×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین
Dated: 09-Dec-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com سرورِ دو عالم رحمت اللعالمین ؐ جس رستے سے گزر کر جاتے تھے وہاں ایک ضعیف بڑھیاکا مکان تھا ۔وہ نئے مذہب اسلام اور اس کی تبلیغ سے شدید متنفر تھی۔ جب آنحضورؐ اس کے گھر کے سامنے سے گزرتے تو وہ گھرکاکوڑا آپؐ پر پھینکتی۔ ایک روز آپؐ گزرے خلافِ توقع کسی نے کوڑا نہ پھینکا۔ سرکارِ دو عالم ؐ کو فکر لاحق ہوئی آپؐ نے صحابہ کو بھیج کر پتہ کروایا تو پتہ چلا کہ وہ بوڑھی عورت بیمار ہے۔ آپؐ خصوصی طور پر اس عورت کے گھر چلے گئے اور اس کی خیریت دریافت کی، اس عورت کو آپؐ کا اخلاص دیکھ کر ندامت ہوئی اور اسی وقت اسلام قبول کر لیا۔ دینِ اسلام کی تاریخ ایسے بے شمار تاریخی واقعات اور اسوئہ حسنہ سے بھری پڑی ہے اور اس تاریخی حقیقت کے شواہد موجود ہیں کہ اگر اسلام بزورِ شمشیر دنیا میںپھیلایا گیا ہوتا تو آج دنیا بھر کے مسلمانوں کی تعداد یہودیوں کے برابر بھی نہ ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ عیسائیت اور یہودیت کے سینکڑوں اور ہزاروں سال بعد اسلام کا ظہور ہوا اور آج دین اسلام کرہ ء ارض پر سب سے بڑے مذہب کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ مسلمان عالمِ دین، سکالرز، دانشوروں، سائنسدانوں اور اولیائے کرام نے اسلامی تعلیمات کو نہ صرف خلق خدا تک پہنچایا بلکہ اس کے ثمرات کو لوگوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں جہاں مسلمان سپہ سالار فتوحات کرتے چلے گئے اس خطۂ ارض پر اسلام کی جڑیں مضبوط ہوتی چلی گئیں۔ برصغیر مین سینکڑوں سال مسلمان سلاطین کے اقتدار کے بعد جب فرنگی قوت نے اقتدار سنبھالا تو برصغیر میں اس وقت ہندو، مسلمان اور عیسائی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ انیسویں صدی کے اختتام پر جب دو قومی نظریہ کی بنیاد پر برصغیر کو تقسیم کرنے کی تحریک چلی تو خطے کے تیسرے بڑے مذہب عیسائیت نے ہندوئوں کی بجائے مسلمانوں کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی اور بعدازاں دونوں ہونے والے انتخابات میں عیسائی برادری اور قوم نے پاکستان کے حق میں اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا۔ پھر جنرل ضیاء کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد پہلی دفعہ مذہب کو اقتدار کی طوالت کے لیے استعمال کیا گیا اور ایسے قوانین متعارف کرائے جن کی اس ارضِ پاک پر شاید ضرورت ہی نہ تھی ایک ایسا ملک جس میں ٹوٹل آبادی کا 95 فیصد مسلمان ہوں وہاں پر بقیہ 5فیصد دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو یہ ہمت ہی نہیں ہوتی کہ وہ اکثریت کے مذہبی جذبات سے کھیلے یا اس کو چھیڑنے کی جرأت بھی کر سکے۔ قارئین!آپ کو یاد ہوگا کہ جنرل ضیاء ہی کے دورِ اقتدار میں مذہبی رجعت پسندی اور مدرسے قائم کرنے کا کاروبار عروج تک پہنچا۔ دراصل جنرل ضیاء الحق نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے ملکی یک جہتی اور بھائی چارے کو دوائو پر لگا دیا اور پھر یہ چشمِ فلک نے دیکھا کہ ملک بھر کے طول و ارض میں مذہبی کانفرنسیں اور اجتماعات کا رواج چل نکلا اور اسی دوران افغانستان مین روسی مداخلت کی وجہ سے چالیس لاکھ افغان مہاجرین پاکستان کے اندر پناہ گزین بن کر پھیل گئے۔ جن کی زیادہ تر تعداد مدرسوں سے فارغ التحصیل تھی ۔ جذبۂ حب الاسلام کے تحت قبول کیے گئے یہ مہاجرین اپنے ساتھ ہیروئن اور کلاشنکوف کی لعنت ساتھ لے کر آئے جس سے ملک کے اندر مسلکی گروہ بندیوں اور مذہبی رجعت پسندی کو فروغ اور تقویت ملی۔ توہین مذہب کا قانون خاص طور پر 295/C کے لاگو ہونے سے معاشرہ مثبت نتائج حاصل کرنے کی بجائے منفی رجحانات کا شکار ہو گیا اور خاص طور پر سینٹرل پنجاب میں مسیحی طبقے سے تعلق ر کھنے والی غریب لیبر کو اس کے سنگین نتائج بھگتناپڑ رہے ہیں مگر یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ مسیحی برادری کے اندر ہی کچھ موقع پرست اور مفاد پرست طبقے نے ان قوانین کو اپنے مالی مفادات سے وابستہ کر لیا اور ہزاروں کی تعداد میں این جی اوز معرضِ وجود میں آ گئیں اور متعدد بار تفتیش کے بعد ایسے شواہد بھی سامنے آئے کہ توہین مذہب کے کئی واقعات کے پیچھے ان مفاد پرستوں کا ہاتھ بھی ہوتا ہے۔ ایک اچھی ساکھ رکھنے والی سروے کمپنی نے یہ حیران کن نتائج اخذکئے ہیں کہ فیصل آباد اور لاہور میں موجود بہارکالونی ،یوحنا آباد میں مذہبی اقلیت کے اتنے مکان موجود نہیں جتنا اس علاقے میں این جی اوز کا اندراج سرکاری ریکارڈ میں موجود ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پاکستان میں پروان چڑھنے والی مسلکی اور مذہبی رجعت پسندی اس سے لاتعلق ہے۔ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر اور سابق وفاقی وزیر شہباز بھٹی کو محض اس لیے سڑکوں پر گولیوں سے بھون دیا گیا کہ ان اصحاب نے مجوزہ قوانین پر نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس وقت بھی ملک بھر میں اور خصوصاً پنجاب کے اندر 295/C کے تحت قائم کیے گئے مقدمات کی تعداد 500سے زائد ہے اور ہر مقدمے میں لوئرعدالتیں نامزد ملزمان کو سزائے موت تجویز کرتی ہیں جبکہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے ان مقدمات میں نامزد کئے گئے ملزمان نہ صرف بری ہو جاتے ہیں بلکہ پھر اپنے خاندانوں سمیت یورپ اور نارتھ امریکہ میں سیاسی پناہ کے حقدار بھی ٹھہرتے ہیں۔ قارئین!گذشتہ روز ماضی کے پاپ سنگر اور موجودہ مقبول نعت خواں اور فیشن ڈیزائنرجنید جمشید نے ایک ویڈیو کلپ میں ازواج مطہراتؓ کے متعلق جو زبان استعمال کی ہے اس سے نہ صرف ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے دل دکھے ہیں بلکہ سزا اور جزا کے دہرے اور منافقانہ معیار پر بھی کئی سوالات اٹھے ہیں ۔ ہر چند کہ مشہور عالم دین اور روحانی شخصیت مولانا طارق جمیل اور جامع بنوریہ کے مشہور مفتی نعیم صاحب نے جنید جمشید کے لیے نرم گوشہ اختیار کرنے کی درخواست اور تلقین کی ہے مگر اس سے پہلے ملک جنگ جیو کے سربراہ اور ایک مشہور اداکارہ اور اینکرپرسن کو ملک کی عدالتیں 26،26سال کی سزائیں اور جائیداد کی قرقی کی سزا سنا چکی ہیں جبکہ اس سے ملتے جلتے ایک مقدمے میں ملتان کی ایک عدالت سے ملزم جنید حفیظ کو بھی سزا ہوئی اور محض اس کا کیس لڑنے پر پاکستان کے مشہور وکیل اور انسانی حقوق کے نمائندے راشد رحمان کو گذشتہ سال قتل کر دیا گیا او رکوئی اور دوسرا وکیل جنید حفیظ کا کیس لینے کو تیار نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گستاخِ رسول ؐٹیری جونز، تسلیمہ نسرین، سلمان رشدی کے کیسز میں شک کا فائدہ دینے کی بھی گنجائش نہیں مگر ہمیں ملک بھر کے تمام سرکاری و غیر سرکاری و پرائیویٹ سکولز میں یکساں طو رپر ایک ایسا نصاب نافذ کرنے کی ضرورت ہے جس سے ایک اردو یا انگلش میڈیم طالب علم کو اسوہء حسنہ، عشق رسولؐاور مذہب کے تقدس کی آگاہی حاصل ہو۔ طائف میں پیغمبرِ دوعالمؐ کے کفار نے دانت شہید کر دیئے تو رب ذوالجلال نے حضرت جبرئیلؑ کو سرورِ کائناتؐ کے پاس بھیجا کہ ہم طائف کے شہر کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیں گے مگر ہمیشہ کی طرح رسول پاکؐ کو یہ گوارہ نہ ہوا اور آپ نے اس شہر کے باسیوں کے لیے رب کریم ؐ سے رحمتوں کا تقاضا کیا اور آج بھی عرب کے صحرائوں میں طائف کی زمین سرسبز اور باغات والی اور موسم مری سے بھی ٹھنڈا ہے۔ قارئین! معاف کرنا اللہ تعالیٰ کی شان ہے اور اس کے رسولؐ کی پہچان بھی مگر ہمیں اپنی صفیں درست کرنا ہوں گی اور دوہرے اور منافقانہ معیارِ انصاف کو بدلنا ہوگا۔ حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ’’ظلم والا معاشرہ تو بچ سکتا ہے مگر ناانصاف معاشرہ تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔‘‘ 9دسمبر2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus