×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ہوئے تم دوست جس کے…!
Dated: 15-Nov-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ایک بادشاہ اپنے محل میں بستر پر محوِ خواب تھا۔ قریب ہی بیٹھا اس کا پالتو بندر اسے پنکھا جھلا رہا تھا۔ اس دوران ایک مکھی بار بار بادشاہ کے چہرے پر بیٹھ کر نیند میں خلل ڈال رہی تھی۔ وفادار بندر کافی دیر دیکھتا رہا، اب کے مکھی جب بادشاہ کے چہرے پر بیٹھی تو بندر نے بادشاہ کے سرہانے پڑی ہوئی تلوار اٹھائی اور اس سے پہلے کہ وہ مکھی پر وار کرتا اسی کمرے میں پہلے سے چھپے ہوئے ایک چور نے جھپٹ کر بندر سے تلوار چھین لی ۔ اس دوران بادشاہ کی آنکھ کھل گئی اور اسے سارے واقع کا علم ہوا ۔سچ ہی کہتے ہیں کہ ’’نادان دوست سے دانا دشمن بہتر ہوتا ہے‘‘۔قارئین! اس سے ملتا جلتا حال اس وقت موجودہ حکومت کا ہے جس کی کابینہ کا ہر رکن، وزیر شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار خود کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے مگر اس سیاسی افراتفری اور نادانستگی میں وہ اپنے حکمران کو وہ ناقابل تلافی تقصان پہنچا رہے ہیں کہ جس کا ازالہ کرنا ان کے لیے ممکن نہ رہے گا۔ دنیا میں شہنشاہوں، امرائے سلطنت اور حکمرانوں سے بائی چانس یا حادثاتی طو رپر بڑی بڑی غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں مگر صاحبِ اقتدار طبقات اپنی غلطیوں سے سیکھا کرتے ہیں اور ان کے ازالے کی کوششیں کیا کرتے ہیں مگر عاقبت نااندیش اقتدار زدہ طبقہ اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی بجائے غلطی در غلطی کرتے چلے جاتے ہیں۔ اپنی غلطیوں کو ماننا دراصل وہ اپنی اَنا کا مسئلہ بنا بیٹھتے ہیں اور جب انہیں اس چیز کا احساس ہوتا ہے کہ ان سے غلطیوں کی بہت بڑی سیریز سرزد ہو چکی ہے تو اس وقت معاملہ اور وقت ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے پھر کوئی قصاص، دیت اورہرجانہ کسی کام نہیں آتا۔ سانحۂ ماڈل ٹائون 17جون کو رونما ہوا تھا۔ ڈیڑھ درجن کے قریب لوگ شہید کر دیئے گئے تھے پھر انقلاب اور آزادی مارچ کے اسلام آباد پہنچنے تک بھی لاشیں گرتی ہیں جبکہ 30اور 31اگست کی درمیانی شب ایک دفعہ پھر جلیانوالہ باغ کا سانحۂ دہرایا گیا۔ اس سے پہلے 23جون کو ڈاکٹر طاہر القادری کی پرواز کو اسلام آباد اترنے سے نہ صرف روکا گیا بلکہ اس کا رخ لاہور کی طرف موڑ دیا گیا۔ اس دوران نہ صرف سینکڑوں لوگ زخمی، ہوئے، ہزاروں گرفتاریاں ہوئیں بلکہ لاہور میں ڈاکٹر طاہر القادری اور ان کے ہزاروں ساتھیوں کو زبردستی منہاج القرآن میں مقید کر دیا گیا اور کم از کم دو ہفتوں تک راشن تو کیا پانی تک اندر لے جانے کی اجازت نہ دی گئی اور آج دھرنے اور ملک گیر جلسوں اور احتجاج کو شروع ہوئے تین ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے۔ کیا حکمران ریاستی جبروتشدد سے عوامی خواہشات اور آواز کو دبا سکتے ہیں؟ یا تاریخ عالم میں کوئی ایسی مثال ملتی ہے کہ طاقت کے زور پر نظریہ اور فلسفہ کو دبایا جا سکے ہم نے تاریخ کے اوراق سے یہ پڑھاہے کہ جبر کی تاریک سیاہ راتوں کا انجام ایک صبح کا اجالا ہی ہوتا ہے۔ بقول شاعر: کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا موجودہ حکومت نے بھی نہ ہی تو تاریخ سے کچھ سیکھا او رنہ ہی اپنے ماضی سے پیوستہ غلطیوں سے کچھ سیکھا۔ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے ایک ماہ پہلے جب دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا تو ان کے ذہن میں یقینا یہ بات تھی کہ وہ اپنے کارکنان کی قربانیاں آخر کس حد تک لے جانا چاہتے ہیں؟ مجھے ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ دھرنے میں موجود ہزاروں خواتین و حضرات، ملازمتیں کرنے والے اور کسی چھوٹے موٹے ذاتی کاروبار سے تعلق رکھتے تھے۔ کارکنان کی ایک بڑی تعداد سرکاری ملازمین کی بھی تھی اور اب یہ وقت آ گیا تھا کہ کارکنان کے یہ کاروبار بند ہونے لگے تھے اورملازمتوں سے انہیں نوٹس جاری ہونا شروع ہو چکے تھے اور حکومتی ایجنسیاں دھرنے میں موجود عوامی تحریک کے سرکاری ملازمین کو چُن چُن کر ملازمتوں سے برخاست کرنا شروع ہو گئی تھیں اور ڈاکٹر طاہر القادری اپنے کارکنان کو اپنے بچوں سے زیادہ عزیز سمجھتے ہیں۔ اس لیے حکمت عملی تبدیل کی اور دھرنے اور احتجاج کو گلی گلی اور نگر نگر پہنچانے کا منصوبہ تشکیل دیا مگر اس سارے عرصے کے دوران حکومتی وزراء،مشیران اقتدار بجائے اس کے کہ سانحۂ ماڈل ٹائون اور 31اگست کے واقعہ سے کچھ سیکھتے اور ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرتے، یہ سب لوگ اپنی نوکریاں پکی کرنے کے چکر میں رہے حتیٰ کہ سانحہ ماڈل ٹائون کی جوڈیشنل رپورٹ جس کی کاپیاں میڈیا تک بھی پہنچ گئی تھیں ،کو عوام کے لیے اوپن نہیں کیاگیا۔ اس پر مستزاد یہ کہ نام نہاد خودساختہ پی ٹی وی پر حملہ کا ڈرامہ رچا کر ڈاکٹر طاہر القادری، عمران خان، رحقیق عباسی، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید اور درجنوں دوسرے قائدین کے خلاف دہشت گردی بلوہ اور اقدامِ قتل کے مقدمات قائم کر دیئے گئے اور اب 30نومبر کے خوف اور مزید جلسوں سے بڑھنے والے پبلک پریشر سے خوفزدہ ہو کر اوچھی حرکات اور ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔ جبکہ سانحہ ماڈل ٹائون کے نامزد ملزمان اور سانحہ ڈی چوک کے نامزد ملزمان شان و شوکت سے دندناتے پھر رہے ہیں۔ ان سارے عوامل سے ایک بات تو ثابت ہوتی نظر آتی ہے کہ ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ یا اسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ’’ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری‘‘ حکمرانوں نے دھاندلی زدہ انتخابات کے نتائج کو عوام پر مسلط کرنے کی اب تک ناکام کوشش کی ہے، جبکہ درجنوں لوگوں کو شہید، سینکڑوں کو زخمی اور ہزاروں کو قید کیا گیا ہے۔ گلوبٹ، بلوبٹ اور پومی بٹ جیسے کرداروں کو متعارف کروا کہ ایک ملک گیر خوف کا ماحول پیدا کرنے کی سعی کی گئی۔ ملکی ادارے آئی ایس آئی اور قومی سلامتی پر وار کرنے والے میڈیا گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمن کو تو سرکاری اعزاز کے ساتھ پروٹوکول دیا جا رہا ہے، باوجود اس کے کہ اس کے خلاف درجنوں وارنٹ گرفتاری ایشوز کیے جا چکے ہیںاور میر صاحب موصوف متعدد مقدمات میں اشتہاری بھی قرار پا چکے ہیں لیکن وہ مشیروں اور وزراء کے عشائیوں میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے بھی نظر آتے ہیں جبکہ حق اور سچ کی آوازوں کو دبانے کے لیے مبشر لقمان جیسے آزادیٔ صحافت کے ہیرو پر پابندی لگا دی جاتی ہے ۔ اس کے میڈیا چینل کے مالکان کو ہراساں کیا جا تا ہے مگر لفافہ قبول کرنے والے قلم فروش وزیراعظم کے ساتھ غیر ملکی دوروں کے دوران اپنے خاندانوں کے لیے لاکھوں کی شاپنگ کرتے نظر آتے ہیں۔شاید ایسے ہی کسی موقع کے لیے مردِ صحافت جناب ڈاکٹر مجید نظامی (مرحوم) کہا کرتے تھے کہ ’’سب سے بڑاجہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے‘‘ موجودہ حکمرانوں کو ان کے مشاورتی دوست جس طرف لے جا رہے ہیں وہاں سے پُرامن باعزت واپسی یقینا ناممکن ہے۔ ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسمان کیوں ہو اہم نادان مشیروں کی وجہ سے حکمران حالات پھر 17جون کی سطح پر لے آئے ہیں۔ اب 20نومبر کو ڈاکٹر طاہرا لقادری صاحب کی پاکستان آمد کے موقع پر گرفتاریاں، تشدد اور گھیرائو جلائو ہوگا جبکہ 30نومبر کی عمران خان کی دی ہوئی کال بارود کے ڈھیر پر پٹرول کا کنستر ثابت ہو گی اور اب کی بار نقصان صرف ایک طرف نہیں ہوگا بلکہ بڑے بڑے برج الٹیں گے۔ 15نومبر2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus