×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مضبوط پاکستان کیلئے میرٹ۔۔۔ صرف اور صرف میرٹ!
Dated: 31-Mar-2015
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پاکستان مسلم لیگ (ن) صوبہ پنجاب میں چھٹی جبکہ مرکز میں تیسری دفعہ صاحب اقتدار ہے۔ گذشتہ تیس سالہ اقتدار کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ شریف برادران کا اندازِ سیاست ہے یا المیہ کہ جب بھی وہ اقتدار میں آئے انہوں نے پاکستان مسلم لیگ کو ایک سیاسی پارٹی بنانے پر زور دینے کی بجائے برادری ازم اور اقربا پروری کو پہلی ترجیح دی۔ یہ شاید میاں محمد نوازشریف صاحب کی تحریکِ استقلال کے پلیٹ فارم سے بلدیاتی الیکشن ہارنے کی وجوہات تھیں کہ انہوں نے 1985ء کے غیر جماعتی الیکشن میں گورنر جیلانی کی مدد سے جب پنجاب کا عنانِ اقتدار سنبھالا تو انہوں نے ایک قومی لیڈر بننے کی بجائے اور قومی سیاست اپنانے کی بجائے لوکل اور مقامی برادری ازم پر تکیہ کیا۔یہی وجہ تھی کہ پرانے لاہور یعنی اندرونِ لاہور بھاٹی، لوہاری،لکشمی اور دلی گیٹ کی اندرونی گلیوں سے چودہ ہزار پرائمری، مڈل، میٹرک اور ایف اے پاس کشمیری نوجوانوں کو چن چن کر پنجاب پولیس میں اے ایس آئی اور اس سے اوپر کی پوسٹوں پر بھرتی کیا(یاد رہے میاں صاحب خود بھی ایک زمانے میں پولیس میں سب انسپکٹر کی وردی پہن چکے ہیں)ایک اندازے کے مطابق صرف 1985ء اور 1988کے درمیان اکیس ہزار کشمیری برادری سے متعلقہ نوجوان مختلف عہدوں پر بھرتی کیے۔ واضح رہے میاں نوازشریف صاحب کے سیاسی اتالیق جنرل ضیاء الحق (مرحوم)نے بھی سیاست میں برادری ازم کے ناسور کو فروغ دیا۔ اس زمانے میں تارکین وطن آرائیںبرادری سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو پرکشش مراعات کا لالچ دے کر کلیدی عہدوں پر تعینات کیا گیا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ نوازشریف صاحب نے اس تکنیک کو اپنا آئیڈیل بنا لیا۔ میرے وہ قاری حضرات جن کو اس بات کی صداقت پر کوئی رتی بھر بھی شک ہے وہ اس دور کے تمام بھرتی کیے گئے افراد کا ریکارڈ چیک کر لیں حتیٰ کہ 1985ء کے بعد اب تک مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے اس دوران ہونے والے تمام جنرل الیکشن میں یا تو اپنے قریبی رشتے داروں یا پھر برادری سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو پہلی ترجیح دی۔ زیادہ دور نہ جائیے گذشتہ منتخب ہونے والی مسلم لیگ (ن) کی تین درجن سے زائد خواتین ایم پی ایز اور ایم این ایز میں سے پچانوے فیصد کا تعلق بھی کشمیری اور آرائیں برادری سے ہے جبکہ پنجاب کی صوبائی کابینہ اور مرکز میں کابینہ تشکیل دیتے وقت بھی انہی کلیات کا اطلاق کیا گیا۔ قارئین گذشتہ تیس سال کی خانہ پُری کے دوران ہم دیکھتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دورانیے میں اگر قریبی عزیزوں یا رشتے داروں اور برادری میں سے کوئی مناسب امیدوار نہ ملا تو اس عہدے اور سیٹ کو خالی رکھا گیا اور وزیراعلیٰ پنجاب اپنی ہی پارٹی کے کسی دوسری برادری سے تعلق رکھنے والے ایم پی ایز کو کابینہ میں شامل کرنے کی بجائے ایک ہی وقت میں اٹھارہ مختلف محکموں کے وزیر بھی خود ہی رہے جبکہ مرکز میں وزارت خارجہ سمیت دیگر ایسے محکمے اور وزارتِ دفاع اور پانی اور بجلی ایک ہمہ وقت وزیر سے محروم ہیںاور حکومت کو پنجاب کی گورنر شپ کے لیے کوئی کشمیری پُتر نہیں مل رہا۔ اس لیے یہ عہدہ بھی دو ماہ سے خالی پڑا ہے اور سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال کا دل سپیکر ہائوس میں نہیں لگتا تو ان کی برسوں کی خواہش کو پورا کرتے ہوئے کیوں نہ انہیں مستقل گورنر لگا دیا جائے۔ایک سروے کے مطابق کم از کم دو درجن ملکی کارپوریشنیں متعدد محکمے ابھی تک کلیدی عہدوں پر بھرتیوں سے محروم ہیں۔ میاں نوازشریف صاحب نے 1999ء میں جب اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف سرکاری دورے پر سری لنکا گئے ہوئے تھے۔ پاکستان آرمی کے چیف آف آرمی سٹاف کے لیے ایک ایسے شخص کو جو سنیارٹی میں درجنوں نمبر نیچے تھا مگر چونکہ وہ ذات کا ’’بٹ‘‘ تھا کو سی اواے ایس کے بیج لگا دیئے۔ قارئین یہ بھی عجیب بات ہے کہ جب بھی ملک میں ڈکٹیٹرشپ آئی تو انہوں نے ملک میں بلدیاتی انتخابات کو پہلی ترجیح دی جبکہ ہماری نام نہاد جمہوری حکومتوں نے اقتدار کو رشتہ داروں اور برادریوں تک محدود کرنے کے لیے ہمیشہ بلدیاتی الیکشن کرانے سے گریز کیا۔ خصوصاً گذشتہ سات سال کے دوران سپریم کورٹ کی رولنگ آنے کے باوجود حیلے بہانوں سے بلدیاتی الیکشن کی راہ میں روڑے اٹکائے کیونکہ ہمارے موجودہ حکمران یہ نہیں چاہتے کہ لوکل باڈیز الیکشن کے نتیجے میں اقتدار ملک کی دس ہزار یونین کونسلز اور اس کے تحت پانچ لاکھ منتخب اراکین تک پہنچ جائے۔یاد رکھیے دنیا بھر میں جہاں بھی جمہوریت اور ترقی نے اپنے پائوں جمائے اس کی بنیاد جمہوریتوں کا قیام ہے۔ گذشتہ دنوں جب ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے صاحب زادے ڈاکٹر حسن کینیڈا تشریف لائے تو ہماری متعدد ملاقاتوں میں سے کچھ ملاقاتیں گورنمنٹ کے کچھ اعلیٰ عہدے داروں سے بھی ہوئیں اور حسن بھائی نے منسٹر سے پوچھا کہ آپ کی موجودہ ترقی اور نظام کی کامیابی کے پیچھے کونسی وجوہات ہیں تو آنرایبل منسٹر نے جواب دیا کہ مسٹر قادری آپ کو جو ہماری ترقی نظر آتی ہے اس کے پیچھے کینیڈا میں ملٹی کلچر سوسائٹی کا قیام کہ جس کے تحت کینیڈا میں رہائش اختیار کرنے والے ہر شہری خود کینیڈین بن کر رہنا ہوتا ہے چاہے بیک ہوم اس کا تعلق کسی بھی مسلک، مذہب اور قوم سے ہو اور دوسری وجہ کینیڈا کا مضبوط لوکل باڈیز نظام ہے اور ہم نے مرکز کو چند محکمے دینے کے علاوہ مقامی حکومتوں کو اتنا مضبوط کر دیاہے کہ اب ہر مقامی حکومتیں اپنے وسائل اور اپنے ٹیکسز کا خود انتظام کرتی ہیں جبکہ مقامی حکومتوں کے رائج کردہ ٹیکس نظام نے کینیڈا کو دنیا کا امیر ترین ملک اور پینتیس ملین کینیڈین عوام کو خوشحال بنا دیا ہے۔ قارئین! مسلم لیگ ن اور پی پی پی ہی نہیں تحریک انصاف میں بھی برادری ازم کچھ اس طرح عود کر آیا ہے کہ جس سے تحریک انصاف جیسی مضبوط اور ابھرتی ہوئی ایک نئی قوت کی بنیادیں بھی کھوکھلی ہو گئی ہیں اور اسی چیز کو محسوس کرتے ہوئے عمران خان نے انٹراپارٹی الیکشن کالعدم قرار دے کر نئے الیکشن کرانے کا حکم دیا ہے کیونکہ پنجاب کی قیادت سے لے کر مرکز میں تحریک انصاف کے کلیدی عہدوں یونین کونسلز، تحصیل، ضلع، اور ڈویژن کی سطح پر عہدے دار ایک مخصوص برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور ذرا سا بھی سیاسی فہم رکھنے والا ہر انسان تحریک انصاف میں پائوں جما چکی برادری ازم کی جڑوں کو دیکھ سکتا ہے۔ ہمیں ایک مضبوط پاکستان بنانے کے لیے برادری ازم اور اقرباء پروری کو خیر باد کہہ صرف اور صرف میرٹ کو اپنانا ہوگا ۔ جھورا جہاز کہہ رہا تھاکہ ’’انھا ونڈے ریوڑیاں پرت پرت اپنے گھر‘‘ (اندھا بانٹے رویوڑیاں بار بار اپنے گھر) قارئین آج اگر ملک کا ایک اہل وزیر خارجہ اپنے عہدے پر کام کر رہا ہوتا تو وزیر ریلوے اور وزیر بجلی و پانی سمیت دیگر وزراء سعودی عرب و یمن کے تنازعہ پر بھانت بھانت کی بولیاں نہ بول رہے ہوتے۔ 31مارچ2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus