×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ایمپائر سب دیکھ رہا ہے!
Dated: 23-Aug-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com اب خوبصورت الفاظ جذباتی جملوں سے بات نہیں بنے گی، اب طرفین کو دلیل سے بات کرنا ہو گی۔ حکومت گرانے اور حکومت بچانے کا معرکہ کچھ ایسا بھی آسان نہیں، یہ الفاظ میرے دانشور دوست جھورے جہاز کے منہ سے ادا ہو رہے تھے۔ وہ پوچھ رہا تھا وڑائچ صاحب اب کیا ہوگا؟ میں نے اسے کہا یہ ایک نفسیاتی جنگ ہے جس کو انا کا تڑکا لگ چکا ہے ۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ سول و ملٹری آمروں نے عوام کو خوش کرنے کے لیے کبھی استعفے نہیں دیئے، صرف پاکستان کی گذشتہ 67سالہ تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو بھی یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اب تک کسی حکمران نے بھی اقتدار کو ایک بھاری ذمہ داری سمجھتے ہوئے اس سے جان چھڑانے کی کوشش نہیں کی بلکہ اس کانٹوں بھرے ہار کو گلے سے لگانے میں ہی عافیت جانی۔ پاکستان کے موجودہ نازک حالات میں ایک بات تو کنفرم ہے کہ اب پاکستان میں آفیشل اپوزیشن کا کردارادا کرنے والا موجود نہیں۔ سرکاری حزب اختلاف کا حال یہ ہے کہ اس کا سربراہ ایک بے چارہ وہ شخص ہے جس نے اپنے کیریئر کا آغاز واپڈا میں میٹر ریڈر کلرک سے کیا اور وہ شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بن کر اس جمہوریت کو بچانے کی بات کرتا ہے، جس جمہوریت کے ہاتھوں اس کی اپنی پارٹی زخم خوردہ ہے۔ جمہوریت کے ان چیمپئنز کی مختصر سی داستان ’’نوائے وقت‘‘ کے قارئین کے لیے حاضر ہے۔ محترم آفتاب شیرپائو صاحب پیپلزپارٹی کے تینوں ادوار انجوائے کرتے رہے۔ مشرف کے آنے پر ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے، احتساب سیل سے ڈیل کرکے واپس آئے اور پھر ملک کے وزیر داخلہ بنا دیئے گئے۔ 2008ء کے الیکشن کے بعد خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی کے کولیشن پارٹنر بنے اور دو وزارتیں حاصل کیں مگر اپنے وزیروں کی کرپشن کی تیز رفتاری کی وجہ سے کرپشن کے الزامات کی بنیاد پر کے پی کے کی کابینہ سے نکال دیئے گئے۔ تب سے موصوف عمران خان کی مخالف صف میں جا کھڑے ہوئے۔ اب آتے ہیں نشانِ جمہوریت محموداچکزئی کی طرف جنہوں نے ساری عمر جمہوریت کی سفید چادر اوڑھے رکھی اور اب ان کی موجودہ پوزیشن یہ ہے کہ خود وزیراعظم کے مشیر خاص، حقیقی بھائی محمد خاں اچکزئی گورنر بلوچستان جبکہ دیگر دو بھائی حمید خاں اور مجید خاں اچکزئی ایم پی اے، بیوی کی بھابھی سپوزمئی اچکزئی ایم پی اے، بیوی کی بہن لبیمہ ایم این اے، بیوی کا بھائی قاضی خاں کوئٹہ ایئرپورٹ کا منیجر، بیوی کا دوسرا بھائی حسن منظور ڈی آئی جی موٹروے پولیس، بیوی کا کزن قاضی جمیل بلوچستان یونیورسٹی کا رجسٹرار ہے اور یوں موصوف نے پوری جمہوریت کو سسرال بنا لیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن عظیم باپ کے فرزند مگر اقتدار کا چسکا ایسا لگا کہ پچھلے 30سال سے وزارت امور کشمیر اور اس کی چیئرمینی اور محکمہ اوقاف پر اپنے خاندان کا ذاتی حق سمجھتے ہیں۔ مولانا صاحب کے گھر کا کوئی مرد اور کوئی عورت ایسی نہیں جو ایم این اے اور ایم پی اے اور سینیٹر نہ ہو اور مولانا ڈیزل کا ایسا لقب پایا کہ جمہوریت اور جمہور پریشان ہو کر رہ گئے۔ جمہوریت کے ایک اور چیمپئن اور دعویدار آصف علی زرداری بھی ہیں جن کے والد محترم اپنی ساری عمر عوامی نیشنل پارٹی کے نائب صدر کی حیثیت سے گزار کر ا یک دفعہ کونسلر بھی نہ بن سکے مگر بیٹے کو جمہوریت کا ایسا تڑکا لگا کہ شہید محترمہ بی بی کے دونوں ادوار میں جبراً وفاقی وزیر بن کر دونوں ہی دفعہ حکومت کے ٹوٹنے کا موجب بنے اور محترمہ کی شہادت کی دیر تھی کہ ایک جعلی وصیت نکال کر جس پارٹی میں وہ سی ای سی کے ممبر بھی نہیں تھے اس کے سربراہ بن بیٹھے۔ الیکشن میں اپنی سب بہنوں، بہنویوںکو پارلیمنٹ کا رکن بنایا حتی کہ منہ بولے بھائی کو بھی اسمبلی میں لے آئے اور وزیر بنا دیا۔ قارئین ان حقائق کی روشنی میں کوئی یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ اسلام آباد کو اپنے باپ کی میراث سمجھنے والے چند سو خاندان جن کے القاب مخدوم، نواب، وڈیرے، لغاری، مزاری، ملک، ٹوانے، تالپور، دریشک، خواجے اور میاں سے شروع ہوتے ہیں کبھی بھی کسی موچی، لوہار، ترکھا، درزی، حجام، کمہار وغیرہ کی اولاد کو پارلیمنٹ ممبر تو دور کی بات ان کے اسلام آباد آنے پر بھی خفا ہیں۔ گذشتہ روز وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ مارچ کے شرکاء کی وجہ سے اسلام آباد میں تعفن اور بدبو پھیل گئی ہے۔ ان امیرزدوں کو جن کے اسلام آباد میں کوٹھیاں اور بنگلے ہیں اور ایک مربہ میٹر جگہ جس شہر میں کروڑ روپے سے بھی زیادہ ہے وہ کیسے ان غریبوں اور غلاموں کو اسلام آباد میں برداشت کر سکتے ہیں۔ یہ مفاد پرست طبقہ تو دوران الیکشن بھی کچی آبادیوں اور جھونپڑیوں میں جا کر ووٹ مانگنا بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں اور اس مروجہ کام کے لیے انہوں نے شہرشہر گلوبٹ، پومی بٹ، بلو بٹ پال رکھے ہیں جو انتخابات کے نتائج کو ان کی مرضی اور منشا کے مطابق تیار اور تبدیل کرتے ہیں۔ خود موجودہ حکمران خاندان کے 26افراد اس قومی ،صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے ممبران ہیں جبکہ خاندان کے دیگر سینکڑوں لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز کیے گئے ہیں اور یہی وہ حالات ہیں کہ جن سے کسی ملک میں تحریکیں اور انقلاب جنم لیتے ہیں۔ ان لوگوں نے عالمی سیاسی اور حکمران برادری میں بھی اپنے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے ذاتی دوستی نما رشتے بنا رکھے ہوتے ہیں اور جب وہ اندرونی دبائو محسوس کرتے ہیں تو بیرونی ہاتھ ان کو بچانے کے لیے نکل پڑتے ہیں۔ دوبئی، سعودی عرب ،برطانیہ، ترکی ا ور امریکہ تک کے حکمران ان کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں۔ کبھی ترکی کی حکومت جمہوریت کو قابل ستائش قرار دیتی ہے، کبھی سعودی سفارت خانہ حمایت کا یقین دلاتا ہے اور کبھی امریکی وزارتِ خارجہ کا کوئی اعلیٰ افسر ان لوگوں کے اقتدار کو ڈانواڈول سے بچانے کے لیے اعلامیہ جاری کرتا ہے جب پھر بھی اندرونی تپش اور دبائو اور سیاسی درجہ حرارت میں کمی نہ آئے تو ان کی نظریں ہمارے ازلی دشمن بھارت کی طرف اٹھ جاتی ہیں اور وہ نریندر مودی کو یہ پیغام بھیجنے میں ذرا دیر نہیں لگاتے کہ پاکستان کی فوج جو اقتدار کی جنگ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہے کو سرحدوں پر حالات کشیدہ کرکے ان کے اقتدار کو سہارا دیا جائے اور کچھ بعید نہیں یہ اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے اسرائیل تک کو دعوت دے دیں۔ قارئین! ان مجوزہ حالات و واقعات کی روشنی میں سیاسی میچ میں جب سارے ضابطے اور قوانین بالائے طاق رکھ دیئے جائیں تو پھر کونسی ایسی قوت ہے جو ایک طاقتور ایمپائر کا رول ادا کر سکے؟ کوئی مانے یا نہ مانے 20کروڑ عوام پاکستان کاامن، خوشحالی اور جمہوریت بحال کرنے کے لیے ’’ایمپائر‘‘ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ابھی ڈاکٹر طاہر القادری سے ٹیلی فون پر بات ہوئی اس عمر اور ان حالات میں جبکہ وہ پچھلے 2ماہ سے شدید ذہنی دبائو اور ریاستی جبر میں سے گزر رہے ہیں۔ درجنوں کارکنوں کی شہادتوں، سینکڑوں زخمیوں اور ہزاروں گرفتار ساتھیوں کا غم اور کرب وہ چہرے سے عیاں نہیں ہونے دیتے۔ تاریخ اسلام میں ایسے بہت کم سپہ سالار گزرے ہیں جو اس مردِ آہن جیسا حوصلہ رکھتے ہوں یقینا پاکستان کو ایک ایسے ہی باہمت باکردار قائد کی ضرورت ہے۔ 23اگست2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus