×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
زرداری کی امریکہ یاترا۔ سکینڈل اور انکشافات!
Dated: 05-Aug-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com یہ اُن ایام کی بات ہے جب بش جونیئر پہلی بار امریکی صدارتی انتخاب میں جیت چکے تھے۔ میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ہمراہ کچھ طے شدہ ملاقاتوں اور ایک یونیورسٹی میں محترمہ کے لیکچر کے سلسلے میں امریکہ کے دورے پر تھا۔ محترمہ کی مصروفیات سے فارغ ہوئے تو مجھے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے ایک دوست کا فون آیا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی کچھ اور ملاقاتوں کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔ محترمہ کی طرف سے رضامندی کا اشارہ ملنے کے بعد میں نے متعلقہ دوست کو ہاں کر دی۔ تھوڑے ہی وقت کے بعد اس کی دوبارہ کال آئی کہ واشنگٹن کے مضافات میں ایک پاکستانی نژاد امریکی دوست کے ہاں فلاں دن فلاں ٹائم ملاقات کا وقت طے پایا ہے۔ میں محترمہ کے ہمراہ جب مقرر ایڈریس پر پہنچا تو میرا دوست اپنے میزبان کے ساتھ مرکزی دروازے پر ہمارا انتظار کر رہے تھے، وہ میزبان ڈاکٹر رفعت تھے ،جنہوں نے اپنا تعارف ڈاکٹر ’’رے‘‘ کے نام سے کروایا۔ تعارف اور باتوں کا سلسلہ شروع ہواتو ڈاکٹر رفعت نے مجھے بتایا کہ ان کا آبائی تعلق فیصل آباد کے ایک نواحی گائوں سے ہے اور وہ روزی روٹی کی تلاش میں امریکہ آئے تھے اور انہیں امریکہ آئے 30سال سے زائد عرصہ گزر چکا تھا۔ ڈاکٹر رفعت نے اپنی ترقی کی منازل طے کرنے کی داستان سناتے ہوئے کہا کہ 30سال پہلے انہوں نے گیس اسٹیشن (پٹرول پمپ) پر ملازمت کی تھی اور آج ان کے ہزاروں پٹرول پمپس امریکہ کی 52ریاستوں میں موجود ہیں۔ کسی بھی طریقے سے انہوں نے جارج واشنگٹن جھیل کے کنارے بنے ہوئے امریکہ کے بانی صدر جارج واشنگٹن کی آبائی رہائش گاہ کو بیس ملین ڈالر میں خرید لیا تھا اور اب ہر نیا منتخب امریکی صدر اس گھر میں آنا اپنے فرائض کا حصہ سمجھتا ہے ۔ ڈاکٹر رفعت اور ان کی بے حد ملنسار اہلیہ شائستہ رفعت کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ منتخب امریکی صدر کم از کم ایک بار ان کے ہاں ضرور آتے تھے تو ان کی میزبانی کرتے تھے ۔۔ ۔۔اسی دوران امریکی وزیر صحت اور وزیر زراعت اور دو تین امریکی سفیر جو دیگر ملکوں میں تعینات تھے، پہنچ چکے تھے۔ محترمہ کے اعزاز میں لنچ کا اہتمام تھا اور سیاسی معاملات پر میٹنگ تھی۔ یہ گھر ایک عالیشان محل سے کم نہ تھا اور پرشکوہ اس حد تک تھا کہ انسان سوچتا رہ جاتا تھا۔ ڈاکٹر رفعت نے مجھے بتایا کہ مشہور انڈین جلاوطن راہنما گنگا سنگھ ڈھلوں بھی ان کے پڑوس میں رہائش پذیر تھے، چونکہ میں محترمہ کے ساتھ تھا اور ڈاکٹر رفعت اور میرے مشترکہ دوست نے کچھ ایسا تعارف کروایا تھا کہ میں اور ڈاکٹر رفعت جلد ہی دوست بن گئے۔ اتنی اچھی ملاقاتوں کے بعد محترمہ بہت خوش تھیں۔ انہوں نے بیگم ڈاکٹر رفعت کو آفر بھی کر دی کہ اگر وہ پاکستان کی سیاست میں دلچسپی رکھتی ہیں تو شائستہ رفعت کو سینیٹر بھی بنایا جا سکتا ہے جبکہ ڈاکٹر رفعت ان دنوں اس چکر میں تھے کہ ا ن کی بیگم کو امریکی سینٹ کی سیٹ مل جائے گی۔وقت یونہی گزرتا رہا ،میں محترمہ کے ساتھ امریکی دوروں پر جاتا رہا، پاکستان میں بحالی جمہوریت اور سینیٹر آصف علی زرداری کی رہائی ہماری ملاقاتوں اور کاوشوں کا محور تھا پھر محترمہ کی شہادت تک میرا ڈاکٹر رفعت اور بیگم شائستہ رفعت سے رابطہ اور تعلق رہا مگر جیسے ہی ان کو پتہ چلا کہ محترمہ کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری سے اور ان کی ٹیم سے میرا تعلق اتنا مضبوط نہیں رہا تو تعلقات میں سردمہری آنے لگی جو کہ میری نظر میں ایک فطری امر تھا ۔ پھر اچانک چند روز پہلے میں ٹی وی چینل پر ایک تصویر دیکھ کر حیران رہ گیا ،تصویر میں ڈاکٹر رفعت آصف علی زرداری اور امریکی نائب صدر جوبائیڈن کے ساتھ نظر آ رہے تھے اور پھر نیوز کا سراغ لگایا تو پتہ چلا کہ وزیراعظم نوازشریف کی درخواست پر سابق صدر آصف علی زرداری کو امریکہ بھیجا گیا ہے تاکہ وہ امریکی حکومت کو ’’این آر او‘‘ کی اس شق کی یادداشت کروائی جائے جس کے مطابق پاکستان آرمی کو پابند کیا گیا تھا کہ آئندہ 15سال ملک میں مارشل لاء نہیں لگے گا۔ بقول ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا سے بھی یہ بیان دلوایا گیا۔ تاثر دیا گیا کہ جنرل کیانی نوازشریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ ہوا تھا۔ مجھے کڑی سے کڑی ملانے میں ذرا دیر نہ لگی میں نے اسی وقت امریکہ میں موجود اپنے دوست کو جو اب بھی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا اعلیٰ ذمہ دار ہے، سے رابطہ کیا تو مجھ پر ایسے انکشافات افشاء ہوئے جنہیں میں قارئین نوائے وقت کے ساتھ ’’بریکنگ نیوز‘‘ کے طور پر شیئر کر رہا ہوں۔ دراصل ہوا یوں کہ جب سابق صدر کو امریکہ یاترا اور ٹاسک دیا گیا تو انہوں نے ڈاکٹر رفعت سے رابطہ کیا اور کسی امریکی آفیشل سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا اور ڈاکٹر رفعت نے میرے امریکی دوست سے رابطہ کیا اور پیشکش کی کہ اس سال انٹرفیتھ کے سلسلے میں ہونے والی میٹنگ کی وہ میزبانی اپنے جارج واشنگٹن والے گھر پر کرنا چاہتے ہیں، اگر کوئی امریکی سیکرٹری خارجہ یا نائب صدر تشریف لے آئیں تو بہتر ہو گا۔ میرے اس دوست نے ڈاکٹر رفعت کو یہ پروگرام ہوسٹ کرنے کی اجازت دے دی اور نائب امریکی صدر جوبائیڈن سمیت متعدد سٹیٹ سیکرٹریوں اور عہدے داروں کو مدعو کر لیا کہ جارج واشنگٹن کے آبائی گھر پر بین المذاہب کھانے کا اہتمام کیا گیا ہے دیگر ملکوں کے سفیروں اور بین المذاب تنظیموں کو بھی دعوت دی گئی۔ دنیا بھر سے بین المذاہب کے علمبرداروں کے راہنمائوں نے اس پروگرام میں شرکت کی۔ عشایئے کے دوران جوبائیڈن سے ڈاکٹر رفعت نے درخواست کی کہ پاکستان سے آنے والے سابق صدر آصف علی زرداری سے مختصر ملاقات کر لی جائے چونکہ یہ ملاقات شیڈول نہیں تھی اس لیے جوبائیڈن نے معذرت کر لی اور کھانے کے دوران محض ایک تصویر بنوانے پر اکتفا کیا۔ لیکن پاکستان میں بکائو میڈیا پر اس خبر کو توڑ موڑ کر پیش کیا گیا اور امریکی نائب صدر کی جانب سے آصف علی زرداری کے اعزاز میں افطار ڈنر دینے کی تشہیر کی گئی جبکہ میری اطلاع کے مطابق ایک طرف تو ملاقات نہ ہونے پر آصف علی زرداری ڈاکٹر رفعت سے خفا ہو گئے ہیں اور دوسری طرف امریکہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے سابق صدر کو کھرا جواب دے دیا ہے کہ چونکہ موجودہ حکمران اور سابقہ پاکستانی حکومت آئین کی شق 18کو آئین کا حصہ بنا چکے ہیں، جس سے نہ صرف این آر او قصہ پارینہ بن چکا ہے بلکہ امریکہ بھی اب ثالثی پر آمادہ نہیں ہے۔ دوسری طرف وزیراعظم نوازشریف ، مولانا فضل الرحمن کو ساتھ لے کر جدہ گئے ہیں اور شاہ عبداللہ سے درخواست کی ہے کہ ان کی ڈوبتی نائو کو بچانے کے لیے کردار ادا کریں۔ سابق صدر کو کھرا امریکی جواب ملنے کے بعد اب سعودیہ بھی اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ اندرونی خلفشار اور عراق اور شام میں داعش کی بڑھتی ہوئی قوت اور سعودی عرب کی سرحدوں کو لاحق خطرات کی موجودگی میں نوازشریف کو کوئی مثبت ضمانت دے سکیں۔ ہمارے دوست جناب صفدر عباسی کی والدہ بیگم اشرف عباسی جو پیپلزپارٹی کی رہنما تھیںاور قومی اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر رہیں،لاڑکانہ میں انتقال کر گئیں۔مرحومہ ایک منجھی ہوئی سیاستدان تھیں۔جمہوری اور پارلیمانی اقدار کے فروغ کے لیے بیگم اشرف عباسی نے گرنقدار خدمات سرانجام دیں۔سیاست میں ان کا خلا مدتوں پُر نہیں ہوسکے گا۔خدا مرحومہ کی مغفرت،صفدر عباسی، منور عباسی، ناہید خان اور دیگر لواحقین کو صبرجمیل عطا فرمائے۔ 5اگست2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus