×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
آئندہ چوبیس گھنٹے!
Dated: 19-Aug-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com قارئین جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں گے اس وقت انقلاب الٹی میٹم کو گزرے کچھ گھنٹے ہو گئے ہوں گے جبکہ سونامی الٹی میٹم کی ڈیڈلائن ختم ہونے کو ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے حکومت وقت کو 48 گھنٹے کی ڈیڈلائن دی تھی اور عمران خان نے ایک دن بعد اسی حکومت وقت کو 48گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی۔ میرے سمیت 20کروڑ پاکستانیوں کو یہ حیرت اور تعجب ہوا کہ مذکورہ دونوں قائدین اپنی گھڑیاں ایڈجسٹ کیوں نہیں کر لیتے۔ یعنی ایک 12گھنٹے آگے اور دوسرا 12گھنٹے پیچھے آ جائے تو قوم ایک ذہنی کوفت سے بچ سکتی تھی۔ 17جون کے سانحے کے بعد پاکستانی قوم ذہنی طور پر جس کرب سے گزر رہی ہے اور اس دوران جو مزید حادثات ہوئے اور انقلاب اور آزادی مارچ مصائب کے پلوں کو کراس کرکے اسلام آباد پہنچے۔ اس دوران ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے انتہائی تدبر اور منجھے ہوئے سیاست دان اور قائد کا رول ادا کیا چونکہ ڈاکٹر صاحب کو پچھلے کچھ عرصے سے پہ در پہ واقعات نے یہ بات سمجھا دی کہ حکومت اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے اس لیے انہیں اپنے ہدف تک پہنچنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ راستے میں ہزاروں افراد کے ہم رقاب ہونے کے باوجود انہوں نے اپنا وقت ضائع نہیں کیا جبکہ عمران خان کا ایک ریلی کو لیڈ کرنا پہلا اتفاق تھا۔ یہی وجہ ہے کہ زمان پارک سے گوجرانوالہ تک پہنچنے میں 27گھنٹے لگے اور پھر 7گھنٹے غیر ضروری طور پر گوجرانوالہ جیسے حساس مقام پر قیام کرنا دراصل ’’آ گلو مجھے مار‘‘ کے مترادف تھا۔ اس غیرضروری قیام اور ریلی پر حملے کے وہی نتائج برآمد ہوئے جو الیکشن 11مئی 2013ء سے صرف 2دن پہلے زخمی ہو جانے کی وجہ سے ہوئے تھے۔دراصل نوعمر جانثار اپنے قائد کی سیکیورٹی پر توجہ دینے کی بجائے ہر وقت انٹرٹینمنٹ میں خوش رہتے ہیں اور یہ بھی عجب اتفاق تھا جب دونوں ریلیاں اسلام آباد پہنچیں تو بارشوں کا سیزن شروع ہو چکا تھا مگر آفرین ہے ان لاکھوں شرکاء پہ جنہوں نے اپنے قائدین کی آواز پہ لبیک کہتے ہوئے اس پُرخطر مہم میں نہ صرف حصہ لیا بلکہ تادمِ تحریر ڈٹے ہوئے بھی ہیں۔ اس دوران سیشن کورٹ لاہور کی طرف سے سانحۂ ماڈل ٹائون جوڈیشل انکوائری کی روشنی میں فیصلہ آ گیا کہ شریف برادران سمیت 21وزراء اور ذمہ داران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم آ گیا جس سے اقتدار کے ایوانوں میں خوف اور ہلچل کو محسوس کیا گیا۔ لیکن ریلیوں کے قائدین کو اس سلسلے میں ایک ناخوشگوار تجربہ اس وقت ہو چکا ہے جب 2013ء میں الیکشن سے پہلے ڈاکٹر طاہر القادری کے اسلام آباد ھرنے کو اس وقت کے چیف جسٹس نے کمال ہوشیاری سے ایک دوسری طرف رخ موڑ دیا تھا۔ 17اگست کے روز اسلام آباد میں جمع ہونے والا اجتماع عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری سے بے شمار توقعات وابستہ رکھتا ہے اور جب عمران خان نے دھرنے کو 7،5،3 اور 2یوم پر مزید چلنے کا کہا تو لاکھوں جانثاروں کو مایوسی ہوئی اور انہوں نے احتجاج بھی کیا۔ مجھے اس وقت عمران خان اس قالین بیچنے والے کی طرح لگے جو قالین کی قیمت 10ہزار بتا کر آکر میں 2سو روپے میں بیچ دیتا ہے اور سول نافرمانی کا اس وقت ان حالات میں اعلان کرنا میری کچھ سمجھ میں نہیں آیا کیونکہ اصولی طور پر تو سول نافرمانی اسی دن شروع ہو گئی تھی جس دن ان دونوں پارٹیوں نے حکومت وقت کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا تھا اور 17اگست کو سول نافرمانی کا اعلان درحقیقت ایسے ہی ہے جیسے ایک لبِ جان مریض جس کو لائف سیونگ ڈرگ کی ضرورت ہے اس کا ہومیوپیتھک علاج تجویز کر دیا جائے۔حقیقت میں دونوں پارٹیوں کے کارکنان اس وقت مکمل چارج ہوئے ہیں اور وہ اپنے قائدین کے ایک اشارے پر کسی بھی دیوار، پہاڑ سے ٹکرانے کا عزم رکھتے ہیں مگر اب یہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی لیڈرشپ پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح حکمت عملی اپنا کر عوامی جذبات اس سمندر کا رخ موڑتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری سے بات ہوئی تو انہوں نے تمہید سے یہ بتلایا کہ وہ ریاستی اداروں کے ساتھ الجھ کر انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ایک منہاجین کا خون بھی ایک پویس اہلکار کی ہی طرح قیمتی ہے اور کسی بھی ناگہانی صورت حال میں یا ٹکرائو کی صورت میں نقصان تو پاکستان کا ہی ہوگا اور بالکل ایسے ہی خیالات کا اظہار عمران خان نے بھی اپنے گذشتہ خطاب میں کیا مگر ایوانِ اقتدار پہ قابض طبقہ نے اس صورتِ حال کو ایموشنل بلیک میلنگ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور وہ ایک دفعہ پھر مظلومیت کے کندھوں پر سوار ہو کر اپنے جرائم اور لوٹ کھسوٹ پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ ملک کی 67سالہ تاریک میں وطن عزیز نے سول و عسکری مارشل لاز دیکھے ہیں اور کوئی بھی اہل بصیرت اور دردِ دل رکھنے والا پاکستانی ملک کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اس بات کی توقع نہیں رکھتا کہ پاکستان ایک دفعہ پھر خدانخواستہ ایسے کسی ایڈونچر کا متحمل ہو اور شاید وطن عزیز کی عسکری قیادت کو بھی اس بات کا ادراک ہے وگرنہ آج سٹیج پر جس طرح شیخ رشید آسمان کی طرف منہ کرکے اللہ رب العزت سے دعا مانگ رہے تھے کہ کوئی قوت یا فرشتہ آئے جو وطن عزیز کو درپیش ان مشکلات سے نجات دلائے۔ حکومت نے بھی بقول الطاف حسین بھائی بہت دیر کر دی اور کوئی سنجیدہ کوشش نہ کی جاسکی کہ حکومت اور حکومت مخالف پارٹیوں کو ایک میز پر لایا جا سکے۔ دراصل مسلم لیگ ن اپنی ہی بی ٹیم جماعت اسلامی اور اس کے امیر سراج الحق پر انحصار کرتے رہے کہ وہ خیبرپختونخواہ کی حکومت میں کولیشن پارٹنر ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف کی قیادت کے ساتھ کوئی بڑابریک تھرو دے سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے اس سیاسی چپقلش کے دوران اپنے سیاسی قد اور امیج کو بہتر کرنے کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے لیکن وہ اب کی بار ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کو رام کرنے میں ناکام رہے ہیں جبکہ اس دوران ملک کی سابقہ بڑی جماعت پیپلزپارٹی اور شہری سندھ میں اسٹیک ہولڈر ایم کیو ایم کی قیادت دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ میرے ذاتی تجزیہ کے مطابق انقلاب اور سونامی قیادت نے جب کوئی سخت فیصلہ لینے کا سوچا جس سے سیاسی درجہ حرارت بڑھ جائے گا اور یہی وہ وقت ہو گا جب پی پی پی اور ایم کیو ایم اس موومنٹ کو جوائن کر لیں گی۔ میری پی پی پی اور ایم کیو ایم کی قیادت کے ساتھ بات ہوئی تو تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ ان کا موقف تقریباً ایک جیسا تھا وہ ’’بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ‘‘ کیوں بنیں۔ مسلم لیگ ن کی قیادت کے لیے ستارے کچھ ٹھیک نہیں چل رہے۔ سعودی عرب کے حکمرانوں نے اپنی اندرونی مجبوریاں بتا کر بے حسی اور لاتعلقی کا پیغام دیا ہے جبکہ امریکہ بہادر ہمیشہ کی طرح جیتنے والی پارٹی کے ساتھ ہوگا یہی وجہ ہے کہ شریف برادران کے خاندان کی اندرونی کہانی یہ ہے کہ کوئی بھی قربانی دینے کو تیار نہیں اور باہمی اعتماد کا اس قدر فقدان ہے کہ ’’پہلے تم، پہلے تم‘‘ کا رویہ اپنایا جا رہا ہے ۔ حکمرانوں کے رخت سفر کا وقت آن پہنچا ہے اور ان حالات میں گذشتہ سے پیوستہ ’’24گھنٹے‘‘ بہت اہم ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کے پاس کوئی دوسری آپشن شاید نہیں بچی اور اب انہیں فائنل کال دینی ہو گی۔ 19اگست2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus