی سزا پر عمل نہیں ہو ااور پاکستان جیسا ملک جو امن و امان کے حوالے سے انتہائی خطرناک حالات سے گزر رہا ہو وہاں پر مجرموں کو اگر احساس سزا نہیں ہوگا تو جرم کو روکنا نہ صرف ناممکن ہوگا بلکہ ہماری جغرافیائی محل وقوع اور علاقائی پس ماندہ روایات کی وجہ سے جرم کو پھلنے پھولنے سے روکا نہیں جا سکتا۔ جس معاشرے میں غیرت کے نام پر قتل وغارتگری کی روایات ہوں گرم مرطوب آب و ہوا کی بھی ہمارے معاشرے اور روایات کو کول مائنڈ بننے کے راستے میں رکاوٹ ہیں اوپر سے مذہبی فرقہ پرستی اور سب سے بڑھ کر دوست نما دشمن چاروں اطراف سرحدوں کے ہمارے لیے دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔ دنیا بھر کی لڑائیاں ہمارے صحن میں لڑی جاتی ہیں بھارت،افغانستان، ایران اور سمندر کی اطراف سے گلف ریاستوں سمیت سعودی عرب سب اپنی اپنی بقا کی جنگ پاکستان کی سرزمین پر لڑنا چاہتے ہیں اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ ان جنگوں کے لیے انہیں رنگروٹ بھی افرادی قوت بھی ہماری چاہیے ۔ہمارے گھر کی، ہمارے وطن عزیز کی حالت اس وقت اس شعر کی طرح ہو گئی ہے: دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی لوگوں نے میرے صحن میں رستہ بنا لیا دوستو حالانکہ میاں نوازشریف نے اپنے گزشتہ دور حکومت میں سیاسی مقدمات کا انبار لگا دیا۔ خود مجھے بھی پابند سلاسل کرکے مقدمات قائم کیے گئے حتیٰ کہ میاں نوازشریف میرے خلاف مقدمات میں خود مدعی تھے مگر اب اگر وہ ایک ایسی کاوش کرنا چاہتے ہیں کہ جس سے وطن عزیز کی لڑکھڑاتی ڈوبتی کشتی کو بھنور سے نکالنے کا کوئی رستہ بن رہا ہے تو ہمیں دیکھنا چاہیے کیا پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں تحفظ پاکستان ایکٹ بنایا جا رہا ہے؟ جبکہ دنیا میں جس جس کو بھی دہشت گردی اور ملکی سلامتی کا سوال پیدا ہوا ان ملکوں نے شخصی آزادی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایسے قوانین بنائے۔ بھارت نے 70کی دہائی میں پوٹا اور ٹاڈا،کینیڈا نے نیشنل سیکورٹی کونسل ایکٹ ،چین نے وفاقی سیکورٹی، امریکہ نے 2011ء کے بعد نیشنل سیکورٹی ایکٹ کے علاوہ ہوم لینڈ سیکورٹی کے نام سے ایک اضافی ادارہ بھی بنایا۔ جبکہ اسرائیل نے قومی حفاظتی پالیسی کا قانون پاس کیا جبکہ یورپ کے 46ملکوں میں سے جرمن،فرانس، اٹلی، سپین، انگلینڈ ، پرتگال، یونان، آسٹریا نے بھی ایسے قوانین کا سہارا لیا جبکہ پاکستان جیسا ملک جیسے درپیش اندرونی و بیرونی خلفشار کا سامنا ہے اس قانون کی قیام پاکستان کے وقت سے ہی ضرورت تھی اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا بھر کے قوانین انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں اور ان قوانین میں کہیں کہیں سقم موجود ہوتا ہے اورجرائم پیشہ عناصر اپنے وسائل اور قوت سے ان قوانین میں سے بچ نکلنے کا راستہ نکال لیتے ہیں۔ یقینا تحفظ پاکستان ایکٹ کے بعد پاکستان کی دودھ کی نہریں اور امن کی آشا گنگانہائے گی نہیں مگر مجرموں کو احساس سزا ہوگا تو جرائم کی شرح کم ضرورہو گی اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے ہمیشہ کی طرح ایسے قوانین کا حکمرانوں کی طرف سے غلط استعمال کیا گیا اور جرائم پیشہ افراد نے ایسے قوانین کا مذاق اڑایا مگر کیا ہم دہشت گردوں کو کھلی چھٹی دے دیں اور پھرایک دن وہ ہم کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر مجبور کر دیں۔ہمیں ایک بات یاد رکھنی ہو گی مجرموں کی اصلاح کی جاتی ہے، سزائیں دی جائیں ہیں ان سے مذاکرات کا مطلب حکومتی رٹ کا خاتمہ تصور ہوتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ ن ،تحریک انصاف، مسلم لیگ ق، اے این پی اور دیگر مذہبی اسلامی پارٹیاں اس ایشو پر سیاست کرنے کی بجائے وسیع ترق قومی مفاد کی خاطر ایک ایسا بِل لانے میں حکومتی پالیسیوں کی تائید کرنے میں ایک دوسرے سے بڑھ کر آگے آئیں گے۔ پاکستان کی موجود داخلی اور خارجی صورت احوال اتنی کمزور اور نحیف ہو چکی ہے کہ فوری طور پر ہومیوپیتھک کی بجائے ایلوپیتھک انجیکشن کی ضرورت ہے کیوں کہ ملک ہے تم سب ہم سب کا وجود ہماری شناخت ہے۔ وطن ہی خدانخواستہ نہ رہا تو یہ سب نخرے کس کو دکھائو گے؟ غیر تو ہم سے فادرلینڈمدرلینڈ کی طرح پیار نہ کریں گے ۔ سنی، شیعہ، وہابی، دیوبندی اور طالبان سب ہی دشمن کی نظر میں دشمن قرار پائیں گے۔ شاید آج انسانی حقوق اور شخصی آزادی کی کچھ تنظیمیں پوائنٹ سکورکرنے کی کوشش کریں گی مگر ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ جہاں سے ان آرگنائزیشوں کی فنڈنگ ہوتی ہے وہاں بھی یہی کالے قوانین عشروں سے نافذ ہیں اور پھر وطن عزیز کو اس جاں لیوا بیماری سے بچانے کے لیے ہمیں بحیثیت قوم قربانی دینا ہو گی۔ بلاول بھٹو صاحب سے عرض ہے کہ وزیراعظم کو ان قوانین کے بغیر بھی گرفتار کیا جاتا رہا اور پھانسی بھی دی گئی اور ان قوانین کی غیرموجودگی میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو جلاوطن ہونا پڑا۔ لہٰذا اب یہ ڈرامہ ختم ہونا چاہیے۔ اس بل کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ ہمیشہ کے لیے لاپتہ افراد کا معمہ حل ہو جائے گا اور ریاستی اداروں کے پاس مناسب وقت ہوگا کہ وہ چالان عجلت میں نہیں بلکہ محنت اور مکمل تحقیقات کرکے عدالت میں پیش کریں گی جس سے مجرموں کے قانون کی گرفت سے نکلنے کے راستے بڑی حد تک مسدود ہو جائیں گے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus