×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
تب کالا باغ ڈیم بن جائے گا!
Dated: 14-Nov-2009
تیسری عالم گیر جنگ ہوئی تو پانی کے تنازعات پر ہو گی۔ دنیا کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے بعد امریکہ کی نظر دنیا کے پانیوں پر ہو گی۔ سائوتھ امریکہ میں پاناماکینال، میڈل ایسٹ میں نہرسویز، دجلہ و فرات کے دریا اور ترکی،عراق اورشام کے درمیان پانی کے مسائل،جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے مابین پانی کے سلگتے تنازعات شعلہ جوالا بننے کے لیے ماچس کی تیلی کے منتظر ہیں۔ صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے ایوب خان نے ورلڈ بنک کے فریب میںآ کر پنجاب کے 3دریا بیچ ڈالے۔ آج راوی میں گندے نالوں کا پانی رواں اور دریائے ستلج و بیاس میںریت اُڑ رہی ہے اور کئی خانہ بدوشوں نے اپنے کچے مکانات تعمیر کر رکھے ہیں۔ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ 1953ء میں منصۂ شہود پر آیا۔ ایوب کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ کھٹائی میں پڑتا چلا گیا۔ ایوب خان نے تربیلا ڈیم ہری پور کے قریب اس لیے بنا ڈالا کہ آنے والے دنوں میں یہ ان کے بیٹے کے لیے قومی اسمبلی کا حلقہ انتخاب بننے والا تھا اور اس ڈیم کی تعمیر سے حلقہ کے لوگوں کومستقل و عارضی بنیاد پر روزگار ملنے کے امکانات تھے۔ منگلا ڈیم کا منصوبہ بھی ایوب دور میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔ تربیلا اور منگلا ڈیم بننے سے نہ ہری پوری ڈوبا اور نہ میر پور زیر آب آیا۔ اگر کالا باغ ڈیم بن جاتا تو نوشہرہ ڈوبتا نہ کسی اور شہر کو نقصان پہنچتا۔ لیکن اس منصوبے کے دشمنوں نے عجیب قسم کی افواہیں پھیلائیں اور مکاری دکھائی۔ ضیاء الحق دور کے گورنر سرحد فضل حق نوشہرہ جا پہنچے اور دو منزلہ عمارتوں پر چاک سے نشان لگا کر لوگوں کو بتایا کالا باغ ڈیم بنا تو پانی یہاں تک آ پہنچے گا۔ڈیم کی دوسری مخالفت مقامی لوگوں نے اس وقت کی جب سرمایہ داروں نے ڈیم بننے کی خبر پا کر اس سائٹ کی زمین کوڑیوں کے مول خرید لی۔ مقامی لوگوں نے اس پر احتجاج کیا جو بالآخر ڈیم مکائو تحریک پر متنج ہوا۔جبکہ اس منصوبے پر اب تک کئی سو ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔بلکہ ملازمین کے لیے رہائش کالونیاں تک تعمیر ہو چکی ہیں اور اربوں روپے کی مشینری بھی درآمد کی جا چکی ہے اور کالاباغ ڈیم کے لیے جو زمین چاہیے تھی وہ بھی خریدی جا چکی ہے اور تکنیکی لحاظ سے یہ منصوبہ ایسے ہے کہ سرحد ہی کے ایک سابق وزیراعلی کے مطابق اس کے صرف ایک طرف دیوار بنانے سے باقی تینوں طرف سے یہ پہاڑیوں سے کورڈایریا ہے۔ اس طرح کسی اور ڈیم کے مقابلے میں اس پر بہت کم لاگت آئے گی۔ کشمیر سے پاکستان داخل ہونے والے دریائوں سندھ، جہلم اور چناب پر بھارت نے 62ڈیموں کی تعمیر شروع کر رکھی ہے کئی مکمل ہو چکے ہیں۔ بھارت جب چاہتا ہے ان دریائوں کا پانی روک لیتا ہے اور بھارت نے اس سلسلے میں اپنے کسی بھی صوبے یا پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی کیونکہ مملکت جو فیصلہ کرتی ہے اس میں عوامی فلاح و بہبود مقصود ہوتی ہے۔آج پاکستان کا کسان بھارت کے رحم و کرم پر ہے۔ لاکھوں ایکڑ اراضی ہر سال بنجر ہو جاتی ہے۔ آج پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ بجلی کی کمی ہے۔ وزرائے کرام بجلی کے نام پر رینٹل پاور پراجیکٹس سمیت کئی منصوبے بنا کر ملکی معیشت سے مذاق اور کھلواڑ کر رہے ہیں۔ ایک طرف غریبوں کی چمڑی ادھیڑ کر انہیں زندہ درگور کیا جا رہا ہے دوسری طرف روشنی کے نام پر اندھیرے سے ڈرا کر غریب عوام اور ملک کے چھوٹے موٹے صنعت کاروں اور کسانوں کی جیبوں کا صفایا کرکے اپنے بنک اکائونٹس کا حجم بڑھانے کے منصوبے تیار ہیں۔ پاکستان کی80فیصد آبادی زراعت،20فیصد صنعتوں سے منسلک ہے۔انڈسٹری بجلی کی کمی کے باعث ٹھپ ہونے کو ہے۔زراعت پانی کی کمی کا شکار ہے۔ جبکہ ہمسایہ ممالک چین اور بھارت سینکڑوں ڈیم بنا کر کسانوں کو بجلی مفت فراہم کرتے ہیں اور انڈسٹری سے برائے نام بل وصول کیا جاتا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کا کسان اور صنعتکار عالمی منڈی کا مقابلہ کیسے کر سکتا ہے؟ کالا باغ ڈیم کا مسئلہ حل ہو جائے تو پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی بجلی فروخت کرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔ کالا باغ ڈیم کا مسئلہ تکنیکی نہیں سیاسی ہے۔ دبئی میںایک مرتبہ محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ کھانے کی میز پر چند سندھی دوستوں کی موجودگی میں اس مسئلہ پر بحث ہوئی تو محترمہ نے تسلیم کیا کہ صوبے رضامند ہوں تو کالا باغ ڈیم بن سکتا ہے۔ میں پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا رکن ہوں مجھے شہید محترمہ اور بعد میں جناب صدرمملکت آصف علی زرداری صاحب کی طرف سے کبھی بھی کالاباغ ڈیم کی مخالفت کی ہدایت نہیں ملی۔اس لیے یہ کہنا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کالاباغ ڈیم کی مخالف ہے غلط ہوگا،پاکستان پیپلز پارٹی صرف اصولوں کی خاطر اور صوبوں کو خودمختاری دلانے کی امین ہے اور چاروں صوبوں میں اس کی جڑیں موجود ہیں اس لیے پیپلز پارٹی کی خواہش ہے کہ چاروں صوبے مل کر کوئی متفقہ فیصلہ کر لیں۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف بھائی بھی پورے ملک میں رابطہ عوام مہم چلا رہے ہیں اوروہ پنجاب میں قدم جمانے کی تیاری کر رہے ہیں کیا وہ پنجاب کے عوام کو بتانا پسند فرمائیں گے کہ اب ان کا کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے کیا موقف ہے؟ پنجاب سے تعلق رکھنے والے کشمیری نژاد رہنمائوں نے بھی کالا باغ ڈیم پر کھل کر اپنا مافی الضمیر بیان نہیں کیا۔ کیا این آر او، کیری لوگر بل کالاباغ ڈیم سے زیادہ اہم ہیں؟کیا اس ملک کے باقی تمام مسائل کالاباغ ڈیم سے زیادہ اہم اور ضروری ہیں اور پنجاب کے حکمران کب تک آج اربوں اور کل کھربوں کی سبسٹڈی دے کر حقائق سے نظریں چرانے کی ناکام کوشش کریں گے۔ پنجاب کے نام پر سیاست کرنے والوں نے کیا کبھی سوچا ہے کہ آئندہ پنجاب کے دریا اور نہریں خشک ہو کر صومالیہ اور سوڈان کا منظر پیش کریں گی۔ انسانوں اور جانوروں کے ڈھانچے ہر سوبکھرے نظر آئیں گے۔کیا پنجاب کی نہریں خشک ہو جانے پر چینی،گندم،چاول کے بحرانوں پر قابو پایاجا سکے گا؟میری صدرمملکت جناب آصف علی زرداری،میاں نوازشریف، شہباز شریف اوراسفند یارولی خاں سمیت الطاف بھائی سے گزارش ہے کہ جس عمارت کی بنیادیں کمزور ہوںاس پر جتنی چاہے خوبصورت عمارت کھڑی کرنے کی کوشش کی جائے وہ ہوا کے ایک جھونکے سے گِر جاتی ہے۔جب انڈیا کا پنجاب جو کہ حجم میں پاکستانی پنجاب سے آٹھ گنا چھوٹا ہے۔ بھارت کی سوا ارب آبادی اور 26صوبوں کو اناج فراہم کرتا ہے۔ تو پاکستان کا سرسبز پنجاب جو کہ انڈین پنجاب سے زیادہ زرخیز اور ہموار بھی ہے وہ صرف 18کروڑ عوام کی زرعی ضروریات کیونکر پوری نہیں کر سکتا؟پنجاب یقینا بڑے بھائی کا کردار ادا کر رہا ہے چھوٹے بھائیوں کو بھی چاہیے کہ بڑے بھائی کے ہاتھ مضبوط کریں اب تو ہر صوبہ کسی نہ کسی صورت میں کوئی پانی،کوئی گیس اور کوئی بجلی کی رائیلٹی مانگتا ہے۔ جس دن پنجاب کے لوگوں نے گندم، چاول اور اناج لے جانے والے ٹرکوں کو اٹک پل اور صادق آباد کی سرحد پر روک لیا !تو اس دن یقینا کالاباغ ڈیم بن جائے گا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus