×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ایساکہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے
Dated: 04-Aug-2015
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com گزشتہ روز مرد صحافت جناب مجید نظامی کی پہلی برسی تھی۔میڈیا کے ذریعے لاہور میں نوائے آفس اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں برسی کی تقریبات کا احوال معلوم ہوتارہا۔ یہاں کینڈا میں بھی ہم دوستوں نے بھی نظامی صاحب کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی کا اہتما م کیا۔ مجھے فخر ہے کہ مجید نظامی میرے ساتھ رازو نیاز کی باتیں کرلیا کرتے تھے۔ 2008ء میں میری مرد صحافت جناب ڈاکٹر مجید نظامی صاحب سے پہلی ملاقات ہوئی۔میری اس وقت حیرانی کی انتہا نہ رہی جب امام صحافت نے بتایا کہ نہ صرف وہ مجھے جانتے ہیں بلکہ مختلف روزناموں میں شائع ہونے والے میرے کالم بھی پڑھتے رہتے ہیں۔وہ میری کئی کتابیں بھی پڑھ چکے تھے ۔پہلی ہی ملاقات میں ان کی اپنائیت سے ایسا لگا کہ میری نظامی صاحب سے مدتوں سے شناسائی ہے۔ نظامی صاحب میری تحریروں اور کتب سے توواقف تھے ہی انہوں نے مجھ سے یقین دلایا کہ اگر آپ دو قومی نظریہ اور پاکستان کے بنیادی نظرئیے کا احترام ملحوظ رکھو گے تو نوائے وقت میں جو دل چاہے لکھو۔ میں نے نظامی صاحب سے کہا کہ آپ میرے لکھے کالم کی تصحیح بھی فرمایا کریں اور آپ مجھے اپنی شاگردی میں بھی لے لیں جس پر نظامی صاحب کی ہاں کے بعد شاگرد اور اتالیق کی باقاعدہ رسم ادا کی گئی اور مجھے مرد صحافت کی باقاعدہ شاگردی کا اعزاز حاصل ہوا۔ پیپلزپارٹی کی حکومت کے قیام پر اسلام آباد میں سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں بیباکی سے آصف علی زرداری سے کہا تھا کہ بے نظیر بھٹو کے خون کے قطرے آپ کے دامن پر بھی ہیں۔یہ بات میڈیا میں نہیں آئی تھی مگر نظامی صاحب کے علم میں تھی جس کا انہوں نے تذکرہ بھی کیا۔میں نے نوائے وقت میں لکھنا شروع کیاتو نظامی صاحب سے ملاقاتوں میں بھی تسلسل آگیا۔پاکستان پیپلز پارٹی کو اس کی قیادت نے گلے تک کرپشن میں ڈبو دیا،اس پر بھی میری پی پی پی قیادت کے ساتھ اختلافات میں مزید اضافہ ہوگیا۔زردای صاحب بے نظیر بھٹو کے اپنے دامن پرخون کے قطروں والے میرے بیان پرسخت ناراض اور نالاں تھے۔جب مجھے دہشتگردوں نے دھمکیاں دیں،بچوں کا سکول جانا محال ہوگیا۔کیونکہ کسی بھی سکول کی انتظامیہ سکول اڑانے کی دھمکیوں کے بعد بچوں کو اپنے ہاں رکھنے پر تیار نہیں تھی۔یہ بات میں نے مجیدنظامی صاحب کے بھی گوش گزار کی تھی۔پیپلز پارٹی کی حکومت نے میری اس حوالے سے کوئی مدد نہیں کی۔آج میں پہلی بار یہ بات منظر عام پر لارہا ہوں کہ نظامی صاحب نے مجھے مسلم لیگ ن جائن کرنے کا مشورہ دیا تھا،جس پر میں نے غور کا وعدہ کیا تاہم حالات ایسے ہوگئے کہ مجھے فیملی سمیت ملک چھوڑنا پڑا۔ نظامی صاحب نے بتایا کہ جب فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت برطرف کی تو اس رات زرداری نے لاہور میں ڈنر میرے ساتھ کیا تھا۔جب گورنر ہائوس میں ان کو حراست میں لینے کی تیاری ہورہی تھی توان کا فون آیا’’ مینوں کی کھلادتا اے ایہہ مینوں پھڑن آگئے نے‘‘نظامی کہتے تھے کہ انہوں نے زرداری کو جرات سے قید کاٹنے پر مردِ حر کا خطاب دیا تھامگر ان کوبلا شرکتِ غیرے اقتدار ملا تو وہ مردِ زر بن گئے۔‘‘ جب ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کے زیر عتاب تھے تونظامی صاحب نے ان کو کہاتھا کہ نوائے وقت آپ کا ساتھ دے گا اور پھر نظامی صاحب کی کاوشوں کی وجہ سے مال روڈ پر وائی ایم سی اے ہال میں بھٹو شہید کے پہلے جلسے کا اہتمام بھی نظامی صاحب نے کیا۔ نظامی صاحب ایک دفعہ نوائے وقت کی بلڈنگ میں آخری فلور پر لے کر خود گئے جہاں دیواروں پر سینکڑوں یاد گار اور تاریخی تصویریں آویزاں تھیں۔ انہی میں سے چند تصاویر اس تقریب کی بھی تھیں۔ نظامی صاحب کی پوری زندگی جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے سے عبارت تھی یہی وجہ تھی کہ ایک تقریب جس میں اس وقت کے صدر ایوب خان نے مدیروں کو مدعو کیا ہوا تھا سب ایوب خاں کے سامنے خاموش تھے مگر نظامی صاحب نے کھڑے ہو کر ایوب خان کی پالیسیوں سے اختلاف کیا جس پر برہم ایوب خان نے یہ تقریب اسی وقت منسوخ کر دی۔ بھٹو نظامی صاحب کے دوست تھے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں آئے تو نظامی صاحب سے سوشلزم پر ٹھن گئی ۔معاملات اس حد تک خراب ہوئے کہ نوائے وقت کا پرچہ نکلنا مشکل ہو گیا اسی طرح ضیاء الحق نے کرکٹ ڈپلومیسی میں بھارت کے دورہ پر ساتھ لیجانا چاہا تو نظامی صاحب نے کہا کہ ضیاء صاحب میں بھارت جانا چاہتا ہوں مگر ٹینک پر بیٹھ کر۔ ایک دفعہ ضیاء الحق کے ساتھ ترکی کے دورے پر گئے۔ جہاں پاکستانی وفد کو جدید ترکی کے بانی کمال اتا ترک کے مزار پر لیجایا گیا۔ ترکی میں ان دنوں سیکولر فوج کے حمایت یافتہ حکمران تھے۔ پاکستانی وفد مزار پر پہنچا تو پھول چڑھانے کے بعد پروٹوکول کے مطابق تعظیماً کھڑے ہو گئے مگر نظامی صاحب نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھا لئے۔ بعد میں ضیاء الحق نے پوچھا تو نظامی صاحب نے جواب دیا کمال اتا ترک مسلمان تھا۔ میں اس کی قبر پر آیا تو دعا بھی نہ پڑھوں اس کی مغفرت کی۔ 1998ء میں جب نواز شریف وزیر اعظم تھے اور بھارتی ایٹمی دھماکوں کے بعد ملک پاکستان زبردست دبائو میں تھا نواز شریف بھی گومگو کی حالت میں تھے تو نظامی صاحب نے خود نواز شریف سے ملاقات کر کے ان سے کہا کہ میاں صاحب اس سے پہلے کہ عوام آپ کا دھماکہ کر دیں آپ بھارتی دھماکوں کے جواب میں دھماکہ کرنے کا حکم جاری کریں جس پر میاں صاحب کو مجبوراً کرنا پڑے سائوتھ ایشین صحافی تنظیم کی ایک تقریب میں میاں نواز شریف نے شرکت کی اور اپنے سامنے بھارتی سکھوں اور حاضرین کو دیکھ کر جذباتی ہو گئے اور اس روز میاں نواز شریف نے دو قومی نظریئے کی دھجیاں بکھیر دیں جس پر نظامی صاحب آخری وقت تک دلی طور پر نواز شریف صاحب سے ناراض ہی رہے جب میاں نواز شریف بمعہ فیملی ’’سرور پیلس‘‘ جدہ میں تھے تو نظامی صاحب عمرے کی ادائیگی کے بعد ملنے کے لئے تشریف لے گئے۔ کھانے کی میز پر میاں نواز شریف نے گلہ کیا کہ نظامی صاحب آپ نے آصف علی زرداری کو ’’مرد حر‘‘ کا خطاب کیوں دیا۔ نظامی صاحب نے ذرا بھی لحاظ نہ کرتے ہوئے جواب دیا میاں صاحب آپ مشرف کے ساتھ ڈیل کر کے نہ بھاگتے اور جیل کاٹتے تو میں آپ کو بھی مرد حر کے خطاب سے نوازتا۔ چند سال پہلے مجھے برین ہیمرج کا الٹروک ہوا ہسپتال اور گھر آ کر نہ صرف میری خبر گیری کی بلکہ ایک باپ کی طرح پریشان رہے۔ ایک دفعہ میری ان سے ملاقات جاری تھی کہ ملازم کو آواز دے کر کہا کہ ’’رمیزہ بی بی‘‘ کو بلوائو۔ رمیزہ بی بی آئیں تو میرا بھرپور تعارف کرایا اور بتایا کہ مطلوب وڑائچ سینئر جیالا ہے اور اب میرا شاگرد بھی ہے۔ میرے نوائے وقت میں کالم نگاری کے ابتدائی ایام میں ایک خاص سوچ و فکر کے حامی طبقہ نے بہت اعتراض کیا اور نظامی صاحب کے سامنے شکایتوں کے انبار بھی لگا دیئے کہ ایک جیالا کیوں کر نوائے وقت کا کالم نگار ہو سکتا ہے؟ میں پریشان ہوتا تو نظامی صاحب مجھ سے کہتے مطلوب آپ پریشان نہ ہوں ہمارا ادارہ کسی خاص مسلک و مذہب، رنگ و نسل اور سیاسی پارٹیوں کا ترجمان نہیں ہے یہ صرف نظریہ پاکستان، تحریک پاکستان اور دو قومی نظریہ کا محافظ ہے۔اس سے ان لوگوں کے خیالات کی بھی نفی ہوتی ہے۔ نظامی صاحب کی رحلت سے چند ماہ قبل ان سے ٹیلی فون پر بات ہوئی تھی۔ میں نے انہیں ڈاکٹر طاہر القادری کو جوائن کرنے کے متعلق بتایا تو خوشگوار موڈ میں کہنے لگے یہ کام آپ کو بہت پہلے کر لینا چاہئیے تھا۔ آج نظامی صاحب کی شدت سے کمی محسوس ہوتی ہے۔ان کی یاد آتی ہے لبوں پر بیساختہ آجاتا ہے۔ ؎ ایساکہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے 4اگست2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus