×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
لندن آپریشن ،سفرِ انقلاب اوراقلیتیں
Dated: 07-Jun-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com تین جون منگل کے دن متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین کی گرفتاری کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پوری دنیا میں پھیل گئی کروڑوں لوگوں کے لیے یہ خبر ایک شاک سے کم نہ تھی مگر قارئین نوائے وقت صرف 7روز قبل 27مئی کو میرے کالم ’’پردے کے پیچھے کیا ہے‘‘ میں اس متوقع گرفتاری کی پیش گوئی پڑھ چکے ہیں۔ دراصل گذشتہ ایک سال کے دوران کچھ واقعات اتنے تسلسل اور تواتر سے ہوئے ہیں جن کی بنا پر سیاست کا کوئی بھی طالب علم نتیجہ اخذ کرنے میں دیر نہیں لگائے گا۔ گذشتہ الیکشن کے بعد اور ایم کیو ایم کو ملنے والے مینڈیٹ سے ایک بات تو طے تھی کہ ان حالات میں جن قوتوں نے متحدہ کو سپورٹ کیا وہ اسے کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ دھیمی دھیمی سی آنچ پر پکنے والی ایم کیو ایم کے اندر لڑائی کا اشارہ تو اس وقت ہی مل گیا تھا جب گذشتہ الیکشن سے قبل سابق صدر پرویز مشرف نے پاکستان آنے کا اعلان کیا اور یہ خبر گردش کرتی رہی کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین پر موجود اندرون اور بیرونِ ملک مقدمات اور پارٹی پر ڈھیلی پڑتی ہوئی الطاف حسین کی گرفت کو جواز بنا کر ایم کیو ایم کی قیادت پرویز مشرف کے سپرد کر دی جائے گی مگر پرویز مشرف کے کراچی ایئرپورٹ اترنے سے قبل صرف چند گھٹنوں میں پارٹی کی اندرونی قیادت نے پلٹا کھایا اور حکمت عملی بدل لی۔ یہی وجہ ہے کہ جب پرویز مشرف کراچی ایئرپورٹ پر اترے تو پورا شہر بینرز اور سائن بورڈز سے آویزاں تھا مگر استقبالیہ ٹیم میں سے صرف چند درجن لوگ موجود تھے جس کے بعد متحدہ کی قیادت سنبھالنے کی کشمکش تیز سے تیز ہوتی چلی گئی اور پھر الطاف بھائی نے ایک موقع پر نہ صرف پوری رابطہ کمیٹی تحلیل کر دی بلکہ تنظیم کے اندر کافی عجلت سے اکھاڑ پچھاڑ کی گئی اس سے پہلے متحدہ کے سینئر رہنما او سابق ناظم کراچی مصطفی کمال بڑی چالاکی سے خود کو بچا کر دوبئی پہنچ گئے اور اپنی سینیٹ کی سیٹ کا استعفیٰ قیادت کو بھجوا دیا۔ قرین قیاس ہے کہ اگر مصطفی کمال ہتھے چڑھ جاتے وہ بھی بوری میں بند کہیں ملتے ۔ پچھلے کچھ دنوں سے آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ ہارون رضا، بابر غوری اور بے شمار دیگر اعلیٰ عہدے دار منظر سے غائب ہیں۔جبکہ فاروق ستار سے بھی ذمہ داری واپس لے لی گئی اور گورنر عشرت العباد قیادت سے کئی بار روٹھ کر دوبئی کے چکر لگا آئے ہیں اور ایک مصدقہ اطلاع کے مطابق الطاف حسین کے گرد لندن میں بنے جانے والے جال اور برطانوی پولیس کو معلومات مہیا کرنے والوں میں سے کم از کم تین افراد کا تعلق لندن رابطہ کمیٹی سے ہے وہ کیا کہتے ہیں کہ ’’اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے‘‘ اور میرے ذرائع کی معلومات کے مطابق الطاف حسین کی گرفتاری کے موقع پر کراچی اور حیدرآباد میں بس رسمی سا احتجاج اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ متحدہ کی نئی قیادت کا فیصلہ ہو گیا ہے اور متحدہ قومی موومنٹ کی ذمہ داری پرویز مشرف یا آفاق احمد یا دونوں کے سپرد کر دی جائے گی اور جلد ہی متحدہ قومی موومنٹ پاکستان عوامی تحریک اور مسلم لیگ (ق)کی جدوجہد میں شامل ہو کر انقلاب کے لیے برسرپیکار ہو گی۔ کیونکہ متحدہ قومی موومنٹ کو شہری سندھ میں ایک بڑی پارٹی کا مینڈیٹ حاصل ہے اور حکومت مخالف کوئی بھی تحریک اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اسے تین کروڑ کے شہر کراچی کے عوام کا اعتماد حاصل نہ ہو۔ لندن سے اب شاید کبھی ٹیلی فونک خطاب تو نہ ہو سکے لیکن اگر کبھی کوئی لندن سے مِس کال موصول ہوئی تو شاید عوام اسے درخوراعتنا نہ سمجھے۔ اسلام آباد اور فیصل آباد میں کامیاب شو کرنے کے بعد تحریکِ انصاف آج سیالکوٹ میں میدان سجائے گی اور خبریں ہیں کہ جس طرح فیصل آباد میں عابد شیر علی اور رانا ثناء اللہ نصیبو لال کے فری میوزیکل شو کرانے کے باوجود بھی جلسہ کو ناکام بنانے میں ناکامیاب رہے اسی طرح سیالکوٹ میں اکیلے بیچارے خواجہ آصف کے بس کی بھی بات نہیں کہ وہ جنون کی دھمال کو روک سکے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ملک کی ساری مقتدر سیاسی قوتیں فوج اور عوام اکٹھے ہو جائیں اور ملکی سرحدوں پر منڈلاتے بیرونی خطرات کا مقابلہ متحد ہو کر کریں کیونکہ ہمارے حکمران طبقہ اور نام نہاد اپوزیشن جو کہ گذشتہ 35سال سے باریوں کے چکر میں قومی اور ملکی اساس کے سودے کرکے مالک غنیمت دیارِ غیر منتقل کر چکے ہیں مگر یہ سب کیسے ممکن ہے ہم انسانی حقوق، حقوق نسواں اور شہری حقوق کی بات کرتے ہیں مگر بھول جاتے ہیں کہ ملک کی 10فیصد مذہبی اقلتیں ہمار ے ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہیں۔ آئے دن شرپسندوں کی طرف سے اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر نہ صرف حملے کیے جاتے ہیں بلکہ قبضہ مافیا کے ساتھ مل کر پوری کی پوری بستیاں جلا دی جاتی ہیں۔ اسی طرح سندھ میں آباد ہندوئوں کا گھیرا تنگ کرکے انہیں نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہاہے تاکہ ان کی زمینوں پر وڈیرے اور مخدوم اپنے قبضے جما سکیں اور گذشتہ روز سکھوں کی مقدس کتاب کی بے حرمتی کرکے دنیا بھر میں مقیم سکھوں کو کیا پیغام دیا گیا ہے۔بلھے شاہ، بابا فرید، سلطان باہو اور مادھو لعل حسین کے کلام کو اپنا ذکر بنانے والے ہمارے پنجابی بھائی آج یہ پوچھتے ہیں کہ پنجاب کے ان باسیوں پر پنجاب ہی کی سرزمین پر یہ مظال کیوں؟ قارئین! انٹرفیتھ کے حوالے سے مجھے یاد ہے کہ شہید بی بی کی ہدایت پر میں مسیحی بھائیوں کی مذہبی رسومات اور تقریبات میں تواتر سے شرکت کرتا تھا جبکہ ایک کرسمس کی شام لاہور کینٹ کے چرچ سمیت 18گرجا گھروں میں بی بی شہید کی ہدایت پر کرسمس کیک کاٹے۔ رواداری کا یہ عالم تھا کہ شہادت سے کچھ عرصہ قبل شہید بی بی اٹلی میں ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے گئیں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف بھی ان کے ہمراہ تھے، کانفرنس کے بعد بی بی نے ’’ویٹی کن‘‘ کا وزٹ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا جب محترمہ ویٹی کن کے مین گیٹ پر پہنچیں تو شام 5بجے کا وقت ہو چکا تھا وہ وقت گیٹ بند کرنے کا تھا اسی دوران اندر سے پورے پروٹوکول کے ساتھ باہر آئے ہوئے علامہ ڈاکٹر طاہر القادری دکھائی دیئے جو پاپائے روم کی خصوصی دعوت پر وہاں تشریف فرما تھے۔ جہاں ویٹی کن کے میدان میں محترمہ نے منہاج القرآن کے وزٹ کی خواہش ڈاکٹر طاہر القادری صاحب سے کی اور پھر ڈاکٹر صاحب کی درخواست پر بعد میں محترمہ کو ویٹی کن کی سیر کروائی گئی۔ اب پاکستان کے عوام انقلاب کی شاہراہ پر نکلنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ علامہ طاہر القادری صاحب نے پاکستان واپس جانے کا اعلان کرکے طبلِ جنگ بجا دیا ہے۔ میری انقلاب کی قیادت کرنے والے لیڈرشپ سے درخواست ہے کہ پاکستان بنانے میں تعمیری کردار ادا کرنے والی ان مذہبی اقلیتوں کو فراموش نہ کیجئے گا کیونکہ کل آپ نے جن لوگوں کو پاکستان بنانے کے عمل میں شامل کیا تھا۔ آج ان کو پاکستان بچانے کے کارواں میں بھی شامل کیجئے۔ انقلاب اور قائدِ انقلاب عوام سے اب تھوڑے ہی فاصلے پر ہیں صرف جذبہ اور یقین ہمیں منزل تک لے جا سکتا ہے۔ 7جون2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus