×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سیاسی افراتفری
Dated: 13-Oct-2015
خدا خدا کرکے پاکستان کے سیاسی اُفق سے مصنوعی خانہ جنگی کے بادل چھٹ چکے ہیں۔ جب سے سابق سپیکر کی نشست خالی ہوئی ہے اور جب سے الیکشن کمیشن نے ری پولنگ کا حکم دیا تھا۔ ہمارے میڈیا کے ہاتھ سونے کی چھڑی آ گئی۔ دھرنے کے بعد سے پاکستان کے سیاسی ماحول پر سکوت چھایا ہوا تھا اور این اے 122کا ضمنی الیکشن چائے کی پیالی میں طوفان کھڑا کرنے کی ایک کوشش تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں نے ان ضمنی الیکشنز کو اپنی عزت اور بقا کا مسئلہ بنا لیا تھا۔ معاف کیجئے پیپلزپارٹی کو تو اب پہلی پانچ سیاسی جماعتوں میں شامل کرنا جہالت کم بے وقوفی ہو گی۔ جو جماعت کبھی امیدوار کی بجائے کھمبا کھڑا کرنے اور جیت کے زعم میں تھی وہ جماعت پنجاب کے دل لاہور سے قومی اسمبلی نشست پر صرف پندرہ سو ووٹ لے کر مستقبل میں سیاسی دوڑ سے باہر ہو گئی ہے۔ شنید ہے کہ 11اکتوبر سے چند دن پہلے پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو نے آصف علی زرداری کو دوبئی فون کرکے کہا کہ ہمیں اپنے امیدوار موجودہ ضمنی الیکشن میں سے دستبردار کروا لینے چاہئیں جس کے لیے ہمارے پاس ایک معقول بہانہ بھی ہے کہ بقیہ دونوں سیاسی جماعتیں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن بے تحاشہ انتخابی اخراجات کرکے الیکشن کے ضابطہ کی خلاف ورزی کر رہی ہیں مگر اس تجویز کو بلاول بھٹو کی طرف سے پذیرائی نہ ملی۔ اس طرح پیپلزپارٹی کے نصیب میںجو سیاسی ہزیمت لکھی ہوئی تھی وہ پوری ہو گئی۔ قطع نظر اس کے کہ 11اکتوبر کے دن لاہور میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کیا ہیں۔ میری رائے کے مطابق مسلم لیگ ن او رپی ٹی آئی دونوں جیتی بھی اور دونوں ہاری بھی مگر 11اکتوبر کا دن اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑ گیا ہے۔ انتخابی اصلاحات اور ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ پندرہ لاکھ جو کہ قومی اسمبلی کے لیے خرچہ کی حد مقرر کیا گیا اس کو مذاق بنا کے رکھ دیا گیا۔ ایک عالمی فرم کے سروے کے مطابق پی ٹی آئی کی طرف سے کیے جانے والے اخراجات ستر کروڑ کے لگ بھگ ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کی طرف سے کیے اخراجات او رمراعات بانٹنے کا تخمینہ لگ بھگ دو ارب روپے کے قریب ہے۔ چونکہ یہ حلقہ جس جگہ واقع ہے وہاں پاکستان ریلوے کا ہیڈکوارٹر اور اس سے متصل ریلوے کالونی کے تقریباً چالیس ہزار ووٹر بھی رہتے ہیں۔ اس لیے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق پوری الیکشن مہم کے دوران مکمل حکومتی اور وزارتی وسائل کے ہمراہ بمع اپنے سرکاری سٹاف حلقے میں موجود رہے اور حلقہ 122کے ووٹرز میں سینکڑوں مفت کوارٹرز بانٹتے رہے۔ اسی طرح وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی بھی حلقے میں رہ کر سفارشی کام کرواتے رہے جبکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن ماروی میمن صاحبہ بمع سرکاری لائو لشکر اور اربوں روپے کے فنڈز کے ساتھ دریا دلی کا عملی مظاہرہ کرتی رہیں۔ ایک محتاط تخمینے کے مطابق اس انتخابی عمل کے دوران نہ صرف دس ہزار کے قریب وفاقی اور صوبائی ملازمتیں بانٹی گئیں بلکہ نادرا اور الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے لاہور کے دیگر حلقوں سے دس ہزار ایسے ووٹرز کا ووٹ حلقہ 122میں ٹرانسفر کر دیا گیا جن کی مسلم لیگ ن سے وفاداری مشکوک نہیں تھی۔ شاید اسی لیے پی ٹی آئی کے کنوینیئر چوہدری سرور صحیح کہہ رہے تھے کہ ہمارا مقابلہ شیخ ایاز صادق سے نہیں بلکہ پوری صوبائی اور مرکزی کابینہ بشمول چیف منسٹر اور وزیراعظم سے تھا۔ یہی وجہ تھی کہ الیکشن کیمپین کے بند ہو جانے کے بعد وزیراعظم کی دو گھنٹے سے بھی زائد پریس کانفرنس اور بریفنگ علیم خاں کی شکست کے تابوت میں آخری کیل تھا اور ان سب باتوں کے باوجود پینتیس سو کے معمولی مارجن سے انتخابی بے ضابطگیوں میں دھندلائی ہوئی فتح پر اس قدر ڈھول ڈھمکا اور ناچ گانا کچھ زیب نہیں دیتا۔ دوسری طرف عمران خان کے لیے یہ بات اب کوئی اچنبھے کی نہیں رہی اور خود عمران خان بھی ہر دفعہ ایک نیا سیاسی زخم کھانے کے بعد اس بات کا برملا اظہار کرتا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب ٹھیک کہتے ہیں۔ قارئین! ڈاکٹر طاہر القادری کے مسلک او رسیاسی فلسفہ سے کوئی لاکھ اختلاف کرے مگر ان کے سیاسی شعور اور ویژن سے اختلاف ممکن نہیں۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ انقلابِ روس، انقلابِ فرانس اور انقلابِ ایران جب رونما ہوئے تو ان قوموں کا لٹریسی ریٹ سو فیصد تھا مگر پھر بھی انقلاب اور تبدیلی نے خون کا نذرانہ مانگا جبکہ پاکستان جیسا ملک جس کی شرح خواندگی کوسرکاری طور پر 27فیصد تسلیم کیا گیا ہے وہاں کے عوام کو مغربی جمہوریت کا لباس زیب تن کرنے کو کہنا سیاسی و شعوری حماقت ہے۔ ہم ’’چیری‘‘کا وہ پودا تپتے صحرا میں اگانے کے لیے کوشاں ہیں جس کے لیے ایک معتدل موسم کی ضرورت ہوتی ہے اور جب تک ہم اپنے عوام کو مکمل طورپر ایجوکیٹ نہیں کر لیتے اور جب تک ہم مذہب اور سیاسی اور روایات کو ساتھ لے کر چلتے رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان ترقی یافتہ اسلامی ممالک کی تقلید کرنا ہو گی۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں میں نظام بدلنے کی بات اسی لیے کرتا ہوں کہ جب تک ہم نظام نہیں بدلیں گے، چہرے اور لباس بدلنے سے کبھی نظام نہیں بدلا جا سکے گا۔ قارئین! پچھلے چند سالوں کی مسلسل تحقیق ،تجزیئے، مطالعے اور پریکٹیکل کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر ہم نے ایک نیا پاکستان بنانا ہے، اگر ہم واقعی ایک حقیقی تبدیلی کے خواہاں ہیں، اگر ہمیں پاکستان کو ایک فلاحی، رفاعی اور اصلاحی معاشرے میں بدلنا ہے ،ہمیں اس ملک کو کرپشن فری ملک بنانا ہے تو پھر ہمیں اپنے نظریئے اور اپنے سیاسی پیمانوں کو بدلنا ہوگا اور محترم عمران خان کو بھی اب سیاسی بالغ ہونا ہوگا۔ مثلاً ان کے قریب ترین اتحادی جماعت اسلامی کے معزز ووٹرز جماعت اسلامی کے امیدوار کے علاوہ اگر کسی دوسری پارٹی کو ووٹ ڈالتے ہیں تو وہ بلاشک و شبہ مسلم لیگ ن ہے۔ اس لیے پی ٹی آئی کو اپنی بغلوں میں جھانکنا ہوگا کہ کہیں منافقت کے بت ان کی اپنی بغلوں کے اندر ہی تو نہیں چھپے بیٹھے اور آخر میں عرض ہے کہ وطن عزیز مزید کسی طوفان اور سیاسی تلاطم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ عوامی تحریک، تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن سمیت سب پارٹیوں کو ذاتی اختلافات کو بھلا کر اب تعمیرِ وطن کی طرف بڑھنا ہوگا۔اگر عمران خان کی سیاسی سمجھ میں یہ بات آ جائے کہ سانحہ ماڈل ٹائون اور سانحہ ڈی چوک اسلام آباد کے تین درجن شہدا اور ہزاروں زخمیوں کے لواحقین کی نظریں ان پر لگی ہوئی ہیں اور اس ایشو سے بڑھ کر کوئی دوسرا ایشو ہو ہی نہیں سکتا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سمیت درجن بھر وزراء کا سیاسی اور جسمانی مستقبل دائو پر لگا ہوا ہے۔ 13اکتوبر2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus