×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سبز انقلاب ،آزادی مارچ اور کھڑک سنگھ
Dated: 19-Jul-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com عوامی تحریک اس ملک کے پسے ہوئے اور محکوم طبقات ہاری، مزدور، کسان، طالب علم، ٹانگے بان، خوانچہ فروش، ریڑھی بان، چنگ چی چلانے والے، مزارع اور ’’کمی‘‘ کی نمائندہ جماعت بن چکی ہے۔ جھورا جہاز بے تکان بولے جا رہا تھا ۔ مجھ سے رہا نہ گیا اسے ٹوکا کہ ابھی چند دن پہلے تک تو بھٹو اور بی بی شہید کے اس حد تک جیالے تھے کہ جان دینے کے لیے تیار رہتے تھے، یکدم یہ ماجرا کیا ہوا یہ سبز انقلاب کے اثرات تم پر بھی پڑنا شروع ہو گئے؟ جھورا جہاز ایک گہری سانس لے کر بولا وڑائچ صاحب پیپلزپارٹی کی گذشتہ دور حکومت میں زرداری صاحب کے ملکی اور غیر ملکی اثاثوں کا حجم 60ارب ڈالر سے بھی بڑھ گیا ہے۔ سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی ، راجہ پرویز اشرف نے ہزاروں ارب روپے دنیا بھر میں موجود اپنے اکائونٹس میں منتقل کر لیے جبکہ سابق اراکین کابینہ نذرگوندل، امین فہیم، قمرالزمان کائرہ، نوید قمر اور چوہدری احمد مختار، منظور وٹو ،خورشید شاہ، رحمان ملک سمیت دیگر صوبائی و وفاقی وزراء کرپشن سے فیض یاب ہو کر اربوں روپے کما چکے ہیں۔ حتی کہ ایک چھوٹے سے محکمے ’’اوگرا‘‘ کا چیئرمین صرف ایک گیم میں 120ارب روپے کا ٹیکہ سرکاری خزانے کو لگا چکے ہیں۔ جناب پیپلزپارٹی اب غریبوں کی جماعت نہیں رہی یہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالکان شیئرہولڈرز کا کلب بن چکا ہے مگر آج بھی لاہور میں سلیم مغل اور مانی پہلوان جیسے ورکرہر دن روٹی روزی کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں جو پارٹی ان کارکنان کو اقتدار میں ہونے کے باوجود روٹی تک نہیں دے سکی وہ ملک کے 20کروڑ عوام کو روٹی کپڑا مکان کیا خاک دے گی۔ جھورا کہنے لگا وڑائچ صاحب آپ بھی پچھلے ساڑھے 6سال سے پارٹی کی قابض قیادت کو ’’قلم‘‘ کے ذریعے آئینہ دکھاتے رہے ہیں کیا قیادت نے آپ کی پکار اور آواز پر کان دھرے؟ وڑائچ صاحب بھٹو، بیگم بھٹو، بے نظیر بھٹو، مرتضیٰ بھٹو، شاہنواز بھٹو سب شہید کر دیئے گئے قاتل آج بھی دندناتے پھر رہے ہیں اور بھٹوز کا حقیقی وارث ہونے کا دعویٰ کرنے والے اقتدار کے نشے میں دھت یہ بھول گئے کہ اپنے فرائض سے پہلوتہی بھرت کے وہ دراصل اپنے پائوں پہ کلہاڑی ما ررہے ہیں۔ وہ جس درخت کی شاخ پر بیٹھے ہیں اسی کو نادانی میں کاٹ رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی بھٹوز قیادت قربانیاں دینے والے لوگ تھے یہ اس لحاظ سے خوش قسمت جماعت رہی ہے کہ اسے خون دینے والے جیالے میسر رہے۔ ایوب، ضیاء، یحییٰ ،مشرف گویا ہر دور میں جیالوں نے اپنے خون سے وفاق اور جمہوریت کی شمع روشن رکھی اور زمانے کے تغیرات اس شمع کو بجھا نہ سکے مگر بدشومئی قسمت آج یہ چراغ اپنوں کی ہی پھونکوں سے لب جان ہے۔ گذشتہ ایک سال میں پنجاب میں کسی بھی ایک ضمنی الیکشن میں پیپلزپارٹی اپنا امیدوار کھڑا نہ کر سکی بالکل اسی طرح جس طرح 4دفعہ کی ورلڈ ہاکی چیمپئن ٹیم اس دفعہ ورلڈ کپ ہاکی کے لیے کوالیفائی تک نہ کر سکی۔ اسی طرح اس ملک کے محکوم طبقے اور پسے ہوئے عوام کو ایک نئے کوچ ،نئے ٹیم منیجر،نئے کپتان حتیٰ کہ پوری ٹیم بدلنا ہو گی۔ یہی نہیں بلکہ موجودہ دور کے تقاضوں کے عین مطابق اور ہالنگ کے ساتھ ساتھ سہولیات کابھی جائزہ لینا ہوگا۔ اس لیے اب مایوس، شکست خوردہ، بددل عوام کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے کہ وہ ہنگامی تبدیلیوں کے لیے کسی ایسی جماعت کا انتخاب کریں جس کے لیڈر کے پاس عزم، ازم ،ویژن، علم اور جذبہ ہو جو نعروں کی سیاست پر یقین نہ رکھتا ہوں۔ جھورا جہاز کہہ رہا تھا وڑائچ صاحب کیا طاہر القادری صاحب نے جنوری 2013ء میں یہ کہہ نہیں دیا تھا کہ آئندہ الیکشن پر یقین کرنے والے بالکل ایسے ہی ہیں جیسے ایک کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرے اور یہ تصور کرے کہ بلی اسے نہیں دیکھ رہی؟ اس وقت چوہدری صاحبان اور عمران خان ان کی بات پر یقین کر لیتے تو آج ہم ایک مہذب قوم کی طرح انقلاب کی سالگرہ منا رہے ہوتے۔ مگر صد حیرت ہے کہ آج مشیرانِ عمران خان اسے مشورہ دے رہے ہیں مڈٹرم الیکشن ہی دراصل خرافات کا حل ہے۔ دراصل عمران کے گرد مفادات پرست طبقہ جس کو اقتدار کا ’’چسکا‘‘ پڑ چکا ہے جن کے منہ کو اقتدار کا خون لگ چکا ہے ، جن کے کاروباری مفادات الیکشن اور موجودہ سسٹم سے نظام سے وابستہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ترقی پسند ،لبرل، پروگریسو عمران خان یکمشت کبھی طالبان کا حامی،کبھی جماعت اسلامی کا پارٹنر ، کبھی قومی کرنٹ ایشوز پر چپ سادھ لیتا ہے اور پھر جب کافی پانی پلوں کے نیچے سے گزر جائے تو اسے احساس ہوتا ہے۔ یہ دراصل عمران خان کی کنفیوژ طبیعت اور متزلزل حکمت عملی کی وجہ سے ہے عمران خان کو ادراک ہونا چاہیے کہ سانحہ ماڈل ٹائون کے بعد انتظامیہ و پولیس کے منہ کو لہو لگ چکا ہے۔ لاشوں کے انبار اور زخمیوں کی چیخ و پکار کے باوجود ابھی تک سانحہ ماڈل ٹائون کی اصل ایف آئی آر نہیں کاٹی جا سکی۔ کیا اب ہم کسی ایک اور سانحہ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی طرف سے انقلاب کی تاریخ کا اعلان ابھی تک نہ کرنا اس بات کی غمازی ہے کہ وہ عمران کی آزادی مارچ کو انقلاب کے ہم رکاب دیکھنا چاہتے ہیں۔عمران اور قادری صاحب کو ایگو"Ego" کو پیچھے کرکے انا کی دیوار کو گرا کر باہمی اعتماد کا پُل بنانا ہوگا پوری قوم کی نظریں روزانہ ٹی وی چینلز پر یہ خبر تلاش کر رہی ہوتی ہیں کہ کب ’’کپتان اور کوچ‘‘ مل کر لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہیں۔ عوام چاہتے ہیں کہ انقلاب اور آزادی مارچ مل کر اس دور کی بدترین جمہوری آمریت کو بچھاڑنے کے لیے اکٹھا ہوتے ہیں۔ شدید عوامی دبائو اور ضمیر کی خلش کی وجہ سے حکمرانوں کے اپنے گروپ کے اندر اکھاڑ بچھاڑ کا سا سماں ہے۔ کل تک بڑھکیں لگانے والے اور مُکے دکھانے والے اس وقت خزاں کے زرد پتوں کی طرح کانپ رہے ہیں۔ عوام قائدین کی آخری کال کے انتظار میں ہے ۔ بات اب مہینوں کی نہیں دنوں کی ہے حکمران قائدانقلاب ڈاکٹر طاہر القادری اور سونامی کیپٹن سے رحم کی بھیک مانگنے کی حد تک آ گئے ہیں ان کی حالت بقول شاعر: کھڑک سنگھ کے کھڑکنے سے کھڑکتی تھیں کھڑکیاں اور اب کھڑکیوں کے کھڑکنے سے کھڑکتا ہے کھڑک سنگھ اگر آج کپتان ،قائدانقلاب اور عوام مل کر عہد کر لیں کہ اب کی بار بھاگنے نہیں دینا قومی مجرموں کو۔ اگر یہ بھاگ نکلے تو آزادی مارچ اور انقلاب کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔ 19جولائی2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus