×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مٹی اور دھرتی کا قرض
Dated: 10-Feb-2015
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com مِتر پنجابی زبان کا ایک ایسا میٹھا لفظ ہے جس کے اردو میں معنی سجن اور دوست کے ہیں۔ تاریخ کے اوراق پلٹنے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ قصبہ میترنوالی محمود غزنوی کے دور سے بھی پہلے معرضِ وجود میں آیا تھا اور غزنوی دور میں ، اسے علاقائی ضلعی ہیڈکوارٹر کے مقام کا درجہ حاصل تھا۔ رفتہ رفتہ سیالکوٹ، وزیر آباد، رہوالی، گوجرانوالہ، ڈسکہ اور سمبڑیال کے سنگم میں آباد یہ قصبہ اپنی جغرافیائی اہمیت کے باوجود وہ مقام حاصل نہ کر پایا جو اس کو ابتدا میں حاصل تھا۔ قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں اس قصبے سے متعدد قومی سطح کے بیوروکریٹس ،سائنسدان، دانشور، مفکر فوجی افسروںاور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے جنم لیا۔ آج بھی ملک کے طول و عرض میں میترانوالی سے نقلی مکانی کرکے چلے جانے والے بے شمار لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ نہروں کے درمیان گھِرا اور لہلہاتی فصلیں اس کی پہچان ہیں مگر پچھلے کم از کم تیس سال سے بدامنی اور لاقانونیت کی لہر نے اس قصبہ کے جمالیاتی حسن کو گھن لگا دیا ہے۔ مسلم لیگ کا گڑھ تصور کیا جانا والا یہ قصبہ ہمیشہ سے مسلم لیگ کی قیادت کی بے اعتنائی کا شکار رہا۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایک دفعہ مجھ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اب کی بار جب وہ اقتدار میں آئیں تو نہ صرف اس قصبہ کا وزٹ کریں گی بلکہ اس کو ماڈل قصبہ بنا دیا جائے گا۔ شومئی قسمت میترانوالی کے عوام کا یہ خواب تو پورا نہ ہو سکا مگر محترمہ کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت سے اپنے اصولی اختلاف کے باوجود اس وقت کے سوئی ناردرن گیس کے چیئرمین میاں مصباح الرحمن سے اپنی ذاتی دوستی کی بنا پر میترانوالی کے لیے ساڑھے چھ کروڑ کے تخمینے سے سوئی گیس منظور کروالی مگر پھر صوبائی اور مرکزی حکومت کے درمیان چپقلش کی وجہ سے یہ منصوبہ ابھی تک پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا۔ اسی طرح قصبے کے عوام کو پینے کے صاف پائی اور سیوریج کے لیے سات کروڑ روپے مختص کروائے گئے جو مقامی انتظامیہ نے ٹھیکے داروں سے مل کر ہڑپ کر لیے جبکہ گورنمنٹ انٹرمیڈیٹ کالج کو اَپ گریڈ کرنے کے لیے مختص ڈھائی کروڑ کی خطیر رقم ٹھیکہ دار اور ضلعی انتظامیہ نے ہڑپ کر لی ہے۔ قصبہ کی ناگفتہ حالت دیکھ کر میترانوالی کے سماجی نوجوانوں نے ’’احساس ویلفیئر‘‘ کے نام سے کونسل قائم کر لی ہے۔ جنہوں نے گذشتہ ایک سال کے دوران اپنی مدد آپ کے تحت لاکھوں روپے کے فنڈز جمع کیے ہیں اور وہ قصبہ جس کی گلیاں اور بازار کسی سیلاب سے تباہ حال شہر کا نقشہ پیش کر رہی تھیں، آج قدرے بہتر نظر آ رہی ہیں۔ میترانوالی کا ڈیڑھ کلومیٹر پر محیط مین بازار جوہڑ کا منظر پیش کر رہا ہے۔ قصبہ میں موجود تمام گرلز و بوائز سکولز تو ایک طرف حتی کہ کسی مسجد کو جانے کے لیے بھی کوئی خشک راستہ نہیں ہے۔ مجھے ’’احساس ویلفیئر‘‘ کے رانا غفور احمد، سید راحت رضوی، ظفر اقبال بھٹی، افضال اکبر چیمہ اور شکیل احمد جنجوعہ نے بتایا کہ میترانوالی کی جوان بچیوں کے رشتے اور منگنیاں صرف اس لیے ٹوٹتی ہیں کہ اس قصبہ میں آج کے دور کی بنیادی ضروریاتِ زندگی کا فقدان ہے۔ آج گئی بجلی کا کل تک بھی آنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ ڈسکہ ،وزیرآباد اور سمبڑیال سے میترانوالی کو لنک کرنے والی سڑکیں دوسری جنگ عظیم کے کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ تیس ہزار سے زیادہ آبادی پر مشتمل یہ قصبہ اور اس سے ملحقہ یونین کونسل اور اس کے دیہات 2015میں بھی 1515کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ قارئین! میترانوالی کا ہر تیسرا یا چوتھا شخص ہیپاٹائٹس کے خطرناک موذی مرضی میں مبتلا ہو چکا ہے۔ ڈسکہ ،میترانوالی اور اوجلہ پُل کے درمیان 25کلومیٹر نہر کنارے سڑک ہونے کی وجہ سے اکثر کھٹارا ویگنیں نہر میں گِر جاتی ہیں، جس کی وجہ سے بھاری جانی نقصان ہوتا رہتا ہے۔ مگر ضلعی انتظامیہ اور کرپٹ ٹریفک پولیس اور نام نہاد ٹرانسپورٹ مافیا کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے زمانہ قدیم کی ویگنیں موت کی سوداگر بن کر ہمارا منہ چڑچڑاتی نظر آ رہی ہیں۔اس قدر تاریخی اہمیت کا یہ قصبہ اور زبردست سیاسی پس منظر رکھنے والے اس کے باسی، اس لیے بھی مایوسی کا شکار ہیں کہ یہاں صنعت نہ ہونے کی وجہ سے روزگار کے مواقع صفر فیصد ہیں اور پھر نام نہاد چوہدراہٹ اور بھتہ مافیا نے لوگوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ کاروباری برادری شیخ برادری سے تعلق رکھنے والے ان وجوہات کی بنا پر میترانوالی کو خیر باد کہہ چکی ہے۔ اس دفعہ مسلم لیگ ن کے ممبر قومی اسمبلی سید ظاہر ے شاہ منتخب ہوئے جبکہ صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر بھی حکمران جماعت کے کرشماتی خوبیوں والے محمد آصف باجوہ منتخب ہوئے۔ میرے ان سے سیاسی اختلافات کے باوجود یہ دونوں میرے بہترین دوستوں میں شامل ہیں۔ مجھے امید ہے کہ مندرجہ بالا منتخب سیاسی قیادت میترانوالی اور علاقے کے رکے ہوئے پراجیکٹس نہ صرف پھر سے شروع کروائیں گے بلکہ کرپٹ ٹھیکے داروں اور انتظامیہ میں موجود کالی بھیڑوں کو قرار واقعی سزا بھی دلوائیں گے۔ خاص طور پر میترانوالی میں موجود بھتہ مافیا اور نسل در نسل پولیس ٹائوٹوں کی بیخ کنی کریں گے۔ مجھ سے ’’احساس ویلفیئر‘‘ کے نمائندگان کے علاوہ مقامی لوگوں نے بھی بات کی وہ سب اس بات پر مصر ہیں کہ وزیر اعظم میاں نوازشریف اور وزیراعلیٰ شہباز شریف سے میری سیاسی مخاصمت کی وجہ سے میترانوالی کے عوام کو مشکلات کی دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے۔ میں اس کالم کے ذریعے شریف برادران کو یہ پیغام پہنچانا چاہتا ہوں کہ میں جب محترمہ بے نظیر بھٹو کا خصوصی ایلچی مقرر تھا تو میں نے دو بڑی پارٹیوں اور ان کے قائدین کے درمیان صلح کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ جس کی بنا پر میثاق جمہوریت کی تکمیل ہوئی اور میری انہی کاوشوں کی وجہ سے مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر ادریس باوجوہ صاحب اور پیپلزپارٹی کے ضلعی صدر ملک نصیر احمد نے 2005کے بلدیاتی الیکشن میں متفقہ طور پر اپنا امیدوار برائے ضلعی ناظم نامزد کیا۔ محترمہ کی شہادت کے بعد میں چیئرمین عوامی تحریک جناب ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا پولیٹیکل سیکرٹری ہوں۔ شریف برادران میرے ساتھ سیاسی اختلافات کی سزا میرے قصبہ کے معصوم اور مظلوم عوام کو نہ دیں۔ یہ سیاست اور اقتدار آنے جانے والی چیزیں ہیں۔ سیاسی مخالفت کی بنا پر عوام کی زندگی اجیرن بنا کر رکھ دینا یہ سبق شریف برادران کے والد محترم میاں شریف(مرحوم) کا دیا ہوا نہیں لگتا۔ میاں صاحب !آئیں سیاسی میچ سیاسی گرائونڈ میں کھیلیں، میرے اوپر جو آپ نے درجنوں ناجائز مقدمات قائم کئے ہوئے ہیں میں ان کاگلہ شکوہ نہیں کروں گا مگر میترانوالی کے عوام سے ان کے بنیادی حقوق چھیننا فیئرپلے نہیں ہے۔ اور میں نے آج یہ آواز اس لیے بلند کی ہے کہ اپنی دھرتی کی مٹی کا کچھ قرض اتار سکوں! 10فروری2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus