×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
القدس کو پھر ایک صلاح الدین ایوبی کی ضرورت ہے!
Dated: 15-Jul-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com یہ ان دنوں کی بات ہے جب ریاستی جبر کے خلاف فلسطینی عوام نے مزاحمت کی اور پھر ہجرت کرکے لبنان چلے، جہاں اس وقت کی لبنانی حکومت نے دو پناہ گزین کیمپوں میں محصور کر دیا۔ ان کیمپوں کو صابرہ اور شیتلہ نامی کیمپس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اسرائیل نے مزاحمت کا جواب محصور پناہ گزینوں کے کیمپس پر شدید بمباری کرکے دیا جس سے ایک ہی دن میں 30ہزار سے زیادہ انسانوں کو شہید کر دیا گیا۔ لاشوں کے اتنے ڈھیر لگ گئے کہ اٹھانے والوں کا قحط پڑ گیا۔ ٹھیک انہی دنوں طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ نے ایک اشتہار نما پمفلٹ جاری کیا تھا جس میں زنجیروں میں جکڑی ہوئی قبلہ اول کی تصویر تھی اور جلی حروف میں لکھا تھا ’’القدس پھر منتظر ہے ایک صلاح الدین ایوبی کا‘‘ ہم بھی اس کیمپین سے اس قدر متاثر ہوئے کہ جمعیت میں شامل ہو کر مقامی یونٹ کے ناظم بن بیٹھے اور بعدازاں جمعیت کے ہی پلیٹ فارم سے کالج کی سٹوڈنٹس یونین کا مجھے صدر منتخب کیا گیا۔ اسی دوران ضیائی آمریت نے طلبہ سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دیں او رمیں نے PSF کے بینر تلے طلبہ حقوق کی تحریک شروع کر دی، جس کی پاداش میں مجھ پر بے شمار مقدمات بنا دیئے گئے اور پھر جلاوطنی اختیار کرکے یورپ چلا گیا اور پھر اگلے 30سال جمہوریت کی بحالی اور میثاق جمہوریت، این آر او کے لیے جدوجہد کرتا رہا۔ اب گذشتہ دنوں اسرائیل نے پھر انسانیت سوز مظالم کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع کیا ہے تو احساس ہوا کچھ بھی تو نہیں بدلا، وقت کتنی تیزی سے گزر گیا اور فرق صرف یہ پڑا کہ آج میڈیا ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور دیگر اداروں کے ایکٹو ہونے کی وجہ سے بربریت کی داستانوں کے حقیقی مناظر، چیخیں، آہ و پکار اور دلدوز ویڈیوز دیکھ کر میرے جیسا انسان بھی کانپ کر رہ جاتا ہے۔ خونِ مسلمان کبھی اتنا رزاں تو نہیں تھا یہ کیا ہوا مسلم امہ کو آج سے 32سال پہلے جیسے واقعات پھر دہرائے جا رہے ہیں۔ تب مسلم اُمہ پھر بھی مصنوعی ٹسوے بہاتی نظر آتی تھی مگر اب نہ لیبیا میں قذافی ، نہ عراق میں صدام حسین، نہ سعودیہ میں شاہ فیصل ، نہ ایران میں امام خمینی اور نہ پاکستان میں بھٹوز موجود ہیں۔ آج جنونی اسرائیل کو کوئی پوچھنے والا موجود نہیں ہے۔ لبنان، شام، مصر، ایران، عراق، افغانستان، ترکی، سعودی عرب، گلف ریاستیں اور پاکستان اپنی اپنی اندرونی خلفشار میں اس طرح پھنسا دیئے گئے ہیں کہ کسی کو کسی دوسرے کا ہوش اور احساس نہیں۔ آج مسلم امہ اپنے زوال کے بدترین لمحات سے گزر رہی ہے۔آج سنی، شیعہ، وہابی، دیوبند جیسی مسلکی تقسیم نے مسلم امہ کو اپاہج بنا دیا ہے۔ یاد ریکھئے قومیں جذبوں سے زندہ رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے ستر سال سے مردِ صحافت ڈاکٹر مجید نظامی صاحب دو قومی نظریہ کی رسی مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں جبکہ اس دوران تقریباً ہر سول و عسکری حکمران نے اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے اپنے ازلی دشمن بھارت سے پیار محبت کی پینگیں بڑھانے کے لیے بے قرارہے مگر ان نادانوں کو کون سمجھائے کہ قوموں میں جذبے ختم ہو جائیں تو قومیں بانجھ ہو جاتی ہیں۔ اسی لیے اسرائیل، امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے ایٹم بم گرا کر جنگ جیتنے کی پالیسی کو تبدیل کرکے ہم پر مسلکی، گروہی، لسانی اور ثقافتی بم گرا کر مسلم امہ کو مفلوج بنا دیا ہے۔جن یہودیوں کو پوری دنیا میں جائے پناہ نہیں ملتی تھی 1948ء میں انہوں نے عربوں کو ان کی اپنی سرزمین پر شکست دے کر اور اپنی مکارانہ چالوں سے تسخیر کر لیا۔ معصوم فلسطینیوں اور مظلوم کشمیریوں کے قتل عام اور نسل کشی کو 70سال ہونے کو ہیں۔ اقوام متحدہ میں ویٹو پاور کے حامل ممالک اور جی ایٹ گروپ کو تحفظ دینے کے لیے یہ سب شعبدہ بازی کی جاتی ہے اور ’’مائیٹ از رائیٹ‘‘ کے فلسفے کے آگے اقوامِ متحدہ بے بس ہے۔ یہ ادارہ بس چند ہزار مستقل ملازمین اور چند لاکھ عارضی ملازمین کو روزگار فراہم کرنے والا ادارہ بن چکا ہے۔ اسرائیل کا جب دل کرتا ہے جارحیت کا ارتکاب کرکے کشتوں کے پشتے لگا دیتا ہے اور تڑپتی انسانیت لہو لہو ہو کر مسلم امہ کی آپس کی چپقلش کی نذر ہو رہی ہے۔ ایک طرف ایران اور دوسری طرف سعودی عرب اپنے مسلکی ایجنڈے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ آج دنیا بھر میں 65اسلامی ممالک نقشے پر موجود ہیں اگر یہ متحد ہو جاتے تو دنیا پر حکمرانی کرتے۔ آپ ذرا غور سے گلوبل میپ کو دیکھئے ’’وارزون‘‘ پر نشان لگایئے تو آپ کو صرف اور صرف مسلم ممالک میں ہی جنگ ہوتی نظر آئے گی۔ کیا ہم ڈیڑھ ارب مسلمان اتنے ’’ڈفر‘‘ ہیں کہ ہم صیہونی اور یہودی سازشوں کا ادراک نہیں کر سکتے؟ کیا ہم اور ہمارے مسلم ممالک کی حیثیت عالمی طاقتوں کے لیے محض اسلحہ ٹیسٹ گاہ کی سی رہ گئی ہے۔ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی حیثیت محض ’’برائلر مرغی‘‘ کی سی رہ گئی ہے جسے جب چاہے پکڑ کر قصائی چھری پھیر دے۔ دراصل پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ کرکے مسلمانوں کو محکوم بنانے کی سازش پر عمل شروع کیا گیا۔ میں نے اپنے ایک گذشتہ کالم میں قارئین نوائے وقت سے شیئر کیا تھاکہ موجودہ اسرائیلی صدر شمعون پیرس نے ایک ملاقات میں میرے سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ الفاظ کہے کہ ہم تو فلسطین کو آزاد جمہوری مملکت کا درجہ دینا چاہتے ہیں مگر فلسطینیوں کے عرب ہمسایوں کو ایک آزاد جمہوری فلسطین کا وجود گوارہ نہیں۔ قارئین! آخر کب تک یہ بگڑے عرب شہزادے، عیاش امیروسلطان انسان کو پس زنداں رکھیں گے، اگر سعودی عرب کو خلافت کا شوق ہے اور ایران کو اہلِ بیت کی وراثت پر ناز ہے تو ان کو ایثار اور قربانی کے درس سے خود کو اور اسلام کو نقصان سے بچانا ہوگا۔ یہودی اور دیگر دشمنانِ اسلام آپ کو گاجر مولی کی طرح کاٹتے رہیں گے۔ میرے پاس بیٹھے ایک دوست نے سوال کیا کہ کیا ہم اپنی پاک افواج کو فلسطینیوں کی مدد کے لیے نہیں بھیج سکتے تو جھورا جہاز درمیان میں بول پڑا کہ اسرائیل کے اطراف کوئی ایسا اسلامی ملک ہے جو ہمیں اسرائیل پر حملہ کرنے کے لیے اپنی سرزمین اور ہوائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے؟ میرا یہ سن کر سر چکرا کر رہ گیا اور سوچنے لگا کہ مسلم امہ کو آج پھر ایک صلاح الدین ایوب کی اشد ضرورت ہے یا پھر ہمیں اپنی صفوں میں سے کسی اڈولف ہٹلر کو تلاش کرنا ہوگا۔ 15جولائی2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus