×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا اوورسیز پاکستانیوں کو سمندر میں پھینک دیں؟
Dated: 11-Aug-2015
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com کچھ عرصے سے اوورسیز پاکستانی اور قارئین نوائے وقت کا یہ اسرار تھا کہ ان کے مسائل پر لکھا جائے۔ کچھ احباب نے مجھ سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے مجھے بتایا کہ انہوں نے سٹار کالم نویس اور ٹاپ اینکرز سے اس مسئلہ پر لکھنے کی درخواست کی ہے۔ میں نے انہیں بتایا کہ روزنامہ نوائے وقت نے بہت سال پہلے ہفتہ وار اوورسیز ایڈیشن شائع کرنا شروع کیا تھا جو آج بھی دیارِ غیر میں بسنے والے پاکستانیوں کے مسائل اُجاگر کر رہا ہے۔ یوں تو وطن عزیز پر جب بھی کوئی مشکل لمحات آئے تو سمندر پار پاکستانیوں نے اپنے ہم وطنوں سے بڑھ کر وطن کے معاملات میں نہ صرف دلچسپی لی بلکہ بین الاقوامی اور خارجی محاذ پر مملکت عزیز پاکستان کے سفیر ثابت ہوئے۔1998ء میں جب اس وقت کے وزیراعظم نوازسریف نے انڈیا کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں نیوکلیئر دھماکے کرنے کا اعلان کیا اور اس وقت پاکستان ایک ’’امبارگو‘‘کی حالت میں تھا تو وزیراعظم کی ایک کال پر اوورسیز پاکستانیوں نے زرِ مبادلہ کے ڈھیر لگا دیئے اور پاکستان کو معاشی مشکلات سے نکالا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں موجود کاروباری اور تاجر طبقے نے ان دنوں اپنا سرمایہ ملک سے نکال لیا تھا اور بعد میں سمندر پار پاکستانیوںکے اس زرِ مبادلہ کا جو حشر ہوا اس کا حال کس کو معلوم نہیں۔ اس وقت تقریباً ایک کروڑ پاکستانی دیارِ غیر میں رہتے ہوئے جو زرِ مبادلہ ملکی خزانے میں بھیجتے ہیں وہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی لیے گذشتہ روز وزیر خزانہ اسحاق ڈار بڑے طمطراق سے کہہ رہے تھے کہ سمندر پار پاکستانیوں نے گذشتہ بجٹ سال کے دوران ساڑھے اٹھارہ ارب ڈالرز کا سرمایہ پاکستان بھیجا جس سے ہمارے پاس زرِ مبادلہ کے ذخائر ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ مگر حکومت نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارانہیں کی کہ اس نے لینے کے لیے تو ہاتھ پھیلا رکھے ہیں مگر تارکینِ وطن کو کبھی خالی حوصلہ بھی دیا ہے؟ تقریباً تین دہائیوں سے سمندر پار پاکستانیوں کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ انہیں پاکستان میں ووٹ کا بنیادی حق دیا جائے جس پر خصوصاً موجودہ حکومت کی نظرانداز کی پالیسی توجہ طلب ہے جبکہ گزشتہ حکومت میں وزیر داخلہ رحمان ملک نے اس وقت احسان فراموشی کی حد ہی کر دی تھی جب انہوں نے اوورسیز سے آنے والی ٹیلی فون کالز پر زرداری ٹیکس لگا دیا تھا جس سے سمندر پار پاکستانیوں کے اپنے ہی پیاروں سے رابطے تقریباً منقطع ہو گئے تھے۔ تارکین وطن کے ساتھ جو دوسرا سب سے بڑا ستم یہ ہے کہ عمر بھر سمندر پار رہ کر وہ جو کماتے ہیں اس سے اگر وہ کوئی پلاٹ خرید لیتے ہیں یا گھر بنا لیتے ہیں تو پینتیس چالیس سال بعد جب واپس آتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کی پراپرٹی پر قبضہ مافیا نے پنجے گاڑ رکھے ہیں اور اس قبضہ مافیاکے شکار افراد کی تعداد لاکھوں میں ہے جو آج بھی اپنی حلال کی کمائی اپنی جائیداد کو بچانے کے لیے وکیلوں اور عدالتوں پر خرچ کر رہے ہیں۔(رقم خود بھی اسی قبضہ مافیا کا شکار ہے اور لاہور میں خود میرے مکان پر مافیا کا قبضہ ہے) قارئین! میڈیا سے تواتر سے یہ خبریں آ رہی ہیں کہ دیارِ غیر سے پاکستان پہنچنے والے مسافروں کو کچھ منظم گروہ گھر جانے سے پہلے ہی لوٹ لیتے ہیں جس کا کہ سدِ باب ضروری ہے اوورسیز پاکستانیوں کو سب سے زیادہ شکایات شاہی ہرکاروں سے ہیں یعنی سفارت خانوں میں متعین ہمارا سفارتی عملہ زرمبادلہ بھیجنے والے ان پاکستانیوں کی جو تضحیک کرتا ہے وہ ناقابل بیان ہے اور ناقابل برداشت ہے۔ میں چونکہ ان دنوں ٹورنٹو آیاہوا ہوں کچھ دن پہلے ایک بزرگ پاکستانی نے مجھے بتایا کہ ٹورنٹو کے پاکستانی قونصلیٹ میں وہ اپنے بیٹے کے پاکستانی ویزے کے لیے گئے اور وہاں جس طرح ان کے ساتھ نارواسلوک کیا گیا اس پر ان کے کینیڈین پاسپورٹ ہولڈر بیٹے نے کہا کہ تم اپنا پاکستان اپنے پاس رکھو۔ جس ملک میں عزت نہیں میں اس ملک میں نہیں جائوں گا۔یاد رہے کہ ٹورنٹو کا پاکستانی قونصلیٹ ٹورنٹو شہر سے چالیس میل دور قائم کیا گیا ہے اور ایک عام شہری کا وہاں تک پہنچنا بھی محال ہے۔ قارئین!دراصل ٹورنٹو سمیت دنیا بھر کے پاکستانی سفارت خانوں میں اقرباء پروری اور سیاسی تقرریوں کی بدترین مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ پاکستان میں اقتدار پر براجمان سیاست دان اور بیوروکریٹس نے دیارِ غیر کے سفارت خانوں میں ان آسامیوں پر مستقلاً قبضہ کیا ہوا ہے۔ خاص طورپر ٹورنٹو کی پاکستانی قونصلیٹ میں ایک عجیب کھچڑی پکی ہوئی ہے اور کچھ یہی حال قومی ایئر لائن کے ساتھ بھی ہے۔ پی آئی اے میں سفر کرنے والے پاکستانیوں کے ساتھ اس قد رنارواسلوک کیا جاتا ہے کہ جیسے انہیں فری سفر مہیا کیا جا رہا ہو۔ حکام بالا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں کہ چند مخصوص لوگوں کو ہی ٹورنٹو ،نیویارک، فرینکفرٹ، دوبئی، کویت، جدہ کے ایئرپورٹس پر تعینات کیا جاتا ہے۔ اس طرح نہ صرف ادارے میں ترقی کا عمل رکتا ہے بلکہ ادارے کی کارکردگی بھی اس حد تک متاثر ہوتی ہے کہ اس کی نجکاری کے متعلق سوچیں پیدا ہوتی ہیں ۔ہے کسی صاحبِ اقتدار حاکم یا وزیر میں یہ سکت کہ وہ ٹورنٹو سمیت ان اسٹیشنز پر تعینات عملے کا ریکارڈ چیک کرکے ناکارہ سٹاف کو واپس وطن بھجوائے؟ حکومت نے اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر اوورسیز پاکستانی فائونڈیشن تو قائم کی ہے اور ہر ایئرپورٹ پر اس فائونڈیشن کا ایک ڈیسک بھی پایا جاتا ہے مگر اقرباء پروری اور سیاسی تقرریوں کی وجہ یہ ادارہ بھی تقریباً غیر فعال ہے ۔ میرے ایک دوست کہہ رہے تھے کہ ہماری حد تک تو خیر تھی مگر اب ہماری اولادیں جوان ہو رہی ہیں اور جب ہم اپنے آبائی وطن میں اب کچھ خریدنا چاہیں یا پیسہ بھجوانا چاہیں تو بچے پوچھتے ہیں کہ بابا جس ملک نے آپ کو عزت، تحفظ اور مساوی حقوق نہیں دیئے آپ اس ملک کا سوچتے بھی کیوں ہو اور جب اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے اس طبقے کو یہ احساس ہوگا کہ اس مملکت عزیز پاکستان کے اصل معمارسمندر پار پاکستانی ہیں۔ یہ اقتدار زدہ طبقہ اپنے اکائونٹس تو ملک سے باہر رکھتا ہے مگر خون چوسنے کے لیے اسے پاکستانی عوام چاہیے۔ اب ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ تارکین وطن کو اپنے ساتھ ملکی معاملات میں شامل کرنا ہوگا یا پھر انہیں اٹھا کر سمندر میں پھینک دیں۔ حکمرانوں سے التماس ہے کہ دیارِ غیر میں سفارت خانوں میں بیٹھے ان فرعونوں کو یہ بتائیں کہ گلشن کا یہ سارا کاروبار ان سمندر پار پاکستانیوں کے دم سے ہے وگرنہ یہ شاہانہ اخراجات تو امریکہ اور جاپان کے بھی بس کی بات نہیں۔ جھورا جہاز کہہ رہا تھا وڑائچ صاحب کرپٹ سیاست دانوں، جرنیلوں، ججوں کے ساتھ اب اس سفارت خانہ مافیا کا بھی کڑا احتساب ہونا چاہیے جو عوامی ٹیکسوں پر عیاشی کرتے پھر رہے ہیں مگر ٹکے کا کام نہیں کرتے۔ 11اگست2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus