×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
1977ء سے 2014ء تک کا سفر اور سبق
Dated: 09-Aug-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com کچھ بھی تو نہیں بدلا، بے شمار پانی پُلوں کے نیچے سے گزر گیا ہے۔ یہ الیکشن 1977ء کے فوری بعد کی بات ہے کہ پاکستان قومی اتحاد کے نام (پی این اے) سے ایک انتخابی اتحاد معرض وجود میں آیا جس میں اس وقت کے جید علماء اور سیاسی لیڈر موجود تھے، جن میں ریٹائرڈایئرمارشل اصغر خاں، شاہ احمد نورانی، مولانا مودودی اور اس کی قیادت مولانا مفتی محمود کر رہے تھے۔ دوسری طرف پاکستان پیپلزپارٹی ذوالفقار علی بھٹو کی زیر قیادت انتخابی عمل میں موجود تھی۔ انہی دنوں اپوزیشن کا یہ الزام سامنے آیا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے الیکشن کا آغاز ہی دھاندلی سے کر دیا ہے اور امیرِ جماعت اسلامی سندھ مولانا جان محمد عباسی کو زبردستی اغوا کرکے کاغذات نامزدگی داخل کرانے سے روکا گیا ہے تاکہ ذوالفقار علی بھٹو کو بلامقابلہ لاڑکانہ کی نشست سے کامیاب کروایا جا سکے اور پھر الیکشن کی رات نتائج آنے کے بعد قومی اتحاد نے الزام لگایا کہ سرگودھا سے وفاقی وزیر ریلوے عبدالحفیظ چیمہ اور سندھ سے وفاقی وزیر عبدالحفیظ پیرزادہ کی نشستوں پر دھاندلی ہوئی اور ان دو حلقوں کے انتخاب کو کالعدم قرار دیا جائے۔ بھٹو اور اس کی پارٹی نے اپوزیشن کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا اور پھر بات یہاں تک پہنچی کہ 3دن بعد صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا اپوزیشن نے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا اور حکومت کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔ تحریک کے ابتدائی ایام میں اپوزیشن کا یہ مطالبہ تھا کہ مذکورہ تین قومی اسمبلی کے حلقوں سمیت پورے ملک میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات دوبارہ کرائے جائیں۔ دوسری طرف پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادی ہٹ دھرمی سے بضد رہے جس سے اپوزیشن کے مطالبات بڑھتے بڑھتے پورے ملک میں ازسرنوانتخابات تک جا پہنچے اور غیرملکی سازشوں اور سامراجی پشت پناہی سے اپوزیشن کی انتخابی اصلاحات کی تحریک رفتہ رفتہ تحریکِ نظام مصطفیٰ میں تبدیل ہو گئی۔ ملک بھر میں روزانہ کی بنیاد پر پرتشدد واقعات میں دونوں طرف سے کارکنان کی ہلاکتیں ہونے لگیں۔ جس کو بنیاد بنا کر ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور ،کراچی، راولپنڈی، فیصل آباد سمیت تمام بڑے شہروں کو فوج کے حوالے کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس دوران کچھ اندرونی اور بیرونی دوستوں کی مدد سے ذوالفقار علی بھٹو متحدہ اپوزیشن کے دوبارہ انتخابات کے مطالبے کو اصولی طور پر تسلیم کر چکے تھے (بقول پروفیسر غفور احمد) لیکن ایک تو بھٹو کی طرف سے قومی اتحاد کے مطالبات کو ماننے میں غیرضروری تاخیر برتی گئی اور دوسرا اس درمیان عسکری قوت کو سول مارشل لاء کے دوران اقتدار کا چسکا لگ چکا تھا اور وہ خالی ہاتھ بیرکوں کو نہ لوٹنا چاہتے تھے اور پھر انجامِ کار 5جولائی 1977ء کو پاکستان پر آمریت کی طویل سیاہ رات مسلط کر دی گئی اور اس آمریت کے دوران بوئے جانے والے پودے آج کانٹوں بھرے تن آور درخت بن چکے ہیں اور یقینا آج ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ ضیاء الحق کے دور کے ساڑھے گیارہ سال پاکستان کو 100سال پیچھے لے گئے ہیں۔ 5جولائی 1977ء کے بعد دو آمریتیں ملک پر مسلط ہوئیں اور تقریباً20سال تک جمہوریت کے نام پر خطرناک نتائج کے حامل تجربات کیے جاتے رہے۔ گذشتہ 37سالوں میں کم از کم دو انتخابات ملتوی کیے گئے جبکہ دو سیاسی پارٹیوں کو 4بار حکومت پوری نہ کرنے دی گئی۔ اور ملک کا سیاسی و انتظامی اور آئینی ڈھانچہ اس قدر نحیف کر دیا گیا کہ وہ اب تک اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ انتخابات 2008ء سے پہلے اسلامی دنیا کی پہلی وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی شہادت اور این آر او اور میثاق جمہوریت جیسے معاہدوں کی عالمی ضمانتوں کے بعد گذشتہ حکومت نے تو جیسے تیسے کرکے 5سال پورے تو کیے مگر بِکی ہوئی عدلیہ اور بے راہ رو بیوروکریسی کی موجودگی میں زرداری حکومت تقریباً ایک اپاہج اور مفلوج حکومت کا کردار ادا کرتی رہی۔ یہی وجہ تھی کہ ڈاکٹر طاہر القادری نے سیاسی جماعتوں اور عوام کومتنبہ کیا کہ ان کی سیاسی بصیرت یہ دیکھ رہی ہے کہ آنے والے انتخابات جو کہ موجودہ فرسودہ نظام کے تحت ہوں گے اور جن کے نتائج قوم کو مزید انتشار کی طرف دھکیل دیں گے۔ لیکن اس سے پہلے عمران خان جو 31اکتوبر2011ء کو لاہور میں ایک عظیم الشان جلسہ کر چکے تھے وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ عوام جس کے ساتھ ہوں اس کو شکست کیسے دی جا سکتی ہے اور پھر جنوری 2013ء کو ڈاکٹر طاہر القاری نے لاکھوں افراد کو اسلام آباد اکٹھا کرکے یہ پیغام جمہوری قوتوں اور اسٹیبلشمنٹ قوتوں کو پہنچا دیا کہ وہ ان کے پھیلائے ہوئے جال میں نہیں پھنسیں گے اور جلد ہی قوم ان کی کہی ہوئی باتیں یاد کرکے پشیمان ہو گی پھر چشم فلک نے یہ طرفہ تماشا دیکھا کہ الیکشن مئی2013ء میں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن، ایم کیوایم، اے این پی، جے یو ایف آئی، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف سمیت ہر کسی نے 11مئی کی رات کو نتائج آنے کے بعد دھاندلی کے الزامات کا شور مچایا لیکن جن قوتوں نے یہ ڈرامہ پلان کیا تھا انہوں نے کمال خوبصورتی سے چاروں بڑی سیاسی جماعتوں کو ایک ایک صوبے کی حکومتیں دے کر بچے کے منہ میں چوسنی دینے کی روایت پر عمل کیا۔ خود زرداری اور پی پی پی سندھ کے علاوہ پورے ملک میں بدترین شکست سے دوچار ہونے کے باوجود اس یقین اور ڈیل کے ساتھ نتائج کو طوہاً وکرہاً ماننے پر تیار ہو گئے کہ جب نوازشریف فیل ہو گئے تو اگلی باری پھر انہی کی ہے مگر گزشتہ 14ماہ میں بقول حسن نثار عوام کی چیختیں ہمالیہ کی چوٹیوں تک جا پہنچی ہیں اور عوام کے درد اور کرب کو برداشت سے باہر ہو جانے کے بعد جب عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے نظام کی تبدیلی کے لیے میدان میں کودنے کا اعلان کیا تو مسلم لیگ ن کی قیادت نے اپنے آقائوں کی طرح عوامی آوازوں کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کی اور لاہور اور اسلام آباد میں اپنے ہی نہتے شہریوں پر بربریت کے پہاڑ توڑ دیئے۔ ایک ہی دن میں 14لاشیں اور 100سے زائد انسانوں کو سیدھے فائر کرکے شدید زخمی کیا گیا۔یہی وجہ تھی کہ عمران خان سمیت پورا پاکستان یہ برملا کہتا ہے کہ آج نوازشریف کا دورآصف علی زرداری کے دور سے بدرجہ ہا ظلمت کا دور ہے۔ کم از کم ساڑھے گیارہ سال جیل کاٹنے کے بعد زرداری کے دور میں اپنوں پر تو ستم کیے گئے مگر دیگر سیاسی جماعتوں کے کسی ایک بھی فرد کو گرفتار نہیں کیا گیا اور آج آصف زرداری کی کرپشن نوازشریف اور رفقاء کی کرپشن کے مقابلے میں لالی پوپ ہے۔ 67سالہ ملکی تاریخ میں ریاست نے اپنے ہی شہریوں پر اتنا ظلم آج تک نہیں کیا، پہلی دفعہ خواتین کے جبڑوں پر گولیاں ماری گئیں75اور 80سالہ باریش بزرگوں کو خون میں نہلایا گیا اور اب گذشتہ چند دنوں سے ملک بھر میں عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے ہزاروں کارکنان کو اغوا کرکے نامعلوم مقامات پر رکھ دیا گیا ہے۔ لاکھوں موٹر سائیکلوں ،ہزاروں گاڑیوں اور بسوں کو بمع ڈرائیوران ملک کے طول و عرض میں موجود کھیل کے میدانوں میں جمع کر لیا گیا ہے،ماڈل میں عوامی تحریک کے سیکرٹریٹ کے راستے کنٹینروں سے بند کردیئے گئے ہیں۔نوازشریف یہ بھول گئے ہیں کہ ان کے سیاسی آقا ضیاء الحق بھی کوڑوں اور قلعوں اور پھانسیوں کی سزائیں دے کر عوامی انقلاب کا رستہ نہیں رو سکے تھے۔اب 1977ء نہیں2014ء کا دور ہے ملکی اور عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا کی موجودگی میں ظلم کے پہاڑ توڑ کر نوازشریف کونسی جگہ جا کر چھپنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔اب تو سنا ہے کہ جدہ بھی محفوظ پناہ گاہ نہیں رہی۔1977ء کے واقعات اور آج کے حالات میں بہت سی مماثلت تلاش کی جا سکتی ہے کل بھی ایک ضد نے پھانسی تک پہنچایا اور آج کی ضد کا نہ جانے کیا انجام ہوگا۔ 9اگست2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus