×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اقبال کا تصور قومیت،یمن جنگ اور متفقہ قرارداد
Dated: 21-Apr-2015
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com علامہ اقبال کے تصور قومیت کا جائزہ لیں تو ہماری پارلیمنٹ کی جنگ یمن کے حوالے سے ایک فریق کا ساتھ دینے کے بجائے غیر جانبداررہ کر معاملہ مذاکرات اور افہام تفہیم سے حل کرانے کی قراداد اقبال کی تعلیمات کے عین مطابق ہے جو گو کہ اقبال کے تصور قومیت کو تو سامنے رکھتے ہوئے تیار ، پیش اور منظور نہیں کی گئی تاہم یہ اصولی تھی۔ جدید مغربی سیاسی افکار میں وطنیت اور قومیت قریب قریب ہم معنی ہیں۔ اقبال نے وطنیت کے سیاسی تصور کو جس بناء پر رد کیا تھا وہی وجہ مغربی نظریہ قومیت سے ان کی بدظنی کی بنیاد بنی ان کا خیال تھا کہ قومیت کی ایک سیاسی نظا م کی حیثیت قطعاً غیر انسانی اقدار پر مشتمل ہے۔ اور اس کی بنیاد پر ایک انسانی گروہ دوسرے انسانی گروہ سے کٹ کر رہ جاتا ہے اور بلا وجہ تنازعات کی بناد پڑتی ہے جو بعض اوقات قیمتی انسانی جانوں کے اتلاف اور بلا خیز تباہی پر منتج ہوتی ہے۔ اسی نظام کو انہوں نے دنیائے اسلام کے لئے خاص طور پر ایک نہایت مہلک مغربی حربے کی حیثیت سے دیکھا اور جب ترکوں کے خلاف عرب ممالک نے انگریزوں کی مدد کی تو انہیں یقین ہوگیا کہ وطنیت اور قومیت کے مغربی تصورات مسلمانوں کے لئے زہر قاتل سے زیادہ نقصان ثابت ہو رہے ہیں چنانچہ انہوں نے قومیت کے مغربی تصور کے مقابلہ میں ملت اسلامیہ کا تصور پیش کیااور یہ ثابت کیا کہ مسلمانان ِ عالم کے لئے بنیادی نظریات اور اعتقادات کی رو سے ایک وسیع تر ملت کا تصور ہی درست ہے اور قومیت کے مغربی نظریہ ہمیں بحیثیت ملت ان کی تباہی کے بے شمار امکانات پوشیدہ ہیں۔اقبال قومیت کے اس تصور کے خلاف ہیں جس کی بنیاد نسل ،زبان یا وطن پر ہو کیونکہ یہ حد بندیاں ایک وسیع انسانی برادری قائم کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ ان کی قومیت کے اجزائے ترکیبی وحدت مذہب ، وحدت تمدن و تاریخ ماضی اور پر امید مستقبل ہیں۔ جہاں تک مذہب کا تعلق ہے اسلام اسی ملت کی اساس ہے اور اسلام کا سب سے بڑا اور بنیادی اصول توحید خدا ملی وحدت کا ضامن ہے۔ اس کا دوسرا رکن رسالت ہے اور یہی دو نوں اساس ملت ہیں، نہ کہ وطن جو جنگ اور ملک گیری کی ہوس پیدا کرتاہے۔اس سلسلہ میں اقبال نے اپنے ایک مضمون میں یوں لکھا ہے۔’’قدیم زمانہ میں ’’دین‘‘ قومی تھا۔ جیسے مصریوں ، یونانیوں اور ہندیوں کا، بعد میں نسلی قرار پایا جیسے یہودیوں کا۔ مسیحیت نے یہ تعلیم دی کہ دین انفرادی اور پرائیوٹ ہے۔ جس سے انسانوں کی اجتماعی زندگی کی ضامن ’’سٹیٹ ‘‘ ہے۔ یہ اسلام ہی تھا جس نے بنی نو ع انسان کو سب سے پہلے یہ پیغام دیا کہ ’’دین‘‘ نہ قومی ہے نہ نسلی ہے، نہ انفرادی اور نہ پرائیوٹ ، بلکہ خالصتاً انسانی ہے اور اس کامقصد باوجود فطری امتیازات کے عالم بشریت کو متحد اور منظم کر نا ہے۔ ان باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقبال اخوت کے قائل ہیں لیکن اس کی بنیاد اسلام پر رکھتے ہیں کیونکہ اسلام ضابطہ حیات ہے جس کے پاس وسیع انسانی مسائل کا حل موجود ہے وہ قومیت کو اسلام کے دائرہ میں اس لئے رکھتے ہیں کہ ان کے نزدیک صحیح انسانی معاشرہ صرف اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہونے سے وجود میں آسکتا ہے۔ چنانچہ ان کے تصور قومیت کی بنیاد اسلامی معتقدات پر ہے۔ اقبال نے کہا تھا ؎ چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا جو لوگ اقبال کو اپنا رہنما اور مصور پاکستان مانتے ہیں ، اس تصور کو لے کر قائد اعظم محمد علی جناح نے اسلامیانِ ہند کے لئے ایک الگ مملکت تخلیق کی وہ لوگ آج کس طرح اقبال کے قومیت کے تصور کو پسِ پشت ڈال کر ایک جارح کی مظلوم کے مقابلے میں مدد کا اعادہ کررہے ہیں۔ مجھے یہ اس لئے کہنا پڑ رہا ہے کہ پارلیمنٹ کی مشترکہ قراداد میں میں تو پاکستان کے غیر جانبدار رہنے پر زور دیا گیا ہے سعودی عرب اور دیگ ممالک کی طرف سے قرارداد کے بعد دبائو بڑھا تو ہمارے حکمران تو گویا لرزکے رہ گئے۔سعودی وزیر مذہبی امور صالح بن عزیز نے پاکستان میں ڈیرے لگا لئے ۔انہوں حکومت پر زور دیا کہ وہ یمن مین زمینی کارروائی کے لئے اپنی افواج فراہم کرے ساتھ ہی اپنے نمک خواروں پر بھی کام کیا۔ایک فرقے کی پاکستان میں کل تعداد ایک فیصد سے بھی کم ہے اس نے پاکستان میں سعودی عرب کا ساتھ دینے کا اودھم مچا رکھا ہے۔سعودی عرب کی سفارتکاری کی داد دینا پڑتی ہے کہ جو لوگ پارلیمنٹ میں یک زبان تھے کہ پاکستان یمن جنگ میں غیر جانبدار رہے گا وہ حکومت کو سعودی عرب کی ہر طور مددکرنے کو کہہ رہے ہیں۔خود حکومت بھی دبائو میں آ گئی، وہ بھی قرار داد پر پچھتاوے کا اظہار کررہی ہے۔جہاں اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ تحریک انصاف اور پی پی پی اپنے موقف پر قائم ہیں۔حکومت نے قرارداد پر قائم رہنے کے بجائے سعودی کی کاسہ لیسی کا سلسلہ شروع کردیا۔سعودی حکمرانوں کی ناراضگی کم کرنے لئے شہباز شریف کو سعودی عرب روانہ کردیا۔ان کی واپسی پر وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیرصدارت شہباز شریف، مشیر خارجہ سرتاج عزیز، معاون خصوصی طارق فاطمی، مسلح افواج کے سربراہوں جنرل راحیل شریف، ائرچیف مارشل سہیل امان، پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد ذکاء اللہ، جوائنٹ چیفس سٹاف کمیٹی کے سربراہ جنرل راشد محمود نے سر جوڑ لئے۔ سرکاری طور پر بتایا گیا کی ان بڑوں نے پارلیمنٹ کی قرارداد کے تحت سعودی عرب کے ساتھ تعاون کے طریقہ کار پر غور کیا۔ شرکاء نے خطے کے امن اور استحکام کیلئے حکومتی اقدامات اور سعودی عرب کے شانہ بشانہ چلنے کے عزم پر اطمینان کا اظہار کیا۔ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے۔آپ اپنی تقریروں میں اقبال کی خودی اور خودداری کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں مگر جب خودداری کے عملی مظاہرے کو موقع آتا ہے تو ریال ضمیر کو سلا دیتے ہیں۔یہ ریال تو آپکے کام آئے اور آپکی اولاد کے مستقبل کو تابناک کررہے ہیںقوم کو ان سے کیا فائدہ ہے۔قوم اور ملک پر رحم کریں۔پاکستان تو خود دہشتگردی کی جنگ میں جل رہا ہے آپ پرائی جنگ کا حصہ بننے کے لئے بے تاب ہیںجو کم از کم اقبال کی تعلیمات کے بالکل برعکس ہے۔اگر ہوسکے تو یمن اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات ختم کرا دیں۔ 21اپریل2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus