×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے۔۔صدرمملکت متوجہ ہوں!
Dated: 06-Nov-2009
اقتدارکے سنگھاسن تک پہنچنے والے اکثر اس زعم میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ان کا اقتدار دائمی ہے۔ وہ ہزار سال تک حکومت کرنے کی منصوبہ بندی کرنے لگتے ہیں حالانکہ سدا بادشاہی کا حقدارصرف ربِ ذوالجلال ہے۔ ہماری تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ صاحب اختیار حکمران کے ایک اشارے پر رعایا پستی و بلندی سے دوچار کر دی جاتی ہے لیکن جب یہی حاکم وقت گردش افلاک کے بھنور میں لڑھکنیاں لیتا ہے تو اس کے اپنے مصاحبین اسے دربار کی طرف دیکھنے تک کی اجازت دینے کے روادار نہیں ہوتے۔ پاکستان کی مختصر سی 63سالہ تاریخ میں اس کی بے شمار مثالیں مل جائیں گی۔ سکندر مرزا کو اس کے ماتحت ایوب خان نے ذلیل و خوار کرکے جلاوطنی پر مجبور کیا۔ وہ لندن میں ٹیکسی چلا کر اورایک ہوٹل میں ریسپشنسٹ کی جاب کرتے ہوئے غریب الوطنی میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔ ایوب خان نے خودکو بلاجواز ترقی دے کر فیلڈ مارشل کا رینک لگا لیا۔ لیکن جب انہوں نے جنگ لڑی تو پوری قوم ان کے شانہ بشانہ تھی۔ مگر جب ان کا اقتدار اعلیٰ پستیوں کی طرف گامزن تھا تو ان کا اپنا سایہ بھی ساتھ چھوڑ گیا۔ ایسے میں ان کو حکومت اپنے جونیئر یحییٰ خان کے حوالے کرنا پڑی۔ یحییٰ خان کے ساتھ بھی وہی تاریخ دہرائی گئی۔ قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالا تو جنرل ضیاء الحق جو سنیارٹی لسٹ میں کافی جونیئر تھے کو آرمی چیف بنا دیا۔ جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگایا تو جناب ذوالفقار علی بھٹو کی گرفتاری کے بعد جب انہیں سزائے موت سنائی گئی تو اس دوران ایسا بھی وقت آیا کہ پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹوکمیٹی کے صرف 3 تین ارکان کے علاوہ باقی تمام نے آمریت کے سائے تلے جائے پناہ تلاش کر لی۔جے اے رحیم، معراج محمد خان،مبشر حسن اور ان جیسے سینکڑوں ساتھی جنہیں ذوالقار علی بھٹو نے گمنامی سے نکال کر نامور بنایا تھا ہوا کا رخ دیکھ کر بھٹو صاحب کا ساتھ چھوڑ گئے تھے۔پھر تاریخ نے ایک اور کروٹ لی جب ضیاء الحق طیارے کے حادثے میں چل بسے تو عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر پیپلز پارٹی کا ترنگا تھامے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے ساتھ تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹوشہید نے 1988ء کے آخر میں اقتدار میں آئیں تو نومبر1996ء تک ان کی حکومت کا تختہ دو مرتبہ الٹا گیا۔ 1990سے اکتوبر1999ء تک میاں نوازشریف کو بھی دو مرتبہ اقتدار سے محروم کیا گیا۔ دونوں بڑی پارٹیوں کے لیڈر اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں ڈسے جاتے رہے۔ لغاری صاحب محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی پجارو سے لٹک کر وفاداری کا ثبوت دیا کرتے تھے۔ اس کے بعد نوازشریف کو اس کے اپنے ہی منتخب کردہ غلام اسحق خان نے اور پھر پرویز مشرف نے ملٹری ایکشن کے ذریعے وزیراعظم ہائوس سے نکال باہر کیا تو اقتدار کے بھوکے اور متلاشی جن کا اوڑھنا بچھونا اقتدار اور صرف اقتدار ہے ایک بار پھر گندگی کے گرد بھنبھنانے والی مکھیوں کی طرح مشرف کے گرد منڈلاتے نظر آنے لگے۔ ان میں سے اکثر مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بھگوڑے تھے۔ مشرف کی حکومت زوال پذیر ہوئی تو لیلائے اقتدار کے مجنوں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور آصف علی زرداری کی راہ میں آنکھیں بچھا رہے تھے۔ لیکن جب 1999 ء میں آصف علی زرداری پابند سلاسل تھے اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے مجھے اپنے پاس بلایا مجھے آج بھی وہ وقت یاد ہے جب شہید محترمہ نے مجھے بتایا کہ امریکہ میں ہمارے لابیئسٹ تک نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا ہے ملک کے اندر اور باہر ہمارے بااعتماد ساتھی منہ موڑ چکے ہیں۔ اس پر میں نے ایک نئے عزم اورچیلنج کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے روابط اور تعلقات کو استعمال کیا اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے لیے نہ صرف امریکن پینٹاگان، امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور اقوام متحدہ کے دروازے کھولے بلکہ ان کی ہمراہی میں ان اداروں کے وزٹ کیے اور امریکن گورنمنٹ کو جو کہ محترمہ کے اوپر لگنے والے بے بنیاد الزامات کی وجہ سے ان سے دوری پر تھے کوپھر سے قریب لایا اور ایک نئے دور کا آغاز کیا۔کیونکہ شہید محترمہ آصف علی زرداری کی رہائی کے لیے بڑی متفکر تھیں۔میں نے اپنی زندگی اور وسائل کی پروا نہ کرتے ہوئے کچھ ایسے مشنز کی تکمیل جس بہادری اور جرات سے کی اس کی آج بھی یاد آتے ہی رونگٹھے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ اور صحافتی برادری میرے ان 007 مشن سے بہ خوبی آگاہ ہیں۔محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی لازوال قربانیوں کی بدولت پیپلز پارٹی کو ایک دفعہ پھر2008ء میں اقتدار ملا۔ مگر جناب آصف علی زرداری جو کہ یاروں کے یار کہلاتے ہیں شاید دوستوں اور دشمنوں کی پہچان کرنے میں ایک دفعہ پھر ناکام ہوئے اور ان کے گرد ان لوگوں نے ایک مضبوط حصار قائم کر لیے جو اس ٹوہ میں رہتے ہیں کہ جب کسی کو اقتدار ملنے والا ہے تو وہ اس کے ساتھ اپنی محبت کی پینگیں بڑھانا شروع کر دیتے ہیں۔اور پھر اسی طرح انہوں نے مسند اقتدار پر ایسے شخص کو بٹھا دیا جو اللہ نہ کرے مستقبل کا فاروق لغاری ثابت ہو۔ حکومت کو پہلا دھچکا اس وقت لگا جب آصف علی زرداری کو منصب صدارت سنبھالے چند ماہ ہی ہوئے تھے کہ میڈیا اور اپوزیشن کی طرف سے ایک خودساختہ بحران کے نتیجہ میں پیپلز پارٹی کے دو اہم پارٹی لیڈر وزارتوں سے استعفے دے کر چلتے بنے ان کو اس وقت شاید اقتدار کی کشتی ڈوبتی نظر آئی تھی جس سے انہوں نے چھلانگ لگا دی۔ صدر صاحب کو این آر او سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا کیونکہ وہ ناکردہ گناہوں کی سزا مسلسل 8سال جیل میں گزار کر بھگت چکے ہیں۔ آصف علی زرداری کی بے گناہی کا ثبوت نظریہ پاکستان کے سپہ سالار جناب مجید نظامی کی طرف سے ان کو مردِ حُر اور مردِ راہوار قرار دینا ہے۔ ن لیگ، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے اکابرین کی تسلی کے لیے کیا جناب مجید نظامی کی ضمانت کافی نہیں ہے؟ لیکن صدر صاحب کو بھی سوچنا ہوگاکہ وہ اپنے کندھوں پر سیاسی لاشوں کا بوجھ کب تک اٹھائے پھریں گے کہ جن لاشوں کے تعفن سے پیپلز پارٹی کے گھر کے اندر کی فضا مکدر ہو رہی ہے۔ صدر مملکت جناب آصف علی زرداری اگر اپنی فہم و فراست اور سیاسی عقلمندی سے وہ وقت لانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ جب ان کا اورشہید محترمہ کا بیٹا قائدعوام کا نواسہ اپنی تعلیم مکمل کرکے اپنی والدہ اور نانا کے مشن کی تکمیل کے لیے نہیں آ جاتا۔ تو اس کے لیے صدر مملکت کو اپنے گرد خوشامدیوں، ابنِ الوقتوں اور ہوا کا رخ دیکھ کر بات کرنے والوں کے حصار کو توڑنا ہوگااور ایسے دوست نما دشمن جو ان کے سیاسی مستقبل کے لیے خطرے کی بجتی گھنٹی کی طرح ہیں اور ایسے وزراء جو اپنے بینک اکائونٹس کا پیٹ بھرنے کے لیے آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی کا پلیٹ فارم استعمال کر رہے ہیں ان سے نجات حاصل کرنا ہو گی۔ آج ایک جیالے نے میرا رستہ روک کر غصے سے مجھے کہا کہ بتا دو اپنے رہنمائوں کو کہ اب کی بار ہم ان کرپٹ وزیروں اور مشیروں کے لیے جیل جانا اورکوڑے کھانا تو دور کی بات ان کے لیے نہ سڑکوں پر نکلیں گے اور نہ ہی ہمارے ہاتھ دعا کے لیے اٹھیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ پیغام پاکستان بھر کے جیالوں کی آواز ہے اور یہ خاموش انقلاب پیپلز پارٹی کے جیالوں کے دلوں میں ایک مضبوط گرہ باندھ چکا ہے اگر صدر مملکت کو اس بات کا ادراک ہو گیا کہ جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو سب سے پہلے اسے چوہے چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں تو پھر نہ تو اس ملک میں کوئی بحران آئے گا اور نہ ہی پیپلز پارٹی کے جیالوں کو ملامت زدہ نظروں سے دیکھا جائے گا اور پیپلز پارٹی کی حکومت باوقار طریقے سے اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اگلی ٹرم کے لیے بھی مضبوط امیدوار ہو گی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus