×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بچہ جمورا
Dated: 07-Oct-2009
کالج سے گھر آتے ہوئے راستے میں ایک چوک کے پاس مداری کے اردگرد جمے غفیر دیکھ کر ہم ہر روز کی طرح ٹھہر جاتے۔ مداری، بندر اور بچے جمورے کا کھیل آج بھی بچے جوان اور بوڑھے بڑی دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔ مداری کے ایک ہاتھ میں بندر کے گلے میں ڈالی رسی دوسرے میں ڈگڈگی ہوتی تھی۔ پٹاری کے ساتھ ڈگڈگی نما سٹول پر بندر ادھر ادھر کرتب دکھا کر بیٹھ جاتا تھا وہ کبھی سائیکل چلانے کی ایکٹنگ کرتا تھا تو کبھی بانسری بجانے کی۔ سب سے دلچسپ مداری اور بچے جمورے کے سوالات و جوابات ہوتے تھے۔ مداری: بچہ جمورا بتا بیوی اچھی لگتی ہے یا ماں؟ بچہ جمہورا: بیوی۔ مداری: عقل بڑی یا بھیس؟ بچہ جمورا: بھینس۔ مداری: باپ بڑا یا بیٹا؟ بچہ جمورا: بیٹا۔ آج کچھ ایسی ہی مداریاں اورشعبدہ بازیاں ہماری سیاست کے اندر رِچ بس چکی ہیں۔ اور کل کی اخلاقیات آج اولڈ فیشن کہلاتی ہیں۔ مجھے راولپنڈی احتساب عدالت میں آج کے وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے وائس چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی پیشی کا وہ دن یاد ہے جب فیصلہ سنتے وقت ان کا ایک ہاتھ آج کے صدر جناب آصف علی زرداری اور دوسرا میں نے تھام رکھا تھا۔ ہمیں ادراک تھا کہ جج صاحب سخت سزاسنانے والے ہیں۔ مشکل کی اس گھڑی میں پارٹی ان کے شانہ بشانہ تھی۔ اس دور میں، میں نے مہم کے طور پر سگریٹ لائٹر کو استعمال کیا۔سگریٹ لائٹرز پر ’’آصف زرداری، یوسف رضا گیلانی اور جہانگیر بدر سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرو‘‘ کی عبارت کنندہ کروا کے یہ لائٹرز یورپی یونین ممالک کے تمام پارلیمنٹیرین اور امریکی سینٹرز و ارکانِ کانگریس کو بھجوائے اکثر کو خود پیش کیے۔میری یہ کمپین اپنے وقت کی ایک ایسی شاندار لابی تھی کہ جس کو سراہتے ہوئے جناب آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ ایسے آئیڈیاز صرف مطلوب وڑائچ کا ذہن ہی تلاش کر سکتا ہے اور پھر خود انہوں نے اپنے ہاتھوں سے پاکستانی دوستوں میں یہ لائٹر اپنی ہر پیشی کے موقع پر دوستوں میں تقسیم کیے۔ پیپلز پارٹی مشکل کی اس گھڑی میں بھی جناب یوسف رضا گیلانی کے ساتھ تھی اور آج بھی ہے۔ یہ سچ ہے کہ سید یوسف رضاگیلانی صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے ہی نہیں پورے ملک کے وزیراعظم ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ضیاء الحق دور میں وزیر کا رتبہ پانے والے گیلانی صاحب نے 1988ء میں پیپلز پارٹی جائن کی۔اپنی آبائی نشست سے میاں نوازشریف کو ہرایا۔ محترمہ نے اپنی پہلی حکومت میں ان کو وزارت سیاحت اورہائوسنگ و تعمیرات کا قلمدان تفویض کیا۔ دوسرے دورحکومت میں سپیکر قومی اسمبلی منتخب کرایا۔ سید یوسف رضا گیلانی نے ہزاروں جیالوں کی طرح قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ آصف علی زرداری نے اپنا قول نبھاتے ہوئے ان کو ملک کے سب سے بڑے انتظامی منصب وزارتِ عظمیٰ پر لا بٹھایا۔ احتساب عدالت میں جب ان کو سزا سنائی گئی تھی تو آصف علی زرداری نے ان کا ہاتھ بلند کرتے ہوئے کہا تھا :جج صاحب !یہ شخص جس کو آپ آج سزا سنا رہے ہیں آنے والے دنوں میں اس ملک کا سربراہ بنے گا۔ پچھلے 18ماہ سے کروڑوں جیالے ایک دوسرے سے سوال کر رہے ہیں کہ آیا گیلانی صاحب کا پیپلز پارٹی سے بھی کوئی تعلق ہے؟ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے وزرا بندھے ہاتھوں اور ٹاسک فورسز کی زیر نگرانی مجسمہ مظلومیت بنے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم لاہور آئیں تو سیدھے رائے ونڈ چلے جاتے ہیں۔ پنجاب پیپلز پارٹی کو انہوں نے کبھی پانچ منٹ بھی نہیں دیئے۔جیالوں کی آنکھیں ان کے انتظار میں پتھرا چکی ہیں۔ چند روز قبل پنجاب پیپلز پارٹی کی ایگزیکٹو میٹنگ میں ضمنی الیکشن کی ہر سیٹ پر امیدوار کھڑا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ابھی اس بیان کی سیاہی خشک نہیں ہوئی تھی کہ جناب وزیراعظم نے میڈیا کو بتایا کہ پنجاب حکومت ان کی اطلاع پر ضمنی الیکشن رکوانے عدالت گئی ہے۔ مزید فرمایا کہ نہ صرف اپوزیشن رہنمائوں بلکہ خود ان کی جان کو بھی خطرہ ہے۔ ایسی بات پر تو ان کو چاہیے تھا پارٹی کو اعتماد میں لیتے۔ جناب یوسف رضا گیلانی کو اپنی جان کے حوالے سے دھمکی یہ کوئی چھوٹی بات نہیں بلکہ یہ دھمکی پیپلز پارٹی کے منتخب وزیراعظم اور اس ملک کے آئینی و انتظامی سربراہ کو تھی۔ اس پر سب سے پہلے تو پارٹی فیڈرل کونسل و سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلا کر نہ صرف ان کو بریف کیا جاتا بلکہ پارٹی کی طرف سے اس کی مذمت کی قرارداد بھی پاس کروائی جاتی۔اس بات کو پارٹی اور پارٹی قیادت سے خفیہ رکھنے میں کیا حقیقت کارفرما تھی اس سے پارٹی کارکنان و لیڈرشپ ابھی تک بے خبر ہیں۔ حتیٰ کہ خود ان کے صاحبزادے تک بھی اس خبر سے بے خبر تھے۔ جس دن یہ بیان شہ سرخیوں کے ساتھ چھپا اسی دن اخبارات نے ان کے صاحبزادے جناب عبدالقادر گیلانی کا بیان بھی شائع کیا کہ پنجاب میں ضمنی الیکشن کے حوالے سے ماحول سازگار ہے۔ آج کروڑوں جیالے پریشان ہیں کہ یہ کیسی سیاسی شعبدہ بازی ہے کہ باپ کی جان کو خطرہ ہے اور وہ بیٹے کو اعتماد میں لیے بغیر اتنی بڑی خبر میڈیا کو بتا رہے ہیں۔ یہی مجھے مداری اور بچہ جمورا کے سوال جواب یاد آ جاتے ہیں۔یوسف رضا گیلانی کے وزیراعظم بننے میں شہیدوں کا لہو اور قربانیاں شامل ہیں۔ 70ء کے عشرہ میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت 80ء کے عشرہ میں میر شاہنواز بھٹو کی شہادت 90ء کے عشرہ میں میر مرتضیٰ بھٹو کی شہادت اور 2000ء کے عشرہ میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی لازوال شہادت اور ان کے بچے بلاول،بختاور،آصفہ جو کہ بچپن میں ہی عظیم ماں کے سایۂ شفقت سے محروم ہو گئے۔اس طرح وکلاء کی تحریک کے دوران اور 18اکتوبرکو محترمہ کی وطن واپسی کے موقع اور 27دسمبر کو ان کی شہادت کے موقع پر سینکڑوں جیالوں کا لہو اورہزاروں جیالوں کی طرح میری قیدوبند اور سالوں پر محیط جلاوطنی بھی شامل ہے۔ اور اگر 28دسمبر 2007ء کو آصف علی زرداری پاکستان کھپے کا نعرہ نہ لگاتے تو شاید آج ہم سب مرکھپ چکے ہوتے ؟محترم وزیراعظم صاحب جو کہ میرے جیسے لاکھوں جیالوں کی خدمات کے کندھوں پر پائوں رکھ کر وزارتِ عظمیٰ تک پہنچے ہیں۔ اور یہ منصب پاکستان پیپلز پارٹی کی امانت ہے اور تاریخ نے دیکھا کہ جس کسی نے بھی پیپلز پارٹی یا بھٹو خاندان سے بے وفائی کی اس کا ذکر پھر کتابوں تک میں ڈھونڈنا مشکل ہو گیا۔یوں میرا اوراس ملک کے کروڑوں جیالوں کا یہ حق بنتا ہے کہ ہم ان کو سونپی گئی امانت کے متعلق پوچھیں کہ وہ آخر کس کے وزیراعظم ہیں؟ مسلم لیگ ن کے یا پاکستان کے؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus