×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سابق گورنر پنجاب اور قبضہ و لینڈ مافیا کا شکنجہ
Dated: 02-Feb-2015
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جن مملکتوں اور ریاستوں نے لینڈ ریفارمز کیے اور بائیو سسٹم کے تحت قوانین ترتیب دیئے وہاں آج زمینوں یا مکانات پر قبضہ کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یورپ کی تو خیر بات ہی چھوڑیئے ۔ہمارے ساتھ آزاد ہونے والے بھارت نے لینڈ ریفارمز کرکے قبضہ گروپس سے نجات حاصل کر لی ہے۔ خاص طور پر این آئی آر یعنی وہ بھارتی جو اوورسیز کی مستقل سکونت اختیار کر چکے ہیں۔ ان کے لیے خصوصی قوانین بنائے گئے ہیں تاکہ وہ مدر لینڈ میں نہ صرف زرِ مبادلہ لائیں بلکہ ان کی دلچسپی بھی برقرار رہے مگر اس کے برعکس پاکستان میں حالات اس سے مختلف ہیں۔ ہمارے وہ بھائی جو دیارِ غیر یا اوورسیز میں اپنی پوری زندگی محنت مزدوری کرکے بچوں کو پڑھانے کے علاوہ جو حاصل کر پاتے ہیں وہ صرف ایک مکان یا زمین کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے۔ محنت مزدوری سے کمر دوہری ہونے اور ریٹائرمنٹ کے بعد جب ہمارے لوگ وطن عزیز کا رخ کرتے ہیں تو اکثر کے لیے یہ خبر کسی حادثاتی صدمے سے کم نہیں ہوتی کہ بڑھاپا گزارنے کے لیے انہوں نے جو مکان کرائے پر دے رکھا ہوتا ہے ،اس کو کرایہ مافیا، قبضہ لینڈ مافیا کے ساتھ مل کر اکثر ہتھیا چکے ہوتے ہیں۔ ایسے واقعات لاکھوں کی صورت میں دیکھنے، سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں۔ ابھی ابھی مستعفی ہونے والے گورنر پنجاب چودھری سرور کے اپنے ہی گھر میں قبضہ مافیا کا وار اس بات کا غماز ہے کہ وطن عزیز میں آئین اور قانون نام کی کوئی چیز نہیں اور تقدس پر طاقت غالب ہے۔ قارئین خود راقم کے ساتھ بھی ایسا سانحہ پیش آ چکا ہے۔ جولائی 2011جب میں کینیڈا میں مقیم اپنی فیملی سے ملنے کے لیے گیا تو میرے ایک حادثاتی دوست نے پاکستان سے مجھے فون کیا کہ انہیں دو ماہ کے لیے مکان دے دوں کیونکہ ان کے موجودہ مالک مکان نے انہیں گھر چھوڑنے کا نوٹس دے دیا ہے۔ جس پر میں نے پانچ بیڈ رومز پر مشتمل ایک کنال کا گھر جو کہ مکمل فرنشڈ اور آراستہ تھا ،اس کی چابی میرے کہنے پر میرے ملازمین نے ان کے حوالے کر دی۔ پھر اس کے بعد پچھلے ساڑھے تین سال سے عارضی کرائے دار اس لگژری مکان کے اندر اور میں باہر۔ بلکہ میرے ہی کرائے داروں نے اپنے ایک برادرعزیز ڈی آئی جی لاہور کی وساطت اور سابق صدر مملکت اور ان کی بہو موجودہ وزیر مملکت کی وجہ سے میرے ہی خلاف ایک جھوٹی ایف آئی آر درج کروا رکھی ہے جبکہ میری فیملی اور بچے مجھ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ اب ہم لاہور جا کر کس گھر میں ٹھہریں گے۔ قارئین میں سابق گورنر پنجاب چودھری سرور کی ذہنی کیفیت کو بخوبی سمجھ سکتا ہوں کہ جب وہ پنجاب کے سب سے بڑے آئینی عہدے پر تعینات ہوں اور ان کے بھائی کی زمین پر انہی کی حکمران پارٹی کے کچھ لوگ ناجائز قبضہ کر لیں۔ بالکل اسی طرح چند سال پیشتر جب میاں نوازشریف، شہبازشریف، آصف علی زرداری زیر عتاب تھے تو میرے اسی گھر پر جس پہ آج کرائے دار قابض ہیں، میثاقِ جمہوریت اور این آر او کے سلسلے کی مرکزی میٹنگز ہوا کرتی تھیں۔ آج زیر تسلط وہ گھر لاہور میں اس وقت کے ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے خلاف سب سے مضبوط گڑھ تھا، جہاں تک سابق گورنر کے استعفیٰ اور اس کے پیچھے چھپے ہوئے پوشیدہ حقائق کا تعلق ہے تو یہ کہانی خیبر سے کراچی تک ہر جگہ دہرائی جا رہی ہے۔ وطن عزیز میں بیوروکریسی، اسٹیبلشمنٹ اور اقتدار زدہ طبقہ ایک مافیا کی صورت اختیار کر چکا ہے اگر ان کا بس چلے تو جغرافیائی طو رپر وہ پاکستان کو پلاٹوں میں تقسیم کرکے بیچ دیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جسے انڈسٹریل سٹیٹ نہیں بنایا جا سکتا مگر کچھ بزنس آئیکون شخصیات پاکستان کو بیچ کر اپنے مذموم مقاصد پورے کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے ایک دفعہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب سے پوچھا کہ نئے پاکستان اور نئے نظام میں عام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کا کیا نظام ہوگا تو ڈاکٹر صاحب نے مسکرا کر کہا کہ ہم عوامی سوچ میں سے لفظ عدم تحفظ کا بتدریج خاتمہ کر دیں گے اور جب عوام کو یہ احساس ہو جائے کہ ان کی جان اور مال کا تحفظ مملکت بہتر طریقے سے کر سکتی ہے تو پھر وہ مملکت کو ٹیکس ادا کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ سابق گورنر پنجاب چودھری سرور کا استعفیٰ دینا عام بالغ النظر شہری کے نزدیک کوئی بڑا واقعہ نہیں مگر ان کا اس عہدے کے لیے ہاں کر دینا ایک بڑا واقعہ تھا۔ یادرکھیئے جب ریاست کے شہریوں کو عدم تحفظ لاحق ہو تووہ ایک ناکام ریاست تصور کی جاتی ہے۔ چودھری سرور نے جن تحفظات اور چارج شیٹ کا ذکر کیا ہے وہ ہمارے نظام کے منہ پر بھرپور طمانچہ ہے۔ یہ خبر بریکنگ نیوز نہیں تھی کہ چودھری سرور نے پنجاب کے گورنر کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا ہے بلکہ یہاں یہ خبر اہم تھی کہ درجن بھر لوگ اس عہدے کے لیے اپنا سب کچھ دائو پر لگانے کو تیار ہیں۔ بلکہ کچھ طالع آزما قسم کے لوگ تو اس بات پر ہی خوش ہیں کہ ان کو اس عہدے کے لیے موزوں ناموں کی فہرست میں تصور خیال کیا جا رہا ہے۔ آج وطن عزیز کو جن داخلی اور خارجی تحفظات کا سامنا ہے ان کے لیے ہمیں ایک اجتماعی سوچ کی ضرورت ہے لیکن جس معاشرے میں مافیا دیہاڑی لگانے کی سوچ کے تابع ہو اس معاشرے میں ایک آزاد سوچ جنم نہیں لے سکتی۔ قارئین! محمد علی جناح، ذوالفقار بھٹو، بے نظیر بھٹو اور پرویز مشرف بھی اس قوم کو خطرات کی دلدل سے نہیں نکال سکتے۔ جب تک وہ قوم خود اس دلدل سے نکلنا اپنا عزم نہ بنائے۔ گذشتہ چند مہینوں سے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری اس قوم کو ایک نئی سوچ، نئی امنگ اور نیا ویژن دینے کے لیے کاوشوں میں مصروف ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا کوئی انقلاب ،کوئی تحریک ،کوئی فلسفہ، کوئی ازم اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک اس سوسائٹی کے لوگ اس کے لیے تن، من دھن سے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہ ہوں۔ 2فروری2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus