×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مجید نظامی صاحب۔ آج آپ بہت یاد آ رہے ہیں
Dated: 11-Oct-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com مردِ صحافت، محافظ دو قومی نظریہ جناب مجید نظامی صاحب آج مجھے بہت شدت سے یاد آ رہے ہیں۔ یوں تو ان کے ساتھ خوشگوار یادیں میرے لیے سرمایۂ افتخارہیں مگر آج میرے سمیت 20کروڑ عوام انہیں یقیناً اس حوالے سے یاد کر رہے ہوں گے کہ جب بھی پاکستان کی سالمیت کو اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہوا تو جناب نظامی صاحب کے غیر لچک دار موقف نے پاکستانیوں کے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ سابق صدر ضیاء الحق مرحوم نے نظامی صاحب کو بھارت جانے کی دعوت دی تو مجید نظامی صاحب نے برجستہ جواب دیا ’’جنرل صاحب میں بھارت تو جانا چاہتا ہوں مگر جہاز پر نہیں ٹینک پر بیٹھ کر‘‘ جب میاں نوازشریف ’’سیفما‘‘ کے ایک سیمینار میں شاید جوشِ خطابت میں یہ فرماگئے کہ بھارت کے ساتھ ہمارا کلچر ایک، ہماری روایات ، ہماری زبان ایک ہیں تو پھر یہ سرحدوں کا تکلف کیوں ہے۔ اس بیان کے ٹھیک ایک دن بعد مجھے مجید نظامی صاحب کی کال آئی اور مجھے اپنے پاس بلایا اور انتہائی افسردہ لہجے میں گفتگو کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ میں نے آصف علی زرداری کو مردِ حُر کا خطاب کیوں دیا اس لیے کہ اس نے جیلیں اور سزا کاٹ کر بھاگنے سے انکار کیا جبکہ مرحوم میاں محمد شریف سے سرور پیلس سعودیہ میں بات ہوئی جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ نوازشریف واقعی اتنے مضبوط اعصاب کے مالک نہیں ہیں جتنا کہ زرداری۔ قارئین !چند ماہ پیشتر میں نے سابق چیف آف آرمی سٹاف اور بھارتی کابینہ کے موجودہ وزیر جنرل وی کے سنگھ سے اپنی ملاقات کا احوال اپنے ایک کالم میں پیش کیا تھا جس میں جنرل وی کے سنگھ نے مکالمے کے دوران مجھ سے یہ کہا کہ نوائے وقت کے مالک مجید نظامی صاحب سے ہم بھارتیوں کو بہت خطرہ اور تشویش ہے اور بھارتی عوام مجید نظامی کو اپنا سب سے بڑا دشمن خیال کرتے ہیں(اس کالم کو گذشتہ شماروں میں دیکھا جا سکتا ہے)قارئین یہ محض اتفاق نہیں کہ آج پاکستان کے اندرونی سیاسی و معاشی حالات کو بھانپتے ہوئے پاکستانی سرحدوں کے اندر جارحیت کا ارتکاب شروع کر دیا ہے اور اب تک ڈیڑھ درجن سے زیادہ معصوم شہری شہادت نوش کر چکے ہیں۔ جب بھی پاکستان میں کوئی خوشی کا موقع یا تہوار آتا ہے تو بھارتیوں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہم سے ’’شریکا‘‘ کرتے ہوئے ہمیشہ رنگ میں بھنگ ڈالتا ہے۔ میری نظروں میں سیکٹر چاروا کے گائوں درگال کی اس ماں کے بین بہت اذیت ناک تھے جو عید کے دن اپنے معصوم بچوں کے نئے سِلے ہوئے کپڑوں کو سینے سے چمٹا کر بین کر رہی تھی۔ اس ماں کے دونوں بچے بھارتی جارحیت سے خون سے نہلا گئے مگر وہ عید کے لیے سِلے ہوئے لباس زیب تن نہ کر سکے۔ میں یہ خبریں مختلف ٹی وی چینلز پر دیکھ رہا تھا کہ سکرین کے نیچے تو ’’ٹیکر‘‘ چل رہے تھے مگر انہی چینلز پر بھارتی سنگر لتا منگیشکر اور امتیابھ بچن کے کمرشل شوز چل رہے تھے۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسی بے حسی اور منافقت نہ کبھی دیکھی اور نہ کبھی سنی۔ جب سے جیو میڈیا گروپ کو عوام کے عتاب کا سامنے ہے اسی دن سے دو تین دوسرے چینلز یہ خالی جگہ پُر کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔ آج بھارتی جارحیت پہ وہ این جی اوز اور تنظیمیں کیوں خاموش ہیں جبکہ مختاراں مائی اور ملالہ یوسف زئی کو ہیرو بنوانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی گئی۔ بھارت وہ ملک ہے جہاں بہانے بہانے سے مسلمانوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ گجرات، احمد آباد اور مقبوضہ کشمیر میں اپنے ہی معصوم شہریوں کی ہلاکت پر بھارت ذرا بھی شرمندہ نہیں۔ قارئین! ہندو سماج نے اپنے اردگرد پنپنے والے دیگر مذاہب اور کلچرز کو اپنے اندر جذب کر لیا اسی لیے آج آریا سماج، گورکھے، بدھ مت اور سکھوں کا زوال جاری ہے جبکہ اسی سرزمین پرمسلمانوں سے خائف فرنگیوں اور ہندوئوں نے مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے لیے سنی، شیعہ، وہابی اور دیوبندی تحریکیں شروع کروائیں جبکہ مرزائیت کی بنیاد بھی اسی سرزمین پر رکھی گئی اور سینکڑوں سال پہلے اکبراعظم کو ورغلا کر ’’دین الٰہی‘‘ کی بنیاد رکھی گئی اور آج بھی یہی اسلام اسرائیلیوں اور بھارتیوں کے سینوں پر مونگ دل رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت نہ دینا اور پاکستان کے خلاف وقتاً فوقتاً جنگی ماحول بنا دینا اور صرف 67سالوں میں اس نوزائیدہ مملکت پر اب تک پانچ بڑی جنگیں مسلط کر دی گئیں، ہر دو سال بعد آبی جارحیت کرکے پاکستان کی معیشت کو اپاہج بنا دیا گیاہے۔ 1971ء میں ہمارے جغرافیائی جسم کا آدھا حصہ بزور شمشیر علیحدہ کر دیا گیا مگر عالمی طاقتیں، عالم اسلام اور پاکستان کے غیر یقینی دوست ہماری کوئی مدد نہ کر سکے۔ بھارت کے نئے وزیراعظم نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں پاک فوج اور وزارتِ خارجہ سے بریفنگ لیے بغیر جب وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف شرکت کے لیے گئے تو انہوں نے عشروں سے قائم اس روایت کو توڑا اور اپنی بھارتی یاترا کے دوران کشمیری سٹیک ہولڈرز، حریت کانفرنس کے وفد کو ملاقات کے لیے نہ بلوایا گیا جس سے نریندر مودی کو ’’شہہ‘‘ ملی اور انہوں نے امریکی صدر اوبامہ سے گذشتہ روز ملاقات کرکے پاکستان کو عبرت ناک سبق سکھانے کا پلان کر لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیویارک سے واپسی پر نریندر مودی نے سرحدوں پر جارحیت کا آغاز کر دیا ہے۔ آج مجھے ایک نجی ٹی وی چینل پر ایک بھارتی ریٹائرڈ میجر جنرل جی ڈی بخشی نے اینکر کے سوال کے جواب میں یہ کہہ کر ہمیں حیرت غوطہ زن کر دیا کہ بھاری مینڈیت لے کر آنے والے وزیراعظم نوازشریف کو اندرونی محاذ پر تنہا کر دیا گیا ہے اور عضو معطل بنا دیا گیا اور طاہر القادری اور عمران خان نوازشریف کو بھارت کے ساتھ تعلقات بڑھانے سے روک رہے ہیں۔اس لیے ہم پاکستان کو پیغام دینا چاہتے ہیں۔ میں بھارتی جنرل کی گفتگو سن کر پریشان ہوا کہ آج ہمارے مجید نظامی صاحب حیات ہوتے تو وہ مکار بھارتیوں کو منہ توڑ جواب دیتے۔ مجھے امید ہے کہ عظیم باپ کی عظیم بیٹی محترمہ رمیزہ مجید نظامی دو قومی نظریئے اور نظریہ پاکستان کو جاری و ساری رکھتے ہوئے اپنے باپ کے اس مشن کو پورا کریں گی لیکن حکمران کس شش و پنج کا شکار ہیں وہ ایک مکار، عیار اور سازشی دشمن سے محبت کی پینگیں بڑھا نے کے چکر میں یا پھر یہ وجہ ہے کہ میاں شریف برادران کا اربوں ڈالر کا سرمایہ بھارت میں لگا ہوا ہے۔ شاید ایک تاجر حکمران یہ سب سمجھنے سے قاصر ہے۔ ملک کے کروڑ وں عوام روکھی سوکھی کھا سکتے ہیں۔ سیاسی نا ہمواری اور جمہوریت کے نام پر پُرفریب کھیل طوعاً کرھاً برداشت کر سکتے ہیں مگر پاکستان کی سالمیت کی طرف اٹھنے والی انگلی کاٹنے کے لیے تھرڈ امپائر کا انتظار نہیں کریں گے۔ یارو کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگو اپنے ہی گلے کے لیے تلوار نہ مانگو حکومت کی بھارتی جارحیت پر مجرمانہ خاموشی اس بات کی عکاس ہے کہ حکمران جذبے سے عاری تو تھے ہی اب ان کی ہمت بھی شاید جواب دے گئی ہے۔ 11اکتوبر2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus