×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
گیم آف ڈیتھ
Dated: 15-Oct-2009
انسان پیٹ کی آگ بجھانے سے فارغ ہوا تو اسے تفریح کی ضرورت محسوس ہوئی۔ پہلی تفریح اسے شکار کی صورت میں میسر آئی۔ یہ اس کے لیے بیک وقت غذا اور گیم یعنی کھیل کا سبب بنا۔ پھر انسانی ارتقا کے ساتھ ساتھ گیمز بھی جنم لیتی چلی گئیں۔ بات نیزہ بازی، گتگا، تلواربازی سے ہوتی ہوئی پولو، فٹبال، والی بال، ہاکی،کرکٹ، ٹینس، باکسنگ اور ریسلنگ تک جا پہنچی۔ گیمزاپنے علاقے کی ثقافت اور تمدن کا بھی مظہر ہیں۔ برصغیر میں خصوصاً ہمارے علاقے میں بندر کِلّا، کھدو کھونی، لُکن میٹی، پٹھو گرم، باڑی، گلی ڈنڈا، گجی چارہ،کوکلہ شپاکی، شٹاپو اور پدی وغیرہ مقبول رہی ہیں۔ اب بھی بنٹے، ڈمرو، گھگوگھوڑے، کبڈی، کُشتی، اخروٹ اور تاش وغیرہ دیہاتی کلچر کا حصہ ہیں۔ زمانے نے ترقی کی خصوصاً گذشتہ 15سال میں گیمز میں بھی ترقی ہوئی۔ بچوں کے لیے گھگوگھوڑے اور پلاسٹک کی گاڑیاں تجسس کا باعث ہوتی تھیں اب بدلتے زمانے میںان کی جگہ گیم بوائے، پلے سٹیشن، پی ایس پی ننٹنڈوڈی، ماریو، جیٹ کے ساتھ کھیلنے والی آٹاری، ایکس بکس، گیم کیو، سنسر گیم آنکھوں پر ڈی گلاسز پہن کر کھیلی جاتی ہے نے لے لی۔ آج کی تازہ اور جدید گیم کائونٹرسٹرائیک ہے۔ جس میں ایک پارٹنر خواہ لندن، دوسرا نیویارک تیسراکراچی اور چوتھا آسٹریلیا ہو سب مل کر یہ گیم کھیل سکتے ہیں۔ یہ آج کی جدید ترین گیم ہے۔ ہر گیم کے کچھ اصول ضوابط اور تقاضے ہوتے ہیں لیکن سیاست ایک ایسی گیم ہے جس میں جدت کی نئی سے نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں اور یہ کسی بھی اصول ضابطے اور قانون سے مبرا بھی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد بہت کچھ بدلا،اور اگر کچھ نہیں بدلا تو یہ عوام کا مقدر تھا۔ اس کی بڑی وجہ قائداعظم کا قیام پاکستان کے بعد جلد وصال تھا۔ اس کے بعد ہر کوئی اپنی گیم کے چکر میں پڑ گیا۔ اسی چکر میں مملکت عظیم کے 22سال بعد ہی آدھا پاکستان سیاستدانوں اور آمروں کی گیم کی نذر ہو گیا۔ 58ء میں پہلا مارشل لاء لگا، 68میں دوسرا،77ء میں تیسرا اور 99ء میں چوتھا۔ملکی سرحدوں کی محافظ فوج وار گیم چھوڑ کر اقتدار گیم پر متوجہ رہی۔اور بقول ایک دانشور ہماری فوج ڈیفنس سٹرایجیٹک بنانے کے ڈیفنس ہائوسنگ سوسائٹیز بنانے میں مشغول رہی۔ ان کو سیاست کی گیم کا ایسا چسکا پڑا کہ 63میں سے 40سال آمریت کی گیم ہوتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی قوتیں 6عشروںبعد بھی نابالغ ہیں۔ کیونکہ ہم نے پہلے وزیراعظم کو قتل، دوسرے منتخب وزیراعظم کو تختہ دار، تیسرے کو جلاوطن اور چوتھے کو بیچ سڑک کے شہید کر دیا۔ اتنی قربانیوں کے بعد بھی سیاسی گیم ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ 18فروری 2008ء کے الیکشن کے نتائج بہت کچھ کھونے کے باوجود اتنے حوصلہ افزا ضرور تھے کہ مزید گیم کی ضرورت نہیں تھی مگر اسٹیبلشمنٹ کو کب گوارا تھا۔ جناب مجید نظامی کے خطابات یافتہ مردِ حُر اور مردِ راہوار جناب آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالی تو ملک کا اقتدار اعلیٰ یوسف رضا گیلانی کے حوالے کر دیا۔ ان کو بلامقابلہ وزیراعظم منتخب کرایا گیا۔ جب عوامی خواہشات پر آصف علی زرداری نے صدر پاکستان بننے کا فیصلہ کیا تو کولیشن پارٹنر ز تک کو سانپ سونگھ گیا۔ ہماری تاریخ کے پہلے بلامقابلہ وزیراعظم بھی اس زہر سے محفوظ نہ رہ سکے۔ پیپلز پارٹی جو پہلے ہی دودھ کے جلے کی طرح چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پی رہی ہے اسے اقتدار کے ایوانوں میں کھیلنے جانے والی اس گیم میں ایک دفعہ پھر لغاری کا عکس نظر آنے لگا ہے۔ آج کیری لوگر بل کے نام پر ارض پاک کی اساس کو کھوکھلاکرنے کی گیم عروج پر ہے۔ مشرف دور میں خوردبرد ہونے والی 13ارب ڈالر کی امداد پر سیاسی زعما خاموش رہے۔ آج پنجابی فلموں کے ویلن کی طرح بے شمار ’’ساون‘‘ بڑھکیں مارتے ہوئے نظر آتے ہیں جب کہ کل تک یہی لوگ مشرف کے ریفرنڈم کو کامیاب کرانے اور سترہویں ترمیم کو پاس کرانے میں برابر کے شریک ملزم ہیں۔اور ایسے ہی لوگوں کی ایک بڑی تعداد جس کا ڈائریکٹ یا اِن ڈائریکٹ میڈیا سے تعلق تھا۔ آمر وقت کے راستے میں آنکھیں بچھاتے نظر آتے تھے۔ اب مفت میں ملنے والی امداد پر نخرے بازی ہو رہی ہے جبکہ یہ امداد قرض ہے نہ قرض حسنہ بلکہ یہ حقیقتاً تحفہ ہے۔ جو امریکی عوام پاکستان کے کرپٹ ’’ویہار‘‘اور مشکوک پالیسیوں کے باوجود پاکستان کی عوام کو ایک احساس جرم کی تلافی کے عوض دے کر شاید اپنے ضمیر کو مطمئن کرنا چاہتے ہیں۔ چند روز قبل بڑے اخبار کے الہامی ذہن کے بڑے صحافی نے خبر دی کہ صدر آرمی چیف کو گھر بھجوانا چاہتے تھے مگر وزیراعظم کے کہنے پر رک گئے۔ جب صدر اور وزیراعظم میں یہ بات ہو رہی تھی تو صحافی محترم کہاں تھے؟ کیا دو کے علاوہ یہ تیسرے تھے؟ ان کو ایوان صدر نے یہ اطلاع دی یا وزیراعظم ہائوس نے ان کے کانوں میں یہ رسیلے الفاظ بھرے؟ نمبر بہرحال وزیراعظم ہائوس کے ہی بنے ہیں۔ اس خبر کا بننا یا بنانا اس صدی کی چند ایک بڑی گیمز میں سے ایک ہے۔ اسی طرح پنجاب کے وزیراعلیٰ جناب شہباز شریف بھی ہر روز جذباتی انداز میں یہ فرماتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اب ایک خونی انقلاب کی ضرورت ہے مذکورہ وزیراعلیٰ یہ نہیں جانتے کہ گولی اور تلوار کی کوئی آنکھ نہیں ہوتی اور پھر ہم سب کی اولادیں،بہن،بھائی،خاندان اسی پاکستان میں موجود ہیں اور اگر خونی انقلابی کی راہیں ہموار کی گئیں تو پھر ہم سب بھی اس انقلاب کے ثمرات سے محفوظ نہ رہ سکیں گے۔لہٰذا ایسی گیم جس کا انجام اتنا بھیانک ہو نہیں کھیلنی چاہیے۔ یقینا صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری اپنی فہم و فراست اور رفقا کے مشوروں سے پہلے کی طرح اس گیم سے بھی کامیابی سے باہر نکل آئیں گے۔ہمارے وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ حالات کا ادراک کریں ان کی عزت اور ہم سب کی عزت کارکنوں کی عزت میں پوشیدہ ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جیل سے اپنی پیاری بیٹی دختر مشرق شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے نام خط میں لکھا تھا کہ ’’اگر تمہیں خدا کی جنت چاہیے تو وہ ماں کے قدموں میں ہے اور اگر تمہیں دنیا کی جنت چاہیے تو وہ عوام کے قدموں کے نیچے ہے۔‘‘مگر گیم کرنے والے شاید نہیں جانتے کہ گیمز میں ایک گیم۔ گیم آف ڈیتھ،یا یوں کہیے کہ پولٹیکل ڈیتھ (سیاسی موت)بھی ہے۔ جس کی بھینٹ چڑھی بے شمار سیاسی لاشیں کارکنوں کی ٹھوکروں میں ہیں۔ عزت پارٹی کی وفاداری میں ہے جو اقتدار کی عینک سے شاید نظر نہ آتی ہو۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus