×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
طبقاتی عید
Dated: 06-Oct-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com عید کے دن محسن انسانیت نبی آخرالزمان ﷺنماز کی ادائیگی کے لیے گھر سے روانہ ہوئے، راستے میں کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بچہ رو رہا ہے۔ آپﷺ نے بچے سے پوچھا کہ وہ کیوں رو رہا ہے؟ بچے نے جواب دیاکہ وہ یتیم اور مسکین ہے ،اس کے پاس نہ ہی نئے کپڑے اور جوتے ہیں۔ رسالت مآب ﷺکو رحم آیا اسی وقت بچے کو ساتھ لیا اس کے لیے نئے کپڑوں اور جوتے کا انتظام کیا۔ جبکہ آج حالات یہ ہیں ڈیڑھ سو ارب مسلمانوں کی بات کیا کریں صرف پاکستان کی بیس کروڑ آبادی نے مذہبی تہواروں کو طبقات میں تقسیم کر دیا ہے۔ قارئین گذشتہ عیدالفطر پہ میں نے ایک سروے کی بنیاد پر تجزیاتی کالم نوائے وقت کے لیے تحریر کیا تھا کہ کس طرح مسلمان تاجر عید کا چاند نظر آتے ہی اپنی چھریاں تیز کر لیتے ہیں۔ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کرکے مال بنایا جاتا ہے مگر یورپ،امریکہ، کینیڈا کے سٹورز کے کافر مالکان رمضان سے قبل ڈسکائونٹ پرائس کا اعلان کرتے ہیں جبکہ انہی ممالک میں مسلمان سٹورز مالکان قیمتیں بڑھا کر ہمیں مسلمان ہونے کی سزا دیتے ہیں۔ مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ عیدالاضحی سے چند روز پہلے بکرے کا گوشت600روپے کلو اور بچھڑے کا گوشت 300 روپے کلو ملتا ہے مگر قربانی کے لیے جانور خریدیں تو آپ کو بکرے کا گوشت 2000روپے کلو اور بچھڑے کا گوشت 1000 روپے کلو میں پڑتا ہے؟ جبکہ عیدین کے تین دنوں کے بعد قیمتیں پھر واپس اپنی جگہوں پہ واپس آ جاتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مسلمان ممالک اور دنیا بھر میں مسلمان تاجران ہمارے مذہبی جذبات کو ایموشنل بلیک میل کرتے ہیں اوراپنی تجوریاں بھرتے ہیں۔ مذہب اور ملت کے نام پر قوم کو لوٹنے والے طبقے نے ہر شعبہ ہائے زندگی میں اپنے خون آشام پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ میری نظر میں آج ہمارا معاشرہ تین طبقات میں تقسیم ہو چکا ہے۔ پہلا طبقہ وہ ہے جو ہمیشہ قربانی دیتا ہے،دوسرا طبقہ وہ ہے جو قربانی کے نتائج کے ثمرات سمیٹتا ہے اور تیسرا طبقہ وہ ہے جو قربانی دینے والوں کا انتظام کرتا رہتا ہے ۔اگر پاکستان کی سیاسی،سماجی ناانصافیوں کا بغور جائزہ لیاجائے تو آپ کو نظر آئے گا کہ وطن عزیز میں قدم قدم پر احساس ہوتا ہے کہ آپ کا تعلق کس طبقے سے ہے، آپ کی کونسی کلاس ہے ؟ حتیٰ کہ ہمیں تعلیم بھی طبقاتی تقسیم کے نام پر دی جاتی ہے۔ ایک طبقے کو انگلش میڈیم پڑھایا جاتا ہے جہاں کا نصاب یورپ اور امریکہ سے مسابقت رکھتا ہے جبکہ دوسرا بہت بڑا طبقہ گورنمنٹ کے پبلک سکولوں میں پڑھتا ہے، جہاں نصاب کیا خاک ہوگا سکولوں کی چاردیواری تک نہیں ہوتی اور تیسرا طبقہ جس کے بچوں کو مدرسوں میں تعلیم دی جاتی ہے، جہاں سے پڑھ کر بچہ زیادہ سے زیادہ کسی مسجد کے مولوی بننے کے لیے کوالیفائی کرتا ہے۔قربانی تعلیم کے بعد اب آتے ہیں عدل و انصاف کی طرف جہاں آجکل یہ محاورہ بہت مقبول ہوا ہے کہ آپ اچھا وکیل نہیں اچھے ایفورڈ ایبل جج کو خرید لیں۔عدل و انصاف کے محکمے میں بھی طبقاتی تقسیم کی مکمل اجارہ داری ہے ۔ حکمران بزنس مین طبقات نے اپنے بیٹے بیٹیوں کی شادی عدلیہ سے منسلک خاندان میں کی ہوتی ہے۔ اس ملک میں غریبوں کے مقدمات عدالتوں کے سلیفوں اور الماریوں میں پڑے دیمک کی خوراک بن جاتے ہیں جبکہ مضبوط سیاسی بیک گرائونڈ رکھنے والے اور بیوروکریسی سے تعلقات رکھنے والوں کو پہلی پیشی پر ہی اپنے مطلب کا انصاف مل جاتا ہے۔ موجودہ حکمران خاندان نے اپنے اوپر قائم 141کیسوں کو اپنی مرضی کے فیصلے کروا کر ختم کروا لیا جبکہ اپوزیشن کے قائد زرداری اور ان کے رفقاء کو بھی اب تک چھیڑا نہیں گیا۔ اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انصاف اور عدلیہ ان کے گھر کی لونڈی بنی ہوئی ہے ۔تو گویا عدلیہ اس طبقاتی تقسیم میں ایک ایلیٹ کلاس کا سلوگن بن چکی ہے۔ سماجی ویلفیئر وسائل کی نامنصفانہ تقسیم اس بات کی غماز ہے کہ وطن عزیز میں نچلے طبقات کی حیثیت ’’شودر‘‘ جیسی ہے۔ چھوت چھات کے اس سماج میں غریب کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہیں۔ غریب کی بیٹیاں جہیز نہ ہونے سے ان کے بالوں میں چاندنی بابل کی دہلیز پر ہی آ جاتی ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ ان کا قول ہے ’’کفر کا دور تو چل سکتا ہے مگر ناانصافی کا نظام نہیں چل سکتا۔‘‘ 17جون سانحہ ماڈل ٹائون لاہور میں سینکڑوں کارکنوں کو گولیاں ماری گئی اور درجنوں لوگوں کو شہید کر دیا گیا ان لوگوں کے لواحقین کو انصاف ابھی تک نہیں ملااور مزید درجنوں جانثار جام شہادت نوش کر چکے ہیں اور انہی سماجی ناانصافیوں کی وجہ سے پچھلے دو ماہ سے بھی زائد عرصے سے اسلام آباد کی سڑکوں پر پارلیمنٹ ،وفاقی سیکرٹریٹ، فیڈرل سپریم کورٹ اور وزیراعظم ہائوس کے سامنے لاکھوں افراد دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ شدید موسمی اثرات، بارشیں،گرمی بھی ان کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکی اور پھر ان انصاف مانگنے والوں پر پولیس گردی کرکے 800افراد کو مار مار کر شدید زخمی کر دیا گیا۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے ہسپتال جنگی حالات کے مناظر پیش کر رہے تھے۔ حقوق غضب کرنے والے طبقے نے حقوق مانگنے والے طبقے کی درگت بنا ڈالی۔ایک دفعہ پھر شہادتیں ہوئی مگر عزم بریک نہ ہوا۔ فیملی کے ساتھ آنے والوں نے اپنے بچوں کو ادھر ہی سکول قائم کرکے پڑھانا شروع کر دیا۔ لوگوں کے نکاح اور شادیاں دھرنے کے میدانوں میں سرانجام پانے لگیں اور دھرنے میں ہی انقلاب بی بی اور کنیز فاطمہ کی پیدائش ہوئی۔ہزاروں لوگوں کو جب علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے انقلاب کا فلسفہ سمجھا دیا تو وہ اب خالی ہاتھ واپس جانے کو تیار نہیں۔ عید کے حوالے سے ڈاکٹر طاہر القادری صاحب سے بات ہوئی تو انہوں نے اپنے پیغام عید میں کہا کہ ہم اپنی عیدیں ، شب براتیں اور اپنی خوشیوں کی قربانی دے کر آنے والی نسلوں کے لیے وہ دروازے کھول رہے ہیں جو صدیوں سے طبقات میں بٹے ہوئے غاصبوں نے بند کر رکھے تھے۔ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کہہ رہے تھے کہ سنت ابراہیمی ہمارے لیے مشعل راہ ہے اور ہم اسی جذبے کو پکڑ کر، تھام کر اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کو بچا سکتے ہیں۔ اسلام ہمیں مساوات ، ایثار اور قربانی کا درس دیتا ہے اور طبقات میں بٹی ہوئی اس قوم کو اب مذہب ، ملت، زبان، سماج ،برادری کے نام پر پھر محکوم نہ بنایا جا سکے گا اور جس دن یہ فاصلے ختم ہو گئے ہمیں عیدیں منانے کی بھی حقیقی خوشی ہو گی۔ قارئین! اب طبقات میں تفریق ختم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں قوم کی رگوں سے خون اور ہڈیوں سے ماس بھی چھین لیا گیا۔ اب انقلاب کا سورج طلوع ہو چکا اور طبقات اپنی موت آپ مرنے والے ہیں۔ اس لیے حقیقی عید قربان مبارک۔ 6اکتوبر2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus