×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
یوم تاسیس پر پیپلزپارٹی کو سیاسی طلاق
Dated: 02-Dec-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پاکستان پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس منایا جارہا ہے ۔آج میرے سامنے میرا سیاسی ماضی میر ے حال کا فسانہ بن کر سامنے کھڑا ہے۔آج مجھے پارٹی کے لئے دی گئی قربانیاں( خصوصی طور پر چالیس کروڑ کے لگ بھگ مالی قربانی )،قیدیں،صعوبتیںاور اس کے عوض آج کی پی پی پی قیادت کی بے اعتنائی یاد آرہی ہے۔میں نے سیاست کا آغاز زمانۂ طالب علمی سے ہی شروع کر دیا تھا۔ کالج سٹوڈنٹس یونین کا صدر منتخب ہوا تو جنرل ضیاء الحق نے سٹوڈنٹ یونینزپر پابندی لگا دی پھر پیپلزسٹوڈنٹس فیڈریشن میں شمولیت اختیار کر کے ضیائی آمریت کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا۔ اس دوران ملک میں ایم آر ڈی کی تحریک بھی بیگم نصرت بھٹو کی قیادت میں چل رہی تھی۔ جب بے بنیاد اور جھوٹے مقدمات کا بوجھ سہنا مشکل ہو گیا تو مجبوراً سوئٹزرلینڈ میں سیاسی پناہ لے لی ا ور اپنی ادھوری تعلیم مکمل کرکے کیریئر کا آغاز کیا، مگر اس سارے عرصے میں بیگم نصرت بھٹو اور بعدازاں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سے رابطہ رہا اور انہی کی ہدایات کی روشنی میں یورپ میں پیپلزپارٹی اور پاکستان کی بکھری ہوئی لبرل قوتوں کو ڈاکٹر غلام حسین کے ساتھ مل کر مجتمع کیا۔ پہلے مجھے پیپلزپارٹی سوئٹزرلینڈکا صدر بنایا گیا اور بعدازاں یورپین افیئرز کا بھی انچارج بنا دیا گیا۔ 1988ء میں ضیاء الحق کی موت کے بعد اور پھر 1993ء میں شہید محترمہ دوسری دفعہ اقتدار میں آئیں مگر دونوں ہی بار میں اقتدار کے ایوانوں سے دور رہا، جب دوسری بار شدید کرپشن کے الزامات پر شہید محترمہ کی حکومت کو ختم کیا گیا، زرداری صاحب پابندِ سلاسل ہوئے، بے شمار مقدمات قائم ہوئے تو ایک دفعہ پھر سینیٹر جہانگیر بدر کو یورپ بھجوایا گیا اور بعدازاں سینیٹر سجاد بخاری کو بھی یہی مشن سونپا گیا کہ وہ یورپ جا کر مطلوب وڑائچ کو آمدہ کرے کہ وہ محترمہ شہید اور آصف علی زرداری کی رہائی کے لیے اپنے وسائل اور پوزیشن استعمال کرے پھر 1998ء میں میں ایک خطرناک (بلکہ خودکش) منصوبہ اور پراجیکٹ تیار کرکے پاکستان آیا مجھے اور میرے ساتھ یورپین ٹیم کے ممبران کو محترمہ سے خفیہ طور پر ملوانے کے لیے آغا خان ہسپتال لے جایا گیااور بعد میں آصف علی زرداری سے بھی ملوایا گیا۔ جہاں آصف علی زرداری کے یہ الفاظ کہ ’’مطلوب وڑائچ خدا نے تمہیں میرے لیے فرشتہ بنا کر بھیجا ہے‘‘اور اب میری اور پارٹی کی عزت تمہارے ہاتھ میں ہے ۔ پھر میری کاوشوں پر بوکھلا کر اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف نے میرے خلاف بے بنیاد کیسز بنا کر یورپین انوسٹی گیشن ٹیم کو ہراساں کیا اور مجھے پابندِ سلاسل کر دیا گیا اور مجھے اڈیالہ جیل میں زرداری کے ساتھ رکھا گیا۔ چند ماہ بعد ضمانت ہوئی تو میں ایک دفعہ پھر کوئٹہ سے تفتان اور پھر ایران سے سوئٹزرلینڈ پہنچ گیا اور پھر ایک ایسی بھرپور کمپین چلائی اور محترمہ بے نظیر بھٹوشہید پر جو امریکی حکومت کے دروازے بند ہو چکے تھے۔ انہیں نہ صرف کھولا بلکہ امریکن سٹیٹ ڈپارٹمنٹ اور پینٹاگون کے اعلیٰ سطح عہدیداروں سے اپنی موجودگی میں ملاقاتیں کروائیں۔ اس دوران پاکستان میں پرویز مشرف اقتدار میں آ چکے تھے، ان پر عالمی دبائو بڑھانے کے لیے میں نے اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکرٹری سے بھی محترمہ کی ملاقات کروائی جبکہ ہیلری کلنٹن سے بھی محترمہ شہید کی میٹنگز کروائیں۔ یہی وجہ تھی کہ صدرکلنٹن جنرل پرویز مشرف سے نالاں ہی رہا۔ اس دوران شہید محترمہ نے مجھے پیپلزپارٹی کی فیڈرل کونسل کا رکن بنا دیا اور محترمہ کی ہدایت پر الیکشن مانیٹر کیا۔ جنرل مشرف نے اپنے دورِ اقتدار میں دو دفعہ وفاقی وزیر بنانے کی آفر کی ایک دفعہ 2001ء میں اور دوسری بار 2007کی عبوری حکومت میں جبکہ 2005ء کے بلدیاتی الیکشن میں سیالکوٹ کا ضلع ناظم بنوانے کی بھی پیش کش کی مگر شہید محترمہ بھٹوسے سیاسی جذباتی وابستگی او رنظریاتی کمٹمنٹ کی وجہ سے میں نے تینوں بار جنرل صاحب کی آفرز کو درخوراعتناء نہ سمجھا۔ یہی وجہ تھی کہ جلاوطنی کے آٹھ سالوں میں شہید محترمہ نے اپنے اور آصف علی زرداری پر قائم کیے گئے سوئس کیسز کا نگران اور ذمہ دار مقرر کیا اور اس ڈیوٹی کو میں آج بھی نبھا رہا ہوں، جس کے لیے میں نے اپنے تن، من اور دھن کی تو کیا اپنی فیملی اور بچوں تک کو بھی یقینا نظرانداز کرتا رہا۔ جلاوطنی کے اس عرصہ میں شہید محترمہ نے مجھے اپنا خصوصی ایلچی مقرر کیے رکھا اور پھر دنیا بھر کے عالمی سربراہان مملکت سے ملنے اور سیکھنے کے مواقع ملے۔ 2002ء سے 2012ء تک لاہور جوہر ٹائون میں میرا گھر پیپلزپارٹی کا سیاسی اوڑھنا بچھونابنا رہا، جہاں پر آصف علی زرداری کی رہائی کی تحریک ہو یا اے آر ڈی کی تحریک۔ پیپلزپارٹی کی اعلیٰ کیڈر کی قیادت کے لیے یہ گھر مختص تھا(یاد رہے اس گھر پر پیپلزپارٹی کے دور حکومت سے ہی کرایہ داروں نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے)بے نظیر بھٹو کو 27دسمبر2007ء کو شہید کر دیا گیا اور حقیقت تو یہ ہے کہ اسی دن پیپلزپارٹی کے لاکھوں جیالوں اور کارکنوں کی سیاسی شہادت بھی واقع ہو گئی۔ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ آج برساتی مینڈکوں کا جم غفیر آصف زرداری کے اطراف نظر آتا ہے۔ ان لوگوں کو میں نے کبھی بھی لاہور، اسلام آباد، کراچی، دوبئی، انگلینڈ اور امریکہ میں بی بی شہید کے قریب کبھی نہ دیکھا تھا۔ حتیٰ کہ جولائی 2007ء کو ایجوئے روڈ لندن میں پیپلزپارٹی کی سی ای سی کا اجلاس شروع ہونے سے پہلے رحمان ملک اور آصف علی زرداری کو یہ کہہ کر چلے جانے کو کہا کہ آپ سی ای سی کے ممبر نہیں ہیں۔ بی بی کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی کی صفوں سے آصف زرداری کی قیادت میں ایک ’’کھپے‘‘ گروپ برآمد ہوا جس نے جعلی وصیتیں تیار کیں اور رخسانہ بنگش کی زیر نگرانی ایک ایسی ٹیم تشکیل دی گئی جس کا صرف یہ کام تھاکہ بے نظیر بھٹو شہید کے قریبی ساتھیوں کو ایوانِ اقتدار اور پارٹی سے کیسے دور رکھا جائے، اس دوران بے شمار ساتھی اور اعلیٰ درجے کی قیادت پیپلزپارٹی کو خیر باد کہہ چکے تھے مگر میں اپنی خاندانی روایات، سیاسی کمٹمنٹ اور بی بی کو دیئے ہوئے وعدے کی وجہ سے پارٹی سے وابستہ رہا۔ حالانکہ 2008ء کے بعد میرے بچوں اور فیملی پر دہشت گردوں کی طرف سے حملے کیے گئے اور خود میری گاڑی پر متعدد بار فائرنگ کی گئی مگر آصف علی زرداری کی بے حسی اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی مجرمانہ خاموشی سے تنگ آ کر میں نے اپنی فیملی اور بچوں کو جان بچانے کے لیے کینیڈا منتقل کر دیا۔ اس دوران آصف علی زرداری نے این آر او کی برکت سے اپنے اورمجرم ساتھیوں پر قائم مقدمات ختم کروا لیے۔ ڈاکٹر بابر اعوان جو میرے مقدمات میں میرے وکیل ہیںنے جب وہ وزیر قانون تھے مجھ سے کہا کہ صدر زرداری سے کہو کہ وہ تمہارے مقدمات ختم کروائے تو میں نے ڈاکٹر بابر اعوان کو برجستہ جواب دیا کہ ’’کیا آصف علی زرداری کو نہیں پتہ کہ میرے اوپر بنائے گئے بے بنیاد مقدمات آصف زرداری ہی کی وجہ سے ہیں۔‘‘ قارئین! میری پیپلزپارٹی سے رواں سال جون تک ساڑھے بتیس سال کی بے مثال وابستگی رہی۔ میں نے اچھے تو کیا ہر بُرے حالات میں پارٹی اور پارٹی قیادت کا ساتھ نبھایا۔ متعدد بار اپنی اور اپنے بچوں کی جان خطرات میں ڈالی۔ مالی و معاشی نقصانات کا تو کوئی تذکرہ ہی نہیں، مگر آج میں باہوش و حواس یہ اعلان کرتا ہوں کہ ساڑھے بتیس سال کی وابستگی کے بعد میں پیپلزپارٹی کو سیاسی طلاق دیتا ہوں۔ ان ساڑھے بتیس سالوں میں مصائب اور آلائش اور قربانیاں دے کر میں نے سیاسی حق مہر بھی ادا کر دیا ہے۔ قارئین! اگر پیپلزپارٹی کی موجودہ نام نہاد خودساختہ قیادت اگلے سات یوم میں میری اس تحریر کا جواب نہ دے سکے اور یہ ثابت کر دیں کہ میں نے پیپلزپارٹی سے اپنی ساڑھے بتیس سالہ وابستگی کے دوران ایک روپے کا بھی جائز یا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے یا میری سفارش پر کوئی قانونی یا غیرقانونی کام کیا گیا ہے ،کوئی ضابطہ یا غیر ضابطہ ملازمت دی گئی ہے تو میں ہمیشہ کے لیے سیاست چھوڑنے کا اعلان کر دوں گا۔ اور اگر سات یوم کے اندر کوئی جواب نہ آیا تو پیپلزپارٹی کو دی جانے والی میری یہ سیاسی طلاق کو حتمی اور موثر سمجھا جائے گا اور یہ اس سال پیپلزپارٹی کے یومِ تاسیس پر اس کی خودساختہ قیادت کے لیے لمحہ فکریہ ہوگا۔ 2دسمبر2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus