×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بکل دے وچ چور!
Dated: 24-Mar-2015
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com گذشتہ چند روز سے ملکی سیاسی افق پر جو تغیرات رونما ہوئے ہیں انکی سیاسی حرارت سے وطن عزیز کا پورا نظام تبدیل ہوتا نظر آ رہا ہے پچھلے نو دس ماہ سے تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی پاکستان مسلم لیگ ن کے ساتھ جو سیاسی کشمکش چل رہی تھی جس نے بعدازاں تحریک اور انقلاب مارچ کا روپ دھار لیا تھا کے اثرات برآمد ہونا شروع ہو گئے ہیں گذشتہ روز تحریک انصاف اور ن لیگ کی قیادت نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کرکے ملکی سیاست میں سرپرائز دینے کی جو کوشش کی ہے اسکے نتائج آنے میں شاید دیر لگے مگر میں نے عوامی تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر طاہر القادری سے پچھلے سال جون میں پاکستان جانے سے قبل ہی کہہ دیا تھا کہ عمران خان اپنی ناپختہ تجربہ کاری کی وجہ سے شاید زیادہ دیر آپکے ساتھ نہ چل سکے اور اسلام آباد دھرنے کے عین درمیان ہونیوالے واقعات نے ثابت کر دیا تھا کہ عمران خان کے ساتھ شامل ہونے والی سیاسی قیادت اقتدار کیلئے کوئی بھی راستہ اور کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ قارئین! آپ گذشتہ سال دھرنے کے ابتدائی ایام کے اخبار اور میڈیا فوٹیج نکال کر دیکھ لیں کہ عمران خان صاحب کی ابتدائی ڈیمانڈز کیا تھیں۔ نواز شریف‘ شہباز شریف کے استعفے‘ اسمبلیوں کو تحلیل کرنا کرپٹ سیاست دانوں کا احتساب اور الیکشن کا بائیو میٹرک سسٹم کا نفاذ ابتدائی مطالبات میں شامل تھا مگر جب امپائر خاموش تماشائی بنا رہا تو عمران خاں اور انکے ساتھیوں کی نظریں اٹھی ہوئی انگلی تلاش کرتی رہیں لوگوں کا جوش و خروش دن بدن کم ہوتا چلا گیا جس کا احساس ہونے پر عمران خان نے احتجاج کو ملک گیر بنانے کیلئے ملک کے دیگر بڑے شہروں میں جلسوں کا اعلان کر دیا مگر یہ سب کچھ اپنے قریبی حلیف ڈاکٹر طاہر القادری کو اعتماد میں لئے بغیر کیا گیا ڈاکٹر صاحب نے نئی صورتحال کو بھانپتے ہوئے عمران خاں کا مزید آلہ کار بننے سے انکار کر دیا کیونکہ اس مشترکہ تحریک میں پاکستان عوامی تحریک اور منہاج القرآن کے بتیس افراد شہید ہو چکے تھے۔ ایک ہزار کے قریب کارکن شدید زخمی ہو چکے تھے مختلف اوقات میں بائیس ہزار کارکنان پر مقدمات قائم کرکے جیل اور کچہری کے چکر میں ڈال دیا گیا تھا جبکہ چشم فلک نے دیکھا کہ اسلام آباد کا دھرنا جس میں عوامی تحریک کے ایک لاکھ سے زائد نظریاتی کارکن دھرنے کا بھرم قائم رکھے ہوئے تھے جبکہ عمران خاں کا شام آٹھ بجے سے رات بارہ بجے تک صرف ایک میوزیکل شو منعقد ہوتا تھا۔ چند راتوں کو چھوڑ کر شب ایک بجے عمران خاں اور پی ٹی آئی کی قیادت بنی گالہ روانہ ہو جاتی تھی اور آج بھی عمران خاں کے وہ الفاظ کانوں میں گونج رہے ہیں تیس اور اکتیس کی درمیانی شب اگر عوامی تحریک کے کارکنان سکیورٹی اور تحفظ فراہم نہ کرتے تو شاید ملکی تاریخ کا بدترین حادثہ رونما ہو چکا ہوتا اور بعدازاں انہی عوامل کی بنیاد پر ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے دھرنا چھوڑ کر ملک گیر احتجاج کا پروگرام تشکیل دیا جبکہ عمران خاں اس کو مزید چھپن دن تک برداشت کرتے رہے اور تب حالات یہ ہو چکے تھے کہ تین سو سے پانچ سو تک پی ٹی آئی کے کارکنان دھرنے میں شریک ہوتے تھے اس سے پہلے کہ عمران خاں اور ڈاکٹر طاہر القادری کو ملک گیر سطح پر ہونیوالے احتجاج کے نتیجے میں کوئی اچھی خبر سنائی دیتی کسی نامعلوم اور خفیہ ہاتھ نے سانحہ پشاور برپا کر دیا جس کو بنیاد بنا کر عمران خاں صاحب نے دھرنے کے اختتام کا اعلان کر دیا اور ان کے مطالبات کی فہرست سکڑ کر جوڈیشل کمیشن کے قیام پر آکر رک گئی قارئین! میں نے گذشتہ روز ڈاکٹر طاہر القادری سے پوچھا کہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے درمیان ہونیوالے اس نئے معاہدے کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں تو ڈاکٹر صاحب نے ایک مشفقانہ مسکراہٹ کیساتھ مجھے کہا کہ مطلوب میں تمہیں ایک واقعہ سناتا ہوں کہ کچھ سال قبل میں منہاج القرآن کے قریب گارڈن ٹاؤن کی روڈ سے گزرتا تھا جہاں سڑک کے دونوں اطراف پٹھان قالین لٹکائے بیٹھے ہوئے تھے ایک دن مجھے خیال آیا کہ یورپ میں منہاج القرآن کے ایک مرکز کیلئے کچھ قالین بھجوا دوں میں نے گاڑی روکی اور قالین دیکھنا شروع کئے کچھ پسند آئے لیکن انکی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں مگر ایک لمبی بحث اور تکرار کے بعد وہی قالین جس کا پٹھان دس ہزار فی عدد مانگ رہا تھا پندرہ سو میں دینے کو تیار ہو گیا ڈاکٹر طاہر القادری سے یہ لطیفہ نما واقعہ سن کر میں محظوظ ہوا اور سمجھ گیا کہ اس دفعہ نواز شریف نے ’’پٹھان‘‘ کیساتھ ایک لمبی بحث و تکرار کے بعد ہاتھ کر دیا ہے۔ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کا اعلان شاید اس سے مختلف نہ ہو کہ انتہائی حالات میں نواز شریف حکومت ایک یا دو سیٹوں کی قربانی دیکر پانچ سال پورے کر جائے جبکہ پاکستان عوامی تحریک کا اس معاہدے پر آفیشل ردعمل یہ ہے کہ الیکشن میں دھاندلی ہمارا ایشو ہی نہیں تھا ہماری تحریک کا مقصد تو نظام بدلنا اور سسٹم میں انقلاب لانا ہے اور اب ان مقاصد میں شہدائے سانحہ ماڈل ٹاؤن اور انقلاب مارچ کے شہدا کیلئے حتمی انصاف کا حصول شامل ہو گیا ہے اور جب تک شہداء کا قصاص لے نہیں لیا جاتا تب تک کسی اور نقطے پر مذاکرات اور مفاہمت تو درکنار ہم لفظ اور ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔ قارئین! گذشتہ چند دنوں کے درمیان ایم کیو ایم کے صولت مرزا اور پیپلز پارٹی کے عزیز بلوچ نے جو اعترافات کئے ہیں یہ ابھی فلم کا ٹریلر چلا ہے آگے آنیوالے چند دنوں میں ایم کیو ایم‘ پیپلز پارٹی‘ اے این پی‘ مسلم لیگ ن کی صفوں سے ایسے بے شمار خودکش برآمد ہونگے جو ملکی سیاست کو یک لخت بدل کر رکھ دینگے ’’بکل کے یہ چور‘‘ پاکستان پر حکمرانی کرنیوالی ان تین چار سیاسی جماعتوں میں اکثریت میں پائے جاتے ہیں اور پاک فوج نے اب یہ تہیہ کر لیا ہے کہ وطن عزیز کو کرائم اور دہشت گردی سے پاک کر دیا جائیگا اور اس میں بکل کے یہ چور مرکزی کردار ادا کرینگے۔ 24مارچ2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus